بسم الله الرحمن الرحيم
جمہوری انتخابات: ایک فرسودہ اور ناکارہ فارمولا
لوگوں کو غافل اور بے ہوش رکھنے کے لیے ہے ان کے حالات میں کوئی سدھار لانے کے لیے نہیں
تحریر: استد محمد عبد اللہ
(ترجمہ)
حکومت، سیاسی جماعتیں اور ان کے ذیلی ادارے ستمبر 2026 کے قانون ساز انتخابات میں لوگوں کو حصہ لینے پر اکسانے کے لیے ایک منظم مہم چلا رہے ہیں۔ عام طور پر انتخابات میں عوام کی شمولیت کو ریاست کے اداروں پر ان کے اعتماد اور مجموعی طور پر نظام کے جواز کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اس تناسب کو ہر قیمت پر بلند رکھنے کی سعی کرتی ہیں تاکہ اندرون و بیرونِ ملک یہ باور کرایا جا سکے کہ نظام مستحکم اور قائم و دائم ہے، اور اگر کبھی عوام کی مخالفت شدت اختیار بھی کر لے تو وہ صرف چند افراد یا جماعتوں کے خلاف ہے، نظام کی بنیادوں کے خلاف نہیں۔ تاہم، زیادہ تر عرب ممالک میں ووٹنگ کی شرح کا جائزہ لینے والا ہر شخص یہ بات واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ ہر نئے انتخابی موسم کے ساتھ یہ تناسب کس طرح مسلسل گرتا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر مراکش میں حکومت اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے حیلے بہانوں سے کام لیتی ہے، اور حساب کتاب کے طریقہ کار میں ہیرا پھیری کرتی ہے تاکہ معاملے کی سنگینی کو کم کر کے دکھایا جا سکے۔ وہ ووٹنگ کا تناسب صرف رجسٹرڈ ووٹروں کی بنیاد پر شمار کرتی ہے اور ان افراد کو سرے سے شامل ہی نہیں کرتی جو ووٹ کا حق رکھنے کے باوجود رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئے۔ چنانچہ 2021 کے انتخابات میں، ووٹ کے اہل افراد میں سے صرف 69 فیصد لوگ رجسٹرڈ تھے، جبکہ 1991 میں یہ تناسب 86 فیصد تھا؛ یعنی متعلقہ عوام کی ایک تہائی تعداد نے ابتدائی مرحلے ہی میں رجسٹریشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اب اگر ہم یہ دیکھیں کہ رجسٹرڈ افراد میں سے ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 50.35 فیصد رہی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹ کا حق رکھنے والے تمام لوگوں میں سے عملًا حصہ لینے والوں کا تناسب صرف 34.5 فیصد (50% 69% = 34.5%) بنتا ہے۔ اس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ دو تہائی عوام نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔ پھر اگر ہم اس میں مسترد شدہ ووٹوں کی 13.6 فیصد شرح کو بھی شامل کر لیں، تو شمار میں آنے والے درست ووٹوں کا تناسب 30.1 فیصد سے زیادہ نہیں بنتا۔
بالکل یہی صورتحال الجزائر میں بھی ہے، جہاں ووٹ کی عمر کو پہنچنے والی آبادی میں سے درست ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب 1991 میں تقریباً 70.7 فیصد تھا، جو ڈرامائی طور پر گر کر 2021 میں صرف 16 فیصد اور 2026 کے انتخابات میں 17 فیصد رہ گیا۔
جہاں تک تیونس کا تعلق ہے تو وہاں حالات اس سے بھی کہیں زیادہ ابتر ہیں، جہاں عوام کی شمولیت کا تناسب تیزی سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا؛ چنانچہ یہ شرح 2014 میں 67.7 فیصد سے گر کر 2019 میں 41.7 فیصد اور پھر 2022 میں محض 11.2 فیصد پر آ گئی۔
حاصلِ کلام یہ کہ عمومی عوامی مزاج ان انتخابات کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں اپنے حالات پر اثر انداز سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ان میں حصہ لینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ رہے وہ لوگ جو عوام کو انتخابات میں حصہ لینے پر اکساتے ہیں اور ووٹ نہ دینے یا بائیکاٹ کرنے والوں کو ملامت کرتے ہیں، تو ان کی رائے چند مفروضات اور نظریات پر مبنی ہوتی ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:
۱- انتخابات میں عدمِ شمولیت دراصل عمومی و قومی امور اور مطلوبہ تبدیلی کی کوششوں سے دستبرداری کے مترادف ہے، اور یہ رویہ کسی ایسے شخص کو ہرگز زیب نہیں دیتا جو عوام کے مفادات کا خیرخواہ ہو۔
۲- عمومی امور میں شمولیت کا واحد ذریعہ قانون ساز انتخابات ہی ہیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والے مرحلے میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کے انتخاب کا باعث بنتا ہے۔
۳- انتخابات میں حصہ نہ لینا اور کسی باصلاحیت و موزوں ترین شخص کے انتخاب کے حق کو ضائع کرنا، بدعنوان اور موقع پرست عناصر کی آمد کا راستہ کھول دیتا ہے جو حالات کو مزید ابتر کر دیں گے۔
۴- قانون ساز انتخابات اصلاح کے لیے ایک موقع اور راستہ ہیں؛ ممکن ہے کہ یہ کوئی مثالی اور سب سے کارگر حل نہ ہوں، لیکن اس سے فائدہ اٹھانے اور عوام کے کچھ نہ کچھ مفادات حاصل کر لینے میں کیا مانع ہے؟ اور یہ تو طے شدہ اصول ہے کہ 'جو چیز پوری نہ مل سکے، اسے مکمل طور پر ترک بھی نہیں کیا جاتا'!
اور ان نکات کا جواب درج ذیل ہے:
1- عملی اعتبار سے انتخابات تبدیلی کے متعدد طریقوں میں سے صرف ایک طریقہ ہیں، اور کسی ایک راستے کو اختیار نہ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوسرا راستہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔
2- عمومی و قومی امور میں شمولیت، عوام کے مفادات کی ترجمانی اور ان کے حقوق کا مطالبہ ایک روزمرہ کا کام ہے، نہ کہ کوئی موسمی سرگرمی کہ انسان چند سالوں میں صرف ایک بار اس میں مشغول ہو۔
3- قومی و عمومی امور میں شرکت کی شروعات عوام کے مسائل کو سمجھنے، ان کے بنیادی اسباب اور ظاہری علامات میں فرق کرنے، ان مسائل کے ذمہ دار کی نشاندہی کرنے، اور ایک درست متبادل کا مطالعہ کرنے سے ہوتی ہے؛ جس کے بعد مؤثر حل کی فکر کی جاتی ہے اور عارضی پیوند کاری سے گریز کیا جاتا ہے، نیز اس بات سے بھی ہوشیار رہا جاتا ہے کہ حالات کے دباؤ میں آ کر پیش کردہ حل کی افادیت کو دیکھے بغیر اسے قبول نہ کر لیا جائے۔
4- جو شخص لوگوں کے سامنے یہ تصویر پیش کرتا ہے کہ چند سالوں میں صرف ایک بار ڈبے (بیلٹ باکس) میں ایک بے مایہ کاغذ کا ٹکڑا ڈال دینا عوام کے مفادات کی نگہداشت کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جانا ہے، وہی دراصل پرفریب اور مکار انسان ہے؛ نہ کہ وہ شخص جو لوگوں کو اپنے حالات پر غور و فکر کرنے اور بے شعوری کی حالت میں ہانکے جانے سے بچنے کی دعوت دیتا ہے۔
5- انتخابات کے اس طریقہ کار کو بار بار آزمایا جا چکا ہے، نہ صرف مراکش میں بلکہ دیگر متعدد ممالک میں بھی، تو آخر اس کا کیا نتیجہ نکلا؟! تہذیبی و تمدنی ترقی کہاں ہے؟! اور کہاں ہے احتساب؟! کیا بدعنوانی کی روک تھام کی جا سکی؟! کیا احتساب کے عمل سے کبھی کسی ذمہ دار کو اس کے عہدے سے ہٹایا گیا؟! کیا حکومتوں نے عوام کی نبض اور رائے عامہ کی صدا پر کوئی کان دھرے؟! یا پھر ہر نئے انتخابی موسم کے بعد ناکامی و مایوسی، بدعنوانی کی جڑوں کو مزید مضبوط و جابر بنانے، اور ظالمانہ و بے جا قوانین وضع کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا؟! یہ انتخابات اپنے سے پہلے کے انتخابات سے آخر کس بات میں مختلف ہیں، جبکہ سطحی پن وہی کا وہی ہے، بے ہودگی وہی کی وہی ہے، اور پردے کے پیچھے—بلکہ پردے کے سامنے—سے تمام معاملات پر پہلے سے طے شدہ کنٹرول بھی وہی کا وہی ہے؟! انہی تمام تر عوامل کے ساتھ ایک ہی تجربے کو بار بار دہرانا اور پھر مختلف نتائج کی توقع رکھنا نری حماقت ہے۔
6- حالات کی خرابی صرف افراد کی بدعنوانی کا نتیجہ نہیں ہے،اگرچہ اس کا بھی اس میں ایک کردار ہوتا ہے،بلکہ یہ بنیادی طور پر پورے نظام کی خرابی اور ان فاسد بنیادوں کا نتیجہ ہے جن پر یہ نظام قائم ہے۔ یہ بنیادیں نہ تو قابلِ بحث ہیں اور نہ ہی سرے سے حکومت یا منتخب نمائندوں کے اختیارات میں شامل ہیں۔ چنانچہ انتخابات اور ان کے نتائج اس معاملے میں کچھ بھی تبدیل نہیں کر سکتے۔ اور یہاں ہم یہ سوال پوچھتے ہیں: کسی سود خور بینک، شراب خانے یا فحاشی کے اڈے پر کسی دلاور اور باکردار مینیجر کو تعینات کرنے کا کیا فائدہ؟ فاسد اداروں کی سربراہی پر نیک اور صالح لوگوں کو بٹھانا، جبکہ ان کے اختیارات کو محدود کر دیا جائے اور انہیں فساد کے اصل مراکز اور سرغنوں تک پہنچنے سے روک دیا جائے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان فاسد اداروں کی عمر میں اضافہ کیا جائے اور لوگوں کو امید کی جھوٹی خوراکیں دے کر بے ہوش و غافل رکھا جائے۔
7- قانون ساز انتخابات دراصل ایسے افراد کے انتخاب کا نام ہیں جو اپنے ووٹروں کے وکالت نامے کے تحت اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ دیگر قوانین وضع کرتے ہیں، اسی لیے یہ حرام ہیں؛ کیونکہ جو کام وکالت کرنے والے (وکیل) کے لیے حرام ہے، وہی کام موکل (اصل شخص) کے لیے بھی حرام ہے، اور حرام کام کی وکالت کرنا بذاتِ خود حرام ہے۔
8- جو شخص قومی و عمومی امور میں کام کرنے اور لوگوں کے حالات کی اصلاح کا ارادہ رکھتا ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ لوگوں کے امور رب العالمین کے منہج و طریقہ کار کے بغیر ہرگز نہیں سدھر سکتے؛ کیونکہ جس ذات نے انہیں پیدا کیا ہے، وہی ان کی بہتری اور ان کے نفع و نقصان کو سب سے بہتر جانتی ہے۔ لہٰذا جو اس منہج کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ ان مخلص اور باہم شعور رکھنے والے لوگوں کی تلاش کرے جو عوام کی حالت سنوارنے کے لیے سچی جدوجہد کر رہے ہیں، اور وہ ان کے ساتھ خود کو ثابت قدم رکھے اور ان کی کشتی میں سوار ہو جائے خواہ وہ کشتی آج خشک زمین پر ہی کیوں نہ کھڑی ہو، کیونکہ جب ظلم و تاریکی کی موجیں آپس میں ٹکرائیں گی تو نجات اسی کشتی میں ہے۔
اور آخر میں ہم لوگوں سے یہی کہتے ہیں: اگر ان انتخابات کے ذریعے تمہارے حقوق ان لوگوں کی جیبوں سے واپس نکل سکتے جو تمہارے بچوں کا رزق لوٹتے ہیں، تو یہ انتخابات کبھی منعقد ہی نہ کیے جاتے اور نہ ہی تمہیں ان کی طرف بلایا جاتا۔ یہ تو بس ایک چکر ہے، تم اپنے لیے تیار کردہ ڈبے میں وہ کاغذ کا ٹکڑا ڈالتے ہو، اور پھر بغیر کچھ حاصل کیے اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہو؛ چنانچہ وہ انہی پرچوں کے ذریعے جنہیں چاہتے ہیں حکومت تک پہنچا دیتے ہیں، تاکہ ملک ان کے لیے ایک لذیذ اور آسان لقمی بنا رہے، جبکہ تم مسلسل پانچ سال تک مشقت اٹھاتے رہتے ہو۔ پھر جب ان کی غرض پوری ہو جاتی ہے اور اگلا انتخابی موسم آتا ہے، تو تمہیں دوبارہ بلایا جاتا ہے، اور تمہیں وہ وعدے اور امیدیں سنائی جاتی ہیں جنہیں تم سننا چاہتے ہو، پھر تم ایک اور پرچی ڈال دیتے ہو، اور یہی سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ تمہاریاں عمریں، تمہاری روزی، تمہاری تواناائیاں اور تمہاری نسلوں کی محنتیں اسی میں ضائع و ختم ہو جاتی ہیں۔
بے شک حقیقی تبدیلی کا راستہ بالکل واضح اور معروف ہے ہر اس شخص کے لیے جو واقعی اس کا خواہا ہو، اور تمہارے لیے جو راستے کھولے گئے ہیں ان پر چلنا اگرچہ آسان اور بغیر کسی قیمت کے ہو سکتا ہے لیکن وہ کبھی کسی خیر تک نہیں پہنچاتا۔ پس تم خود فیصلہ کر لو: ایک ایسا آسان راستہ جو منزل تک نہیں پہنچاتا، یا وہ راستہ جو بلا شک و شبہ منزل تک پہنچانے والا ہے جس کی رہنمائی رب العزت نے فرمائی ہے، جس میں سراسر خیر، دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی ہے؟ یہ سچ ہے کہ اس راستے میں مشقت ہو سکتی ہے، لیکن اس کی ہر مشقت پر اجر ملتا ہے، بلکہ اجر تو ہوتا ہی مشقت کے بقدر ہے۔




