السبت، 03 شوال 1442| 2021/05/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

معاشی بدحالی ہمارا مقدر اس لیے ہے کہ پوری سیاسی اشرافیہ استعماری جمہوریت کے ذریعے حکمرانی کرتی ہے اب وقت اسلامی خلافت کے قیام کا ہے

 

اے پاکستان کے مسلمانو! 

ہم نااُمیدی اور مایوسی میں گھِرے ہوئے ہیں کیو نکہ جمہوریت ہمیں جن سیاسی جماعتوں میں سے چناؤ کا اختیاردیتی ہے وہ نہ توہمارے دین، زندگی ، دولت، اور حرمات کی حفاظت کرتی ہیں اور نہ ہی ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضامن ہیں۔ ایک طرف ہم پی ٹی آئی کی نااہل حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں جس نے ہمیں تکلیف دہ معاشی صورتِ حال   اور بد حالی میں مبتلا کر رکھا ہے اور ہمیں ہمارے دشمنوں کےہاتھوں بھی ذلیل و رسوا کروارہی ہے۔ تو دوسری جانب ہم ماضی کی کرپٹ سیاسی قیادتوں کو بھی دوبارہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے  جنہوں نے اقتدار کو اپنے  ذاتی مفاد ات کے حصول اور اپنےقریبی لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا تھا اور موجودہ حکمرانوں ہی کی طرح وہ بھی استعماری کفار کی خدمت گزاری کرتی  تھیں۔

 

                      آخر ہم کس کی طرف رجوع کریں؟! مہنگائی کی تکلیف ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔ غربت کی شرح بلند سے بلند تر ہو رہی ہے،مزید لاکھوں لوگ غربت اور قرضوں کی دلدل میں ڈوب چکے ہیں۔ مستقبل کا نقشہ تاریک دکھائی دیتا ہے ،کاروبار ختم ہورہے ہیں ، بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، ہزاروں افراد نوکریوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں یا انہیں تنخواہیں تاخیر سے مل رہی ہیں یا سرے سے تنخواہ مل ہی نہیں رہی، غربت سے لاچار ہمارے نوجوان ٹیکسی ڈرائیور اور'ہوم ڈیلیوری بوائے' بن کر سڑکوں پر مارے مارے پھرتے ہیں۔

                  اس معاشی تباہی کے درمیان ،حقیقت سے لاتعلق پاکستان کے حکمران، بے معنی معاشی اعدادوشمار  میں رونما ہونے والی نام نہاد مثبت تبدیلیوں کوخوشخبری کے طورپر پیش کررہے ہیں، گویا کہ چارٹوں پرسجے ہوئے   اعداد و شمار جسے یہ حکمران اپنی پریس کانفرنسوں اور ٹویٹس کے ذریعےہماری  طرف اچھالتے رہتے ہیں، ہماری بدحالی کو ختم کر دیں گے۔ یقیناً  سرمایہ دارانہ معاشی نظام اپنی فطرت میں ایک غیرانسانی نظام ہے جس میں کُل ملکی پیداوار (GDP)، ڈالروں کا حصول ، قرضوں کی واپسی کی قابلیت پیدا کرنااور مزید ٹیکس لگانے کے نئے نئے طریقے ایجاد کرنا ہی اصل کمال ہے۔  یہ آئی ایم ایف کا مسلط کردہ وہی معاشی بندوبست ہے جس کی حمایت پوری سیاسی اشرافیہ کرتی ہے، اور جس میں عوامی مفاد کو قربان کرتے ہوئے محض بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔

 

                  یقیناً دنیا بھر میں سرمایہ داریت (Capitalism) معیشت کو اس انداز سے چلاتی ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کو یقینی بنایا جائے جبکہ جمہوریت  ان سرمایہ داروں کو سیاسی طاقت فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اپنےسلطنت نما کاروبار  کی حفاظت کے لیے قانون سازی کرسکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت اس سال اپریل سے جولائی کے درمیان، 27.5فیصد اضافے کے ساتھ، 10.2ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ، جبکہ اسی دوران عوام کی بڑی تعداد شدید غربت کی وجہ سے تباہ حال ہو گئی ۔

 

                  اے پاکستان کے مسلمانو! 

سرمایہ دارانہ استعماری جمہوریت میں کوئی بھی حکمران   ہماری بدحالی کا خاتمہ کر کے ہماری معاشی خوشحالی کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ موجودہ حکمرانی اور نظامِ معیشت کرپٹ مغربی اقدار پر کھڑے کیے گئے ہیں جو  ہمیں اُس  بین الاقوامی آرڈر کا غلام بنادیتے ہیں جسے مغربی استعمار نے قائم کیا ہے اور جس کی قیادت اس وقت امریکا کررہا ہے۔ یہ غیر ملکی درآمد شدہ نظام اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنے دین  سے دستبردار ہوجائیں اور اپنی معاشرتی زندگی کو مغربی استعماریوں کی خواہشات کے مطابق ڈھال لیں ۔  ان استعماریوں نے ہم سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر ہم معیشت کی بحالی چاہتے ہیں تو امریکا کی صلیبی جنگ میں اُس کے ساتھ کھڑے ہوں اور افغان مسلمانوں کی حمایت سے دستبردار ہو کر انہیں امریکی جارحیت کے سامنے تنہا چھوڑ دیں،لیکن ذلت و رسوائی اور معیشتی غلامی ہی ہمارا مقدر بنی ۔    اب وہ ہم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہم معاشی فوائد کی خاطر مقبوضہ کشمیر سے دستبردار ہو کر اس پر ہندو ریاست کے قبضے کو تسلیم کرلیں۔ آج ، موجودہ حکمران جانتے بوجھتےہوئے ہمارے پیارے رسول اللہﷺ کی ناموس پر کفار کی جانب سے ہونے والے حملوں کو برداشت کررہے ہیں۔ اب یہ حکمران مسجد الاقصیٰ اور فلسطین کی مقدس سرزمین پر ناجائز یہودی وجود کو تسلیم کرنے کی راہ پر بھی چل پڑے ہیں اور رشوت کے طور پر ہمیں مغربی طاقتوں کی طرف سے ملنے والے متوقع معاشی و دفاعی فوائد کے خواب دکھا رہے ہیں۔

 

                  لہٰذا صورتحال یہ ہے کہ ہماری معیشت تباہ حال ہے اور ہمارے دشمن بلاخوف و خطر ہماری حرمات و مقدسات کی بے حرمتی کرتے چلے جارہے ہیں۔ اگر ہم نے جمہوری نظام کو گلے سے لگائے رکھا تو پاکستان میں ہرگزکوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔جمہوریت نے صرف  بدحالی اور ذلت کے تسلسل کو ہی یقینی بنایا ہے جب سے چالاک برطانوی استعمار نے اپنی اِس  نوآبادیات کو چھوڑتے ہوئے   جمہوری نظامِ حکمرانی کو خاص طور پر پیچھے چھوڑ دیا ۔ جمہوریت ایک استعماری نظامِ حکومت ہے جسے مغرب زدہ حکمران اشرافیہ ہم پر نافذ کرتی ہے۔ اس مغرب زدہ اشرافیہ کے کئی گروہ ہیں جو باری باری اقتدار میں آتے رہتے ہیں، اور اب ہمیں ان تمام سے مکمل طور پر منہ موڑنا ہے۔ 

 

   اے پاکستان کے مسلمانو!

ہم استعمار کے سرمایہ دارانہ جمہوری نظام  اور اس کی  طرف دعوت دینے والی قیادت سے کسی بہتری کی امید نہیں رکھ سکتے۔  ہمیں لازمی طور پر اسلام کی طرف رجوع کرنا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کرنی ہے۔ یقیناً اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اس بات سے خبردار کرچکا ہے کہ اگر ہم اُس کی ہدایت سے منہ موڑیں گے تو ہماری زندگی مشکلات سے بھر جائے گی اور آخرت بھی رسواکن ہو گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى 

"اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے"(طہ، 20:124)۔

 

یقیناً یہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافت ہی ہوگی جو ہمیں ابتری ا و ررسوائی کی صورتحال سے نکالے گی جس میں ہمیں جمہوریت نے مبتلا کر رکھاہے۔

 

خلافت قرآنِ مقدس اور مبارک سنت سے اخذ شدہ شرعی احکام کے مطابق معیشت کے امور کو منظم کرتی ہے۔ تاریخی طور پر خلافت نے ایک مضبوط معیشت قائم کی تھی، اپنے شہریوں کو معاشی خوشحالی  و آسودگی فراہم کی تھی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ غریبوں پر کوئی بوجھ ڈالے بغیر  بیت المال کو محصولات سے بھر دیا تھا جس کی بدولت  طاقتورمسلح افواج کو تیار کیا گیا ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا گیا اور اسلام کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلایا گیا۔   خلافت قرضوں پر کسی قسم کا سود ادا نہیں کرے گی کیونکہ سودلینا اور دینا اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ جہاں تک سود کی ادائیگی کے بغیر قرض کی اصل رقم کا تعلق ہے، تو خلافت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جن جن حکمرانوں اور عہدیداروں کے دور میں یہ قرض لیا گیا تھا انہیں ہی ان قرضوں کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے کیونکہ انہوں نے ہی  پاکستان کو سودی قرضوں کے جال میں پھنسایا تھا اور اس خدمت پر استعمار سے فوائد سمیٹے تھے۔

 

جہاں تک ہمارے امور کی دیکھ بھال کے لیے درکار وسائل کی فراہمی کا تعلق ہے تو خلافت  اُن ذرائع سے محصولات جمع کرے گی جنہیں ہمارے دین نے فرض قرار دیا ہے۔ خلافت شرعی احکام کے مطابق ، مویشیوں، فصلوں اور پھلوں، کرنسی اور تمام اقسام کے تجارتی مال پر زکوٰۃ وصول کرے گی، زرعی زمین سے خراج  وصول کرے گی، مالی طور پر مستحکم غیر مسلم مرد حضرات سے جزیہ لے گی اور جہاد کے دوران حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کو جمع کرے گی۔ اس کے علاوہ خلافت عوامی ملکیت کے تحت آنے والے شعبوں یعنی تیل، گیس، بجلی اور معدنیات  کے امورکی خود نگرانی کرے گی کیونکہ اسلام ان وسائل کی نجکاری کی اجازت نہیں دیتا اور ان سے حاصل ہونے والے کثیر محصولات کو بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔ خلافت عوامی اثاثوں سے متعلقہ فیکٹریوں سے بھی  آمدنی  حاصل کرے گی اور ان ریاستی صنعتوں سے بھی کہ  جنہیں قائم  کرنے کے لیے بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اورجن سے نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ ہیوی انڈسٹری، گاڑیاں، ٹرک، بسیں بنانے کے کارخانے اور الیکٹرانک آلات وغیرہ۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

اس سال 1442 ہجری کے ماہِ رجب میں خلافت کے خاتمے کو ایک سو ہجری سال مکمل ہوجائیں گے، جسے عرب اور ترک غداروں نے مغربی صلیبی دشمنوں کےساتھ  گٹھ جوڑ بنا کر تباہ  کیا تھا۔ اُس وقت سے اسلامی امت نے صرف اپنے دین، املاک ، زندگیوں اور علاقوں کی تباہی و بربادی ہی دیکھی ہے جبکہ اس کے پاس تیس لاکھ سے زائد افواج اور دنیا کے زبردست خزانے معدنی دولت کی صورت میں موجود ہیں۔  ا نسانوں کی قانون سازی پر مبنی  تمام نظاموں نے امت کو محض ناکامی سے دوچار کیا ہے، خواہ وہ بادشاہت ہو ، جمہوریت ہو ، آمریت ہو یا پھر انہی نظاموں کے مختلف مرکبات اور ملغوبے ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ وقت خلافت کے قیام کا  ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی  جانتا ہے کہ ہمارے لیے کون سا نظامِ حکمرانی بہتر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ

"بھلا جس (اللہ) نے پیدا کیا ، کیاوہ جانتا نہیں؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا بھی جاننے والا اور (ہر چیز سے) آگاہ ہے"(الملک، 67:14)۔

 

خلافت ہمارے دَور کی صرف ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے قیام سے لاپرواہی برتنا گناہ  اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سزا کا موجب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں سختی سے ایسی حکمرانی سے منع فرمایا ہے جس میں فیصلے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر نہ کیے جائیں،ارشاد فرمایا:

وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

"اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں"(المائدہ، 5:45)۔

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خلیفہ کی بیعت کی عدم موجودگی  یعنی خلیفہ کی عدم موجودگی سے منع فرمایا ہے،

مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً

" اور جو شخص مر جائے اور (خلیفہ کی) بیعت کا طوق اس کے گلے میں نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی"(مسلم)۔

اور رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہم تین دن اور تین راتوں سے زیادہ  خلیفہ کے بغیر نہیں گزار سکتے، جبکہ سو ہجری سال گزرچکے اور ہم خلافت کے بغیرہیں؟!

 

آگے بڑھیں اور خلافت کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کو بحال کرنے کی پکار  بلند کریں اور آپ کی پُرزور آواز جمہوریت کے تمام تر نعروں کا گلہ گھونٹ دے۔آئیں  اور اس بات کا تہیہ کریں کہ ہم   خلافت کی تائید اور پکار کو اپنے سوشل میڈیا و الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ ساتھ مساجد کے ممبروں اور اللہ کے گھروں میں منعقد کیے جانے والے درسوں میں نمایاں کریں گے ۔ آئیں اور اس چیز کو ممکن بنائیں کہ اثرورسوخ رکھنے والے لوگوں میں سے مضبوط افراد اسلامی حکمرانی کی بحالی کی تحریک میں پہلی صفوں میں کھڑے ہوں جیسا کہ عمر الفاروق ؓاور حمزہ بن عبدالمطلب     ؓجیسے مضبوط صحابہؓ کھڑے ہوئے تھے۔ اور ہماری افواج میں موجود افسران اپنے بھائیوں، یعنی انصارِ مدینہ، کی طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی کے لیے نُصرۃ فراہم کریں۔ تو آئیں ہم سب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لیے اس  عظیم کام کا حصہ بن جائیں۔

 

ہجری تاریخ :9 من جمادى الأولى 1442هـ
عیسوی تاریخ : جمعرات, 24 دسمبر 2020م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک