بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ اور چین: کیا عالمی نظام کی ایک نئی تشکیل ہونے کو ہے ؟!
(عربی سے ترجمہ)
مئی ، 2026ء
تحریر : انجینئر وسام ألاطرش
تعارف :
1990ء کی دہائی میں سوویت یونین کے انہدام اور یک قطبی دنیا کے ظہور کے بعد، امریکہ نے مغربی بلاک کی قیادت کرتے ہوئے روس کو قابو میں رکھنے، اس کے گرد گھیرا تنگ کرنے، اور اسے ایک ایسی ریاست کی حالت تک محدود کرنے کی کوشش کی کہ جہاں اس کا علاقائی اثر و رسوخ بھی باقی نہ رہے۔ امریکہ نے روس کے نیوکلئیر ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی، اور روس کے گرد و نواح میں بے چینی اور بدامنی کو ہوا دی، جس کا نقطۂ عروج یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملے میں امریکہ کی شمولیت کی صورت میں سامنے آیا۔ اسی دوران امریکہ نے چین کو بھی زیرِ کرنے اور اسے اس کی عظیم دیوار کی حدوں تک ہی محدود رکھنے کی کوشش کی، اور امریکہ نے چین کومحض ایک ایسی وسیع منڈی سمجھا کہ جس سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور ایک ایسی افرادی طاقت کے جن کے طور پر کہ جس کو اپنے فائدے کے لئے سدھایا جا سکے۔ اس کے باوجود چین نے اپنی طاقت اور وسائل کے بل بوتے پر ایک علاقائی سپر پاور کی حیثیت حاصل کر لی، اور چین سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھتا ہے، اور اس کے علاوہ علاقائی سطح پر بڑھتے ہوئے عزائم بھی رکھتا ہے۔ بلکہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ آج چین ایک معاشی طاقت کا درجہ رکھتا ہے اور ایک بڑی طاقت ہونے کی تمام تر خصوصیات کا حامل ہے۔
کیا چین اب امریکہ کی جگہ لے کر گلوبل آرڈر کے واحد لیڈر کے طور پر مرتبہ سنبھالنے کے لئے ابھر رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ حالیہ برسوں میں امریکی سلطنت کے زوال کی باتیں زور و شور سے کی جا رہی ہیں؟ یا پھر ایسا ہے کہ ہم ایک کثیر القطبی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، جیسا کہ بہت سے مفکرین اور تجزیہ نگار بھی کہتے ہیں؟ کیا سرد جنگ کا وہ تصور، جو سوویت دور میں رائج تھا، امریکہ اور چین کے تعلقات کو درست طور پر بیان کرتا ہے؟ یا پھر دونوں ممالک ٹیرف کے شور شرابے کے باوجود عالمی نظام کی نئی تشکیل کی راہ پر گامزن ہیں؟
ان سوالات کے جواب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ عالمی نظام میں ہونے والی حالیہ اور مسلسل جاری تبدیلیوں کو اس وقت تک درست طریقے سے نہیں سمجھا جا سکتا اگر ہم صرف اُن روایتی تصورات پر انحصار کرتے رہیں جو بیسویں صدی پر حاوی تھے، خصوصاً سرد جنگ کے دوشدید طاقتوں کے اُس تصور پر، جس میں دو متضاد طاقتیں ایک مضبوط، گویا فولادی دیوار اور تقریباً مکمل معاشی رکاوٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے جدا تھیں۔ موجودہ منظرنامہ کسی غالب طاقت کے اچانک انہدام یا زور دار سقوط کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ یہ اُس یک قطبی بالادستی کے تدریجی زوال کو ظاہر کرتا ہے جو 1991ء کے بعد ابھری تھی، اور ایک ایسے نامکمل عالمی نظام کی طرف سست رفتار منتقلی کو، جس میں طاقت کے مراکز ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں، اور اثر و رسوخ کے ذرائع معیشت، ٹیکنالوجی، فوجی قوت، اور پراکسی جنگوں کے درمیان تقسیم ہو چکے ہیں، جیسا کہ آگے وضاحت کی جائے گی۔
اس تبدیلی کے مرکز میں تین بڑے دائرے موجود ہیں، جو براہِ راست اُن اسباب سے جڑے ہوئے ہیں جنہوں نے ایران کو ایک اسٹریٹجک خلل پیدا کرنے والی قوت اور عالمی اختلاف کا مرکزی نقطہ بنا دیا ہے، اور ایک ایسی نئی قسم کی سرد جنگ کو جنم دیا ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ عالمی کشمکش میں مشرقِ وسطیٰ کے لئے ”طوفان الاقصیٰ“ کے واقعات ایک تاریخی موڑ کے طور پر ثابت ہوئے، جنہوں نے دنیا کی توجہ اُس یکطرفہ بالادستی کی حقیقت کی طرف مبذول کرائی جو یہودی وجود کی پشت پناہی کر رہی ہے، اور جسے مسلسل پیش آنے والے واقعات نے خطے کی دلدل میں ایک کثیر محازوں پر تھکا دینے والی جنگ میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔2014ء میں عزالدین القسام بریگیڈز نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ منعقد کی تھی، جس میں پہلی مرتبہ ڈرونز، غوطہ خور یونٹس، اور نئے میزائل و راکٹ پیش کیے گئے۔ تاہم اُس وقت جس پیغام کو بعض لوگ سمجھنے میں ناکام رہے، وہ ابو عبیدہ کی جانب سے ایران کا شکریہ ادا کرنا تھا۔
جن تین دائروں کی ہم بات کر رہے ہیں، وہ یہ ہیں: چین اور ایران کے درمیان بالواسطہ تعاون کا نیٹ ورک، روس اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی و تکنیکی اتحاد، اور امریکی طاقت کی حدود، جیسا کہ مغربی اسٹریٹجک تھنک ٹینکس کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے۔
چین اور ایران: گلوبل آرڈر کے اندرمنظم طاقت کے طور پر شمولیت
اس تناظر میں چین اور ایران کے تعلقات اس نئی قسم کے بین الاقوامی تعامل کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ گرچہ یہ کوئی براہِ راست فوجی اتحاد نہیں ہے، بلکہ ایک قسم کی خاموش لیکن منظم طاقت بنانے کی ایک ایسی شکل ہے جو عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی کام کرتی ہے، نہ کہ اس کے باہر رہ کر۔ اس عمل کو دونوں ممالک کے مابین مارچ 2021ء میں طے پانے والے جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے نے مزید مضبوط کیا۔ یہ 25 سالہ تعاون کا فریم ورک اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے ترتیب دیا گیا، جس کے تحت ایران سے مستقل اور رعایتی نرخوں پر ایران کے آئل کی فراہمی حاصل کرنے کے عوض بیجنگ نے تیل، گیس، اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد کیا تھا۔ یہ معاہدہ امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایران کے لئے ایک اہم سہارا فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی تیل کی ایشیائی منڈیوں، خصوصاً چین، تک ترسیل اب بھی جاری ہے، جو پیچیدہ ثالثی نیٹ ورکس اور پابندیوں سے بچنے کے طریقہ کار کے ذریعے ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ایران کے آئل کی یہ ترسیل محض تجارتی تبادلہ نہیں، بلکہ ایک اہم معاشی توازن کا عنصر ہے جو ایران کو مغربی دباؤ کے باوجود اپنے مالی استحکام کو کم از کم برقرار رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ دریں اثناء امریکی وزارتِ خزانہ کی رپورٹس ان سپلائی نیٹ ورکس کو بھی بے نقاب کرتی ہیں جن کے ذریعے دوہری استعمال کی حامل الیکٹرانک اشیاء اور ٹیکنالوجیز — جن میں مائیکروچپس، مواصلاتی آلات، اور نیویگیشن سسٹمز شامل ہیں — ایران تک پہنچتی ہیں۔ بعد ازاں انہی ٹیکنالوجیز کو غیر روایتی فوجی صلاحیتوں، خصوصاً ڈرونز، کی تیاری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس عمل میں براہِ راست ہتھیاروں کی منتقلی شامل نہیں، بلکہ ایسی ”غیر واضح“ قسم کی سپلائی چینز استعمال ہوتی ہیں جو باقاعدہ ضوابط سے کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی کے بغیر، ٹیکنالوجی کو شہری اور فوجی استعمال کے لئے منتقل ہونے کی اجازت دیتی ہیں۔
امریکی حکام نے دی نیویارک ٹائمز کو یہ بھی بتایا کہ چینی کمپنیاں ایران کو دوہرے استعمال کا حامل مواد فراہم کر رہی ہیں، یعنی ایسا سامان جو سویلین اور فوجی دونوں طرح کے مقاصد کے لئے موزوں ہو۔ حکام کے مطابق چین ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے حوالے سے محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے، اور اپنے متعدد اسٹریٹجک مقاصد کے باعث اس نے کوئی واضح اور سخت مؤقف اختیار نہیں کیا۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کے بیدو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم (BDS-BeiDou) کی توسیع عالمی طاقت کے ڈھانچے میں ایک گہری تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جیسا کہ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی تحقیقات میں بیان کیا گیا ہے۔
اب نیویگیشن سسٹمز کسی ایک طاقت کی اجارہ داری نہیں رہے، بلکہ وہ ایک ایسے کثیر القطبی دنیا کا حصہ بن چکے ہیں جو کسی براہِ راست مقابلہ کے بغیر عالمی سطح پر ٹیکنیکل طاقت کو تقسیم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، چاہے امریکی انٹیلی جنس رپورٹس درست ہوں یا نہیں — جن کے مطابق خلیجی خطے میں امریکی فوجی اہداف کی سیٹلائٹ تصاویر چین نے ایران کو فراہم کی ہیں — اس تناظر میں چین کے کردار کو ایران کے لئے براہِ راست فوجی معاونت کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ بلکہ یہ گلوبل طاقت کے ڈھانچے کو خود اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج ازسرِ نو تشکیل دینے کا عمل ہے۔
یہاں اس امر پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے کہ تجارتی خلائی ٹیکنالوجی ایک دوہری استعمال کی حامل صلاحیت ٹیکنالوجی میں تبدیل ہو چکی ہے، جو خطے کے پیچیدہ تنازعات کے ماحول میں ضم کی جا سکتی ہے۔ اس صورتحال سے خطے میں انٹیلی جنس اور آپریشنل آگاہی کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، اور ملٹری آپریشنز کے عین نشانوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ شاید یہی بات وہ حقیقت وضاحت کرتی ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے تجزیوں کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران امریکی فوجی تنصیبات پر 228 سے زائد عمارتوں یا آلات کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
یوں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے یہ محرک، چین کی حکمتِ عملی میں ایران کے مؤقف سے جڑے ہوئے ہیں۔ بیجنگ اور تہران کے درمیان تعلق بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک بنیادی ستون ہے، کیونکہ ایران وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک جغرافیائی سنگم کی حیثیت رکھتا ہے، اور انرجی و تجارت کے لئے ایک نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ یہ صورتحال براہِ راست طور پر اس امریکی نظریے سے ٹکراتی ہے جو اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے تحت اسٹریٹجک گزرگاہوں پر غلبہ حاصل کرنے پر مبنی ہے۔ اور یہیں پر بنیادی تضاد سامنے آتا ہے: چین اس بحران میں ایک حریف ٹکر کی طاقت کے طور پر داخل نہیں ہوا، بلکہ ایک منتظم طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ چین نے فوجی انداز میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس توازن کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے سیاسی طور پر استعمال کیا ہے۔ اور اسی صورتحال سے عالمی نظام میں طاقت کے فلسفے کے اندر موجود فرق کی عکاسی ہوتی ہے۔
روس اور ایران: سیاسی ہم آہنگی سے فوجی و صنعتی انضمام تک
اگرچہ چین اپنا اثر و رسوخ عالمی اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل انفراسٹرکچر کے ذریعے استعمال کرتا ہے، لیکن روس طاقت کے منطق کی زیادہ واضح اور براہِ راست ازسرِ نو تشکیل کی نمائندگی کرتا ہے، جو فوجی انضمام کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ یوکرین کی جنگ کے بعد ماسکو اور تہران کے مابین تعلقات محدود تعاون سے آگے بڑھ کر ایک جدید فوجی و صنعتی انضمام کے ماڈل میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ رائٹرز اور دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں کی رپورٹس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کی تحقیقات، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران کے (HESA Shahed 136) ڈرونز روسی فوج میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوئے، اور بعد ازاں ان کی مقامی سطح پر تیاری بھی روس میں شروع کی گئی، جہاں انہیں تاتارستان کے صنعتی مراکز میں ”Geran-2“ کے نام سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف سپلائی کے مرحلے سے مشترکہ پیداوار کی طرف منتقلی نہیں ہے، بلکہ یہ تعلقات کے اس درجے کو ظاہر کرتی ہے جہاں محض باہمی فائدے کے بجائے جنگی ٹیکنالوجی کا گہرا اشتراک موجود ہے۔
اسی طرح امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹس بھی گائیڈنس سسٹمز اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبوں میں تعاون کی نشاندہی کرتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان محض روایتی خرید و فروخت کے بجائے حقیقی فوجی مہارت اور تکنیکی علم کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
یوں روس اور ایران کے تعلقات بتدریج ایک ایسے عملی فوجی اتحاد کے ماڈل کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں جس کا مقصد بین الاقوامی نظام میں طاقت کے عناصر کی ازسرِ نو تقسیم ہے، نہ کہ روایتی معنوں میں کسی اصولی یا سیاسی اتحاد کی تشکیل۔ اس تناظر میں روس کے صدر، ولادیمیر پیوٹن کا چین کا تاریخی دورہ اور 2 فروری، 2022ء کو ہونے والی چینی ہم منصب سے اس کی ملاقات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جہاں دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے میں امریکی بالادستی کے مقابلے میں اپنے مؤقف کے اتحاد کا اعلان کیا، بین الاقوامی کثیر القطبی (multipolarity) کی حمایت کی، اور کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔
امریکہ اور چین: باہمی کشیدگی کی حدود کے اندر بالادستی
بین الاقوامی نظام میں طاقت کے متعدد مراکز کی بتدریج تشکیل کے مقابلے میں امریکہ اپنے لئے سب سے بڑی عسکری اور ٹیکنیکل پاور کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ کی یہ بالادستی اب ویسی حتمی نہیں رہی جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں تھی، اور بین الاقوامی امور سے متعلق باشعور حلقوں کے لئے امریکہ کا زوال اب کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں رہی۔
2022ء سے 2024ء کے دوران رینڈ کارپوریشن (RAND Corporation) کے تجزیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بھرپور شدت کےجنگی منظرناموں کے لئے امریکہ کی عسکری ذمہ داریوں اور امریکہ کی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے، خصوصاً گولہ بارود اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے شعبے کی پیداواری صلاحیت میں۔ رینڈ کارپوریشن کے مطابق دنیا اب ”جنگ کی حد سے نیچے مسلسل مسابقت“کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ ایک نہایت اہم تشخیص ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ براہ راست جنگ کی صورت حال نہیں ہے لیکن تصادم مسلسل جاری ہے، جبکہ نیوکلیئر تصادم سے بھی بچاؤ برقرار ہے۔ اور باہمی کشمکش کی یہ طرز یقیناً ایک ایسی تھکن پیدا کر رہی ہے جو اس صورتحال میں شامل تمام بڑی طاقتوں کو بتدریج کمزور کر رہی ہے، خصوصاً امریکہ کو، جو لڑکھڑاتی ہوئی مغربی تہذیب کا دفاع کرنے کا دعویدار ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی تحقیقات کے مطابق جدید جنگ کی نوعیت، جس میں کم لاگت والے ڈرونز اور کم لاگت والے سسٹمز کا وسیع استعمال شامل ہے، امریکی روایتی اور مہنگے عسکری ماڈل کی برتری پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔ امریکہ کو اس وقت ٹیکنالوجی، سپلائی چینز، خلائی نظام، آرٹیفشل انٹیلیجنس اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ سمیت متعدد محاذوں پر بیک وقت مقابلہ آرائی کا سامنا ہے۔
اسی طرح، بروکنگز انسٹیٹیوشن کا مؤقف ہے کہ امریکی چیلنج اب صرف عسکری نوعیت کا نہیں رہا، بلکہ یہ ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ بن چکا ہے، جس میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت اور روس کے دوبارہ ایک طاقتور فوجی قوت کے طور پر ابھرنے کے دوران امریکہ کے عالمی سطح کے عزائم کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بیک وقت سنبھالنا شامل ہے۔ اور روس کی طاقت کی موجودہ کیفیت ایسی ہے کہ جسے یوکرینی دلدل میں کمزور کرنے کی تمام مغربی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) کا یہ مؤقف ہے کہ اگرچہ امریکی بالادستی برقرار ہے، لیکن اب یہ مستحکم اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لئے کافی نہیں رہی۔ اس کے بجائے یہ ایک ایسی بالادستی بن کر رہ چکی ہے جس کا انحصار اس صلاحیت پر ہے کہ امریکہ اپنے اسٹریٹجک پھیلاؤ کو صرف مؤثر طریقے سے منظم کرتا رہے۔
نیز یہ کہ، مئی 2026ء میں نیو یارک ٹائمز اور فارن پالیسی میں شائع ہونے والے تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی طاقت کے ڈھانچے میں جاری تبدیلیاں محض یک قطبی نظام (unipolar system) کے اندر بتدریج ایڈجسٹمنٹ نہیں ہیں، بلکہ یہ اجارہ داری کے تصور کی دھیرے دھیرے سے ازسرِ نو تشکیل کے گہرے اشارے ہیں۔
چنانچہ ایک طرف تو امریکی پالیسیاں ایسے وعدوں اور خارجی عزائم میں توسیع کو ظاہر کرتی ہیں جو بعض اوقات امریکہ کی خود اپنی اس صلاحیت سے ہی تجاوز کر جاتی ہیں کہ ان عزائم کو مؤثر طریقے سے منظم کیا جا سکے، اور اس حقیقت سے (امریکہ جیسی) غالب طاقت کے لئے اسٹریٹجک تھکن میں اضافہ اور اس روایتی بالادستی ماڈل کے اثرات میں ماند پڑتی ہوئی کمی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اور دوسری طرف، اپنے سیاسی نظریات اور معاشی اثرورسوخ (soft power) پر انحصار میں کمی اور سخت اور جابرانہ طاقت کے استعمال میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دیگر ممالک پر اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کی وہ صلاحیت کمزور ہو رہی ہے جو کشش اور قبولیت پر مبنی تھی۔ یہ صورتحال اس لبرل نظام کے ستونوں میں سے ایک بنیادی ستون کو کمزور کر رہی ہے جس کی قیادت سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے امریکہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ امریکہ کی ساکھ متأثر ہوئی ہے اور بتدریج گرتی چلی جا رہی ہے، اور آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد سے تو اس زوال میں تیزی آ گئی ہے، جو کہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے عالمی رائے عامہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ اور اس کے نتیجے میں جرمن چانسلر نے یہ بیان دیا کہ واشنگٹن کو ایرانی مذاکرات کاروں کے ہاتھوں سبکی ہوئی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کشیدگی بھرے تناظر میں ایران کے بارے میں امریکی پالیسی طویل المدتی اسٹریٹجک کنٹرول کے اصول کا براہِ راست تسلسل نظر آتی ہے۔ خبر رساں ادارے، رائٹرز نے 2 مئی، 2026ء کو وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عائد پابندیوں کو مزید کئی ماہ تک بڑھانے کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد ایران کی اپنے تیل کی برآمدات کو محدود کرنا اور تہران کو ایک نئے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ پالیسی مسلسل امریکی دباؤ کے ماحول میں سامنے آئی ہے، اور یورپی سفارتی تجزیے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کسی فوری پیشرفت کے بغیر اس موجودہ صورتحال کے طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ یوں اس طرح ٹرمپ نے کسی حتمی اور جامع معاہدے تک پہنچنے کی امید میں ایرانی نمائندگان کے ساتھ عسکری پریشر کے علاوہ سفارتی پریشر کے بھی ہر ممکن ذرائع استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، تاہم اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی ہے۔
بہرحال یہ پیش رفت یعنی پابندیوں میں توسیع کرنا، کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اسٹریٹجک معیار کی عکاسی کرتی ہے، جو کسی تنازع کو ”غیر واضح زون“ میں رہتے ہوئے پابندیوں کی آڑ میں منظم کرنے پر مبنی ہے—یعنی براہِ راست جنگ میں کودے بغیر پریشر کو برقرار رکھنا، لیکن تعلقات کو مکمل طور پر مستحکم بھی نہ ہونے دینا۔ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف دو مرتبہ براہِ راست فوجی کارروائیوں کا سہارا لینا پڑا، یعنی آپریشن مڈنائٹ ہیمر (2015ء کے موسم گرما میں) اور آپریشن ایپک ریتھ- Epic Wrath (2016ء کے موسم بہار میں)، لیکن پھر بھی امریکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا، بالکل اسی طرح جیسے وہ مذاکرات کے ذریعے بھی کامیاب نہ ہو سکا، جوکہ اکثر وبیشتر فریب دہی پر مبنی سیاسی چال ہوتے ہیں اور فوجی اہداف کو مخفی رکھنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
یکے بعد دیگرے کی انہی ناکامیوں نے ٹرمپ کو مجبور کیا کہ وہ ”خفت زدہ چہرہ “کے ساتھ ایک ایسے سربراہی اجلاس کے لئے چین کا دورہ کرے جس کو اس جنگ کے باعث پہلے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا مسئلہ اور آبنائے ہرمز اس ملاقات کے مرکزی موضوعات ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو یہ ایک ایسا سربراہی اجلاس ہوگا جو اس چین کے سامنے ایک ”التجا“کی شکل ہو گا جو کہ ایک ثالث کے طور پر کشیدگی کم کرنے اور تنازعات حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کو سنبھالنے اور انہیں منظم کرنے کے حوالے سے ایک گہری اور غیر معمولی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے اپنے چین کے دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا، اور کہا کہ بیجنگ کے ساتھ معاملات بہت بہتر جا رہے ہیں، یا پھر کم از کم وہ ایسا ظاہر کر رہا تھا—جو کہ وائٹ ہاؤس میں چھوٹے کاروباری سربراہی اجلاس کے دوران اس کے مؤقف سے ظاہر ہوا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ باضابطہ ملاقات 14 اور 15 مئی کو طے تھی۔ سی این این کے متعدد ذرائع کے مطابق، بیجنگ نے اس سربراہی اجلاس کو ایک ایسے منفرد موقع کے طور پر لیا تا کہ اس کے ذریعے سے اپنے سب سے بڑے اقتصادی اور عسکری حریف کے ساتھ مزید مستحکم طویل المدتی تعلقات قائم کئے جا سکیں۔
دورِ حاظر کی اسٹریٹجک فکر: یک قطبیت سے (Unipolarity) سے ثالثی سیاست کی طرف
ان تبدیلیوں کے تناظر میں جو کچھ ہم رونما ہوتا دیکھ رہے ہیں، وہ کوئی نئی سرد جنگ نہیں، بلکہ ایک زیادہ تغیرپذیر اور غیر متعین نوعیت کے کثیرالقطبی نیٹ ورک کی طرف ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ نیز یہ کہ، مشرقی طاقتوں کا اٹھنا اور مغربی طاقتوں کا زوال بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے میں کسی بنیادی تبدیلی یا اس کی بنیادوں کے انہدام کے مترادف نہیں، چاہےعالمی قانونی حیثیت میں کمی، عالمی قانون پر اعتماد کا زوال، اور ویسٹ فیلین نظام کو درپیش چیلنجز کتنے ہی بڑھ جائیں—خصوصاً گرین لینڈ تنازع کے بعد۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اپنے اندر اور اسی کے زیرِ سایہ ہونے والی کشمکش نہ تو اس نظام کو ختم کرتی ہے اور نہ ہی اس کے غیر منصفانہ قوانین کو بدلتی ہے۔
اس کے برعکس، یہ نظام اپنی مجموعی شکل میں برقرار رہتا ہے اور بڑے سرمایہ داروں کے مفادات اور بین الاقوامی مفادات کی خدمت کرتا رہتا ہے۔ مزید یہ کہ اس نظام کی کارکردگی میں کمی آ جانے کا لازمی یہ مطلب نہیں کہ یہ اس کے فوری منہدم ہونے کی علامت ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی صلاحیت کمزور ہو گئی ہے اور وہ بڑھتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات بنیادی ضروریات کو بھی، جن میں غذائی تحفظ اور داخلی امن شامل ہیں، جو جامع استحکام کی بنیادی شرائط ہیں۔ اس تناظر میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نوعِ انسانیت کو مکمل استحکام صرف ایک ایسے الہامی نظام کے تحت ہی ممکن ہے جو انسانی مسائل کو انسان کی حیثیت سے حل کرتا ہو اور اس خطرناک اسٹریٹجک خلا کو پر کرے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں
﴿فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ * الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ﴾
”پس انہیں چاہئے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف میں امن دیا“ (سورۃ القریش؛ 106:4)
یہ کیفیاتی تبدیلی، جو کہ خود اس سرمایہ دارانہ نظام کی اپنی فطرت کے باعث اور پھر اس نظام کے اندر امریکی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز نظریہ سازوں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہی۔ چارلس کراتھامر (Charles Krauthammer) نے یک قطبیت unipolar moment کو ایک استثنائی تاریخی مرحلہ قرار دیا ہے، نہ کہ ایک مستقل نظام۔ فرید زکریا کے مطابق دنیا امریکہ کے زوال کے بجائے ”دوسروں کے اٹھ کھڑے ہونے“ کا مشاہدہ کر رہی ہے، یعنی طاقت کی عالمی سطح پر دوبارہ تقسیم۔ گراہم ایلیسن (Graham Allison) نے”Thucydides Trap“ کا تصور پیش کیا تاکہ ابھرتی ہوئی اور غالب طاقتوں کے مابین بنیادی ٹکر کو واضح کیا جا سکے۔ ہنری کسنجر نے 2023ء کے اواخر میں اپنی موت سے قبل سب سے درست اور واضح تجزیہ پیش کیا، جس میں اس نے کہا کہ عالمی نظام ایک عبوری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں پرانا نظام قابلِ عمل نہیں رہا لیکن نیا نظام ابھی تشکیل نہیں پایا۔ پال کینیڈی کا نظریہ اب بھی بڑی طاقتوں کے عروج و زوال کے حوالے سے ایک بنیادی حوالہ سمجھا جاتا ہے، جس میں اس نے واضح کیا کہ جب کسی ریاست کے ملٹری عزائم اس ریاست کی معاشی استعداد سے بڑھ جائیں تو اسٹریٹجک ناکامی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ گویا اس نکتہ سے شاید یہ واضح ہوتا ہے کہ آخر کیوں حال ہی میں امریکہ نے اپنے بیرونی ملٹری عزائم میں کمی کر دی ہے، جس میں NATO سے ممکنہ دستبردار ہونے کا عندیہ اور یورپ کے ممالک جیسے جرمنی، اٹلی اور اسپین سے فوجی انخلاء کی باتیں شامل ہیں۔
تاہم یورپی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کی NATO سے نکلنے کی دھمکی حقیقت میں سنجیدہ نہیں ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز (Friedrich Merz) نے کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود امریکہ اس نیٹو اتحاد کا ایک بنیادی ستون ہے، اور اس نے واشنگٹن کی جانب سے جرمنی میں فوجیوں کی تعداد میں کمی کے اعلان کے بعد ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی کو کم اہم قرار دیا۔ جرمن نشریاتی ادارے ARD کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مرز نے مزید کہا کہ،”میں اب بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ امریکی ہمارے لئے شمالی اوقیانوسی اتحاد (NATO) میں سب سے اہم پارٹنر ہیں“۔
سرمایہ دارانہ نظام چند سرمایہ داروں کی خدمت کے لئے ہی بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عوام پر بے پناہ مصائب، جنگیں اور وبائیں مسلط ہوئیں، جبکہ وہ محنت اور مشقت کے باوجود صرف بدحالی اور تکالیف ہی جھیل رہے ہیں۔ دنیا تب تک اپنے ہی وسائل اور دولت سے لٹتی رہے گی، اپنی مرضی سے عاری، اور اپنے وقار سے محروم رہے گی جب تک کہ یہ نظام زوال پذیر نہیں ہو جاتا جس نے پوری انسانیت کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور بہرحال یہ صورتحال اس نظام کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُم مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ﴾
”ان سے پہلے لوگوں نے بھی منصوبے بنائے، مگر اللہ نے ان کی عمارت کی بنیادوں پر ضرب لگائی، پھر چھت ان پر اوپر سے گر پڑی، اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ تھا“ [سورۃ النحل؛ 16:26]
اس لئے ہم ایک ایسے عبوری مرحلے سے گزر رہے ہیں جس میں بڑی طاقتیں سیاسی طور پر ایک دوسرے کے مقابل متوازن بھی ہیں اور مجبوری کے تحت ایک دوسرے کے قریب بھی آ رہی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں بیان ہوا ہے
﴿بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعاً وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ﴾
”ان کے درمیان آپس کی دشمنی شدید ہے، تم انہیں متحد سمجھتے ہو مگر ان کے دل جدا جدا ہیں“ [سورۃ الحشر؛ 59:14]
یہ صورتحال امتِ مسلمہ کے لئے ایک سخت آزمائشی مرحلے کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جبکہ امت ایک ایسی عالمی تبدیلی کے دور کی تیاری میں ہے جس کی بنیاد اس کے عقیدے اور اسلامی فکر پر مبنی تہذیبی وژن پر ہوگی، کیونکہ یہی وہ امت ہے جو نیکی (المعروف) کا حکم دیتی ہے اور برائی (المنکر) سے روکتی ہے، اور صرف یہی امت ہی ہے جو کہ سرمایہ دارانہ ممالک سے باگیں چھین لینے اور انسانیت کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانے کی واحد تہذیبی اور سیاسی متبادل صلاحیت رکھتی ہے۔
خلاصہ: ایک ایسا عالمی نظام جو تشکیل پا رہا ہے مگر ابھی مکمل نہیں ہوا
تاہم اس نئے ابھرتے ہوئے نظام کے مرکز میں امریکہ بدستور عالمی نظام کی سب سے بڑی عسکری طاقت کے طور پر قائم ہے، جس کے پاس وسیع ترین سکیورٹی اتحادوں کا نیٹ ورک موجود ہے، خاص طور پر NATO اتحاد۔ البتہ آج کی صورتحال میں امریکہ کی یہ بالادستی ویسی نہیں رہی جیسا کہ سرد جنگ کے بعد والے دور میں مطلق رہی تھی۔ امریکہ اب اسٹریٹجک کھنچاؤ اور متعدد محاذوں کے اندر محدود کام کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی ریاست کے لئے جغرافیائی سیاسی دباؤ اور اسٹریٹجک تھکن کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ واشنگٹن اب ایک واحد حریف کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ بیک وقت متعدد چیلنجز سے دوچار ہے: چین کا ایک بڑی اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آنا جو کہ اپنا جھنڈا سامنے لائے بغیر بھی میدانِ جنگ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ روس کی ایک فعال فوجی کھلاڑی کے طور پر واپسی جو دوبارہ سے یورپی توازن پر اثر انداز ہونے کے قابل ہے؛ اور ایران جیسی علاقائی طاقتوں کا بڑھتا ہوا کردار، جو صرف ایک روایتی ریاست نہیں بلکہ اثر و رسوخ کے نیٹ ورک کے طور پر مختلف میدانوں میں کام کر رہی ہیں، اور یہ سب عوامل ٹرانس اٹلانٹک اتحادوں کی کمزوری کے برعکس ہیں۔
اس تناظر میں چین عالمی اقتصادی طاقت کا نیا مرکز ہے۔ چین امریکہ کے ساتھ براہِ راست عسکری ٹکر کے ذریعے مقابلہ نہیں کرتا، بلکہ عالمی معیشت کے بنیادی ڈھانچے، سپلائی چینز، ٹیکنالوجی اور مالیاتی نظام کو ازسرِ نو تشکیل دے کر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ مواصلاتی منصوبوں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور متبادل نیویگیشن سسٹمز جیسے ذرائع کے ذریعے بیجنگ موجودہ عالمی نظام کے اندر ہی رہتے ہوئے اپنا اثر رسوخ وسیع کرنا چاہتا ہے، نہ کہ اس عالمی نظام سے الگ ہو کر۔ یوں وہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اسی نظام کے اندر اپنی جگہ بنا رہا ہے، نہ کہ اس نظام کے باہر رہ کر۔
جبکہ اس کے برعکس، روس ایک ایسی خلل انداز طاقت کے ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے جو اقتصادی برتری کے بجائے عسکری طاقت، مقابلہ آرائی کی صلاحیت اور اسٹریٹجک خطوں میں عدم استحکام برقرار رکھنے پر انحصار کرتا ہے۔ اور یہ بات ان حقائق سے واضح ظاہر ہوتی ہے کہ یوکرین میں روس نے باضابطہ چڑھائی کی اور موجود ہے، شام میں روس کی عسکری موجودگی جو اگرچہ کم ہو رہی ہے لیکن بہرحال موجود ہے، اور لیبیا اور بعض ساحلی افریقی ممالک میں روس کی مختلف نوعیت کی بالواسطہ دراندازی سے ظاہر ہوتی ہے۔ روس کی یہ اثر انگیزی ایک کثیر الجہتی انداز رکھتی ہے، جس میں محدود فوجی موجودگی، غیر رسمی سکیورٹی نیٹ ورکس، اور سیاسی عناصر پر روس کی بدلتی ہوئی اثراندازی شامل ہے۔
اس کے برعکس ایران ایک بالکل مختلف ماڈل کی نمائندگی کرتا ہے، جو ایک مرکزی ریاستی ڈھانچے کے ساتھ غیر روایتی اور غیر متوازی ریجنل نیٹ ورک کو مجتمع کئے ہوئے ہے۔ ایران صرف اپنی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے ہی کام نہیں کرتا بلکہ سیاسی و عسکری توسیعات کے ذریعے بھی اثر انداز ہوتا ہے جیسا کہ عراق، لبنان، یمن اور دیگر خطوں میں ایران کی دخل اندازی کا معاملہ ہے، اور یوں اس طرح سے ایران ایک ”مؤثر مثالی کردار“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران اور خلیج کے مخصوص معاملے میں امریکہ کی اسٹریٹجک وجہ صرف ریاستی ملکیت کے تصور تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مرکز یہ ہے کہ خطے کی کسی بھی طاقت کو اس قابل نہ ہونے دیا جائے کہ وہ اپنی حساس جغرافیائی پوزیشن، خصوصاً آبنائے ہرمز پر بالواسطہ اثر و رسوخ کو ایسے ”جیوپولیٹیکل بلیک میل“ کے طور پر استعمال کر سکے جو گلوبل انرجی اور تجارتی نقل و حمل پر اثرانداز ہو سکے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ خطہ استعماری طاقتوں کے کنٹرول سے نکل کر مقامی لوگوں کے ہاتھ میں نہ آ جائے، جس سے وہ طاقت کی باگیں اپنے قابو میں کر لیں اور تھوڑے ہی عرصے میں اپنے مخالفین پر بساط پلٹ دینے کے قابل ہو جائیں۔
ایران، جو کہ محل وقوع کے اعتبار سے جنوب میں خلیج فارس، خلیج عمان اور بحیرۂ عرب پر واقع ہے، اور شمال میں وسطی ایشیا اور قفقاز تک براہ راست رسائی رکھتا ہے، یوں اس طرح ایران انرجی، تجارت اور بڑے تنازعات کے عین سنگم پر موجود ہے اور یہ خطہ ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک حیثیت کا حامل ہے۔ اسٹریٹجک اعتبار سے یہ خطہ روس کے لئے ایشیا کی طرف اور حتیٰ کہ مشرق وسطیٰ تک کا توسیعی راستہ بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے اور روس کے درمیان کوئی قدرتی رکاوٹیں جیسے سمندر یا بڑے آبی ذخائر موجود نہیں ہیں۔ اسی طرح چین کے لئے بھی یہ خطہ ”بیک ڈور“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ چونکہ اس خطے کی اکثریت مسلم آبادی پر مشتمل ہے، اس لئے چین کو خدشہ رہتا ہے کہ اس کا اثر اس کے سنکیانگ (مشرقی ترکستان) کے مسلمانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث امریکہ نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے اس خطے میں داخل ہونے کے منصوبے بنانے شروع کر دئیے تھے تا کہ ایک طرف تو روس کو محدود کیا جائے، اور دوسری طرف چین کو گھیر کر اس کی توسیع کو روکا جائے کہ وہ اپنے اطراف میں اثرانداز نہ ہونے پائے۔
اس طاقت کے کھیل کے تناظر میں یورپ ایک منفرد مقام رکھتا ہے، خصوصاً امریکہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے پریشر کے مقابلے میں۔ یورپ ایک بڑی معاشی طاقت ہے جس کے پاس نمایاں مالی اور صنعتی طاقت موجود ہے، لیکن اسی دوران یورپ سکیورٹی کے معاملے میں NATO کے ذریعے سے امریکہ پر شدید انحصار کرتا ہے۔ اور یہی وہ صورت حال ہے جو یورپ کو اسٹریٹجک لحاظ سے ایک نامکمل طاقت بنا دیتی ہے— یعنی معاشی طور پر تو مؤثر مگر عالمی منظرنامے پر عسکری اور سیاسی طور پر ایک غیر مکمل طاقت۔ اگرچہ یورپ کے کچھ ممالک، جیسے فرانس اور جرمنی، یورپین اسٹریٹجک خودمختاری کا تصور قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ منصوبہ یورپ کی ترجیحات میں اندرونی اختلافات اور امریکہ کی سکیورٹی چھتری کے سائے تلے منحصر ہونے کی وجہ سے محدود ہے۔
یوں اس منظرنامے میں یورپ روایتی معنوں میں ایک آزاد طاقت کے طور پر سامنے نہیں آتا، بلکہ ایک ایسے معاشی مرکز کے طور پر ضرور موجود ہے جو سکیورٹی کے ایک ایسے نظام کا حصہ ہے جس کی قیادت کا کردار کوئی اور ریاست کر رہی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یورپ ایک ایسا اہم میدان ہے جہاں بڑی طاقتوں کے مابین ہونے والی کشمکش کے اثرات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، خصوصاً توانائی اور یورپی سکیورٹی کے معاملے میں، جو کہ یوکرین کی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات کی ازسرِ نو تشکیل سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال میں یورپ کی قومی سلامتی اپنے وسیع مفہوم میں ایک مستقل خطرے کی حالت سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔
جب ان تمام عناصر کو یکجا کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی نظام نہ تو واضح طور پر دوقطبی نظام (bipolar) ہے، اور نہ ہی ایک مستحکم کثیر قطبی نظام (multipolar) ہے، بلکہ یہ ایک ملاجلا اور عبوری ساخت پر مبنی ہے، یعنی : امریکہ عسکری طاقت اور اتحاد کے مرکز کے طور پر ہے، چین بطور ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے، روس بطور ایک خلل انداز عسکری قوت، ایران اس نیٹ ورک کا ایک اہم علاقائی کردار ہے، اور یورپ بطور ایک ایسی معاشی طاقت ہے جس کی اسٹریٹجک خودمختاری نامکمل ہے۔ یوں اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ایک باہمی مربوط گلوبل نظام میں طاقت کی غیر مکمل ازسرِ نو تقسیم جاری ہے، جس میں کسی کے پاس حتمی اور مکمل کنٹرول ہونا اب ممکن نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو مکمل چھوٹ اور آزادی ہے۔ اس کے بجائے طاقت کے توازن گہرے باہمی انحصار اور مسلسل مسابقت کے اندر تشکیل پا رہے ہیں، گویا ہم تاریخ کے ایک معلق مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اور درحقیقت، اس صورتحال میں مسلم دنیا کے لئے ایک تاریخی اور سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی چھینی ہوئی اتھارٹی واپس حاصل کر لے، عالمی سطح پر اپنا مرکزی کردار دوبارہ قائم کرے، اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو فعال کر کے ایک نیا بین الاقوامی نظام تشکیل دے جو انسانیت کو سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریوں سے نجات دلائے گا۔
آخر میں نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ اور چین ایک ایسی باطل تہذیب کے عروج کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ آرائی کر رہے ہیں جو اس بحران زدہ دنیا میں ہر سطح پر اور ہر پہلو سے خود بحران کا شکار ہے۔ خلافتِ راشدہ، جو دنیا بھر میں خیر و بھلائی پھیلائے گی، اللہ کے اذن سے جلد ہی واپس آئے گی۔ یہ امر نہ صرف تاریخی طور پر ناگزیر ہے بلکہ نظریاتی حقیقت بھی ہے، جس کا اعلان دنیا کے ہر گوشے میں موجود سیاسی حقائق کر رہے ہیں، کیونکہ انسانیت ایک ایسی راہ کی تلاش میں ہے جو اسے سرمایہ دارانہ نظام کے فریب، مصیبت اور بدحالی سے نجات دے سکے۔ لہٰذا امتِ مسلمہ، حزب التحریر کی قیادت میں ایک واضح فتح کے لئے منتظر ہے جو اللہ کے اذن سے اس امت کی تقدیر میں لکھ دی گئی ہے، ایسی فتح جو حقیقی طور پر تب مکمل ہوگی جب اسراء و معراج کی سرزمین، بابرکت و مقدس فلسطین، یہود کی نجاست سے آزاد ہو جائے گی اور روم کو فتح کیا جائے گا، جیسے قسطنطنیہ فتح ہوا تھا، ان شاء اللہ!
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾
”اور اس دن اہلِ ایمان خوش ہوں گے * اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے، اور وہ غالب، نہایت رحم کرنے والا ہے“ [سورۃ الروم؛ 30: 4-5]
Latest from
- ولاية لبنان: ہفتہ وار خطاب "شرمناک مذاکرات کا فریب!"
- ولايۃ سوڈان : ذی الحجہ 1447 ہجری کی تقریبات
- بجٹ 2026-27: آئی ایم ایف فِسکل اصلاحات کے نام پر ہماری معیشت کی پیداواری صلاحیت اور اکثریتی عوام کی معاشی حالت کو کچل رہا ہے، اور حکمران اسے میکرو اکنامک استحکام کہتے ہیں!
- رایہ اخبا ر شمارہ نمبر (602)
- ولايت سوڈان: مئی 2026 کے دوران سرگرمیاں اور واقعات




