الجمعة، 11 شعبان 1447| 2026/01/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

امریکی اجارہ داری کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل خلا میں اضافہ :

’’امریکی مشرقِ وسطیٰ ماڈل‘‘ سے مابعد یک قطبی دنیا (Post-Unipolar World) کی جانب عالمی تبدیلی کا ایک مطالعہ

(عربی سے ترجمہ)

https://www.al-waie.org/archives/article/20109

الوعي میگزین – شمارہ نمبر 473

انتالیسواں سال، جمادی الآخر 1447 ہجری،

بمطابق دسمبر 2025 عیسوی

تحریر : أستاذ محمد الملکاوي – یمن

 

تعارف: زوال کا دور

 

سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یوں ظاہر ہوتا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ دنیا پر اپنے کنٹرول کی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

 

سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا، سوشلسٹ نظام تباہ ہو گیا، اور سیاسی مبصر، فوکویاما کے سرکاری پیام کے مطابق ”تاریخ کے خاتمے“ کا اعلان کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں امریکی لبرل نظام ہی دنیا کو منظم کرنے کا واحد ممکنہ فریم ورک قرار پایا۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کا علاقہ، وہ خطہ جس پر اس امریکی بالادستی کے برج قائم کئے گئے تھے، آج یہ وہی خطہ ہے جو اس تسلط کے ڈھانچے میں پڑنے والی دراڑوں کا انکشاف کر رہا ہے۔

 

اکیسویں صدی کی آخری دو دہائیاں ایک بنیادی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں: امریکہ کی تیز ترین پسپائی اور اس ریجنل آرڈر کا انہدام جس پر گزشتہ ستر برس سے مغربی غلبہ قائم رہا تھا۔ یہی وہ حقائق ہیں جنہیں یہ کتاب ”مشرقِ وسطیٰ میں جیوپولیٹیکل خلا کا اضافہ“ قرار دیتی ہے، ایک ایسا خلا جس کا مطلب طاقت کی عدم موجودگی نہیں بلکہ کنٹرول کی صلاحیت کا فقدان ہے، اور اثر و رسوخ کے اُس نظام کا متزلزل ہو جانا ہے جو بظاہر مضبوطی سے قائم دکھائی دیتا تھا۔

 

عروج سے زوال تک

 

1990ء کی دہائی میں واشنگٹن عالمی نظام کا واحد حاکم بن کر ابھرا۔ یہ واشنگٹن ہی تھا جو جنگ اور امن کے فیصلے کرتا تھا، پابندیاں عائد کرتا، حکومتوں کے تختے الٹ ڈالتا اور ریاستوں کی ازسرِنو تشکیل کرتا تھا۔ تاہم بعد میں جو جنگیں اس نے لڑیں، یعنی افغانستان سے عراق تک اور پھر ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“، وہ واشنگٹن کے تسلط کے ذرائع بننے کے بجائے بحران پیدا کرنے والے عناصر میں بدل گئیں۔

 

امریکہ ان حالات اور جنگوں سے ایسے نڈھال ہو کر نکلا جو کہ اب آرڈر نافذ کرنے کے قابل نہ رہا تھا، وہ خود اعتمادی سے محروم ہو چکا تھا اور اقتصادی و اخلاقی بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔

 

مصنف اپنے تجزئیے میں بیان کرتا ہے کہ ”سلطنتوں کے خاتمہ کا آغاز ان کے باہر سے نہیں ہوتا بلکہ طاقت کی لت لگنے کے لمحہ سے ہی شروع ہو جاتا ہے“۔ واشنگٹن اس مرض میں اس وقت مبتلا ہو گیا جب اس نے یہ خیال کیا کہ اس کا یہ کنٹرول دائمی ہو سکتا ہے، اور یہ کہ سرمایہ، میڈیا اور اسلحہ تاریخ کو منجمد کر دینے کے لئے کافی ہیں۔

 

لیکن کابل کے سقوط سے لے کر عراق، شام اور یمن میں امریکی اثر و رسوخ کے ٹوٹنے تک کے واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ جب طاقت کو کسی اخلاقی منصوبے کے بغیر استعمال کیا جائے تو وہ اسی کے لئے ایک بوجھ بن جاتی ہے جو اس طاقت کا مالک ہوتا ہے۔

 

”امریکی مشرقِ وسطیٰ ماڈل“ کا زوال

 

کتاب واضح کرتی ہے کہ امریکی اجارہ داری کا مرکزی ستون وہ تھا جسے ”مشرقِ وسطیٰ (2+4) ماڈل“ کہا جاتا ہے، یعنی دو عالمی طاقتوں، یعنی امریکہ اور روس، کی نگرانی میں چار علاقائی طاقتوں—ایران، ترکی، سعودی عرب اور یہودی وجود —کے ذریعے اس خطے کا انتظام چلایا جائے۔ یہ مساوات واشنگٹن کو توانائی کی گزرگاہوں پر کنٹرول فراہم کرتی تھی، کسی بھی باہمی اتحاد کو روکتی تھی، اور تنازعات کو ایک”قابلِ کنٹرول حد“ کے اندر تک ہی رکھتی تھی۔

 

تاہم یہ مساوات اپنے اندر سے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگی:

 

·      ترکی بتدریج بحرِ اوقیانوس کے محور سے پھسل کر ایک خودمختار محور کی طرف بڑھ گیا جو ماسکو اور بیجنگ کے درمیان جھول رہا ہے۔

 

·      ایران نے محاصرے کا مقابلہ کیا اور عراق، شام، لبنان اور یمن تک اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا دیا۔

 

·      سعودی عرب نے امریکی سلامتی کی ضمانت پر اعتماد کھو دینے کے بعد اپنے دیگر اتحادوں میں تنوع پیدا کرنا شروع کر دیا۔

 

·      یہودی وجود اپنے اندرونی تضادات میں دھنستی چلی گئی اور غزہ، لبنان اور ویسٹ بنک میں کھلی محاذ آرائیوں میں الجھ گئی، جس سے اس وجود کی فوجی برتری کے محدود ہونے کا انکشاف ہو گیا۔

 

جہاں تک روس کا تعلق ہے، 2015ء میں شام میں اپنی فوجی مداخلت کے بعد سے وہ محض”ثانوی ضامن“ کے طور پر نہیں رہا بلکہ خطے کے قلب میں واشنگٹن کا سیاسی اور عسکری ہم پلہ بن گیا۔ یوں امریکی نظام کی بنیادیں اندر ہی اندر کمزور ہوتی چلی گئیں، یہاں تک کہ واشنگٹن اپنے مخالفین تو درکنار، اپنے اتحادیوں پر بھی اپنی مرضی مسلط کرنے سے قاصر ہو گیا۔

 

جیوپولیٹیکل خلا: جب قابو میں رکھنے والا ہاتھ ہی غائب ہو جائے

 

جس حقیقت کو مصنف نے ”جیوپولیٹیکل خلا“ کا نام دیا ہے وہ طاقتوں کے مادی وجود میں خلا نہیں ہے بلکہ ان کے توازن کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت میں خلا ہے۔ امریکی طاقت اب بھی بہت بڑی ہے، مگر وہ حالات و واقعات کی سمت متعین کرنے سے قاصر ہو چکی ہے۔ واشنگٹن اپنا سب سے اہم عنصر کھو چکا ہے: بیانیہ کی بالادستی (حاکمیت)۔

 

ماضی میں ہر بحران کو امریکی بیانیے کے ذریعے سے ہی سمجھا جاتا تھا، خلیجی جنگوں سے لے کر اُس دور تک جسے عرب بہار کہا گیا۔ آج میڈیا اور بیانیے کی اجارہ داری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے؛ لوگوں کے پاس اب اپنے اپنے پلیٹ فارمز ہیں، اور دنیا غزہ، یوکرین یا سوڈان کی جنگ کی عکاسی کو متعدد زاویوں سے دیکھتی ہے، نہ کہ صرف وائٹ ہاؤس کی نظر سے۔

 

یہ ضروری نہیں کہ یہ خلا لازماً کسی نئی طاقت کے ذریعے پُر ہو بلکہ یہ خطے کو متعدد طاقتوں کے مابین کھلے مقابلے کے ایک میدان میں بدل سکتا ہے: ایک طرف روس اور چین، دوسری طرف ایران اور ترکی، اور ایک اور جانب غیر ریاستی عناصر۔

 

بہرحال مصنف اس صورتِ حال میں ایک نادر تاریخی موقع دیکھتا ہے، کیونکہ امریکی بالادستی کی پسپائی سے اس ریجنل آرڈر کو نئی بنیادوں پر ازسرِنو متعین کرنے کا باب کھل گیا ہے۔

 

ایک بدلتی ہوئی دنیا میں موجود مشرقِ وسطیٰ

 

ایک قطبی دنیا کے بعدکا مشرقِ وسطیٰ محض ایک ضمنی میدان ہونے سے نکل کر عالمی نظام کو دوبارہ تشکیل دینے کے لئےایک کلیدی میدان میں بدل چکا ہے۔ کیونکہ توانائی کے ذخائر، بحری گزرگاہیں، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے لئے لڑی جانے والی جنگیں سب اسی خطے سے ہو کر گزرتی ہیں۔

 

فرق یہ ہے کہ دہائیوں تک انحصار کئے رکھنے کے بعد، خطے کے ممالک اب جیوپولیٹیکل شعور حاصل کرنے لگے ہیں اور فیصلہ سازی میں خودمختاری کی تلاش کر رہے ہیں۔

 

مصنف ،فوکویاما، یہ تجزیہ کرتا ہے کہ ”خطے کی نئی قیادت واشنگٹن کو اب سلامتی کا واحد ذریعہ نہیں سمجھتی، بلکہ اسے اپنے لئے خطرے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتی ہے“۔

 

اور اسی لئے مطابقت پذیر اتحادوں کا مظہر ابھر کر سامنے آتا ہے:

 

·      چینی سرپرستی میں سعودی-ایرانی مفاہمت۔

·      ترکی اور مصر کے درمیان بتدریج بڑھتی ہوئی قربت۔

·      بھارت، چین، متحدہ عرب امارات، اور روس کا نئے اقتصادی بلاکس میں داخل ہونا، جیسا کہ  BRICS۔

 

یہ سب عوامل خطے کا ذہنی نقشہ دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں؛ کیونکہ ”وفاداریاں“ اب مستحکم نہیں رہیں اور نہ ہی ”مدار“بند ہو گئے ہیں۔ اس ایک صدی میں پہلی بار، مشرقِ وسطیٰ نے سائیکس-پیکوٹ کے نقشے سے باہر سوچنا شروع کیا ہے اور ایسے توازن تلاش کرنے لگ گیا ہے جو اس کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔

 

طاقت کے فریب: جب سلطنت پیچھے نہ ہٹ سکتی ہو

 

مصنف جس تضاد کو بخوبی اجاگر کرتا ہے، وہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے زوال کو تسلیم تو کر رہا ہے، لیکن یہ نہیں جانتا کہ پیچھے کیسے ہٹا جائے۔ عظیم سلطنتیں تب نہیں مرتیں جب وہ شکست کھا جائیں، بلکہ تب مرتی ہیں جب وہ اسی پر مُصر ہوں کہ وہ ویسی ہی رہیں جیسے پہلے تھیں۔

 

اسی لئے واشنگٹن کی پالیسیاں غیر مستحکم ہو رہی ہیں:

·      افغانستان سے بغیر کسی حکمت عملی کے انخلاء۔

·      بار بار لگائی جانے والی پابندیاں جو اپنی تاثیر کھو رہی ہیں۔

·      اسرائیل‘ کی غیر مشروط حمایت، چاہے اس کی اخلاقی اور سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔

·       قلیل مدتی مفاد پر مبنی اتحادوں کے ذریعے اثرورسوخ کو بحال کرنے کی کوششیں۔

 

بہرحال یہ پالیسیاں اب مزید امریکی تسلط کو پیدا نہیں کر رہیں، بلکہ عالمی سطح پر ایک متبادل کی ضرورت کے احساس کو گہرا کر رہی ہیں، اور یوں امریکہ کا ہر دفاعی قدم اس کے اثر و رسوخ کو مزید کمزور کرنے کی سمت میں ایک اضافی قدم بنتا جا رہا ہے۔

 

خلا میں اضافہ یا ایک نئے نظام کی ابتدا؟

 

بہرحال مصنف نے ایک اہم سوال کی طرف اشارہ کیا ہے : کیا ہم واقعی ایک جیوپولیٹیکل خلا کا سامنا کر رہے ہیں، یا پھر یہ ایک نئے کثیر مرکزی نظام کی پیدائش سے قبل کا دردِ  زہ ہے ؟

 

مصنف کے نقطۂ نظر کے مطابق، خلا موجود ہونا ہمیشہ خطرہ کا باعث نہیں ہوتا؛ یہ نئے آغاز کا لمحہ بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی بالادستی نے خطے میں تاریخ کو منجمد کر دیا تھا اور توازن کو مصنوعی بنائے رکھا تھا۔ آج امریکہ کی بالادستی کے متزلزل ہو جانے سے اقوام کے خود عمل کرنے کا موقع واپس آ رہا ہے اور طاقتوں پر انحصار کرنے کی بجائے ایک اور طبعی ریجنل آرڈر کا باب کھل رہا ہے جو طاقتوں میں تنوع کی بنیاد پر ہو۔

 

جیسا کہ مصنف نے وضاحت کی ہے، یہ امکان اس بات پر مشروط ہے کہ عوام اپنے آزادانہ تہذیبی منصوبہ کو پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، نہ کہ محض نئے قطب سے ہم آہنگی اختیار کر لیں۔ کیونکہ اگر مشرقِ وسطیٰ واشنگٹن پر انحصار کرنے سے نکل کر بیجنگ یا ماسکو پر انحصار کرنے کی طرف منتقل ہو جائے، تو یہ خلا ہرگز پُر نہیں ہوگا، بلکہ صرف اپنی نوعیت بدل لے گا۔

 

سیاسی اسلام اور اپنے اصل مقام کی طرف واپسی

 

اس تبدیلی کے درمیان، مصنف یہ دیکھتا ہے کہ سب سے بڑا خلا سیاست میں نہیں بلکہ افکار میں ہے۔ امریکی بالادستی کی عدم موجودگی نے خطے کی طاقتوں کے لئے جگہ تو پیدا کر دی ہے، مگر ابھی تک یہ ایک مربوط تہذیبی منصوبہ پیدا نہیں کر سکی ہے۔

 

یوں وہی پرانا سوال ایک نئی صورت میں واپس آتا ہے: کیا امتِ مسلمہ دنیا کے سامنے اپنا ایک معتبر اور مصدقہ مؤقف پیش کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؟

 

اسلامی تحریکیں، باوجود اس حقیقت کے کہ انہیں نظرانداز کر کے دور رکھا گیا اور دیوار سےلگا دیاگیا، ان پر ظلم و جبر کیا گیا اور ان کی کردارکشی کی گئی، بہرحال اب بھی اسلامی تحریکیں اخلاقیات اور روحانیت کا وہ منبع ہیں جو اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔ تاہم، مصنف اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ خود کفالت کی طرف لوٹنا الگ تھلگ ہوجانا یا تاریخی رومانویت نہیں، بلکہ اسلامی فکر کو ایک ایسے عصری سیاسی منصوبے میں تبدیل کرنا ہے جو عالمی مقابلے کی قابلیت رکھتا ہو، اور جسے وہ )1+0( کا ماڈل کہتا ہے: یعنی ایک ایسا وحدت کا نظام جسے کسی بیرونی ضامن کی ضرورت نہ ہو۔

 

تسلط کا خاتمہ اور ایک نئے دور کا آغاز

 

اپنی کتاب کے اختتام میں، مصنف ایک فکری خلاصہ پیش کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ سے تجاوز کر کے پورے عالمی نظام تک پھیلا ہوا ہے: ”وہ دور ختم ہو گیا ہے جب سلطنتیں دنیا کو ایک واحد مرکز سے کنٹرول کرتی تھیں۔ دنیا اب غیر یک قطبی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں توازن مسلط کرنے کے بجائے تعامل کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں“۔

 

یہ لمحہ، امریکی بالادستی کے زوال کا لمحہ، محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی موڑ ہے جو طاقت اور اس کے معانی کو نئے سرے سے متعارف کراتا ہے۔ کیونکہ جب واشنگٹن پیچھے ہٹ جائے گا، تو سوال اب یہ نہیں رہتا کہ : اس خلا کو کون پُر کرے گا؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ : مغربی لبرل فکر کے زوال کے بعد کون سی فکر دنیا کی قیادت کرے گی ؟

 

مصنف کے مطابق، اسی سوال میں ہی اسلامی امت کے لئے تاریخی موقع مضمر ہے کہ وہ دنیا کے سامنے ایک متبادل ماڈل پیش کرے جو روحانیت، عدل و انصاف، اور عقل کے درمیان توازن قائم کرے، اور انسانیت کو اُس کھپت کے پیچیدہ چکر اور تقسیم در تقسیم ہونے سے بچائے جو اس مفاد پرست تہذیب کا پیدا کردہ ہے۔

 

نتیجہ: خلا کا موجود ہونا کوئی حتمی اختتام نہیں ہے

 

امریکی تسلط خطے کے عوام کے اوپر ایک چھت کی مانند تھا: یہ انہیں طوفان سے تو محفوظ رکھتا تھا، لیکن انہیں خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے سے روکے رکھتا تھا۔ تاہم آج، افراتفری اور خونریزی کے باوجود، اس چھت میں دراڑ آنے لگی ہے۔

 

اس خطرے کے باوجود، امریکی تسلط کا زوال، اس خطے کی حقیقی تاریخ کے آغاز کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ مصنف لکھتا ہے کہ خلا کا موجود ہونا، ”وقت کا اختتام نہیں بلکہ ایک جمود کا خاتمہ ہے“۔ اگر اس خلا کو ایک عادلانہ بنیادی منصوبے سے پُر نہ کیا گیا، تو دوسرے اسے اپنے منصوبوں سے پُر کر دیں گے۔ اس صدی میں پہلی بار، موجودہ لمحہ مشرقِ وسطیٰ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنا توازن خود تشکیل دے، نہ کہ اسے باہر سے تشکیل دیا جائے۔

 

یوں، امریکی بالادستی کا خاتمہ دنیا کے لئے کوئی المیہ نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے… ایک ایسا دور جس کی تاریخ اس بار مشرق رقم کر سکتا ہے، نہ کہ محض یہ کہ اس میں تاریخ لکھی جائے۔

Last modified onجمعرات, 29 جنوری 2026 21:36

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک