الإثنين، 13 صَفر 1448| 2026/07/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الرایہ کی متفرقات – شمارہ 609

 

صفحہ اول کی پیشانی پر

 

اے اہل اسلام! ہماری امت بین الاقوامی مذاکرات کے نتائج کے انتظار یا بڑی طاقتوں کی پالیسیوں کی تبدیلی پر تکیہ کرنے سے اپنا مقام واپس حاصل نہیں کر سکے گی، بلکہ یہ اسلامی زندگی کے ازسرنو آغاز، اپنے سیاسی فیصلے کی بحالی، اور  نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کرنے سے ہوگا، تاکہ اس کے ذریعے امت کے ممالک متحد ہو جائیں، اس کی دولت و وسائل کی حفاظت ہو، اس کا ارادہ استعمار کے تسلط سے آزاد ہو جائے، اور اسلام زندگی کے قائد کے طور پر دوبارہ لوٹ آئے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے چاہا ہے:

 

﴿وَّاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ

 

"اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" (سورۃ یوسف:آیت 21)

===

 

صفحہ اول کے لیے

 

خلیج تعاون کونسل امریکی ترازو میں تولتی ہے

 

یہ سب سے زیادہ عجیب اور حیرت انگیز باتوں میں سے ہے کہ بے راہ روی (غیر فطری صورتحال) ایک نارمل چیز بن جائے، اور غلط کو صحیح سمجھا جانے لگے، جیسے کہ مسلمانوں کے علاقے چھوٹی چھوٹی کمزور اکائیوں میں تقسیم ہو جائیں اور یہ غیر فطری صورتحال ہی اصل اور نارمل بن جائے اور بہت سے لوگ اسے درست سمجھیں، اور کفار کے ممالک کے بنائے ہوئے بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں جیسے خلیج تعاون کونسل، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم؛ ایک ہی خلیفہ کی سربراہی میں ایک ریاست کے تحت مسلمانوں کے اتحاد کا متبادل بن جائیں!

 

یہ بات حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہی گئی، جس میں مزید کہا گیا کہ: خلیج تعاون کونسل اردن، بحرین اور کویت پر ایران کے حملوں کو تو دیکھتی ہے، لیکن اسے امریکہ کے وہ طیارے اور میزائل نظر نہیں آتے جو اس کی فوج ان ممالک سے ایران پر حملے اور جارحیت کے لیے استعمال کرتی ہے، وہ ایران کی تو مذمت کرتی ہے مگر امریکہ پر خاموش رہتی ہے، آخر خلیج تعاون کونسل کن آنکھوں سے واقعات کو دیکھتی ہے اور یہ کس ترازو میں تولتی ہے؟!

 

پریس بیان میں امتِ مسلمہ کی حالتِ زار بیان کرتے ہوئے مزید کہا گیا: "مسلمانوں کی یہ موجودہ حالت نہ تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند ہے، نہ اس کے رسول ﷺ کو اور نہ ہی اہل ایمان کو۔ یہ وہ صورتحال ہے جو استعماری کافر ریاستوں نے مسلمانوں پر مسلط کی ہے، اور پھر ان 'رویبضہ' (نااہل) حکمرانوں نے اسے برقرار رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ان کے تنخواہ دار کارندے اور میڈیا ذرائع اسے مسلمانوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ یہی غیر فطری صورتحال ایک نارمل اور اصل حقیقت بن کر رہ جائے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں سے اپنی اصل حقیقت کا وہ صحیح تصور ہی اوجھل ہو گیا ہے کہ وہ دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک واحد امت ہیں؛ جن کی جنگ ایک ہے، جن کی صلح ایک ہے، اور جن پر ایک ہی خلیفہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق حکمرانی کرتا ہے۔"

 

خلیج تعاون کونسل کو جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا، اس کے حوالے سے بیان میں کہا گیا: "خلیج تعاون کونسل کے لیے زیادہ بہتر تو یہ تھا کہ وہ معاملات کو اسلام کے نقطہ نظر سے دیکھتی، اور امریکہ اور دیگر استعماری ریاستوں کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن قرار دیتی اور 'ریاستِ یہود' کو مسلم ممالک کے سینے میں دشمن کا ہراول دستہ  سمجھتی۔"

 

"نیز اس کے لیے موزوں تو یہ تھا کہ وہ مسلم ممالک میں ان 'رویبضہ' حکمرانوں کے وجود کی مذمت کرتی اور مغرب کی ان کٹھ پتلی اور تابع چھوٹی ریاستوں کے وجود پر نکیر کرتی۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ خود ان ممالک کے حکمرانوں سے جن کی وہ نمائندگی کرتی ہے، نیز ایران اور باقی تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں سے خطاب کر کے ان سے مطالبہ کرتی کہ وہ اقتدار سے دستبردار ہو جائیں اور حکومت حزب التحریر کے سپرد کر دیں اور اس کے امیر کی بطور خلیفہ المسلمین بیعت کریں، تاکہ وہ ان کے ممالک اور افواج کو متحد کر دے، مسلم ممالک سے امریکہ اور دیگر استعماری کافر طاقتوں کے وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، ان پر اسلام کے نظام کو نافذ کرے، اور پھر وہ سب مل کر اسلام کو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، نور اور عدل کے پیغام کے طور پر لے کر اٹھیں۔"

 

بیان کے آخر میں کہا گیا: "کوئی یہ نہ کہے کہ آپ ناممکن کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور نہ ہی اس مطالبے پر کوئی حیرانی کا اظہار کرے؛ کیونکہ اصل حیرت انگیز اور عجیب بات تو امتِ مسلمہ کی یہ غیر فطری صورتحال ہے۔ یہ بات عجیب اور غریب ہے کہ یہ امت مختلف قوموں اور گروہوں میں تقسیم ہو جائے جو آپس میں دست و گریبان اور شاید برسرِ پیکار ہوں، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

 

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ

 

"بلاشبہ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں"  (سورۃ الحجرات:آیت 10)

 

مسلمان صدیوں تک ایک ہی خلیفہ کے جھنڈے تلے ایک ہی امت بن کر رہے، اور یہی ان کی فطری حالت تھی، اور اس وقت وہ ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور بکھر جانے کو ناممکن سمجھتے تھے۔ تو اب ہمیں دوبارہ اسی طرح ایک امت بننے سے کون سی چیز روکتی ہے؟ بلکہ یہی اصل ہے کیونکہ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس کے رسول ﷺ کی خوشخبری ہے کہ اس 'جبر کی حکومت 'کے بعد، جس میں ہم جی رہے ہیں، 'پھر نبوت کے نقشِ قدم   پر خلافت ہوگی'۔ مزید برآں، اس مقصد کے لیے حزب التحریر جیسا مخلص اور سچا رہنما موجود ہے، جو خلافت کا منصوبہ رکھتا ہے؛ تو وہ وقت کتنا قریب ہے کہ جسے کچھ لوگ ناممکن سمجھ رہے ہیں، وہ ایک حقیقت بن جائے!"

===

اہم مضمون کے تحت

یہودی جرائم کا وزیر غزہ کی تباہی پر فخر کر رہا ہے، اسے خاموش کون کروائے گا؟

 

یہودی وجود کے وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے شمالی غزہ کے دورے کے دوران وہاں ہونے والی تباہی پر فخر کا اظہار کیا اور اسے ایک سوچ سمجھ کر بنائی گئی پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مناظر دیکھ کر اسے دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ عبرانی چینل 14 پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں، جو اسی دورے کے دوران لیا گیا، اس نے کہا کہ وہ غزہ میں فوجی نوعیت کی تین نئی بستیاں آباد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ غزہ میں تباہی کے مناظر کے بارے میں اپنے احساسات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر کاٹز نے بلا جھجک جواب دیا: "یہ ایک اچھا احساس ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟" اس نے دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ "خطرات کو ختم کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ایک منظم پالیسی کا نتیجہ ہے"۔ اس نے مزید کہا کہ "چھاپہ مار طرزِ عمل کے بجائے اب یہودی اندر ہیں، تخریب کار باہر ہیں اور گھر تباہ ہو چکے ہیں"۔ (الجزیرہ نیٹ، تصرف کے ساتھ)

 

الرایہ: یہودیوں کی زبانوں سے ظاہر ہونے والا یہ سیاہ کینہ اور نفرت اپنے پیچھے اس سے بھی بڑے شر کو چھپائے ہوئے ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاۤءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ۔وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ

 

"ان کے منہ سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینہ) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔" (سورۃ آل عمران:آیت 118)

 

اس نفرت کے سامنے بڑے بڑے سوالات اٹھتے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: مسلم ممالک کی افواج میں موجود وہ لوگ کہاں ہیں جن کے کندھوں پر تلواریں، تاج اور ستارے چمکتے ہیں؟! ان افواج کے قائدین، افسران اور سپاہی کہاں ہیں؟! بندروں اور خنزیروں کے بھائی، انبیاء کے قاتلوں کی اولاد، اہلِ غزہ کے قتل اور ان کی عمارتوں کی تباہی کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اور انہیں اپنی اس ہٹ دھرمی اور تکبر کو لگام دینے والا کوئی نظر نہیں آ رہا جو ان کی غاصب ریاست کا خاتمہ کر سکے؛ اسی لیے وہ اپنے جرائم میں حد سے گزر رہے ہیں اور علی الاعلان اس پر فخر کر رہے ہیں، جبکہ مسلمانوں کے سینوں کو ٹھنڈک پہنچانے والا کوئی جواب سامنے نہیں آ رہا! ہم عام مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں اور خاص طور پر ان کی افواج سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں:

 

﴿وَاقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَاَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ

 

"اور ان کو جہاں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔" (سورۃ البقرۃ:آیت 191)

===

بخاری اور ترمذی کی سرزمین میں بے حیائی اور فحاشی کے میلے

 

تاشقند کے وسط میں 5 سے 7 جون 2026 تک بیئر فیسٹیول (شراب کا میلہ) منعقد کیا گیا، اور اس میلے کی مناسبت سے ’تاراس شیفتشینکو‘ اور ’سید برکہ‘ سڑکوں کے کچھ حصوں کو کئی دنوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ اشتہار میں دی گئی تفصیلات کے مطابق، اس میلے میں لائیو میوزک پرفارمنس، ڈی جے (DJ) کے پروگرام، کھانے پینے کے اسٹالز، بیئر (شراب) کے مختلف برانڈز اور متنوع تفریحی سرگرمیاں شامل تھیں۔ یہ میلہ روزانہ شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک جاری رہا۔ اس میں دسیوں ہزار نوجوانوں اور غیر ملکی سیاحوں نے شرکت کی، جبکہ بیئر کی بڑی مقدار مفت تقسیم کی گئی، یہاں تک کہ یہ ڈرموں کے حساب سے پیش کی جا رہی تھی اور کچھ شرکاء اسے ایک دوسرے پر چھڑک کر لہو و لعب میں مصروف تھے۔ چند روز بعد یہ میلہ سمرقند شہر میں بھی منعقد کیا گیا۔

 

الرایہ: اس کھلی برائی پر بہت سے مسلمانوں اور عام لوگوں، بالخصوص اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے غیرت رکھنے والے والدین نے شدید غم و غصے اور اس کے منتظمین و شرکاء کے خلاف سخت بیزاری کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود، مساجد کے ائمہ، مذہبی عہدیداروں، علماء یا مفتی کی جانب سے کوئی موقف یا تبصرہ سامنے نہیں آیا! اے امتِ مسلمہ! اے بخاری، ترمذی اور مرغینانی کی اولادو! تمہارے حکمران تمہیں کس راستے پر ہانک رہے ہیں؟ اور تمہارے علماء تمہیں کس ڈگر پر بلا رہے ہیں؟ کیا وہ وقت نہیں آ گیا کہ تم بیدار ہو جاؤ؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم اپنے حکمرانوں اور (سرکاری) علماء کو پہچان لو؟ تم کس کی پیروی کر رہے ہو؟ کس کی سن رہے ہو؟ اور تم نے اپنے معاملات کی باگ ڈور کس کے سپرد کر رکھی ہے؟

===

جنوبی سوڈان کا ’ابیئی‘ کو شامل کرنا اور سوڈانی حکومت کا بودا موقف

 

حزب التحریر ولایہ سوڈان کے آفیشل ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ: جنوبی سوڈان کے قومی الیکشن کمیشن نے متنازعہ علاقے ’ابیئی‘ کو ریاستِ ’واراب‘ کے ان 12 انتخابی حلقوں میں شامل کر لیا ہے جہاں 22 دسمبر 2026 کو عام انتخابات منعقد ہونا طے پائے ہیں۔ اس کے جواب میں سوڈان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ سوڈان اپنے ان قانونی حقوق پر قائم ہے جو دستخط شدہ پروٹوکولز اور معاہدوں میں درج ہیں، ساتھ ہی انہوں نے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں اور دوست و برادر ممالک، جو ابیئی کے حوالے سے معاہدوں کے ضامن ہیں، سے مطالبہ کیا کہ وہ طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے کام کریں اور قانونی ڈھانچے سے باہر کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کر دیں۔

 

استاد ابو خلیل نے حکومتِ سوڈان کے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: سوڈان کی اس حکومت سے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے، جو کہ پچھلی اسی حکومت کا تسلسل ہے جس نے جنوبی سوڈان کو (ملک سے) الگ کیا تھا۔ اس حکومت سے ایسے ہی شرمناک اور ذلت آمیز موقف کی توقع تھی، جو کسی خود مختار ریاست کے شایانِ شان نہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں! یہ کمزور موقف جنوبی سوڈان کو ابیئی کو اپنے ساتھ ضم کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھنے سے نہیں روک سکے گا۔ استاد ابو خلیل نے اپنے بیان کا اختتام ان الفاظ پر کیا: عنقریب اللہ کے حکم سے لوٹنے والی ریاستِ خلافت، جنوب کو دوبارہ اصل سوڈان کی گود میں لوٹائے گی، بلکہ سوڈان کو باقی تمام مسلم ممالک کے ساتھ متحد کر دے گی، تاکہ ریاستِ خلافت دنیا کی پہلی بڑی ریاست بن کر ابھرے جو (پوری دنیا کے لیے) نور اور خیر کا پیغام لے کر اٹھے اور لوگوں کو سرمایہ داری و دیگر نظاموں کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کے عدل اور اس کی رحمت کی طرف لے آئے۔

===

مسلمانوں کی سلامتی نہ بین الاقوامی توازن سے حاصل ہوگی اور نہ مغربی وعدوں سے

 

تمام مسلم افواج کو اپنی ذمہ داری کی اصل حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ ان کا کام حکمرانوں کا تحفظ کرنا نہیں بلکہ ملک و مقدسات کی حفاظت کرنا اور دنیا تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ غاصب یہودیوں کی جڑ کاٹنے کے لیے حرکت میں آئیں، اور غزہ، پورے فلسطین، شام اور ان تمام علاقوں کے مظلوموں کی نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں جہاں یہودیوں کی مجرمانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ یہودی وجود کے ساتھ آنے والا ناگزیر ٹکراؤ امت کے تمام بیٹوں سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس کے لیے تیار ہو جائیں۔ حکمرانوں کی کوتاہی یا افواج کی اپنے فرض سے غفلت امت کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ انہیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے راہِ راست پر لانے کی کوشش کرے اور غفلت برتنے والوں کا ہاتھ تھامے، تاکہ ہم یہودی وجود کے ساتھ اس بڑے معرکے کے لیے مکمل تیار ہوں جس میں فتح ہمارا مقدر ہوگی جیسا کہ اللہ عزوجل نے ہم سے وعدہ کیا ہے اور جیسا کہ اس کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ خوشخبری دی ہے:

 

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمْ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کریں اور مسلمان انہیں قتل نہ کر دیں، یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپے گا تو وہ پتھر یا درخت پکار اٹھے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے (چھپا) ہے، آؤ اور اسے قتل کر دو، سوائے ’غرقد‘ کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔" (صحیح مسلم)

 

شام کی سلامتی اور اس کی عزت بین الاقوامی توازن یا مغربی وعدوں سے حاصل نہیں ہوگی، بلکہ یہ حملہ آور کے ہاتھ کاٹنے، اس کا نام و نشان مٹانے اور مسلمانوں کے خون، ان کی عزتوں اور ان کے مقدسات کا انتقام لینے سے حاصل ہوگی، اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب نبوت کے نقشِ قدم   پر خلافتِ راشدہ کے سائے میں اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نظامِ حکومت قائم کیا جائے۔

===

قومیں تبھی ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے عقیدے سے نکلنے والے اپنے (آزاد) منصوبے کی مالک ہوں

 

عراقیوں کے لیے اب یہ سمجھنے کا وقت آ گیا ہے کہ حقیقی اصلاح نہ تو میڈیا مہمات سے شروع ہوتی ہے اور نہ ہی چمکدار نعروں سے، بلکہ اس کا آغاز ایک ایسی بنیادی تبدیلی سے ہوتا ہے جو اثر و رسوخ اور مفادات کی بندر بانٹ کے بجائے انصاف کی بنیاد پر اور لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست کی تعمیرِ نو کرے۔

 

قوموں کو ہمیشہ کے لیے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، اور تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ قومیں تبھی اٹھتی ہیں جب وہ فساد (کرپشن) کے اسباب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہیں، نہ کہ تب جب محض کچھ فاسد لوگوں کی جگہ دوسرے فاسد لوگ لے لیں۔

 

عراق اس بات کا حقدار ہے کہ وہ اپنے فیصلے کا خود مالک ہو، ہر قسم کی غلامی اور بیرونی ڈکٹیشن سے آزاد ہو، اور اپنے مستقبل کا انتخاب اپنے بیٹوں کے ارادے سے کرے۔ یہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب یہاں کے لوگ یہ جان لیں کہ قوموں کی بیداری ان تمام زنجیروں سے آزادی سے شروع ہوتی ہے جو ان کے ارادے کو سلب کرتی ہیں، اور ایک ایسا نظام قائم کرنے کے لیے بھرپور محنت سے ہوتی ہے جو ان کے عقیدے اور اقدار کی ترجمانی کرے اور ان کی خودمختاری کی حفاظت کرے۔

 

پس تمہارا ارادہ بیرونی دباؤ سے کہیں زیادہ مضبوط ہونا چاہیے، اور تمہیں ہر قسم کی غلامی اور وابستگی کو مسترد کر دینا چاہیے؛ کیونکہ قومیں اپنا مقام تب تک واپس حاصل نہیں کر سکتیں جب تک وہ اپنے اس آزاد منصوبے کی مالک نہ ہوں جو ان کی اپنی پہچان اور اقدار سے نکلا ہو۔ اور یہ حزب التحریر ہے، وہ سچا اور مخلص رہنما جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، وہ تمہیں نجات کی کشتی کی طرف بلاتا ہے، اور تمہیں دنیا کی عزت اور آخرت کی دائمی نعمتوں کی دعوت دیتا ہے؛ پس اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کی بحالی کے لیے اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے آگے بڑھو۔

===

اسلامی ممالک کا اس منظم فساد سے نکلنے کا راستہ جو استعماری مغرب نے ان پر مسلط کر رکھا ہے

 

مسلم ممالک کے لیے اس منظم فساد (کرپشن) سے نکلنے کا اصل حل جسے استعماری کافر مغرب نے ان پر نافذ کیا ہے، اور جسے ایسے قوانین کے ذریعے جکڑ دیا ہے جنہوں نے اداروں اور افراد کے فساد کو ریاست کے اثر و رسوخ کا سہارا فراہم کیا اور اسے ہر قسم کے احتساب سے آزاد رکھا... اس تلخ حقیقت سے نکلنے کے لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم ان حقیقی جڑوں کی طرف لوٹ جائیں جنہوں نے ہمیں ایک لڑی میں پرویا اور ہمیں ایک ایسی عظیم ریاست بنایا جس نے 1300 سال سے زائد عرصے تک دنیا پر حکمرانی کی، یعنی رسول اللہ ﷺ کا منہج اور ریاست کی تعمیر میں آپﷺ کا طریقہ کار، تاکہ ہم اپنی اس کھوئی ہوئی عزت کو دوبارہ حاصل کریں جو اللہ کی مضبوط رسی (عروة الوثقیٰ) سے ناطہ توڑنے کی وجہ سے ضائع ہوئی، اور ہم خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اپنے کریم رسول ﷺ کی بشارت کو پورا کریں۔

 

لیکن یاد رہے کہ یہ عظیم مقصد محض دعاؤں اور نعروں سے حاصل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے امت میں رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی انتھک اور مسلسل جدوجہد درکار ہے، تاکہ یہ رائے عامہ ایک ایسے شعورِ عامہ کا نتیجہ ہو جو اسلام کے افکار اور اس کے احکام پر مکمل یقین رکھتا ہو۔

 

اللہ کا شکر ہے کہ ایک ایسی جماعت موجود ہے جس نے اس منصوبے کو اپنا نصب العین بنایا، جو رسول اللہ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلی، اور جس نے ایک ایسی جماعت (حزب) منظم کی جو اپنے افکار میں نہایت بلند پایہ ہے، کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے ہر پہلو پر سختی سے قائم ہے، اور اس نے ریاستِ خلافت کے قیام کے لیے ہر ممکنہ علمی و عملی تیاری مکمل کر لی ہے، ان شاء اللہ۔

 

اے اہل قوت و نصرت! اور اے خیر کے علمبردارو! حزب التحریر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو، تاکہ ہم اللہ کے کلمے کو بلند کریں، اس کی ریاست قائم کریں، اور اس کی شریعت کو نافذ کریں، تاکہ وہ ہم سے راضی ہو جائے اور ہم دوبارہ وہی 'خیرِ امت' بن جائیں جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے:

 

﴿ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ

 

"تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہلِ کتاب (بھی) ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو ایمان لانے والے ہیں اور ان کے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔" (سورۃ آل عمران:آیت 110)

===

اے ارضِ مبارک کے باسیو! اپنے آپ کو اس گندگی سے آلودہ نہ کرو جس میں "پی ایل او" لتھڑی ہوئی ہے

 

اے ارضِ مبارک (فلسطین) کے باسیو! اپنے آپ کو اس (گندگی) سے آلودہ نہ کرو جس میں "پی ایل او " لتھڑی ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی اس پکار پر لبیک کہو:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

 

"اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور (نہ) اپنی امانتوں میں خیانت کرو، حالانکہ تم جانتے ہو۔" (سورۃ الانفال:آیت 27)

 

بے شک مسجدِ اقصیٰ اور یہ ارضِ مقدس ایسے مومن مردوں کی محتاج ہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کیے گئے عہد کو سچ کر دکھایا ہو؛ جو امتِ مسلمہ اور اس کی افواج کو خلافت کے قیام اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے متحرک کریں، اور جو امتِ مسلمہ کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ دعوت اور اللہ کی راہ میں جہاد کے ذریعے اسلام کا پیغام (پوری دنیا تک) پہنچائے۔اور جان لو کہ امریکہ اور یہودیوں کی اطاعت کھلا خسارہ ہے:

 

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ

 

"اے ایمان والو! اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر دیں گے، پھر تم نامراد ہو کر رہ جاؤ گے۔ بلکہ اللہ ہی تمہارا مولیٰ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔" (سورۃ آل عمران:آیت 149-150)

 

اور مومنوں کے لیے اللہ کی نصرت ،حق پر ان کے بہترین ثبات (استقامت) اور اللہ تعالیٰ پر ان کے سچے توکل سے حاصل ہوتی ہے۔

===

Last modified onپیر, 27 جولائی 2026 00:09

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک