بسم الله الرحمن الرحيم
سیاست دان اور ماہرِ سیاسیات کے درمیان فرق
تحریر: استاد اسلام ابو خلیل – ازبکستان
(ترجمہ)
سیاست دان اور ماہرِ سیاسیات دو قریب کے مفاہیم ہیں، تاہم ان دونوں کا عمل اور کردار ایک جیسا نہیں ہے۔
ماہرِ سیاسیات وہ متخصص ہوتا ہے جو سیاست کا علمی مطالعہ کرتا ہے اور سیاسی واقعات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ وہ ریاستوں، سیاسی نظاموں اور بین الاقوامی تعلقات کا مطالعہ کرتا ہے، واقعات کے اسباب و نتائج کا تجزیہ کرتا ہے، اور پھر نتائج اور سفارشات پیش کرتا ہے۔ اس کے باوجود، ممکن ہے کہ وہ عملی طور پر سیاسی عمل میں حصہ نہ لے۔ اور اگر وہ ایسا مفکر ہو جو اپنے افکار کو عملی حقیقت میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہو، تو وہ سیاسی مفکر بن جاتا ہے۔
جہاں تک سیاست دان کا تعلق ہے، تو وہ وہ شخص ہے جو عملی طور پر سیاست کرتا ہے، معاشرے کے امور کی تدبیر و نگرانی کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے، اور قائم شدہ نظام کی حفاظت کرنے یا اپنے اپنائے ہوئے مبدأ (آیئڈیالوجی) کے مطابق اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ صدر، وزیر، رکنِ پارلیمان، یا کسی بھی سیاسی تحریک کا قائد اسی زمرے میں شمار ہوتا ہے۔
تاہم، حقیقی سیاست دان کی پہچان صرف عہدے سے نہیں ہوتی؛ وہ ایک کسان، تاجر یا کسی بھی دوسرے پیشے سے تعلق رکھنے والا فرد ہو سکتا ہے، اور اس کے باوجود معاشرے کی زندگی اور اس کے سیاسی دھارے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، عہدیداروں میں سے بعض لوگ ایسے سرکاری مناصب پر فائز ہو سکتے ہیں جن کے پاس کوئی آزاد سیاسی ارادہ نہیں ہوتا، اور ان کا کردار محض دوسروں کے فیصلوں پر عمل درآمد تک محدود رہتا ہے۔
معاشرے میں ایک غلط تصور
بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں سیاست کے بارے میں غلط تصورات عام ہو چکے ہیں، جن میں سے مشہور ترین قول یہ ہے: لا ينبغي التدخل في السياسة لأنها عمل فاسد وقذر "سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک فاسد اور گندا کام ہے"۔
اس فہم نے بہت سے لوگوں کو اپنے معاشرے کے امور میں دلچسپی لینے سے دور کر دیا، جس کے نتیجے میں حکومتی نظام امت کی نگرانی اور احتساب سے آزاد ہو گئے، اور لوگ غلط پالیسیوں سے بے پروا ہو گئے۔ اس چیز نے ظلم اور بدنظمی کے تسلسل میں حصہ ڈالا، اور امت کے مسائل کے تئیں ذمہ داری کے احساس کو کمزور کر دیا۔
سیاست کیا ہے؟
سیاست سے مراد اندرونی اور بیرونی امور کی دیکھ بھال (رعایت) ہے۔ لغت میں کہا جاتا ہے: "ساسَ - يَسُوسُ - سِياسَة"، یعنی اس نے تدبیر، انتظام اور دیکھ بھال کی، اور دوسروں کے امور کی ذمہ داری سنبھالی۔ اور کہا جاتا ہے: "ساسَ الخيلَ"، یعنی اس نے گھوڑوں کی دیکھ بھال، تربیت اور رہنمائی کی۔
اسی لغوی معنی سے لفظِ "سیاست" ماخوذ ہے، کیونکہ یہ امور کی دیکھ بھال، ان کے انتظام اور ان کی تنظیم پر دلالت کرتا ہے۔
رسول الله ﷺ سے روایت ہے کہ: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُر» "بنی اسرائیل کے امور کی دیکھ بھال اور قیادت انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے؛ جب بھی کسی نبی کی وفات ہوتی تو دوسرا نبی ان کا جانشین بنتا، اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور عنقریب خلفاء ہوں گے اور ان کی تعداد زیادہ ہوگی"۔ (رواہ البخاری ومسلم)
یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لفظِ سیاست اپنے لغوی اصل میں دیکھ بھال اور انتظام کے معنی رکھتا ہے، پھر بعد میں اسے ایک ایسی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جانے لگا جو ریاست اور معاشرے کے امور کے انتظام پر دلالت کرتی ہے۔ اس حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے لفظ «تَسُوسُهُمْ» استعمال فرمایا، یوں سیاست کا لغوی معنی بیان کر دیا۔ نیز یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ سیاست کوئی فاسد یا گھٹیا کام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم اور شرف والا منصب و فریضہ ہے جسے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام نے انجام دیا۔
قرآنِ کریم میں سیاست
قرآنِ کریم میں لفظِ سیاست اپنے صریح لفظ کے ساتھ وارد نہیں ہوا، لیکن اس کے مفاہیم اور معانی متعدد الفاظ و مفاہیم میں آئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں: حکم (حکمرانی)، امر (معاملہ)، استخلاف (جانشینی)، تمکین (اقتدار)، اور شوریٰ (مشورہ)۔
قال الله تعالى:
﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ﴾
"اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔"( سورة المائدة: آيت 49)
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حکم (حکمرانی و فیصلے) کا ماخذ وہی ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔
وقال تعالى:
﴿يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾
"اے داؤد! ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔" (سورة ص: آيت 26)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عدل ہی وہ بنیادی اصل ہے جس پر حکمرانی کو قائم ہونا چاہیے۔
اسی طرح قرآنِ کریم میں دیگر اصطلاحات بھی وارد ہوئی ہیں جو حکومت اور لوگوں کے امور کی تدبیر کے معنی پر دلالت کرتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
الاستخلاف (جانشینی)، یعنی انسان کو زمین میں خلیفہ بنانا۔ قال الله تعالى:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْض﴾
"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلیفہ (حکمران) بنائے گا۔" (سورة النور: آيت 55)
ان میں سے ایک "تمکین" (اقتدار دینا) بھی ہے، اور اس سے مراد سلطنت و قدرت عطا کرنا ہے۔ قال تعالى:
﴿الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾
"یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور تمام امور کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔" (سورة الحج: آيت 41)
یہ آیت اسلام میں حکمرانی کے فرائض و وظائف کو واضح کرتی ہے، جو کہ یہ ہیں: نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، معروف کا حکم دینا، اور منکر سے روکنا۔ اسی لیے علماء اسے ان اہم ترین آیات میں شمار کرتے ہیں جو اسلام میں اقتدار کے مقصد کو واضح کرتی ہیں؛ کیونکہ حکمرانی کا فریضہ محض نظم و ضبط قائم رکھنا یا معیشت کو چلانا نہیں ہے، بلکہ عدل قائم کرنا اور اللہ سبحانه وتعالى کے احکام کے مطابق معاشرے کے امور کی تدبیر و نگرانی کرنا ہے۔
قرآنی اصطلاحات میں سے ایک "الأمر" (معاملہ) بھی ہے، قال الله تعالى:
﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُم﴾
"اور ان کا معاملہ ان کے باہمی مشورے سے طے ہوتا ہے۔" (سورة الشورى: آيت 38)
اسی لیے یہ بات کہنا کہ إن القرآن لم يذكر الخلافة أو لم يتحدث عنها"قرآن نے خلافت کا ذکر نہیں کیا یا اس کے بارے میں بات نہیں کی" ایک غلط قول ہے؛ کیونکہ سابقہ آیات نے حکمرانی، استخلاف، اور لوگوں کے امور کی تدبیر و نگرانی کے مفاہیم کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔
پش، سیاست محض خبروں کی پیروی ، اخبارات کا مطالعہ، یا واقعات پر تبصرہ کرنے کا نام نہیں ہے،اگرچہ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی ایک سیاست دان کو ضرورت ہوتی ہے،بلکہ اس کی حقیقی صورت یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پر امت کے اندرونی اور بیرونی امور کی دیکھ بھال (رعایت) کی جائے، اور ان نظریات و اصولوں کو عملی زندگی میں قائم کرنے کے لیے جدوجہد کی جائے۔
اسلام میں سیاسی شعور
ایک مسلمان کا سیاسی شعور یہ ہے کہ وہ دنیا اور اس میں رونما ہونے والے جاری واقعات کو عقیدہٴ اسلامی کے زاویہٴ نظر سے دیکھے، یعنی ہر واقعے کا اندازہ "لا إله إلا الله محمد رسول الله" کے ترازو سے لگائے۔
پس اگر انسان اس بات کی کوشش کرے کہ اپنی فکر کو حقیقت کو سمجھنے اور اسے تبدیل کرنے کی بنیاد بنائے، یا زندگی میں اپنے افکار کو غالب کرنے اور معاشرے میں انہیں نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرے، تو وہ سیاست دان ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاست عملی زندگی میں افکار اور نظریات کو قائم کرنے کے عمل اور جدوجہد سے گہرا تعلق رکھتی ہے، وہ محض واقعات کی معرفت یا ان کا تجزیہ کرنے کا نام نہیں ہے۔
خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ ماہرِ سیاسیات سیاست کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کا تجزیہ کرتا ہے، جبکہ سیاست دان وہ شخص ہے جو معاشرے کے امور کی تدبیر و نگرانی یا نظامِ حکومت کی اصلاح کے لیے ایک مخصوص فکر اور پروگرام کے مطابق کام کرتا ہے۔
جہاں تک مسلمان کے سیاسی شعور کا تعلق ہے، تو وہ عقیدہٴ اسلامی کے آئینے میں واقعات کو دیکھنے، اور حق و عدل کے قیام کے لیے احساسِ ذمہ داری میں مجسم ہوتا ہے۔
اسی بنا پر، اسلام میں سیاست کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جو لوگوں کے کسی خاص طبقے کے ساتھ مخصوص ہو، بلکہ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا تعلق امت کے امور کی دیکھ بھال اور اللہ سبحانه وتعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق اس کے مفادات کی حفاظت کرنے سے ہے۔




