الجمعة، 13 ربيع الثاني 1448| 2026/09/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

جہازوں کا تحفظ یا امریکی بالادستی کا تحفظ؟

 

 

تحریر: محمود اللیثی

 

(ترجمہ)

 

اسلامی خطے کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں جاری صلیبی یلغار کے معاملے میں ملوث امریکی ایجنٹ اپنے امریکی آقا کے مقاصد کے حصول کے لیے پوری تندہی اور طاقت کے ساتھ متحرک ہیں۔ ان مقاصد کا اصل مدعا جغرافیائی اور نظریاتی لحاظ سے امتِ مسلمہ اور اس کے وسائل پر قابو مضبوط کرنا ہے، اور ان کامیابیوں کو بنیادی ذریعہ بناتے ہوئے مغربی و مشرقی دنیا ، چاہے وہ یورپی ہوں، چینی ہوں یا ان کے پیچھے کھڑی دیگر قوتیں ، کو اس امریکی معبود کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ہے جو بین الاقوامی موقف پر مکمل اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے، دنیا کی اقوام پر مسلط ہے اور ان کی دولت و وسائل کو لوٹ رہا ہے۔

 

جس طرح پاکستان میں امریکہ کے من پسند ایجنٹ ، یعنی وہاں کی سیاسی و عسکری قیادت ، انقرہ کے منافق کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہی ہے تاکہ آلِ سعود کی ریاست کے ساتھ قائم کردہ اتحاد کے ذریعے دونوں ملکوں میں امت کی فوجی صلاحیتوں کو دنیا کو امریکی معبود کے سامنے سرنگوں کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے، بالکل اسی طرح مصر کا حکمران ٹولہ بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے کسی طور کم تیار نہ تھا۔ مصر کے حکمران ٹولے کی تاریخ اللہ سبحانہ وتعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے ساتھ خیانت، ان سے دشمنی اور یہودیوں و عیسائیوں میں سے کافروں سے وفاداری کی وجہ سے معروف ہے؛ قاہرۂ المعز سے محض چند میٹر کے فاصلے پر واقع غزة ہاشم کے مظلوموں سے خیانت اور انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دینا اسی خیانت کی ایک واضح مثال ہے۔

 

اسی پس منظر میں سعودی "قصاب" ابن سلمان نے 15 ستمبر 2026 کو اپنے ہم منصب سیسی کا دورہ کیا۔ قاہرہ میں اپنی گفتگو کے دوران اس نے بحری سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور بحرِ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ مصری صدارت کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سیسی اور ابن سلمان نے "آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور بحرِ احمر میں بحری جہاز رانی کی آزادی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے سے متعلق مشترکہ مصری-سعودی موقف" کا اعادہ کیا۔ سیسی نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی سیکیورٹی مصر کی قومی سیکیورٹی کا لاینفک حصہ ہے، اور قاہرہ نے "مملکت" کی خودمختاری، استحکام یا علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بحری راہداریوں میں جہاز رانی کی آزادی کو نشانہ بنانے والے کسی بھی حملے یا دھمکی کی مذمت کی۔ دونوں فریقین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ علاقائی حالات دونوں ممالک کے درمیان مزید یکجہتی اور ہماہنگی کے تقاضا کرتے ہیں، ایسے وقت میں جب خطہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا شکار ہے جو تجارتی راستوں اور توانائ کی فراہمی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو اکٹھا کرنے والی چیز اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ ان جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے جو امت کی دولت لوٹتے ہیں اور اسے مغرب میں موجود اپنے استعماری آقاؤں کو برآمد کرتے ہیں ، یا دوسرے الفاظ میں، بحران کو اس انداز میں سنبھالا جائے جو ان کے واحد آقا یعنی  امریکہ کے مفادات کی خدمت کرتا ہو۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حوثی باب المندب سے امریکی جہازوں ، اور صرف امریکی جہازوں ، کو گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں، جس کی بنیاد حوثیوں اور امریکہ کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والا ایک معاہدہ ہے جو امریکی جہازوں کو بحرِ احمر میں جہاز رانی کی آزادی اور آبنائے سے گزرنے کا حق دیتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ دونوں فریق غیر امریکی جہازوں کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ جس طرح امریکہ نے کبھی ایران کو ہوا بنا کر اپنے ساتھ کھڑی خلیجی ریاستوں اور برطانیوں دونوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، بالکل اسی طرح اب وہ جنگی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری دنیا کو ، بشمول یورپ، چین اور ان کے اثر و رسوخ کے شعبوں کو ، بلیک میل کر رہا ہے۔ یہ سب ایسے پس منظر میں ہو رہا ہے جہاں روس یوکرین میں الجھا ہوا ہے اور چین کے ساتھ اتحاد یا یورپ کے ساتھ مصالحت کے لیے اس کے پاس کوئی سیاسی افق موجود نہیں ہے۔

 

اس تناظر میں سیسی نے مصر کی جانب سے ان اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا جو سعودی عرب اپنی سیکیورٹی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھا رہا ہے ، جس کا عملی مطلب خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ اس میں حوثیوں کے خلاف دشمنی اور کھلی جنگ کا ڈرامہ رچاتے ہوئے ان کے مخالفین ، یعنی یمن میں برطانوی ایجنٹوں ، کو نشانہ بنانے اور ان پر بمباری کرنے کے ذریعے حوثیوں کو طاقتور بنانا بھی شامل ہے۔ یہی وہ پالیسی ہے جس نے حال ہی میں حوثیوں کو اہم پیشرفت حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے؛ چنانچہ گزشتہ ہفتے انہوں نے بحرِ احمر اور آبنائے باب المندب پر واقع یمن کے مغربی ساحل کے حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ سعودی عرب کے اقدامات کی سیسی کی جانب سے توثیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ ایک ایسے آپریشن میں شامل ہونے کے لیے تیار اور حامی ہیں جس میں وسطی اور جنوبی یمن میں برطانوی ایجنٹوں کے بقایا جات کا خاتمہ کرنے کے لیے مصر کی فوج ، کے ساتھ ساتھ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج ، کی تعیناتی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کا حتمی مقصد بعد میں خود حوثیوں کا خاتمہ کرنا اور برطانوی اثر و رسوخ اور ایرانی سرپرستی میں قائم حوثی اثر و رسوخ دونوں کے ملبے پر کسی یمنی "کرزئی" کو مسلط کرنا ہوگا۔

 

لہٰذا پاکستان، الحجاز، مصرِ کنانہ اور ترکیہ میں ٹرمپ کے ان غلام ایجنٹوں کو اکھاڑ پھینکنے کا فرض ایسا واجب ہے جس کے برابر کوئی دوسرا واجب نہیں، اور اسے نظر انداز کرنا یا کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جانا، خواہ اس میں کتنی ہی بھلائی کیوں نہ سمجھی جائے، میدانِ جنگ سے فرار ہونے کے گناہ سے بھی بڑا جرم ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:

 

 

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

 

"پس ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کہیں ان پر کوئی آزمائش نہ آ پڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے"۔ (سورۃ النور:آیت 63)

 

میگزین الرایہ کے لیے تحریر کردہ، شمارہ 618، محمود اللیثی

  ولایہ مصر  میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

Last modified onجمعہ, 25 ستمبر 2026 01:35

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک