بسم الله الرحمن الرحيم
الرایۃ کے متفرقات – شمارہ نمبر 608
صفحہ اول کی سرخی
آج مسلمان جس کمزوری، تفرقہ بازی اور اپنے اوپر دشمنوں کے تسلط کا شکار ہیں، وہ اللہ کی کتاب سے دوری، اس کے احکامات کو معطل کرنے اور ان کی جگہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کو اپنانے کا قدرتی نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے نصرت، تمکین (غلبہ) اور عزت کا وعدہ کیا ہے جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، جبکہ اس کی نافرمانی کرنے والوں کو بدبختی اور تنگ دستی کی زندگی سے ڈرایا ہے۔ لہٰذا، قوت، وحدت اور غلبہ دوبارہ حاصل کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ سچے دل سے اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے، اللہ کے منہج کے مطابق اسلامی زندگی کا ازسرِ نو آغاز کیا جائے اور زندگی کے تمام معاملات میں اس کی شریعت کو نافذ کیا جائے۔﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ "اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا"۔ (سورۃ محمد:آیت 7)
===
صفحہ اول کے لیے
اے مسلمانو! تمہارا دشمن ایک ہی ہے
حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ: مسلم ممالک کے سلگتے ہوئے مسائل پر نظر رکھنے والے محققین اور تجزیہ کاروں کے لیے یہ بات انتہائی قابلِ توجہ ہے کہ ان تمام معاملات میں مسلمانوں کا دشمن ایک ہی ہے، اور وہ ہے امریکہ؛ جبکہ بعض جگہوں پر اس کا پروردہ 'ناپاک یہودی وجود' بھی اس کے ساتھ شریک ہے۔ ان اہم ترین مسائل میں سب سے پہلے عراق ہے جس کے خلاف امریکہ نے نوے کی دہائی کے اوائل میں جنگ لڑی، پھر 2003 میں اس پر قبضہ کر لیا اور وہ آج بھی امریکی تسلط کے زیرِ اثر مصائب جھیل رہا ہے۔ پھر افغانستان ہے جس پر امریکہ نے 2001 میں قبضہ کیا۔ اس کے بعد شام ہے جہاں امریکہ نے اپنے ایجنٹ بشار الاسد کے خلاف برپا ہونے والی مبارک تحریکِ انقلاب کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تمام مہرے استعمال کیے۔ پھر یمن ہے جہاں امریکہ، برطانیہ کے ساتھ اقتدار کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے ایجنٹ آلِ سعود کے ذریعے حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس کے بعد سوڈان ہے جہاں امریکہ نے اپنے دو ایجنٹوں (فوجی سربراہ اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے سربراہ) کے درمیان ایک ہولناک خانہ جنگی چھیڑ دی ہے تاکہ برطانیہ کو سوڈان پر حکمرانی سے روکا جا سکے۔ پھر ایران ہے جس پر امریکہ اور اس کے پروردہ یہودی وجود نے جون 2025 اور پھر فروری 2026 کے آخر میں حملہ کیا۔ ان سب سے بڑھ کر فلسطین اور لبنان ہیں، جہاں ناپاک یہودی وجود نے جو کچھ کیا اور اب بھی کر رہا ہے، وہ محض امریکہ کی عسکری، سیاسی اور میڈیا کی سطح پر بھرپور حمایت اور اس کی طرف سے ملنے والی کھلی چھوٹ کی بدولت ہے تاکہ وہ قتل و غارت گری کرے، تباہی مچائے اور ایک کے بعد ایک زمین ہڑپ کرتا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ: اس سب کے باوجود مسلمان حکمران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے، یا اس کی چھتری تلے بات چیت کرنے اور امریکہ و یہودی وجود کے حق میں ثالثی کرنے کے لیے بھاگے چلے جاتے ہیں۔ وہ انہیں دولت فراہم کرتے ہیں اور مسلمانوں کی زمین، پانی اور فضائیں ان کے لیے مباح کر دیتے ہیں۔ آخر یہ حکمران کس بات پر سودے بازی اور ثالثی کر رہے ہیں؟ کیا اس لیے کہ مسلم ممالک پر امریکہ اور اس کے پروردہ ناپاک یہودی وجود کا تسلط مزید مضبوط ہو جائے؟ یا اس لیے کہ ان کے جرائم پر پردہ ڈالا جا سکے؟
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ: اے مسلمانو! آپ جس حال کو پہنچ چکے ہیں ایسا ہرگز نہ ہوتا اگر آپ کی ایک ریاست اور ایک خلیفہ ہوتا۔ آپ اس حال تک صرف اس لیے پہنچے ہیں کہ خلافت کے خاتمے کے بعد اسلام کا اقتدار ختم ہو گیا، آپ کے ممالک کو چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا اور آپ کی گردنوں پر 'رویبضہ' (نااہل و بددیانت) حکمران مسلط کر دیے گئے۔ آپ کے یہ حکمران آپ کے دشمنوں کی طرح ہیں، جو آپ کے حق میں کسی قرابت داری یا عہد و پیمان کا پاس نہیں رکھتے، نہ آپ کی حرمت کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کی جان، زمین اور مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی تمام تر فکر اپنی ٹیڑھی کرسیوں (اقتدار) کو بچانا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں آپ کی جانیں، خون، زمین اور مال ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑے۔ تو اے مسلمانو! ذلت و رسوائی کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟!
اے مسلمانو! تم ہی وہ واحد لوگ ہو جو اس صحیح آئیڈیالوگی (نظریہ) کے حامل ہو جس سے وہ صحیح نظام جنم لیتا ہے جو تمہاری اس تلخ صورتحال کا علاج کر سکتا ہے جس میں تم جی رہے ہو، اور جو عدل و انصاف کے ساتھ پوری دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پس شعور پیدا کرو، شعور! اور پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے سراپا اخلاص بن جاؤ، کیونکہ ان دونوں کے بغیر تمہارے پاس کوئی طاقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تم صلاحیتوں سے محروم نہیں ہو، بلکہ صرف صحیح رائے اور پختہ سوچ کی کمی ہے، جیسا کہ شاعر نے کہا ہے:
"جو شخص کمزور رائے کا مالک ہو وہ اپنے مواقع ضائع کر دیتا ہے *** یہاں تک کہ جب معاملہ ہاتھ سے نکل جائے تو وہ تقدیر کو کوسنے لگتا ہے!" پریس بیان کے اختتام پر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا: "پس اپنے معاملے میں پختہ عزم کر لو، اور اپنے ان 'رویبضہ' (نااہل و بددیانت) حکمرانوں کو مسترد کرنے میں جلدی کرو جنہوں نے تمہیں ہلاکت کے گڑھوں میں لا پھینکا ہے۔ اور حزب التحریر کے ساتھ مل کر اپنے ممالک کو ایک ہی خلیفہ راشد کے پرچم تلے متحد کرنے کے لیے عمل کی طرف پیش قدمی کرو، جس کے پیچھے رہ کر تم جنگ لڑو گے اور جس کے ذریعے تم اپنا بچاؤ کرو گے۔ اس طرح تم اپنی زمین کا تحفظ کرو گے، اپنی جانوں کی حفاظت کرو گے، اپنا خون بہنے سے روکو گے اور اپنے مال کی نگہبانی کرو گے۔ یاد رکھو، نصرت و کامیابی صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسی کی مدد فرماتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے۔"﴿إِن يَنصُرْكُمُ اللّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكِّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ "اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔" (سورۃ آل عمران:آیت 160)
===
اداریے کے تحت
حزب التحریر/ ولایہ سوڈان کے وفد کی سوڈانی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر قیادت سے ملاقات
حزب التحریر/ ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے جمعرات 9 جولائی 2026 کو استاد ناصر رضا محمد عثمان (سوڈان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ) کی قیادت میں سوڈانی بار ایسوسی ایشن کے دفتر کا دورہ کیا۔ وفد میں ان کے ہمراہ استاد عبداللہ اسماعیل (مرکزی کرابطہ میٹی برائے کے رکن) اور استاد یعقوب ابراہیم (رکن حزب التحریر) شامل تھے۔ یہ دورہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت پورٹ سوڈان شہر میں کیا گیا، جہاں وفد نے بار ایسوسی ایشن کے صدر محترم ایڈوکیٹ زین العابدین محمد حمد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ درج ذیل شخصیات بھی موجود تھیں:
1۔ جناب ایڈوکیٹ جمال الدین النجومی (رکن کمیٹی برائے ہیومن رائٹس سروسز)
2۔ جناب ایڈوکیٹ عماد الدین عبدالخالق (مسؤول برائے استنفار و امورِ شہداء)
3۔ ڈاکٹر ایڈوکیٹ صلاح المبارک (بار ایسوسی ایشن میں حقوقِ انسانی کے مسؤول)
4۔ ڈاکٹر ایڈوکیٹ عمر السيد عمر (بار ایسوسی ایشن میں جامعات کے مسؤول)
5۔ جناب ایڈوکیٹ عصام الدین عثمان (صدر بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے رکن)
استقبال کے بعد استاد ناصر نے گفتگو کرتے ہوئے حزب التحریر کا تعارف پیش کیا اور وہ مقصد بیان کیا جسے حزب امت کے ساتھ مل کر حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے، یعنی خلافت راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کا ازسرِ نو آغاز۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقصد اصولی طور پر ہر مسلمان کا مقصد ہے، کیونکہ اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے اور اسلام کی بنیاد پر اقتدار قائم کرنے کے لیے کام کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ استاد ناصر نے اپنی گفتگو کو شرعی دلائل سے تقویت دی۔
اس کے بعد حاضرین کی جانب سے مفید اظہارِ خیال ہوا، پھر بار ایسوسی ایشن کے صدر نے وفد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے دورہ کیا اور امت کے مسائل میں دلچسپی لی۔ انہوں نے اپنی بات کا اختتام اس نکتے پر کیا کہ خلافت کے معاملے میں حزب التحریر سے کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ یہ ہر مسلمان کا مقصود ہے، اور آخر میں باہمی رابطے کو برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی۔
===
ترکی کی جانب سے نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی اللہ، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت
نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کا 36واں اجلاس 7 اور 8 جولائی 2026 کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہوا۔ ترکی نے دوسری بار اس تاریخی تقریب کی میزبانی کی ہے، جہاں تمام پروگرام اور ملاقاتیں صدارتی محل (پریزیڈنشل کمپلیکس) میں ہوئیں۔
ولایہ ترکی میں حزب التحریر کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک پریس بیان میں کہا گیا کہ:نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہوں کی انقرہ کی سرزمین پر میزبانی کرنا اللہ، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت ہے۔ نیٹو 1949 میں قائم ہوا اور پوری سرد جنگ کے دوران یہ ایک اجتماعی اتحاد رہا جو سوویت یونین کے مقابلے میں امریکہ اور مغربی ممالک کا تحفظ کرتا تھا۔ اس اتحاد نے چالیس سال سے زائد عرصے تک سوویت یونین کے خلاف کوئی فوجی مداخلت نہیں کی، لیکن 1990 کے بعد اس نے اپنے لیے 'خطرہ' کی تعریف بدل دی اور مشرقِ وسطیٰ اور مسلم ممالک کو اپنا نشانہ بنا لیا۔ بوسنیا، کوسوو، افغانستان، عراق، لیبیا اور صومالیہ سمیت دیگر مسلم ممالک میں اس کی فوجی کارروائیاں اور قبضے اس کے بعد کے اہداف کی حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔ اسی لیے 2004 میں استنبول میں نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی، جبکہ افغانستان اور عراق پر غاصبانہ قبضہ برقرار تھا، ایک عظیم بدنما داغ تھی، اور بائیس سال بعد اسی خیانت کو دہرانا حکمرانوں کے لیے باعثِ عزت نہیں بلکہ ذلت و رسوائی ہے۔
امریکہ اور مغربی ممالک ترکی کو جو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے تحفظ کے لیے ایک 'بفر زون' (حفاظتی علاقہ) کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، ترکی کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنی عسکری قوت، افرادی طاقت، آبادی، تزویراتی محل وقوع اور دفاعی صنعت کی کامیابیوں کو مغربی کفار کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کی ڈھال بننے کے لیے استعمال کرے۔
===
ٹرمپ کا لبنان میں ایرانی پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے جولانی پر دباؤ
امریکی صدر ٹرمپ نے علانیہ بیان دیا ہے کہ لبنان میں ایرانی پارٹی (حزب اللہ) کے خلاف احمد الشرع (جولانی) یہودی وجود کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ایرانی پارٹی کے خلاف یہودیوں کی فوجی مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے جانی نقصان بہت ہوا اور یہ بہت طویل کھنچ گئی؛ ان کی رائے میں شامی افواج اس خطرے سے زیادہ درست اور بہتر طریقے سے نمٹنے کی اہلیت رکھ سکتی ہیں۔
الرایۃ: جب امریکہ شام کو لبنان کی ایرانی پارٹی (حزب اللہ) کے خلاف لڑنے کے لیے دھکیل رہا ہے، تو وہ درحقیقت پتے دوبارہ بانٹ رہا ہے، اپنے مہروں میں حل تلاش کر رہا ہے اور خطے میں بچی کھچی طاقت کو نچوڑ نا چاہتا ہے۔ یہ استعماری طاقتوں کے قدیم ترین طریقوں میں سے ایک ہے، جو 'تقسیم کرو، اختیار دو اور پھر تباہ کرو' کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ طریقہ ہر بار اس لیے کامیاب ہوتا ہے کیونکہ جب تک مسلمان آپس میں لڑنے میں مصروف رہتے ہیں، وہ اپنے حقیقی دشمن کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جبکہ امریکہ اس دوران اپنے اور اپنے ان اتحادیوں کے نقصانات کو کم کر لیتا ہے جنہیں وہ بہت قیمتی سمجھتا ہے۔
امتِ مسلمہ کے لیے راستہ بالکل واضح ہے، اور وہ یہ ہے کہ اپنے درمیان بوئی گئی فرقہ وارانہ اور قوم پرستانہ تقسیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، اور غیر ملکی مداخلت کی ہر اس شکل کو مسترد کر دے جس کا مقصد امت کو کمزور کرنا اور اس کا استحصال کرنا ہے۔ لہٰذا، دشمن کو مسلمانوں کے درمیان تصادم پیدا کرنے، ان کا خون بہانے اور ان کے عزائم کو کمزور کرنے کی اجازت دینے کے بجائے، ایک صف ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ صرف خلافت کا قیام ہی ان تقسیموں کو ختم کرنے اور امت کی مجموعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا ضامن ہے۔
===
مکمل فلسطین کی آزادی کے بغیر نہ امن ہے، نہ سلامتی اور نہ استحکام
ایک سال سے زائد عرصے سے یہودی وجود کے حلقوں میں قائدین، مفکرین اور تجزیہ کاروں کی جانب سے مصر اور ترکی کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار رہنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور انہیں "آنے والا خطرہ" قرار دیا جا رہا ہے۔ دو سال سے زائد عرصے سے "عظیم تر اسرائیل" اور دو دریاؤں (دجلہ و فرات) کے درمیان ریاست کے قیام کے مطالبات میں تیزی آ رہی ہے اور سیاسی حلقوں میں انہیں کافی پزیرائی مل رہی ہے، یہاں تک کہ یہودی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ایک "تاریخی اور روحانی مشن" پر ہیں، اور وہ "عظیم تر اسرائیل" کے تصور پر سختی سے قائم ہیں، جس میں فلسطینی علاقوں کے ساتھ ساتھ "غالباً اردن اور مصر کے کچھ علاقے بھی" شامل ہیں۔
اس کے برعکس مصر کے صدر سیسی نے ریاست کے اسٹریٹجک کمانڈ ہیڈ کوارٹر کے افتتاح کے موقع پر فوجی وردی زیب تن کیے ہوئے اپنے خطاب میں کہا: "مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا حتمی حل ایک جامع اور منصفانہ امن معاہدے تک پہنچنے میں ہے جو مسئلہ فلسطین کو ختم کرے اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ایک فلسطینی ریاست قائم کرے جس کا دارالحکومت مشرقی قدس ہو"۔
الرایۃ: کچھ مسلم حکمران اب بھی اس بات پر بضد ہیں کہ یہودی وجود کے ساتھ امن اور تعلقات کی بحالی کے معاہدوں پر دستخط کر کے وہ یہودی وجود اور اس کے پیچھے کھڑے امریکہ کی خوشنودی حاصل کر لیں گے، اور اس طرح اپنے اقتدار کو تحفظ فراہم کریں گے۔ لیکن حالیہ واقعات نے ان کے گمان اور حساب کتاب کو غلط ثابت کر دیا ہے، کیونکہ یہودیوں کے لالچ کی کوئی حد نہیں اور ان کے فساد کی کوئی انتہا نہیں ہے۔
جب سے ارضِ مبارک فلسطین پر ان کا یہ ناپاک وجود قائم ہوا ہے، یہودی اس خطے میں فتنہ و فساد برپا کیے ہوئے ہیں؛ وہ قتل و غارت گری کر رہے ہیں، ذبح کر رہے ہیں، قبضے کر رہے ہیں اور لوگوں کو بے گھر کر رہے ہیں۔ وہ ایک جنگ سے دوسری جنگ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ فلسطین اور گولان پر قبضے کے علاوہ مصر، شام، لبنان اور اردن بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہے، جبکہ وہ یمن، عراق اور ایران پر جارحیت کر رہے ہیں اور مصر و ترکی کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس لیے جب تک یہ یہودی وجود قائم ہے، خطے میں کوئی امن، سلامتی یا استحکام نہیں ہو سکتا۔ حتمی حل یہ ہے کہ مسلم افواج فلسطین اور یہودیوں کے زیرِ قبضہ مسلمانوں کی زمین کے ایک ایک انچ کو آزاد کرانے کے لیے حرکت میں آئیں۔ رہی بات عالمی نظام کی قراردادوں کے مطابق امن کی دعوت، تو یہ درحقیقت قبضے کو برقرار رکھنے اور رسول اللہ ﷺ کی جائے اسراء (بیت المقدس) سے دستبردار ہونے کی دعوت ہے۔
===
اے پاکستان کی مسلح افواج! آپ کا مشن امریکہ کی اطاعت اور خدمت کرنا نہیں ہے
اے پاکستان کے فوجی بھائیو! جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کی تو وہ اگرچہ ایک چھوٹی ریاست تھی، لیکن آپ ﷺ نے اس وقت کی کسی بھی سپر پاور (روم یا فارس) کے ساتھ اتحاد کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ان دونوں کو بیک وقت چیلنج کیا۔ آخر کار، آپ ﷺ کے بعد آنے والے خلفاء نے ان دونوں قوتوں کو یرموک، قادسیہ، نہاوند اور اجنادین کی جنگوں میں عبرتناک شکست دی۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے ہمیں واضح راستہ دکھا دیا ہے۔ ہم وہ امت ہیں جسے اس دنیا میں ایک عظیم مشن سونپا گیا ہے، اور ہمارا کام چند معاشی یا فوجی مراعات کے بدلے بڑی طاقتوں کی اطاعت اور ان کی خدمت کرنا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾ "وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے (دنیا کے) تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے"۔ (سورۃ التوبہ:آیت 33) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ»"مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو" (یعنی ان سے فوجی مدد نہ مانگو)، جو کہ ایک شرعی حکم ہے کہ اگر مسلمان ایک آزاد حیثیت رکھتے ہوں تو ان کے لیے کفار سے فوجی مدد مانگنا جائز نہیں۔
اگر طالبان یا غزہ کے مجاہدین جیسے نسبتاً کمزور فوجی گروہ کفار کی بڑی فوجی طاقتوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تو اے پاکستان کی فوج! آپ کو اپنے ملک سے امریکہ کو نکال باہر کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ بلا شبہ وہ آپ کی قیادت ہے، جس نے آپ کو بڑی طاقتوں کی خدمت کی بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے اور آپ کو اس عظیم مشن کی ادائیگی سے روک رکھا ہے جو اللہ نے آپ پر فرض کیا ہے، جبکہ آپ اس کی اہلیت اور طاقت رکھتے ہیں۔ یہ مقصد تب تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک آپ خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم نہیں کرتے، جو اس ہدف تک پہنچنے کی بنیادی کڑی ہے۔ پس اٹھ کھڑے ہوں اور اسے قائم کریں کیونکہ عالمی حالات اس کے لیے مکمل طور پر سازگار ہیں۔
===
یہودی ،مسلمانوں کی زمین کے غاصب ہیں اور وہاں ان کے وجود کی کوئی شرعی حیثیت نہیں
جو یہ سمجھتا ہے کہ یہودیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے امتِ مسلمہ یہ بھول جائے گی کہ فلسطین ایک اسلامی سرزمین ہے، وہ محض وہم میں مبتلا ہے۔ امت اپنے بچوں کو ہوش سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ سکھاتی ہے کہ فلسطین کی آزادی ان کی گردنوں پر ایک امانت ہے، اور اسے وہ اللہ کے بندے آزاد کرائیں گے جنہیں اللہ نے امت کے درمیان سے منتخب کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿عِبَاداً لَّنَا أُوْلِي بَأْسٍ شَدِيدٍ﴾ "ہمارے وہ بندے جو سخت لڑائی والے ہوں گے"۔ (سورۃ الاسراء:آیت 5)
اور جن لوگوں کے دل مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ اپنی دنیا بچانے کے خوف سے امریکہ اور اس کے پروردہ (ناپاک وجود) کے پیچھے چل رہے ہیں، ہم انہیں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد یاد دلاتے ہیں: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ» "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب انسان کو بے بسی اور فجور (نافرمانی/گناہ) کے درمیان اختیار دیا جائے گا؛ تو جو شخص اس زمانے کو پائے اسے چاہیے کہ وہ فجور کے مقابلے میں بے بسی (عاجزی) کو اختیار کر لے"۔ یہودی وجود اور اس کے پیچھے کھڑا امریکہ یہ چاہتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک اس (ناپاک وجود) کو تسلیم کر لیں، تاکہ اس کے بعد سرحدوں اور دیگر تفصیلات پر مذاکرات شروع ہو سکیں جو اس کے وجود کو تسلیم کیے جانے کی حقیقت کو تبدیل نہیں کریں گے۔ اس طرح وہ معاہدوں کے ذریعے یہودیوں کے لیے وہ کچھ حاصل کر لیں گے جو وہ طاقت کے بل بوتے پر حاصل کرنے میں ناکام رہے، اور یوں وہ اپنا نام ان غداروں کی فہرست میں درج کروا لیں گے جنہوں نے فلسطین کو ضائع کیا اور اسے امت کے دشمنوں کے ہاتھوں بیچ دیا۔
یہودی وجود مسلمانوں کی زمین پر ایک غاصبانہ قبضہ ہے، جس کی مسلم ممالک میں نہ تو کوئی شرعی حیثیت ہے اور نہ ہی اسے یہاں رہنے کا کوئی حق ہے۔ امت کو اس سے اور اس کے شرور سے نجات دلانا پوری امت کی افواج کی ذمہ داری ہے۔ اور اسی کی طرف ہم انہیں پکارتے ہیں:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلاَّ قَلِيلٌ﴾ "اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین سے چمٹ جاتے ہو؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ حالانکہ دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑا ہے"۔ (سورۃ التوبہ:آیت 38)
Latest from
- مالی میں بگڑتے ہوئے حالات
- سوڈان میں ہیضہ کا پھیلاؤ: اس کے اسباب اور اس سے بچاؤ
- ”تیل کے بدلے خوراک“ سے ”نقد کے بدلے غذائیت“ تک! یمن میں منظم غربت پیدا کرنے کا کفار کا آلہ کار
- فورتھ جنریشن وار(Fourth Generation War) اور سوڈانی ریاست کا بتدریج خاتمہ
- صدارتی تقرریوں کے ذریعے شامی عوامی اسمبلی (مجلس الشعب) کی تشکیل کی تکمیل شرعی خلاف ورزیاں اور سیاسی خطرات






