بسم الله الرحمن الرحيم
ہم جن بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ ایک ایسی بیماری کی علامات ہیں جس کا علاج معلوم ہے
تحریر: استاد ناصر شیخ عبدالحی
(ترجمہ)
شبیحہ ملیشیا، بڑے مجرموں اور بشار کی معدوم حکومت کے کارندوں کے احتساب کا معاملہ حال ہی میں بڑی شدت کے ساتھ دوبارہ ابھرا ہے۔ شام کے متعدد شہروں اور قصبوں میں غصے سے بھرپور مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں، جن میں ان لوگوں کے خلاف منصفانہ بدلے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جنہوں نے مسلمانوں کا خون بہایا اور چودہ سالوں کے دوران مفرور ظالم کی حکومت کے جرائم میں اس کا ساتھ دیا۔ اسی دوران، وزارتِ داخلہ نے ان حالیہ واقعات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ "انصاف کا حصول اور جرائم و خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کا احتساب ریاست کی ذمہ داری ہے جو وہ اپنے متعلقہ اداروں کے ذریعے پوری کرتی ہے"۔
وزارت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ "تحمل کا مظاہرہ کریں اور انتقامی کارروائیوں یا ماورائے عدالت حملوں کی طرف مائل ہونے سے بچیں،" اور یہ نوٹ کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات "سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں"۔ اس نے "سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے یکجہتی اور ملک کو تباہ کن افراتفری میں دھکیلنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے" کی بھی اپیل کی۔ ساتھ ہی، نیشنل کمیشن فار ٹرانزیشنل جسٹس (قومی کمیشن برائے عبوری انصاف) نے "مساوی شہریت اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ریاست کے قیام کے عزم کی بنیاد پر امن کی تعمیر" کی بات کی ہے۔
اس تناظر میں، ہمیں چند بنیادی نکات پر غور کرنے اور صورتحال کی وضاحت کے لیے رکنا ضروری ہے:
اولاً: رونما ہونے والے واقعات کی مخصوص تفصیلات سے قطع نظر، عوام کا یہ طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ اصل اور حتمی اختیار عوامی قوت کے پاس ہی ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انقلاب کی چنگاری آج بھی عوام کے دلوں میں گہری جڑیں رکھتی ہے، اور یہ کہ عوام کی نبض، ان کے رخ اور ان کی کوششوں کو ایک ایسے حقیقی اور جامع منصوبے کی تکمیل کی طرف موڑنا چاہیے جو اپنی تفصیلی حکمتِ عملی کے ذریعے تمام مخصوص مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ثانیاً: عوام ظلم اور جبر کے نظام کے خلاف کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے انقلاب کے لیے واضح اصول مقرر کیے تھے۔ ان اصولوں میں حکومت کا اس کے تمام ستونوں، کلیدی مہروں اور بڑے مجرموں سمیت خاتمہ، سازشی ممالک سے تعلقات کا انقطاع، اور اسلام کے زیرِ سایہ ریاست کا قیام شامل تھا۔ تاہم، حالیہ واقعات عوام کی ان امنگوں،جن کے لیے انہوں نے انقلاب برپا کیا اور لازوال قربانیاں دیں،اور عبوری مرحلے کے حوالے سے شامی انتظامیہ کے طرزِ عمل کے درمیان ایک وسیع خلیج کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ ان بین الاقوامی معاہدوں کی پابند ہے جو عملی طور پر انقلاب کے عزائم، نعروں اور مقاصد کو بے اثر کر دیتے ہیں۔
عوامی غصے کی بنیاد یہ احساس ہے کہ یہ مقاصد ابھی تک ادھورے ہیں؛ وہ بڑے مجرم جنہوں نے خون بہایا، دولت لوٹی، عصمت دری کی اور لوگوں کو دربدر کیا، ان کا کوئی احتساب نہیں ہوا۔ ان میں سے کچھ بغیر کسی پوچھ گچھ کے آزاد گھوم رہے ہیں، اور نہایت افسوس کے ساتھ، کچھ تو فیصلہ سازی کے کلیدی عہدوں تک جا پہنچے ہیں۔ جب عوام اس امید سے محروم ہونے لگتے ہیں کہ ریاست انہیں مطلوبہ انصاف فراہم کرے گی، تو ان کا رجحان تیزی سے اس طرف بڑھ جاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔
ثالثاً: میڈیا کے نمائندوں اور دیگر افراد کا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں پر بیرونی ایجنڈوں سے جڑے ہونے کا الزام لگانا قطعی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ اس طرح کے الزامات ایک سنگین ناانصافی ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے،اللہ تعالیٰ کے فضل سے،تو نہ بشار کی مردہ حکومت ختم ہوتی اور نہ ہی انقلاب کو کامیابی ملتی۔ درحقیقت، ایسے اقدامات "نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے" ہی کی ایک شکل ہیں، بشرطیکہ وہ ان اصولوں پر مبنی ہوں جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند ہیں۔
رابعاً: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
"اور اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم (برائیوں سے) بچو۔" (سورہ البقرہ: 179)
یہ ایک واضح الہٰی طریقہ کار ہے جو انصاف، مساوات اور استحکام کو فروغ دیتا ہے۔ اس سے روگردانی ناانصافی، تفرقہ، بے چینی اور اتحاد کے پارہ پارہ ہونے کا باعث بنتی ہے،خواہ اس کے لیے "شہری امن" یا "سماجی سلامتی" جیسے بہانے ہی کیوں نہ گھڑے جائیں۔
خامساً: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً﴾
"اور جس نے میری نصیحت سے منہ موڑا، تو اس کے لیے (زندگی کی) معیشت تنگ ہوگی۔" (سورہ طٰہٰ: 124)
لہٰذا، یہ ایک شرعی فریضہ ہے کہ کوئی بھی احتجاج جو کسی بنیادی حل کا مطالبہ کرے، اس کا رخ واضح طور پر اللہ کی شریعت کے نفاذ کی طرف ہونا چاہیے،جس میں ہی ہمارے درپیش بحرانوں کا اصل حل موجود ہے۔ ہمارا بحران حکمرانی اور اقتدار کا ہے، جو شرعی احکام اور حل نافذ نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ہمارا بنیادی کام ایک ایسے منصوبے کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرنا ہے جو ان تمام مسائل کا جڑ سے حل نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو،ایک ایسا منصوبہ جس کے علمبردار مخلص، روشن خیال اور نظریاتی مدبرین ہوں۔ ان قائدین کے پاس اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے، مسائل حل کرنے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک واضح وژن اور تفصیلی منصوبہ ہونا چاہیے، جو اس شعور، بہادری اور نظریاتی پختگی کے ساتھ ہو جس کا تقاضا ہمارے عقیدے اور ہمارے رب اللہ تعالیٰ کی شریعت کرتی ہے،اور جو امریکہ اور مغرب کے بتائے ہوئے طریقوں اور حکموں سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم جن بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں وہ محض ایک ایسی دائمی بیماری کی علامات ہیں جس کا یقینی اور معلوم علاج موجود ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم اور فیصلے کی اطاعت سے منہ موڑنا، اور ایک ایسی ریاست جو اسلام کا نفاذ کرے اس کے قیام کے لیے عظیم اسلامی منصوبے کے گرد عوام کا متحد نہ ہونا، دمشق کی موجودہ عبوری انتظامیہ کو حل کے معاملے میں تاخیری حربے استعمال کرنے اور احتساب کے عمل کو بے اثر کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس کے نتیجے میں یہ یقینی ہو جائے گا کہ آنے والے دن استحکام، انصاف اور عوامی امور کی درست نگرانی کے بجائے ہنگاموں، بحرانوں اور مسائل سے بھرپور ہوں گے۔
چھٹا نکتہ: عوامی قوت اسلام کے نفاذ کے لیے حمایت کا فطری ستون ہے۔ یہ بہت بڑی بھلائی کا منبع ہے، اور اس کی قدر کرنا اور اس کی پشت پناہی کرنا ایک فریضہ ہے،نہ کہ اسے دیوار سے لگانا یا اس کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا! بڑی غیر ملکی طاقتوں پر بھروسہ کرنا ایک خطرناک جال اور ہولناک نتائج کا حامل ایک سنگین شر ہے۔ یہ نہ تو ہمیں تحفظ فراہم کرے گا اور نہ ہی ہمارے لیے استحکام یا کوئی مطلوبہ فائدہ لائے گا۔ یہ نہ ہمیں بچائے گا اور نہ ہی ہمارا ایک بھی مسئلہ حل کرے گا۔ بلکہ، یہ اس سراب کی مانند ہے جسے پیاسا پانی سمجھ لیتا ہے،درحقیقت، یہی بیماری کی جڑ اور مصیبت کا منبع ہے، کیونکہ انہی ریاستوں نے ہماری تحریک کو کچلنے کی کوشش میں بشار کی مردہ حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ جو چیز ہمیں حقیقی نجات دلائے گی،اور ہمارے لیے اطمینان، انصاف، تحفظ، پاکیزہ زندگی اور درست نگہبانی کو یقینی بنائے گی،وہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر بھروسہ کرنا، اسی پر توکل کرنا، اس کی شریعت کا نفاذ اور اس کے شرعی احکام کو قائم کرنا ہے۔
عزت، کامیابی اور تمکین (غلبے) کا راستہ بالکل واضح ہے؛ اس کا قطب نما وہ ریاست ہے جو ہمارے درمیان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کو نافذ کرے،ایک ایسی ریاست جو آسمان والے (اللہ) اور زمین کے باسیوں کے لیے خوشنودی کا باعث ہو، اور جس کی خیر و برکت اسلامی ممالک بلکہ دنیا کے چپے چپے تک پہنچ جائے۔ پس کوشش کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اسی عظیم بھلائی کے لیے تگ و دو کریں۔
ولایہ شام میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن




