الجمعة، 13 ربيع الثاني 1448| 2026/09/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

متفرقات الرايہ – شمارہ 618

پہلے صفحے کی سرخی پر

 

اسلام کے نفاذ نے اسلامی ریاست کو ایک محفوظ، مامون اور باوقار پناہ گاہ بنا دیا اور اس کی خوشحالی کو یقینی بنایا، جس کے نتیجے میں نسل یا مذہب کی تفریق کے بغیر تمام شہریوں کو اس خوشحالی میں شریک ہونے کا موقع ملا اور کمزوروں و بے بسوں کی طرف رحم دلی کا ہاتھ بڑھایا گیا۔ امام ابو یوسف نے اپنی کتاب "الخراج" میں ذکر کیا ہے: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران حضرت خالد بن وليد رضی اللہ عنہ نے عراق میں حیرہ کے باشندوں،جو نصرانی (عیسائی) تھے،کے لیے معاہدۂ  لکھتے وقت یہ تحریر فرمایا تھا: "اور میں نے ان کے لیے یہ حق طے کیا ہے کہ جو بھی بوڑھا شخص مشقت سے عاجز آ جائے، یا اس پر کوئی آفت و مصیبت نازل ہو جائے، یا وہ امیر تھا پھر غریب ہو گیا یہاں تک کہ اس کے ہم مذہب لوگ اسے صدقہ و خیرات دینے لگے، تو اس کا جزیہ ختم کر دیا جائے گا اور اس کی اور اس کے اہل و عیال کی کفالت مسلمانوں کے بیت المال سے کی جائے گی۔"

===

 

پہلے صفحے کے لیے

 

سنجیدگی کا جواب سنجیدگی سے دیا جاتا ہے، مذمت اور منکرانہ بیانات سے نہیں!

 

ترکیہ، مصر، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ سے فلسطینیوں کی بستیوں کی زبردستی منتقلی (جبری بے دخلی) کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا، اور نام نہاد قومی سلامتی کے وزیر بن گویر اور یہودی وجود کے وزیر دفاع کاٹس کے جبری بے دخلی کے بارے میں دیے گئے بیانات کی "شدید ترین الفاظ میں" مذمت کی۔  معمول کے مطابق، جب مسلمانوں کے مفادات کا معاملہ آتا ہے تو بین الاقوامی اداروں اور ان رسمی قوانین پر امیدیں وابستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس  سیاہی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے جس سے وہ لکھے گئے ہیں؛ انہوں نے ان اشتعال انگیز بیانات اور تجاویز کو بین الاقوامی قانون کے اصولوں، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے جائز و ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔

 

چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب اللہ کا دشمن بن گویر ایک ایسی مکمل تیار شدہ نسل کشی اور نسلی تطہیر کے منصوبے کا ذکر کر رہا ہے جو ایک خصوصی وزارت کے قیام کے ذریعے 7 سال کے اندر غزہ کی پٹی کے 18.6 لاکھ باشندوں کو جبراً بے دخل کرنے پر مبنی ہے، اور کاٹس نے اس منصوبے کے وجود کا اعتراف بھی کیا ہے،اگرچہ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ پر عرب ممالک کے دباؤ اور انہیں دی جانے والی تجارتی و سرمایہ کاری کی پیشکشوں کی وجہ سے اسے عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے،تو اس تمام ترصورتِ حال کے مقابلے میں آٹھ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ صرف مذمت اور ناگواری کے بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں۔ وہ یہودی وجود کی اس عملی سنجیدگی اور اس کے ان منصوبوں کا، جو عمل درآمد کے لیے بالکل تیار ہیں اور جن کی تصدیق زمین پر اس کی روزمرہ کی جارحانہ کارروائیوں اور اقدامات سے ہوتی ہے، مقابلہ محض مذمتی اور احتجاجی الفاظ سے کر رہے ہیں! اس سے ان حکمرانوں کی مکمل بے حسی و عدم سنجیدگی اور مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی پالیسی کا پردہ چاک ہوتا ہے۔

 

اس صورتِ حال پر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا: فلسطین میں ہمارے بھائیوں کے خلاف یہودیوں کی جارحیت اور درندگی ایک روزمرہ کا معمول بن چکی ہے؛ ٹارگٹ کلنگز، دھماکے، گرفتاریوں، حملے، بستیوں کی توسیع اور مزید یہودی آبادکاری، اور اس کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا اور وہاں کے باشندوں کی روزی روٹی تک تنگ کر دینا، جس نے ان کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے؛ تاکہ انہیں ہجرت پر مجبور کیا جا سکے، اور اللہ کے دشمن یہودیوں کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہو سکے کہ فلسطین کے 80 فیصد لوگ ملک چھوڑنے پر تیار ہیں اگر انہیں فلسطین سے باہر کوئی قبول کرنے والا مل جائے!

 

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا: اس تمام تر جارحیت، منصوبے اور اس پر عمل درآمد کے مقابلے میں ہمیں مسلمان حکمرانوں کی طرف سے صرف اجلاسوں، مذمتی بیانات اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے اڈے اور بین الاقوامی قوانین کی طرف موڑنے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، جو پہلے بھی اور آج بھی استعمار اور بڑی طاقتوں کے آلہ کار رہے ہیں !

 

اور پریس ریلیز میں اس بات پر زور دیا گیا: فلسطین کے لوگوں کی نصرت کرنا، ان کی جبری بے دخلی کی کوششوں کو روکنا، اور پورے فلسطین کو آزاد کرانا ایک نہایت آسان اور متبادل راستوں سے ممکن عمل ہے، بشرطیکہ یہ آٹھ ممالک یا ان میں سے بعض، یا ان میں سے کوئی ایک ملک بھی اس کا پختہ ارادہ کر لے۔ کیونکہ مسلمانوں کی وہ افواج جنہیں حکمرانوں نے یہودیوں سے معرکہ آرائی کرنے سے روک رکھا ہے، وہی اس بات کی تقاضا کنندہ، ذمہ دار اور اس پر مکمل قادر ہیں۔ اور امت اب اس حقیقت سے بخوبی واقف و بیدار ہو چکی ہے اور حکمرانوں کے ڈرامے اور ان کے کمزور مواقف اب اسے مزید دھوکے میں نہیں رکھ سکتے۔

 

بیان کے اختتام پر وضاحت کی گئی: اب جبکہ حکمرانوں نے اللہ کی نداء اور اہل فلسطین کی فریاد سننے سے اپنے کان بند کر لیے ہیں، تو اس کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا کہ امت کی افواج کے مخلص لوگ  خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں، کیونکہ یہی وہ خلافت ہے جو مسلمانوں کو متحد کرے گی اور فلسطین کو آزاد کرائے گی۔

 

﴿ وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً ﴾

 

"اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے جو دعائیں مانگ رہے ہیں کہ: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حامی و سرپرست بنا دے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار کھڑا کر دے۔" (سورة النساء: آیت 75)

===

مرکزی مضمون کی سرخی کے نیچے:

 

اے پاکستان کے مخلص سپاہیو! کیا تم اس بات کو گوارا کرتے ہو کہ مغضوب علیہم اور ضالین کے مددگار بنو؟!

 

اے پاک فوج کے مخلص افسرو! کیا تمہیں اسلام کے نام، جس کے نظریے اور بنیاد پر تمہاری ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا، پر اور اسلامی سرزمینوں کے دفاع کے لیے تربیت اس لیے دی گئی تھی تاکہ تم وہ ناپاک کام انجام دو جن سے کفر کا سرغنہ امریکہ اور اس کے ساتھ یہودی وجود بھی عاجز آ چکے ہیں؟! کیا تم ایک ہی وقت میں ان کے انصار و مددگار بننا قبول کرتے ہو جن پر غضب نازل ہوا اور جو گمراہ ہیں؟! آخر تم اپنے ان کمانڈروں کے رویے پر خاموش کیسے رہ سکتے ہو جو تمہیں اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی خدمت کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟! تم پر لازم ہے کہ اس سے پہلے اپنے معاملے کا تدارک کرو کہ تمہیں کسی ایسی جنگ کے دہکتے ایندھن میں جھونک دیا جائے جس میں قاتل اور مقتول دونوں جہنم کی آگ میں ہوں گے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:«إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ»"جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔" (رواہ البخاری ومسلم)

 

تم پر لازم ہے کہ تم اپنے عسکری و سیاسی اداروں کو ان تمام لوگوں سے پاک کرو جو خطے میں استعماری امریکہ کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، اور یہ جان لو کہ جس طرح افغانستان اور سرحدی علاقوں میں امریکہ کی جنگوں میں، اور ان استعماری مشنز میں جنہیں دنیا میں امن مشنز کا نام دیا جاتا ہے، ہمارے پاکباز سپاہیوں کا خون بہایا گیا، اسی طرح تمہارے یہ حکمران و قائلین واشنگٹن میں موجود اپنے صلیبی آقا کے مفادات کے لیے ایران میں تمہارا خون بہانے میں بھی ذرا برابر تذبذب کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ لہٰذا ان کو اقتدار سے ہٹانے میں جلدی کرو، اور الخلافة الراشدة على منهاج النبوة (منہاجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ) کے قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرت و حمایت دو، تاکہ وہ تمہاری قیادت کرتے ہوئے المسلمین کی سرزمینوں کو خشکی اور سمندر سے امریکہ، یہودیوں اور تمام استعمار کی ناپاکی سے پاک کر دے۔

 

===

اہم خبر

 

حزب التحریر / ولایت سوڈان سوڈان کے معززین و شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے

 

پیر کے روز 14/9/2026 کو، حزب التحریر/ ولایت سوڈان کے ایک وفد نے،جس کی قیادت ولایت سوڈان میں پارٹی کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن استاد عبد اللہ حسین کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ حزب التحریر کے رکن انجینئر عوض الهادی تھے،حزب دولة القانون والتنمية کے سکریٹری برائے فکر و نظریات استاد مکی محمد عبد الرحمن سے ام درمان کے علاقے الفتیحاب میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ حزب دولة القانون والتنمية کے سیاسی سکریٹری استاد معتصم عثمان بھی موجود تھے۔

 

ملاقات میں سوڈان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے امریکی منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو کہ دارفور کو الگ کرنے کی صورت میں ہے اس جنگ کے ذریعے جو امریکہ نے اپنے کارندوں کے درمیان چھیڑ رکھی ہے، نیز حکومت سے اسلام کو دور کرنے اور اس پر اپنے سیکولر نظام کو مسلط کرنے کی کوششوں پر بات کی گئی۔ اور یہ کہ اصل چیلنج عمومی طور پر مغربی منصوبے اور خصوصاً امریکی منصوبے کا مقابلہ ایک ایسے متبادل منصوبے سے کرنا ہے جو اس ملک کے باشندوں کے عقیدے یعنی اسلامِ عظیم کے عقیدے کی عکاسی کرتا ہو، جو کہ خلافت کی ریاست کے سایے میں ممکن ہے۔ اور یہ کہ حزب التحریر خلافت کے اس منصوبے کی جدوجہد میں اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے امت اور سیاسی میدان کے مخلصین کو بیدار اور متحرک کر رہی ہے۔

 

اس کے بعد استاد معتصم عثمان نے گفتگو کرتے ہوئے اس دورے اور ملاقات کو سراہا، اور مسلم ممالک کے بارے میں کافر مستعمر مغرب کی سازشوں اور منصوبوں سے امت کو بیدار کرنے، اور خلافت کے سایے میں مسلمانوں کے اتحاد کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ پھر استاد مکی محمد عبد الرحمن نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی ریاست کے ساتھ ہیں جو مسلمانوں کو متحد کرے؛ یعنی خلافت، جو افسوس کے ساتھ بہت سی اسلامی جماعتوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔

 

اسی طرح، بدھ 16/9/2026 کو، حزب التحریر/ ولایت سوڈان کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین استاد ناصر رضا کی قیادت میں،جس میں کمیٹی کے رکن استاد عبد اللہ اسماعیل بھی شامل تھے،ایک وفد نے بحرِ احمر ریاست میں ہوسا قبیلے کے امیر استاد صالح عبد الرحمن سے ملاقات کی، جن کے ہمراہ عمدة حسن ایوب اور استاد مختار حمزہ بھی موجود تھے۔

 

ملاقات کے دوران ناصر رضا نے ملک کی ابتر صورتحال کا جائزہ پیش کیا؛ جن میں کمر توڑ مہنگائی، روز بروز بڑھتی ہوئی ڈالر کی قیمت، حکومت کی عدم مسؤلیت، اور ان سب سے بڑھ کر خطرناک بات، کافر مستعمر مغرب کے منصوبے کی تکمیل کے لیے ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلنا شامل ہے، جو ملک کی تقسیم چاہتا ہے۔ اس لیے اسلامی منصوبے یعنی الخلافة الراشدة على منهاج النبوة (منہاجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ) قائم کر کے ان کے راستے کو روکنا ناگزیر ہے، جو اس مجرمانہ سازش کا خاتمہ کر دے گی۔ اس کے بعد امیر ہوسا نے حزب التحریر کا اس اسلامی منصوبے کو اٹھانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا: "ہم آپ کی پیش کردہ تمام باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، اسلام کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔"اسی طرح ہفتہ 19/9/2026ء کو، استاد ناصر رضا کی قیادت میں ایک وفد نے،جس میں حزب التحریر/ ولایت سوڈان کی مجلس کے اراکین استاد محیی الدین بخاری اور ڈاکٹر احمد عبد الفضیل، نیز پارٹی اراکین: اساتذہ خالد الجضيع، فضل اللہ علی سلیمان اور عبد الوہاب محمد عبد الوهاب شامل تھے،اپنے پہلے دورے میں الخرطوم بحری کے علاقے حی کوبر میں دار حمر قبائل کی شوریٰ کونسل کے چیئرمین استاد عبد الحی صافی الدین ناجح سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

 

ملاقات کے آغاز میں استاد عبد الحی نے سوڈان کی جنگ، ریاست و معاشرے پر اس کے اثرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی پر بات کی۔ اس کے بعد استاد ناصر نے گفتگو کرتے ہوئے اس تیار کردہ منصوبے کے خطرات کو واضح کیا؛ جس میں قبائل کو متحرک و مسلح کرنا اور ملک کو توڑنے والی جنگوں میں دھکیلنا شامل ہے، اور یہ کہ اس کا حل مستعمر کفر کی سازشوں کا شعور حاصل کرنا اور اسلامی ریاست یعنی الخلافة الراشدة على منهاج النبوة (منہاجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ) کے قیام کے لیے کام کرنا ہے۔ اس پر استاد عبد الحی نے اس بات کی تصدیق کی کہ عقیدہ و شریعت کے طور پر اسلام کے سوا کوئی حل نہیں ہے، پھر انہوں نے اس دورے پر وفد کا شکریہ ادا کیا۔

 

اور دوسرے دورے میں وفد نے خرطوم میں کواہلہ قبیلے کے امیر استاد محمد الزین فضل المولیٰ ابو حفص سے ام درمان شہر کے علاقے الثورہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جہاں ملاقات کے آغاز میں امیر کواہلہ نے سوڈان میں جنگ، اور ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم اور املاک کی لوٹ مار پر بات کی، اور کہا کہ اس کا بنیادی سبب لوگوں کا اسلام کی طرف نہ لوٹنا ہے۔

 

پھر استاد ناصر نے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ جنگ باہر سے چلائی جا رہی ہے، انہوں نے قبائل کو اس جنگ میں گھسیٹنے اور انہیں قبائلی بنیادوں پر مسلح کرنے کے خطرات سے خبردار کیا، اور یہ کہ اس سے مستعمر کافر کی ان کوششوں کو تقویت ملتی ہے جو ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی تلاش میں ہے، اور یہ کہ اس کا واحد حل اسلام میں الخلافة الراشدة على منهاج النبوة (منہاجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ) کے قیام کے ذریعے ہے، اور انہوں نے امیر سے خلافت کے اس منصوبے کی نصرت و مدد کی اپیل کی۔ اس پر امیر نے کہا: "جب تک آپ اسلام کے ساتھ ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں"، اور انہوں نے باہمی رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

===

 

صرف اسلام ہی لیبیا سے استعمار کو نکال باہر کرنے پر قادر ہے

 

مغربی لیبیا کی (قومی) وفاق حکومت کی فضائی، بحری اور فضائی دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف اور مشرقی لیبیا کی افواج نے ملک کے اتحاد اور اقتدار کی کشمکش کے خاتمے کی بات کرنے کے بجائے عسکری شعبوں میں تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ پروگرام اور اجرائتی منصوبوں پر اتفاق کیا ہے! اور ان کوششوں کی بے سودیت اور اس امید کے ختم ہونے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ یہ مذاکرات اور کوششیں ملک کے لیے کوئی خیر لائیں گی، کیونکہ عسکری ادارہ یہ بات چیت اقوام متحدہ کے مشن کی سرپرستی میں اور لیبیا کے فریقین کے درمیان اکتوبر 2020ء میں جنیوا میں دستخط شدہ جنگ بندی معاہدے کی تعمیل کے فریم ورک کے تحت کر رہا ہے!

 

الرایہ: مسلمانوں کے اتحاد کا واجب ہونا شرعی لحاظ سے ایک طے شدہ اور حتمی معاملہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ﴾

 

"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔" (سورة آل عمران: آیت 103)

 

اور رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے:«مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ»"جو شخص تمہارے پاس اس حال میں آئے کہ تمہارا معاملہ (حکومت و قیادت) ایک شخص پر متفق ہو، اور وہ تمہاری طاقت کو توڑنا یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے، تو اسے قتل کر دو۔"

 

اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے:«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا»"جب دو خلیفوں کے لیے بیعت کر لی جائے، تو ان میں سے دوسرے (بعد میں بیعت لینے والے) کو قتل کر دو۔"

 

برطانیہ کے ایجنٹوں اور امریکہ کے ایجنٹوں کے درمیان کشمکش ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے ملک کو تقسیم اور خون خرادے کے چکر میں مبتلا کر رکھا ہے، اور یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں واحد نقصان اٹھانے والے خود مسلمان ہیں۔ اسی لیے لیبیا کے مخلصین—قبائل کے اہل الحل والعقد اور علماءِ ربانی—پر لازم ہے کہ وہ اس کشمکش کے قائدین اور تمام فریقین کے ہاتھ پکڑیں تاکہ ملک کو استعمار کے چنگل سے نجات دلائیں، اور اسے استعمار کے پرچم کے بجائے "لا إله إلا الله محمد رسول الله" کے پرچم تلے متحد کریں۔ کیونکہ جو اسلام اوس اور خزرج کو باہم متحد کرنے پر قادر تھا، وہی آج لیبیا کے مشرق اور مغرب کو، بلکہ دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو باہم متحد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾.

 

"اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا؛ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔" (سورة آل عمران: آیت 103)

===

 

سموٹریچ اور تمام یہودی جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت ہمارے ہاتھوں طے کر دی ہے

 

رام اللہ نیوز ایجنسی نے اپنے صفحے پر یہودی وجود کے وزیر مالیات سموٹریچ کا ایک بیان شائع کیا ہے، جس میں اس نے یہ زعم ظاہر کیا کہ اس کے وجود کی طاقت اور خوشحالی ان لوگوں کے منہ پر سب سے بڑا تھپڑ ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا ہے۔

 

الرایہ: اس کافرہ کے بیٹے کو اقوام و ملل کی تاریخ سے واقف ہونے کی ضرورت نہیں یہ جاننے کے لیے کہ مادّی طاقت و خوشحالی کبھی بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کی دلیل نہیں رہی، بلکہ غالباً اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے، کیونکہ یہ اکثر مہلت دینے اور استدراج (تدریجی پکڑ) کی علامت ہوتی ہے، ورنہ فرعون اور قارون ہلاک ہونے والوں میں شامل نہ ہوتے، اور عاد، ثمود، اصحابِ مدین اور دیگر قومیں اپنے کفر و سرکشی کی سزا کے طور پر ہلاک نہ کی جاتیں جبکہ اللہ نے انہیں طاقت و نعمتیں عطا کر رکھی تھیں۔

 

جہاں تک مجرم یہودیوں کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان سے ذلت و خوار کبھی نہیں اٹھے گی سوائے اللہ کے حبل (عہد/ذمہ) اور لوگوں کے حبل کے، اور انہوں نے اللہ کے حبل کو کاٹ ڈالا ہے اور اپنے کفر اور انبیاء کے قتل کے باعث اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے ہیں، اور آج وہ اپنے غرور، تکبر اور جرائم کی وجہ سے لوگوں کے حبل کا بھی خاتمہ کر رہے ہیں، اور اب ہمارے ہاتھوں اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والی کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے ان گھٹیا اور نااہل (رویبضات) حکمرانوں کے ایک گروہ کے جنہیں کافر مستعمر مغرب نے ان کے اس مسخ شدہ یہودی وجود کی حفاظت کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

لہٰذا سموٹریچ اور تمام یہودی جان لیں کہ اللہ جل جلالہ نے ان کی سزا اور ہلاکت کو لکھ دیا ہے اور ہمیں یہ شرف بخشا ہے کہ اسے ہمارے ہاتھوں انجام دلائے، اور یہ اللہ کی طاقت و نصرت سے آنے والی ہے، اور ہر آنے والی چیز قریب ہے اور یہ اللہ کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔

===

 

کیا امت کافر مغرب کے منصوبوں کو ناکام بنائے گی اور اپنے حقیقی منصوبے کو اپنائے گی؟

 

مغرب اور ہمارے طاغوتی حکمران اہل الفکر کو امت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ فکری لوگوں کا کام محض باتیں کرنے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ وہ امت کا اپنے وجود، اپنے مسائل اور اس راستے کے بارے میں شعور دوبارہ بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر اسے چلنا چاہیے، جیسا کہ تمام انبیاء و رسل علیہم الصلاة والسلام نے کیا۔ اسی لیے مغرب اور اس کی قیادت میں امریکہ نے عوام کو تقسیم کرنے، انہیں غربت و تنازعات میں ڈبونے اور امت کو بیدار و متحد کرنے والے ہر منصوبے کا محاصرہ کر کے اس ملاقات اور رابطے کو روکنے کی کوشش کی۔

 

لیکن عجیب بات یہ ہے کہ مغرب چنگاری کو بجھانے کی کوشش میں اس کے گرد ایندھن کا ڈھیر لگا رہا ہے، کیونکہ اس کی جنگیں، اس کا ظلم، یہودی وجود کی اس کی حمایت اور اس کے جرائم سے چشم پوشی، امت کے وسائل کی لوٹ مار اور اسے غربت و جبر کے تلے دبائے رکھنا،ان سب کے ذریعے وہ خود اپنے ہاتھوں سے دباؤ پیدا کر رہا ہے؛ وہ امت کو اس حد تک تنگ کر رہا ہے کہ وہ یہ سمجھ لے کہ اپنے حالات کو بدلنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

 

لہٰذا جو کچھ مغرب آج کر رہا ہے وہ شاید اسے وہ مقصد حاصل نہ کرنے دے جو وہ چاہتا ہے، بلکہ یہ ان حالات کو سازگار بنا سکتا ہے کہ چنگاری ایندھن سے جا ملے، اور وہ آگ بھڑک اٹھے جس کے وقوع پذیر ہونے سے وہ اپنی پوری زندگی ڈرتا رہا ہے، خاص طور پر جبکہ امت نے آج تمام سیکولر اور قوم پرست منصوبوں کی ناکامی کو سمجھنا شروع کر دیا ہے، اور یہ کہ اس کی حقیقی نجات اس کے اسلامی منصوبے میں ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ کی شریعت کو نافذ کر کے اس کی شان و شوکت اور عزت کو بحال کرے گا، جس سے وہ عدل قائم ہوگا جو سو سال سے زائد عرصے سے غائب تھا۔

===

 

امریکہ کا سورج غروب ہو چکا ہے اور اس کی تاریکی سب پر ظاہر ہو چکی ہے

 

خطے میں ایک علاقائی بلاک بنانے کی امریکہ کی کوشش ان شاء اللہ اسے آئی سی یو (وینٹی لیٹر) میں رکھنے کے وقت کو طول دینے کی ایک ناکام کوشش ہے، کیونکہ وہ سالوں سے آئی سی یو میں ہے۔ چنانچہ اس کے ایجنٹ اور گھٹیا کارندے اسے ایران کے دلدل سے نکالنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں جیسا کہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات اور امنگوں کو کھلم کھلا چیلنج کرتے ہوئے غزة کی نسل کشی میں اس کے لیے اور اس کے پالے ہوئے یہودی وجود کے لیے امداد کے ہاتھ بڑھائے۔

 

ایجنٹوں اور پیروکاروں کا یہی شیوہ ہوتا ہے، وہ مسلم ممالک پر کافر مستعمر مغرب کے تسلط کو برقرار رکھنے، مسلمانوں کے خون اور ان کے وسائل کو اس تسلط کے ایندھن کے طور پر استعمال کرنے، اور ان کی بیداری، ان کی سابقہ عزت کی طرف واپسی، اور الخلافة الراشدة على منهاج النبوة (منہاجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ) کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز کرنے کو روکنے کے لیے ہی وجود میں آئے ہیں۔

 

امریکہ جان لے کہ اس کا سورج غروب ہو چکا ہے اور اس کی تاریکی سب پر عیاں ہو چکی ہے، اور اس دور کے اس کے ایجنٹ اور گھٹیا حکمران (رویبضات) جان لیں کہ اگرچہ وہ امت اسلامیہ کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کی افواج کو خائن، ایجنٹ اور جھکنے والی قیادتوں کے سپرد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،بجز ان کے جن پر میرے رب کا رحم ہو،لیکن وہ یہ جان لیں کہ مسلمانوں کی افواج میں بحمد اللہ ایسے بہت سے مخلص اور پرعزم مجاہدین موجود ہیں جو تمہارے اور تمہیں مسلط کرنے والوں کے رشتے و تعلقات کاٹنے کے منتظر ہیں۔

 

اے لوگوں کے لیے برپا کی گئی بہترین امت کے پاسبانو اور سپاہیو! اپنا ارادہ پختہ کرو اور اس رہنما حزب التحریر کو اپنی نصرت و حمایت فراہم کرو جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتا، تاکہ وہ سو سال کے اس قحط و عسرت کا خاتمہ کر سکے جس میں مسلمان کافر مغرب کے بغض و کینے اور ظلم و ستم کی آگ میں جلتے رہے ہیں، اسے اپنی نصرت دو کیونکہ بخدا اسی میں دنیا و آخرت کی عزت و سربلندی ہے، اور ایسی ہی چیز کے لیے مقابلے کرنے والوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

===

 

Last modified onجمعہ, 25 ستمبر 2026 01:58

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک