السبت، 03 ربيع الأول 1448| 2026/08/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مراکشی نوجوانوں کی سبتہ اور ملیلیہ کی جانب اجتماعی ہجرت کے المیے کا ایک جائزہ

 

تحریر: استاد مناجی محمد

(ترجمہ)

 

 

جمعرات 30جولائی 2026کی صبح مقبوضہ شہر سبتہ میں تارخال کراسنگ کے گردونواح سے سامنے آنے والی بھیانک تصویر وہاں کی طرف ماضی میں بارہا کی جانے والی روایتی ہجرت کی کوششوں جیسی کوئی عام کوشش نہیں تھی، بلکہ یہ اس عوامی المیے کی سچی تصویر تھی جس میں لوگ مراکشی حکومت کے پیدا کردہ دوزخ سے فرار ہو رہے تھے۔ اس انسانی طوفان کے سامنے نمٹنے اور روک تھام کرنے والی سیکیورٹی صلاحیتیں ناکام ہو گئیں، اور پھر مراکش میں جشنِ تاج پوشی کے ساتھ اس واقعے کا رونما ہونا اسے انتہائی غیر معمولی بنا دیتا ہے، جس نے اسے محض سرحد آسان بنانے اور ہجرت کے ایک واقعے سے بدل کر سیاسی، سیکیورٹی، سماجی اور بین الاقوامی سطح کے سلگتے ہوئے سوالات میں تبدیل کر دیا ہے۔

 

سب سے پہلے حقائق کا جائزہ:

یہ بحران سبتہ کے قریبی ساحلوں سے اکا دکا تیراکی کی کوششوں کی شکل میں شروع ہوا، پھر بڑے پیمانے پر پیش قدمی سے پہلے کے دنوں میں اس میں تیزی سے شدت آ گئی، جس کے دوران مقبوضہ شہر کے گورنر خوان خیسوس ویواس نے اعلان کیا کہ صرف دس دنوں میں 1500سے زائد افراد وہاں پہنچ چکے ہیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ سرحد پار کرنا معمول کے مطابق سرحدی باڑ پر چڑھنے تک محدود نہیں تھا بلکہ بنیادی راستہ سمندری تھا۔

 

اس ہجرت کی لہر کی خاص بات یہ تھی کہ یہ کسی ایک سرحدی راستے پر دھاوے سے شروع نہیں ہوئی جسے ایک مخصوص مقام پر گھیر کر قابو کیا جا سکتا، بلکہ پورا کھلا سمندر ہی پار کرنے کا راستہ بن گیا۔ پھر دوسرے کنارے پر پہنچنے والوں کی تصاویر آنا اور پھیلنا شروع ہو گئیں، اثرات جمع ہونے لگے اور یہ رجحان وبائی شکل اختیار کر گیا، اور ہم نے سبتہ کے قریبی علاقوں تک پہنچنے کے لیے بیشتر شہروں میں بس اور ٹرین اسٹیشنوں پر افراتفری کا ہجوم دیکھا۔ چنانچہ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ اسے سنبھالنا ناممکن ہو گیا، اور یہ جشنِ تاج پوشی کے خطاب کے چند گھنٹے بعد عروج پر پہنچ گیا؛ جہاں جمعرات کی شام تیر کر اور پیدل چل کر سبتہ شہر پہنچنے والا انسانی سیلاب تقریباً 50ہزار مہاجرین پر مشتمل تھا، جو کہ ایک ایسے حکمران کے لیے انتہائی افسوسناک اور متضاد صورتحال ہے جو اپنے نظام کی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے جبکہ عوام اس المیے سے بھاگ رہے ہیں جو اسی نظام نے ان کے لیے پیدا کیا ہے!

 

پھر اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے انسانی سیلاب کے ساتھ سیکیورٹی اور سیاسی مسائل کھڑے ہو گئے، اور آراء و نظریات کا تصادم شروع ہو گیا اور ان کے ساتھ مفروضے اور قیاس آرائیاں کی جانے لگیں۔ نیز، سال 2021کی ہجرت کی لہر کا اثر بھی نمایاں تھا جس پر حالات کے فرق اور متضاد حقائق کے باوجود قیاس کیا گیا، اور معلومات کی شدید کمی کی وجہ سے حقائق پر مبنی تجزیہ کرنے کے بجائے مفروضوں پر مبنی قیاس آرائیاں حاوی رہیں۔

 

ہجرت کے سیاسی اور سیکیورٹی پہلو سے متعلق حقائق:

یہ اجتماعی ہجرت اپنے حجم، وقت اور اپنے اردگرد کے حالات کے لحاظ سے منفرد تھی، اور اس کا بنیادی راستہ بحری تھا، اور سمندری راستے سے ہجرت اپنے مزاج کے اعتبار سے کسی مخصوص زمینی مقام پر قابو پانے کے مقابلے میں سیکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس ہجرت سے پہلے ایسی کوئی بھرپور مہم نہیں چلائی گئی تھی جس کے لیے سیکیورٹی الرٹ کی ضرورت ہوتی، بلکہ بڑے پیمانے پر ہجرت سے پہلے کے دس دنوں میں بڑھنے والی تعداد کو گرمائی ہجرت کی مہمات کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے (ہسپانوی وزارتِ داخلہ اور بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کے 2022-2025کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گرمی کے مہینے سب سے زیادہ متحرک دور ہوتے ہیں جن میں مہاجرین کی تعداد بڑھ جاتی ہے)، لیکن ٹھاٹھیں مارتا ہوا انسانی سیلاب جمعرات کی شام کو خاص طور پر سبتہ پہنچنے میں کامیابی کی افواہیں پھیلنے کے بعد امڈ آیا۔

 

اور اس انسانی سیلاب کے ساتھ سیکیورٹی کے الجھاؤ اور مختلف آراء سامنے آئیں، جبکہ زمین پر موجود حقائق نے اپنی مخصوص اور غیر معمولی صورتحال مسلط کر دی، جس سے نگرانی اور روک تھام کے نظام میں اچانک خرابی پیدا ہوئی۔ اس صورتحال نے ہسپانوی گارڈز کو مجبور کیا، جیسا کہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے، کہ وہ سرحدی علاقے کے قریب ایک گیٹ کھول دیں کیونکہ وہ خود کو ایسی تعداد کے سامنے پا رہے تھے جو ان کے کنٹرول کی صلاحیت سے باہر تھی، اور یہ اس وقت ہوا جب سرحدیں روکنے، روک تھام کرنے اور باز رکھنے کا اپنا اصل کام کھو چکی تھیں۔

 

اسی طرح مراکشی جانب بھی، جشنِ تاج پوشی کے باعث سیکیورٹی کی اولین ترجیح اور توجہ جشن کے مقام پر تھی جہاں بادشاہ اور حکومت کے اہم ترین ستون موجود تھے، جس نے دوسرے علاقوں میں سیکیورٹی کی شدید کمی پیدا کر دی، اور اسی نے کچھ ایسی دراڑیں اور خلا پیدا کیے جنہوں نے اتنے بڑے پیمانے پر ہجرت کے عمل کو آسان بنا دیا۔

 

جہاں تک اس ہجرت سے متعلق سیاسی صورتحال کا تعلق ہے، تو یہ سال 2021کی ہجرت کے وقت کی صورتحال سے بالکل مختلف ہے۔ اس وقت رباط اور میڈرڈ کے مابین کشیدہ صورتحال، میڈرڈ کی جانب سے پولساریو کے رہنما کو اسپین کے دورے کی اجازت دینے کے بعد اسپین میں مراکش کی خاتون سفیر کے بیانات اور ان کی طرف سے اعلانیہ دھمکی کہ یہ معاملہ بغیر سزا کے نہیں گزرے گا، زمین پر موجود حقائق اور شواہد، اور مراکش کے وزیر خارجہ بوریطہ کا یہ بیان کہ مراکشی حکام ہسپانوی سرحدوں کے تحفظ کے ذمہ دار نہیں ہیں، یہ سب اس ہجرت کی لہر کو جان بوجھ کر خود پیدا کرنے کے واضح ثبوت تھے۔

 

لیکن آج یہ تمام وجوہات ختم ہو چکی ہیں، کیونکہ رباط اور میڈرڈ کے تعلقات بالکل معمول پر ہیں اور ان میں مزید بہتری آ رہی ہے، بلکہ ہسپانوی وزارتِ خارجہ نے حالیہ واقعات کے بعد تصدیق کی ہے کہ مراکش کے ساتھ تعلقات بہترین ہیں، جس کا مطلب ہے کہ سبتہ اور ملیلیہ کی طرف اجتماعی ہجرت کی نئی لہر کی وجہ مراکش اور اسپین کے درمیان تناؤ کو قرار دینا ناممکن اور خارج از امکان ہے، اور یہ سال 2021کی ہجرت پر ایک بے جا قیاس ہے۔ کیونکہ 2021کی ہجرت بحران سے نمٹنے کے لیے خود پیدا کی گئی تھی، جبکہ 2026کی ہجرت ایک ایسے بحران کی پیداوار ہے جس نے دونوں حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

 

علاواہ ازیں، ہجرت کی یہ طوفانی لہر جشنِ تاج پوشی کے خطاب کے چند گھنٹے بعد ہی آئی، جس کے مضامین حکومت کی بڑی کامیابیوں اور کامرانیوں کے مبالغہ آمیز دعووں سے بھرے ہوئے تھے، چنانچہ اس لہر نے خلافِ توقع آ کر ان تمام دعووں کو سبوتاژ کر دیا اور تنقید و تردید کے تیر براہِ راست حکومت کے سربراہ پر چھوڑے، جو خود پیدا کردہ ہجرت کے مفروضے کو ایک انتہائی کمزور احتمال بنا دیتا ہے۔

 

باقی وہ قرینہ جو تحریک پیدا کرنے کا بنیادی سبب بنا اور جس کی طرف اسپین اور مراکش دونوں حکومتوں نے اشارہ کیا، وہ اسمگلنگ اور ہجرت کے نیٹ ورکس ہیں، اگرچہ انہوں نے اس پسِ پردہ ہاتھ کو ظاہر نہیں کیا جو اس کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے۔ ہسپانوی حکام کے مطابق، اس غیر معمولی بہاؤ کی براہِ راست وجہ اسمگلنگ نیٹ ورکس کا ہسپانوی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے سے فائدہ اٹھانا ہے، جو تیر کر آنے والے مہاجرین کو فوری واپس بھیجنے سے روکتا ہے، اور اسی کی تصدیق نوجوانوں نے دوسری جانب داخل ہونے کے لیے تیر کر سمندر عبور کرنے کے ذریعے کی ہے۔

 

اسی چیز نے دونوں حکومتوں کو اس غیر معمولی ہجرت سے متعلق سیکیورٹی کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔ اپنے ایک بیان میں اسپین کی وزارتِ داخلہ نے ہجرت سمیت تمام شعبوں میں مراکش کے ساتھ مثالی تعاون کی تعریف کی، اور ان کے وزیر فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا نے مراکشی حکام کا ان کوششوں پر شکریہ ادا کیا جو مراکشی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں کیں، جنہوں نے غیر قانونی ہجرت کی ہزاروں کوششوں کو ناکام بنایا۔

 

جہاں تک اس اجتماعی فرار اور اس کے متاثرین کے سانحے کے حقیقی اور یقینی محرک کا تعلق ہے، تو اس کا سبب مراکش کے عوام کا جھیلا جانے والا المیہ اور ملک میں تباہی پھیلانے والے اس نظام کی بربادی کا حجم ہے؛ یعنی غربت کی شرح، بنیادی ضروریاتِ زندگی کی گرانی، نوجوانوں کی بے روزگاری اور ملک کی تاریخ میں طلاق کی بے مثال شرح۔

 

اب بین الاقوامی مسئلہ اور ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے والا پسِ پردہ ہاتھ باقی رہ جاتا ہے، جہاں یورپی سطح پر ہجرت کے حساس ترین معاملے کے ذریعے ضدی ہسپانوی وزیر اعظم کے ساتھ نمٹنے میں امریکی کردار اور اس کے مکروہ کھیل سامنے آتے ہیں (جنہوں نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی اڈوں کو استعمال کرنے کی واشنگٹن کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، اور امریکی فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی)۔ مزید برآں، آبنائے جبرالٹر کے جنوبی دروازے یعنی سبتہ شہر کی جغرافیائی و سٹریٹیجک اہمیت اور اسے اسپین سے چھیننے کے ٹرمپ کے عزائم کے پیشِ نظر، کانگریس کی کمیٹی برائے تخصیصات (Appropriations Committee) نے 3مئی 2026کو سبتہ اور ملیلیہ کے معاملے کو اٹھایا اور انہیں "ہسپانوی انتظامیہ کے تحت مراکشی علاقے" قرار دیا۔ اور اس سے قبل ریپبلکن کانگریس ممبر ماریو دياز بالارٹ نے اپریل 2026میں زور دیا تھا کہ "سبتہ اور ملیلیہ جغرافیائی طور پر مراکش کا حصہ ہیں، اور ان کی حیثیت ہمیشہ دوستوں اور اتحادیوں کے مابین مذاکرات اور بحث کا موضوع رہے گی"۔

 

یہ ہمارے وہ مصائب ہیں جو استعماری نظاموں کی پیداوار ہیں اور ہمارے وہ مسائل ہیں جنہیں استعمار کے رذیل کارندے نوچ رہے ہیں۔

 

 

 

Last modified onہفتہ, 15 اگست 2026 21:08

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک