Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

مسلم دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی استعماریت کا علاج اسلام، اس کی دعوت اور جہاد ہے

 

 

15 ستمبر 2026ء کو اقوامِ متحدہ میں برطانیہ کی نائب مستقل نمائندہ سفیر کیٹ فوسٹر نے یمن کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا: ’’حالیہ دنوں میں حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اپنی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں جاری رکھی ہیں، یمن کے اندر اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے اور بین الاقوامی بحری جہاز رانی اور علاقائی استحکام کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ برطانیہ ان اقدامات کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔‘‘

 

https://www.gov.uk/government/speeches/the-houthis-bear-full-responsibility-for-the-escalation-in-yemen-uk-statement-at-the-un-security-council

 

تبصرہ:

 

ایسے وقت میں جب ایران کئی دہائیوں تک امریکی خارجہ پالیسی کے گرد گھومنے کے بعد اب ایک آزاد راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، برطانوی ڈیپ اسٹیٹ بدلتی ہوئی علاقائی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہے۔ اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جہاں ایران کی پراکسیز موجود ہیں، اور یمن ان میں سے صرف ایک ہے۔ مزید یہ کہ برطانوی ڈیپ اسٹیٹ اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ امریکہ خطے کی عدمِ استحکام کی صورتِ حال کو اپنے حریفوں، چین اور یورپ، کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی اپنے اس مقصد کی جانب بڑھ رہا ہے جسے وہ ’’نئے مشرقِ وسطیٰ‘‘ (New Middle East) کا نام دیتا ہے؛ ایسا مشرقِ وسطیٰ جس پر واشنگٹن کے ایجنٹوں اور پیروکاروں کا غلبہ ہو اور جس میں دوسروں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔ خود امریکہ بھی خطے سے بڑھتے ہوئے بحران کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ ہے، کیونکہ وہ جغرافیائی طور پر خطے سے دور ہے، اس کے پاس اپنے تزویراتی تیل کے ذخائر موجود ہیں اور اس نے حال ہی میں وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو بھی لوٹنا شروع کیا ہے۔ ادھر ٹرمپ، بائیڈن کی اسی پالیسی کو آگے بڑھا رہا ہےـ جس کے تحت دنیا بھر میں آگ بھڑکائی جاتی ہے، تاکہ بیمار اور کمزور امریکی ریاست آخر میں میدان میں کھڑی رہ جانے والی واحد طاقت بن جائے۔ اب کسی بھی مسلم ریاست کے لیے یہ ایک مہلک غلطی ہوگی کہ وہ برطانیہ کی سرگرمی کو امریکی مطالبات کا مقابلہ کرنے یا انہیں متوازن کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھے۔ ’’میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے‘‘ کی منطق اس وقت قطعاً قابلِ اطلاق نہیں جب انتخاب استعماری کافر طاقتوں کے درمیان ہو۔

 

برطانوی، اسلامی امت کے خلاف اپنی سازشوں میں امریکیوں سے کسی طور کم نقصان دہ نہیں ہیں۔ بلکہ ایک زمانے میں مسلمانوں کی سرزمینوں میں سب سے غالب استعماری طاقت برطانیہ ہی تھا، جس میں یمن اور ایران بھی شامل تھے، یہاں تک کہ امریکہ نے انہیں زیادہ تر مسلم ریاستوں میں حاشیے پر دھکیل دیا۔ انگریز دوسری اقوام کے استحصال کا طویل تجربہ رکھتا ہے۔ اس نے مسلمانوں کی بہت سی سرزمینوں پر کئی دہائیوں بلکہ بعض جگہوں پر صدیوں تک قبضہ کیے رکھا، اور حتیٰ کہ ویلز، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے لوگوں کو بھی نہیں بخشا۔ جہاں تک امریکیوں کا تعلق ہے، اگرچہ ان کی ڈیپ اسٹیٹ کا ایک دھڑا انگریزی النسل ہے، لیکن وہ برطانوی استعماریت کے تجربے میں اسی طرح شریک نہیں رہے، کیونکہ وہ ابتدائی دور ہی میں برطانیہ سے ہجرت کرگئے تھے اور بعد ازاں برطانیہ کے خلاف جنگِ آزادی کے لیے لڑے۔ تاہم امریکی ایک ذہین اور موقع شناس قوم ہونے کے باعث جلد ہی اس فن کو سیکھ گئے اور جب انہیں موقع ملا تو استعماری استحصال میں انگریزوں سے بھی آگے نکل گئے۔ چنانچہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب برطانیہ نے سوویت روس کے خوف سے امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کی دعوت دی، تو چند ہی دہائیوں میں وہ مسلمانوں کی بیشتر ریاستوں میں اپنا سابقہ اثر و رسوخ کھو کر پسِ منظر میں چلا گیا۔

 

اب برطانیہ باہر سے بے بسی کے ساتھ اس صورتِ حال کو دیکھ رہا ہے اور غصے میں کھول رہا ہے کہ اردن اور متحدہ عرب امارات کے حکمران بھی امریکہ کے لیے تعریفی کلمات اور وفاداری کے وعدے کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اس کی اپنی معیشت زوال کا شکار ہے اور وہ اپنی فوج کو ترقی دینے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ برطانیہ بھی یمن میں موجود Rare Earth Elements (REEs) کے وسیع ذخائر کا اتنا ہی خواہش مند ہے جتنا امریکہ۔ یمن کے سیاسی ماحول پر کنٹرول کے لیے اس کا اپنا مخصوص منصوبہ ہے، بالکل اسی طرح جیسے امریکہ کا ہے۔لہٰذا اگر اللہ ﷻ نے اہلِ ایمان کے دشمنوں میں سے ایک کو دوسرے دشمن پر حملہ کرنے کا سبب بنا دیا ہے، تو ہمیں اس دشمن کے لیے اپنے دروازے کیوں کھولنے چاہئیں جو حملے کا نشانہ بنا ہے؟

 

بڑی استعماری طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن قائم کرنے کی سوچ بنیادی طور پر ناقص ہے۔ یہ سوچ خواہ امریکی ریاست کو برطانوی ریاست کے مقابلے میں متوازن کرنے سے متعلق ہو، یا امریکی ریاست کو چینی ریاست کے مقابلے میں، یا کفر کی کسی بھی دوسری استعماری ریاست کو دوسری کے مقابلے میں کھڑا کرنے سے متعلق ہو، بہرحال غلط ہے۔ ان تمام استعماری طاقتوں کی بنیادی حقیقت ایک ہی ہے۔ یہ سرمایہ دار ریاستیں ہیں جن کی خارجہ پالیسی استعماریت پر مبنی ہے، خواہ وہ پاکستان جیسی مسلم ریاست کے ساتھ معاملہ کر رہی ہوں یا تھائی لینڈ جیسی غیر مسلم ریاست کے ساتھ۔ استعماری ریاستیں کسی ہدف بنائی گئی ریاست کے ساتھ صرف اس لیے اتحاد اور معاہدے کرتی ہیں تاکہ اسے فوجی، معاشی اور سیاسی طور پر اپنا تابع بنا کر اس کا استحصال کرسکیں۔ وہ کسی ریاست کے وسائل، خواہ خام مال ہو، منڈیاں ہوں یا فوجیں، کو اپنے استحصال کے لیے قابلِ استعمال اثاثے سمجھتی ہیں۔ وہ ہدف بنائی گئی ریاستوں کے حکمران دھڑوں میں بھی بھاری سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اس کے لیے دیگر طریقوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانی کی اجازت کو بطور رشوت استعمال کیا جاتا ہے۔ ایجنٹوں میں برطانوی سرمایہ کاری کی ایک مثال یمن کے سابق ایجنٹ علی عبداللہ صالح ہے، جس نے 33 سال اقتدار میں رہتے ہوئے بدعنوانی کے ذریعے مبینہ طور پر 60 ارب ڈالر تک جمع کیے۔ یہ سب ایک ایسے ملک میں ہوا جہاں اسپتال اس قدر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں کہ مریضوں کے رشتہ داروں کو صرف کھانا ہی نہیں بلکہ فرنیچر تک فراہم کرنا پڑتا ہے! مزید برآں، امت مسلمہ کے معاملے میں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ جب استعماریت پسند طاقتیں کسی مسلم ریاست کو نشانہ بناتی ہیں تو صلیبی دشمنی کی صدیوں پرانی ذہنیت ان کے رویے میں ایک خاص قسم کی سنگ دلی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

 

اے مسلم دنیا کے اہلِ قوت! یمن اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکی منصوبے کے خلاف برطانیہ کی ان کمزور کوششوں کو دیکھتے ہوئے ’’دو برائیوں میں سے کم تر‘‘ کے اصول پر فیصلہ کرنے کی غلطی نہ کریں۔ ہمیں دو برائیوں میں سے کم تر کو کیوں قبول کرنا چاہیے، جبکہ وہ ’’کم تر برائی‘‘ بھی ایسی برائی ہے جسے ہم برداشت نہیں کرسکتے؟ مزید یہ کہ ہم مسلمان ہیں، تو ہمیں دو برائیوں میں سے کم تر پر کیوں اکتفا کرنا چاہیے، جبکہ ہمارے سامنے خیر کا راستہ موجود ہے—اور وہ ہمارا دین اور اس کی حکمرانی ہے؟ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی استعماریت کی وجہ سے مسلم دنیا تباہی، زوال، معاشی بدحالی اور خارجہ پالیسی میں ذلت سے دوچار ہے۔ لیکن اسلام، اس کی دعوت اور جہاد کے تحت اسلامی ریاست چھ صدیوں تک، بارہویں سے اٹھارہویں صدی کے درمیان، بلا مقابلہ دنیا کی سرکردہ ریاست رہی۔ تو پھر ہمیں امریکی کافروں کے ہاتھوں استحصال کیوں قبول کرنا چاہیے، جو صرف چند دہائیوں سے بلا مقابلہ دنیا کی سرکردہ طاقت بنے بیٹھے ہیں، حالانکہ اس مقام کے حقیقی مستحق نہیں؟ اور آخر ہم لندن، پیرس، ماسکو یا بیجنگ کی طرف کیوں رجوع کریں، جبکہ ان سب نے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی استعماریت کو اختیار کیا ہے اور اگر انہیں واشنگٹن کی جگہ موقع ملے تو وہ بھی کسی طور کم نقصان نہیں پہنچائیں گے؟ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ﴾

 

’’مومنوں کو چاہیے کہ وہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور حلیف نہ بنائیں، اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ [سورۃ آلِ عمران: 28]ـ

 

چنانچہ حزب التحریر آپ سے دین کے غلبے، خلافتِ راشدہ کے قیام اور دعوت و جہاد کے دوبارہ آغاز کے لیے نصرت کا مطالبہ کرتی ہے۔ صرف اللہ ﷻ سے ڈرو اور لبیک کہو!

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

Last modified onجمعہ, 25 ستمبر 2026 00:33

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.