الإثنين، 11 ربيع الأول 1448| 2026/08/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اپنے ممالک سے سیکولرازم کو کیسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں؟

 

تحریر: استاد عبداللہ حسین (ابو محمد الفاتح)

(ترجمہ)

 

 

1882ء میں مصر پر برطانوی قبضے کے بعد سوڈان میں برطانوی استعمار کی مداخلت کا آغاز ہوا، اور 1896ء میں مہدی ریاست  کا تختہ الٹنے کے لیے کچنر (Kitchener) کی فوجی مہم شروع ہوئی۔

 

چنانچہ ۲ ستمبر 1898ء کو 'ام درمان' کی جنگ لڑی گئی جس کے نتیجے میں مہدی ریاست کا دارالحکومت برطانوی استعمار کے قبضے میں چلا گیا، اور سوڈان پر ایسے نظاموں کے تحت حکومت کی گئی جو دین کو زندگی سے الگ کرنے (سیکولرازم) کے عقیدے پر مبنی تھے۔ اس عقیدے کو عوامی زندگی اور ریاست میں راسخ کیا گیا، اور اسی بنیاد پر سیاسی جماعتیں اور فوج تشکیل دی گئیں۔ پھر نام نہاد 'حقِ خود ارادیت' کا دور آیا اور 1956ء میں برطانوی استعمار کا انخلا ہوا، جس نے سوڈان پر براہِ راست استعمار کو بالواسطہ استعمار سے بدل دیا اور سوڈان ہی کے لوگوں میں سے ایک سیاسی طبقے اور حکمرانوں کو آگے لایا تاکہ وہ اسی روش پر چلتے ہوئے ایسے جمہوری نظام کو نافذ کریں جو دین کو ریاست سے جدا کرنے پر مبنی ہو، تاکہ سوڈان ایک ایسی تابعدار ریاست (functional state) بن کر رہے جو اہل ملک کے بجائے برطانیہ کے مفادات کی پاسبانی کرے۔

 

پھر برطانوی امریکی (اینگلو امریکن) کشمکش کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں سوڈان 25 مئی 1969ء کو جعفر نمیری کے فوجی انقلاب کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ کے چنگل میں پھنس گیا، اور یہ سلسلہ عمر البشیر کے دورِ حکومت تک جاری رہا جسے دسمبر 2019ء میں ایک عوامی تحریک نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔

 

اس وقت تک سوڈان مسلسل سیکولر نظام ہی پر گامزن ہے، اگرچہ اس کے اقتدار پر سول اور فوجی اشرافیہ باری باری قابض ہوتی رہی، جن میں سے کسی نے جمہوریت کا نعرہ بلند کیا تو کسی نے اسلامی شعائر کا سہارا لیا۔

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی قوتوں اور ان کے پیچھے کارفرما استعماری طاقتوں (امریکہ اور برطانیہ) کی طرف سے اس قدر شدت اور اصرار کے ساتھ سیکولرازم کو پیش کرنے میں کیا نئی بات پوشیدہ ہے؟ کیا یہ مرد اور عورت کے باہمی تعلقات کی صورت میں موجود اسلام کے آخری مضبوط قلعے (سماجی نظام) کا قلع قمع کرنے کے لیے ہے؟ یا پھر اس کا مقصد اسلام کے نظامِ حکومت (خلافت) کا راستہ روکنا اور اس کی طرف بڑھتی ہوئی عوامی مہم اور اہل ملک و امتِ مسلمہ کی والہانہ پذیرائی کے بعد خلافت کی دعوت اور اس کے مخلصین و داعین کو مجرم قرار دے کر ان کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا ہے؟

 

سوڈان کی جڑیں عظیم اسلام کے ساتھ تاریخ کے نہاں خانوں تک گہری وابستہ ہیں، اور یہ تعلق خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک میں 31 ہجری میں سوڈان کی اسلامی فتح سے شروع ہوتا ہے، جب انہوں نے مصر کے گورنر کو حکم دیا اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی السرح کی قیادت میں مجاہدینِ اسلام کا لشکر روانہ کیا۔

عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دورِ خلافت میں سوڈان کا تذکرہ اس طرح ملتا ہے کہ جب کچھ مسلمانوں نے خطۂ نوبہ میں زمین خریدی، تو عیسائیوں کے بڑے پیشوا نے اس بیع کی صحت پر یہ اعتراض اٹھایا کہ زمین فروخت کرنے والا عیسائی اس کی رعایا میں سے ہے، لہٰذا وہ اس کی اجازت کے بغیر زمین فروخت کرنے کا مجاز نہیں اور وہ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ معاملہ خلیفہ مامون کے حضور پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے عدالت کے سپرد کر دیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ زمین کا مالک عیسائی پیشوا کی اجازت کے بغیر اپنی ملکیت میں تصرف کا مکمل حق رکھتا ہے، کیونکہ وہ اس کا غلام نہیں ہے جسے اس کی ذاتی ملکیت میں تصرف سے روکا جا سکے۔ یہ منصفانہ فیصلہ بڑی تعداد میں عیسائیوں کے اسلام قبول کرنے کا باعث بنا، کیونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جس کے قانونِ عدل میں کسی پر رتی برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا۔

عثمانی دورِ حکومت میں 1821ء میں سوڈان مصر کے ساتھ مل کر ایک ہی صوبہ  بن گیا۔ یہ تمام تاریخی شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ سوڈان مختلف ادوار میں ریاستِ خلافت کا ایک لازمی حصہ رہا ہے، یہاں تک کہ صلیبی استعمار خلافت کو منہدم کرنے، اس کے صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور سیکولر قوم پرست وطنی ریاستوں کو وجود میں لانے کا بھیانک منصوبہ لے کر آیا۔ اس سازش کے ذریعے انہوں نے اسلامی ریاست کی وحدت کو تار تار کرنے اور اسلامی نظامِ حکومت کو یکسر معطل کرنے کے اپنے مذموم مقاصد اور تمناؤں کو پورا کیا، اور اس کے نتیجے میں امتِ مسلمہ نے کمزوری، افلاس، خانہ جنگی اور داخلی فتنوں  کے زہر آلود پھل سمیٹے۔

 

سوڈان اور دیگر تمام مسلم ممالک سے سیکولرازم کو جڑ سے اکھاڑنا اور اس کا خاتمہ کرنا صرف رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کار کے مطابق تبدیلی کی جدوجہد اور سعی سے ہی ممکن ہے، تاکہ آپ ﷺ کی کامل پیروی کرتے ہوئے اسلامی ریاست قائم کر کے اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ احیا  کیا جا سکے۔

 

۱۔ صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر جماعتی گروہ قائم کرنا۔

۲۔ اسلام اور اس کے نظام کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا۔

۳۔ قبائل کے اہل قوت اور بااثر لوگوں سے نصرۃ (عسکری مدد) حاصل کرنا۔ ایسی نصرۃ جس کی بدولت بیعتِ عقبہ ثانیہ، ہجرت اور مدینہ میں ریاست قائم ہوئی۔

 

اور یہ حزب التحرير ہے جو 1953ء میں اپنے قیام کے وقت سے لے کر اب تک رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مسلسل کوشاں ہے۔ اللہ تعالی کا فرمانِ عالی شان ہے:﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرا "بلا شبہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔" (سورۃ الاحزاب: آیت ۲۱)

 

حزب التحرير مرکوز تثقیف  کے ذریعے مخلص افراد کی تیاری اور اسلامی شخصیات کی تعمیر کرتی ہے، اور اجتماعی تثقیف کے ذریعے عوام میں شعور اور اسلام کے حق میں رائے عامہ ہموار کرتی ہے، اور مسلم ممالک کی افواج سے نصرۃ (عسکری مدد) طلب کرتی ہے؛ بلاشبہ اصل حل اسلامی طرزِ زندگی کو ازسرِ نو بحال کرنے اور نظامِ خلافت قائم کرنے کی طرف لوٹنے میں ہی مضمر ہے، جو کہ (ہر مسلمان پر) فرض اور واجب ہے۔

 

ابو حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: "میں پانچ سال تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا، میں نے انہیں نبی کریم ﷺ سے یہ روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ» "بنی اسرائیل کے سیاسی امور ان کے انبیاء چلاتے تھے، جب بھی کسی نبی کی وفات ہوتی تو دوسرا نبی اس کا جانشین بنتا۔ اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، البتہ کثرت سے خلفاء ہوں گے۔" صحابہ نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:«فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»  "تم ایک کے بعد ایک  خلیفہ کی بیعت کا عہد پورا کرو، اور انہیں ان کا حق دو، اور یقیناً اللہ ان سے ان کی رعایا کے متعلق سوال کرے گا جس کی پاسبانی کا ذمہ انہیں سونپا گیا تھا"۔

 

اور حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ؛ فَاقْتُلُوا الآخِرَ مِنْهُمَا» "جب دو خلفاء کے لیے بیعت لی جائے، تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو"۔

 

اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: «مَنْ بَايَعَ إِمَاماً فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ» "جس نے کسی امام (خلیفہ) کی بیعت کی، اور اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور دل کی گہرائی سے اس کی اطاعت کا عہد کیا، تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے"۔

 

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» "امام (خلیفہ) تو بس ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے رہ کر جنگ لڑی جاتی ہے اور اسی کے ذریعے (دشمن کے وار سے) بچا جاتا ہے"۔

 

اور اللہ تبارک و تعالی کے اس ارشاد کی تعمیل میں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾ "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے پکارنے پر حاضر ہو جاؤ جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور یہ کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔" (سورۃ الانفال: آیت ۲۴)

 

یہ نصوص تیرہ صدیوں (1300 سال) تک صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد آنے والے اموی، عباسی اور عثمانی سلاطین کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور مشعلِ راہ بنی رہیں۔ چنانچہ نظامِ خلافت ہی مسلمانوں کی حقیقی نگہبان تھی، ان کی زمینوں اور مقدسات کا دفاع کرنے والی، ان کے خون کی حفاظت کرنے والی، ان کی عزت و وقار کی پاسبان، عدل و انصاف کی علمبردار اور غربت کا جڑ سے خاتمہ کرنے والی تھی۔

 

یہاں تک کہ عثمانی خلافت کے دور میں یورپی سیاحوں نے خود یہ گواہی دی کہ عثمانی خلافت میں کوئی ایک بھی بھکاری نہیں تھا۔

 

اور آج، ذلت و رسوائی، بدحالی، انتشار اور تقسیم در تقسیم کی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم خلافت کی دوبارہ بحالی کے لیے تگ و دو کریں، اور اس کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والے مخلصین کے شانہ بشانہ کام کریں۔

 

اور یہ پیشرو اور رہنماحزب التحرير ہے، جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی،اور خلافت کے قیام کے لیے شب و روز تگ و دو کر رہی ہے تاکہ اللہ سبحانہ و تعالی کے وعدے اور حبیبِ مکرم ﷺ کی نویدِ جاں فزا کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

 

اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً﴾ "اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (حکمرانی) عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت عطا کی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو متمکن (مستحکم) کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے امن سے بدل دے گا"۔ (سورۃ النور: آیت 55)

 

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافت ہو گی"۔

 

اے اہل سوڈان! اس خوشخبری کو پورا کرنے کے لیے ہمیں سوڈان سے سیکولرازم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی خاطر تیز رفتاری سے کام کرنا ہو گا تاکہ یہ اسلامی خلافت کی ریاست کے لیے نقطۂ ارتكاز (مضبوط مرکز) بن سکے، اور پھر ہم اقوامِ عالم تک اسلام کا آفاقی پیغام پہنچائیں تاکہ دنیا کو اسلام کے نور سے روشن منور کر سکیں جسے سیکولرازم کی تاریکیوں نے دھندلا دیا ہے۔ ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾ "اور اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے، اللہ کی نصرت سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے نصرت فرماتا ہے، اور وہ نہایت غالب (اور) بہت مہربان ہے"۔ (سورۃ الروم: آیات ۴-۵)

 

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحرير کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن

 

 

 

Last modified onاتوار, 23 اگست 2026 17:22

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک