الإثنين، 11 ربيع الأول 1448| 2026/08/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سعودی عرب کی قیادت میں کثیر الملکی دفاعی بحری اتحاد

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

(ترجمہ)

 

 

سعودی عرب نے 30 جولائی 2026ء کو آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری گزرگاہوں کے تحفظ، اور ان گزرگاہوں میں بحری سلامتی کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے ایک کثیر الملکی بحری اتحاد کے قیام کا اعلان کیا۔ سعودی عرب کی قیادت میں اس اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کرنے والے 14 ممالک یہ ہیں: ترکی، پاکستان، مصر، بنگلہ دیش، اردن، یمن، قطر، کویت، بحرین، سوڈان، صومالیہ، جبوتی اور نائیجیریا، جبکہ اس کے بانی اجلاس میں 43 ممالک نے شرکت کی۔ اس اتحاد کے لیے ایک انتظامی اور تنظیمی ڈھانچہ وضع کیا گیا ہے، جس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، مشترکہ بحری آپریشنز سینٹر اور ایک جنرل سیکرٹریٹ کا قیام شامل ہے۔

 

پھر شریک ارکان کے سربراہانِ افواج اور نمائندوں کے مابین کئی روز کی بات چیت اور مشاورت کے بعد، اسی ماہ یعنی چھ اگست کو سعودی عرب نے آپریشنل سطح پر اتحاد کی قیادت کے لیے ریئر ایڈمرل اسٹاف عبداللہ بن سالم الشہری کے تقرر کا اعلان کیا۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس اتحاد میں دیگر ممالک کی شرکت محض علامتی اور تشہیری حد تک ہے، کیونکہ اتحاد کی بحری قیادت میں سعودی عرب سے باہر کے کسی بھی رکن کا انتخاب نہیں کیا گیا، اور جنگ کا تمام تر بوجھ تنہا سعودی عرب ہی اٹھائے گا، جبکہ باقی ممالک باہر ہی سے معاونت فراہم کریں گے۔

 

بنیادی طور پر یہ اتحاد صرف بحیرہ احمر کے علاقے اور اس کے جنوبی راستوں تک ہی محدود ہے اور اس سے آگے نہیں بڑھے گا۔ اس کا آبنائے ہرمز یا براہِ راست ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کا بنیادی مقصد محض حوثیوں کو ایران سے الگ کرنے کی کوشش تک محدود ہے،اور یہ بات یمن، لبنان اور عراق میں ایران کے دست و بازو کو نشانہ بنانے کے امریکی منصوبوں سے پوری طرح میل کھاتی ہے۔ چنانچہ یہ خطے میں ایک طے شدہ امریکی پالیسی ہے جس پر سعودی عرب اس اتحاد میں شامل ممالک کی مدد سے عمل درآمد کر رہا ہے۔

 

اور یہ توقع ہے کہ یمن میں معرکے اور تصادم طویل ہو جائیں گے، اور جنگ کا فیصلہ آسانی سے نہیں ہو سکے گا، کیونکہ حوثی دارالحکومت پر قابض ہیں اور پہاڑی علاقوں میں مورچہ بند ہیں، جہاں سے ان کا خاتمہ کرنا اور انہیں مکمل شکست دینا انتہائی مشکل ہے۔

 

اور سعودی عرب اس سے قبل بھی یمن میں طویل جنگیں لڑ چکا ہے، جیسے کہ سال 2015ء سے 2019ء کے دوران 'عاصفۃ الحزم' اور 'عملیہ اعادۂ امید' کی جنگیں، اور پھر یہ جنگ اس کے بعد بھی جاری رہی یہاں تک کہ اس نے دس سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ پورا کر لیا، اور اس جنگ کا کوئی فیصلہ کن نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ یمن میں جنگیں عام طور پر حملہ آوروں کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوتی ہیں، اور یہی کچھ مصر کے ساتھ جمال عبدالناصر کے دور میں ہوا تھا، جن کی فوجیں 1960ء میں یمن میں داخل ہوئیں اور بغیر کسی فائدے کے 1967ء تک لڑتی رہیں، بلکہ الٹا انہیں بھاری نقصانات اٹھانے پڑے اور دسیوں ہزار مصری فوجی اس میں مارے گئے، اور مصر اس وقت یمن پر اپنا مکمل تسلط قائم نہ کر سکا، چنانچہ اس کی فوجیں وہاں سے ناکام و نامراد  لوٹیں۔

 

اور آج امریکہ اور اس نئے اتحاد میں شامل دیگر ممالک ان حقائق سے اچھی طرح واقف ہیں، اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کی شرکت محض رسمی ہوگی اور سارا بوجھ سعودی عرب پر ہی پڑے گا، اور اس جنگ کے نتیجے میں کوئی بھی فیصلہ کن نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

 

دراصل امریکہ یمن میں جنگ کی آگ اس لیے بھڑکانا چاہتا ہے تاکہ ایران کو تھکایا اور کمزور کیا جا سکے، اور خطے کو براہِ راست ایران کے خلاف جنگ کے بجائے نئی جنگوں میں الجھائے رکھا جائےجبکہ اسے جنگ کے طول پکڑنے یا دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے بھاری نقصانات کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اس کے لیے اہم بات صرف ایک ایسی جنگ شروع کرنا ہے جس پر اس کا ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہو، بلکہ شاید اس کے ذریعے خطے میں اس کے کچھ ایسے مقاصد بھی حاصل ہو جائیں جنہیں وہ ایران کے ساتھ اپنی براہِ راست جنگ کا فیصلہ کرنے میں ناکامی کے بعد حاصل نہیں کر سکا تھا۔

 

خطے میں امریکی منصوبوں پر چلنا تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لائے گا، اور اس سے جنگ میں شامل قوتوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا؛ کیونکہ فائدہ صرف امریکہ کا ہی ہوگا اور باقی سب خسارے میں رہیں گے۔

پس عوام کو اپنے حکمرانوں کے ان جھوٹے دعوؤں کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہیے جو ان کے سامنے یہ بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگوں میں فتح یاب ہوں گے، بلکہ انہیں اچھی طرح یہ جان لینا چاہیے کہ امریکہ اور کفر کی ریاستیں ہی اصل دشمن ہیں، چنانچہ انہیں چاہیے کہ وہ انہی کو اپنا دشمن سمجھیں؛ اور جہاں تک ان عوام کا تعلق ہے تو وہ ایک ہی امت کا حصہ ہیں، جن کا دین ایک، رسول ایک اور قبلہ ایک ہے، لہٰذا ان پر لازم ہے کہ وہ جانیں کہ انہیں اپنا رخ کس طرف موڑنا ہے، اور انہیں سب سے پہلے مسلم ممالک سے امریکی اور مغربی اثر و رسوخ کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں  اور اس دین کی نصرت اور نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اپنی فکر اور اپنے مقاصد کو یکجا کر لیں۔

 

 

 

Last modified onاتوار, 23 اگست 2026 17:06

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک