الجمعة، 13 ربيع الثاني 1448| 2026/09/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

آنے والےمرحلے کے لیے ترکی کا طے شدہ کردار

 

 

تحریر: استاد فواد حامد ایوب

 

(ترجمہ)

 

نیوز ویب سائٹ "ایکسیوس" (Axios) نے شائع کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی (نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی) کی تفصیلات جاری کی ہیں، جو 33 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز ہے، جس میں متعدد امور اور خاص طور پر اسلامی ممالک پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی اس دلچسپی کی بنیادی وجہ اس کی جغرافیائی اہمیت اور منفرد جیو پولیٹیکل موقع و محل ہے۔ اس حکمت عملی میں مشرقِ وسطیٰ کے فائل کے لیے دو صفحات مختص کیے گئے ہیں، جن میں جاری تنازعات کے سایہ تلے خطے کے مستقبل کے بارے میں امریکی وژن اور ایران کے خلاف جنگ کے بعد کے مرحلے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی ازسرِنو تشکیل کے لیے امریکی رجحانات کی نوعیت کو بیان کیا گیا ہے۔ نئے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی حکمت عملی (یا جسے علاقائی جنگ کے بعد کے منصوبے کہا جاتا ہے) کے بنیادی نکات ایسے اہم اسٹریٹجک ستونوں کے گرد گھومتے ہیں جن کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ خطے میں سیکیورٹی اور سیاسی اتحادوں کی ازسرِنو تشکیل کی کوشش کر رہی ہے، جیسا کہ خطے میں ایران کو لگام دینے یا اس کے اثر و رسوخ کو کنٹرول کرنے کے لیے مشترکہ دفاع کے مکہ معاہدے جیسا ایک عبرت ناک علاقائی اتحاد قائم کرنا، آبی گزرگاہوں اور توانائی کے راستوں کو محفوظ بنانا، امریکی وژن کے مطابق غزہ کے معاملے کو حل کرنا، ابراہیمی معاہدات کی توسیع اور یہودی وجود اور اس کی سیکیورٹی کے ساتھ تعلقات کو استوار  کرنا، اقتصادی و تکنیکی انضمام، اور دفاعی اخراجات کی بنیاد پر نیٹو کی ازسرِنو ساخت سازی (یعنی شرکت کے عوض ادائیگی)، اس کے ساتھ ساتھ چین کا معاملہ شامل ہے۔

 

مختصر ترین الفاظ میں، یہ مشرقِ وسطیٰ کے اس خطے کی ازسرِنو تشکیل ہے جو دنیا کے دل میں تین براعظموں: ایشیا، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے، اور عالمی توانائی کی منڈیوں کا بنیادی مرکز تسلیم کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ زبردست فوسل فیول (حفراتی ایندھن) اور قابلِ تجدید توانائی کے عظیم امکانات کا ایک منفرد امتزاج رکھتا ہے، اور اس کی آبادی 469 ملین (46 کروڑ 90 لاکھ) نفوس پر مشتمل ہے۔

 

اور یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ: کیا امریکہ، تمام تر موجودہ چیلنجوں کے باوجود، کسی ایسے درمیانی یا علاقائی حلیف کے بغیر جو اس کے لیے طوقِ نجات بنے، اور تمام حریف فریقوں کو الگ تھلگ کیے بغیر، اکیلے اور براہِ راست مشرقِ وسطیٰ کی یہ ازسرِنو تشکیل کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ نیا-پرانا استعماری منصوبہ کامیاب ہو سکے گا؟

 

بالخصوص ترکی ہی کیوں؟

 

مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر ترکی کے موقع و محل کا تعلق ہے، تو ترکی قدیم دنیا کے براعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے ایک ایسا منفرد جیو پولیٹیکل موقع فراہم کرتا ہے جو اسے مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل اور حیاتیاتی گزرگاہ بناتا ہے۔ اور ترکی کی جیو پولیٹیکل اہمیت درج ذیل پہلوؤں میں مضمر ہے:

 

       ·          یہ دنیا کے ایسے مقام پر واقع ہے جو اسے آبی آبناؤں جیسے شمال میں بحیرہ اسود (Black Sea)، مغرب میں آبنائے باسفورس اور بحیرہ ایجیئن (Aegean Sea)، اور جنوب میں بحیرہ روم (Mediterranean Sea) پر کنٹرول فراہم کرتا ہے۔

       ·          یہ توانائی کی سیکیورٹی کے مرکز کی شکل اختیار کرتا ہے، کیونکہ یہ کیسپین سی (بحرِ قزوین) اور وسطی ایشیا سے یورپ تک TANAP اور TurkStream جیسے اسٹریٹجک پائپ لائنوں کے ذریعے گیس اور تیل کی منتقلی کی بنیادی گزرگاہ شمار ہوتا ہے۔

       ·          اسے تجارتی گٹھ (درمیانی راہداری / Middle Corridor) تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ قدیم شاہراہِ ریشم اور نقل و حمل کے منصوبوں جیسے زنگیزور راہداری (Zangezur Corridor) اور ڈویلپمنٹ روڈ (Development Road) کے ذریعے ایشیا کو یورپ سے جوڑتا ہے، تاکہ یہ ایک عالمی تجارتی مرکز بن سکے۔

       ·          نیٹو (NATO) میں فوجی طاقت، کیونکہ یہ نیٹو اتحاد میں دوسری سب سے بڑی فوج اور واحد اسلامی ملک پر مشتمل ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں اس کے سیکیورٹی کردار کو مضبوط بناتا ہے۔

       ·          علاقائی اور ثقافتی گہرائی، کیونکہ یہ ترک ریاستوں کی تنظیم (Organization of Turkic States) کے ذریعے وسطی ایشیا کے ممالک اور اپنے اسلامی و مشرقِ وسطیٰ کے ماحول کے ساتھ مضبوط روابط رکھتا ہے۔

       ·          یہ زراعت اور خوراک کے شعبے میں بڑی حد تک خودکفیل شمار ہوتا ہے، اور زرعی پیداوار میں یورپ میں پہلے اور عالمی سطح پر آٹھویں نمبر پر ہے، اور سینکڑوں قسم کی فصلیں پیدا کرتا ہے، یعنی یہ عالمی غذائی تحفظ میں سلامتی کا ضامن (سیفٹی والو) ہے۔

       ·          خطے میں رچی بسی تاریخی اور اسلامی گہرائی، کیونکہ یہ 624 سال تک خلافتِ عثمانیہ کا دارالحکومت رہا ہے، جبکہ 1683ء میں اپنے عروج کے وقت عثمانی سلطنت کا رقبہ تقریباً 5.2 سے 5.5 ملین مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ اس طرح اگر صحیح سیاسی ارادے کی شرط موجود ہو، تو یہ ایک حقیقی ریاست کے تمام لوازمات رکھتا ہے۔

       ·          قدرتی وسائل جیسے معدنیات وغیرہ کا زبردست تنوع اور فراوانی، جن سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سرزمین کو نوازا ہے۔

       ·          مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں جن کا تخمینہ 3 ہزار ارب (3 ٹریلین) مکعب میٹر سے زائد لگایا گیا ہے۔

       ·          بحیرہ روم کی تہہ میں تیل کی بڑی مقداریں موجود ہیں۔

 

آنے والے مرحلے کے لیے ترکی کا طے شدہ کردار محض علاقائی نہیں بلکہ ایک مرکزی کردار ہے:

 

جیسا کہ دانا قارئین اور سیاسی محققین دیکھ سکتے ہیں، یہ جیو پولیٹیکل حقائق امریکہ کی اشتہا کو بڑھاتے ہیں، اور یہی وہ چیز ہے جس نے اسے مجبور کیا کہ وہ زیادہ تر حساس اور پیچیدہ فائلوں،عراق، سوریا، لبنان، لیبیا، ایران، روس/یوکرین، قبرص، غزہ، بلکہ خلیج کے خطے،میں خطے کے اندر وکالت (پراکسی) کے ذریعے اپنی پالیسی کو نافذ کرنے کا کام ترکی کے سپرد کرے۔

 

أردوغان ربع صدی سے زائد عرصے سے حکومت کر رہے ہیں اور انہوں نے ماضی میں بھی امریکی مفادات کی خدمت میں ان فائلوں کے ساتھ معاملہ کیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس بار وہ امریکی وژن کے مطابق خطے کی ازسرِنو تشکیل کے لیے ایک علاقائی کردار سے بڑھ کر ایک مرکزی کردار ادا کریں گے۔ بالفاظِ دیگر، أردوغان آئندہ مرحلے کے لیے اپنے طے شدہ امریکی پالیسی کے وژن کو دو متوازی خطوط،سیاسی اور عوامی،پر نافذ کر رہے ہیں؛ سیاسی سطح پر وہ مشرقِ وسطیٰ کو امریکی سانچے میں ڈھالنے (امرکہ) کے لیے کام کر رہے ہیں، بالخصوص توانائی اور اس کی پیداوار اور مارکیٹنگ پر کنٹرول کی سطح پر، اور "ڈویلپمنٹ روڈ"  کا منصوبہ ہم سے بعید نہیں ہے، جو ایک ایسا اسٹریٹجک زمینی اور ریلوے راہداری ہے جو جنوبی عراق میں الفاؤ پورٹ  کو ترکی کی سرحد سے جوڑتا ہے اور یورپ تک پہنچتا ہے، اور اس کا مقصد عراق اور ترکی کو سپلائی چینز کے عالمی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے!

 

رہا عوامی سطح کا معاملہ، تو خطے میں "أردوغانیت"  کے روپ میں ترکی کے اثر و رسوخ میں اضافہ،ان تمام اسلامی رجحانات اور تطلعات کے ساتھ جو عوام کی تاریخی یادداشت میں محفوظ ہیں،عوامی سطح پر اس تاثر کے طور پر ابھرتا ہے کہ یہ اسلام مخالف کمالیت کے خلاف ایک لہر ہے۔ اور یہی ظاہر اپنے اندر ایک زبردست جوش و خروش پیدا کرتا ہے جسے عام لوگ خطے کی "عثمانیت"  سمجھتے ہیں نہ کہ اس کے برعکس۔ سیاست کے بنیادی اصولوں میں سے یہ بات ہر خاص و عام کو معلوم ہونی چاہیے کہ اسلامی ممالک کی تمام حکمران سیاسی اشرافیہ، بشمول أردوغان اور ان کی پارٹی (جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی )، سیاسی طور پر اسلام کے مطابق نہیں سوچتے، بلکہ اسی طرح سوچتے ہیں جیسا کہ مغرب ان سے چاہتا ہے؛ چنانچہ ان کی سیاسی فکر اور سیاسی نتائج امریکی منصوبوں کی تکمیل ہیں، نہ کہ مسلمانوں کے امور کی نگہداشت۔

 

امریکہ ہمارے ساتھ صرف طاقت اور اثر و رسوخ کے نقطہ نظر سے معاملہ کرتا ہے، اور اقدار، اخلاقیات اور نظریاتی خصوصیات کا بالکل لحاظ نہیں رکھتا، لیکن وہ یہ بھول گیا ہے یا خود کو بھلا چکا ہے کہ ایران پر اپنی جنگ سے پہلے کا امریکہ، اس کے بعد کا امریکہ نہیں رہا۔ وہ آج معاشی، اخلاقی اور سیاسی طور پر شدید اندرونی بحرانوں کا شکار ہے؛ چنانچہ جس سیاسی رعب و دبدبے کو اس نے قائم کیا تھا اور ایک طویل عرصے تک جس کے ذریعے اپنی حفاظت کی تھی، وہ غزہ میں یہودی جنگ کے دوران، جسے اس نے خود چلایا تھا، خاک میں مل چکا ہے، اور جس "اخلاقی ماڈل" کا وہ ڈھنڈورا پیٹا کرتا تھا، اب دنیا کی اقوام میں اس کی کوئی پذیرائی نہیں رہی۔ نسل کشی کی اس جنگ نے انسانی حقوق، حقوقِ نسواں اور دیگر تمام مغربی اقدار کا پردہ چاک کر دیا ہے، یوں سچائی دور و نزدیک کے تمام لوگوں پر عیاں ہو چکی ہے۔

 

امریکہ اسلامی ممالک کے لیے جو منصوبے بنا رہا ہے، انہیں طویل المدت بنیادوں پر کامیابی نصیب نہیں ہوگی، کیونکہ بے راہ روی اور تنزلی ایک ایسی واضح حالت ہے جسے سیاسی تجزیہ کار دیکھ سکتے ہیں، اور اسلامی اقوام کی پختگی اور اسلام کے لیے ان کی تشنہ کامی کافرِ مستعمر کے لیے ایک ایسی دشوار گزار اور ناقابلِ تسخیر رکاوٹ ہے۔

 

لبرل ڈیموکریسی کا بحران اور روایتی ڈھانچوں سے ہٹ کر نظامِ حکومت کے متبادل ماڈلز کی تلاش کی رفتار مغرب کے فلسفیوں اور سیاسی مصنفین کے ہاں حالیہ برسوں میں تیز تر ہو چکی ہے۔ جی ہاں، میں امریکہ سے اس بات پر اتفاق کرتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ ایک بنیادی اسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل تبدیلی کی دہلیز پر ہے، لیکن یہ تبدیلی امریکی پیمانے کے مطابق نہیں ہوگی، بلکہ اپنے صحیح عقیدے، روشن شریعت اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے ساتھ اسلامِ عظیم کے پیمانے کے مطابق ہوگی، جس کی بشارت صادق و امین نبی کریم ﷺ نے دی تھی۔ اور اس تبدیلی سے ہمارے درمیان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ حسنِ ظن اور اس پر بہترین توکل کے سوا کوئی چیز باقی نہیں ہے، اور اس کے بعد ان مخلصین کی جدوجہد باقی ہے جو اپنے نبی ﷺ کے منہج و سیرت کی اقتدا کر یں اور خود کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے وقف کر دی۔

Last modified onجمعہ, 25 ستمبر 2026 01:49

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک