بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ دارفور کو الگ کرنے کے لیے فوجی قیادت کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کو ایک سخت ڈنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے
تحریر: شیخ احمد السمانی – ولايہ سوڈان
(ترجمہ)
آن لائن اخبار 'الخلیج' اور 'اسکائی نیوز عربیہ' نے 5 ستمبر 2026ء کو روزنامہ 'واشنگٹن پوسٹ' کی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جو ان دستاویزات کے بارے میں ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوڈانی فوج نے کلورین بموں کا ایک خفیہ ذخیرہ قائم کیا ہے جسے اس نے 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کے خلاف استعمال کیا۔ امریکی اخبار نے ایک تحقیقاتی رپورٹ سے پردہ اٹھایا ہے جو خفیہ دستاویزات پر مبنی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوڈانی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کا ایک خفیہ ذخیرہ تیار کیا اور سوڈان میں جاری تنازع کے دوران کلورین کے استعمال کا سہارا لیا۔ اخبار لکھتا ہے: "یہ ایک ایسا خطرناک موڑ ہے جو پچھلے تین سالوں سے جاری داخلی جنگ کے المیے کو مزید بڑھا رہا ہے، جس نے دنیا کا بدترین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔" اخبار اپنی رپورٹ کو جاری رکھتے ہوئے بتاتا ہے کہ ان فائلوں میں سوڈانی عسکری حکام کی تیار کردہ ایسی دستاویزات شامل ہیں جو دم گھوٹنے والی گیس سے لیس "دوہرے اثر والے" (Dual-Effect) بارود کی طرف اشارہ کرتی ہیں، ساتھ ہی ایسی ویڈیو کلپس بھی ہیں جن میں ہتھیاروں کی آزمائش کے دوران سبز اور زرد رنگ کا دھواں اٹھتے دکھایا گیا ہے، اور سوڈانی عسکری حکام کے درمیان ایسے مراسلے بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ فوج کے پاس 290 کیمیائی بارودی مواد کا ذخیرہ موجود ہے۔
ان فائلوں کی جانچ پڑتال کے دوران روزنامہ 'واشنگٹن پوسٹ' نے 20 سے زائد مغربی انٹیلی جنس حکام، کیمیائی ہتھیاروں کے انسپکٹرز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ماہرین سے مشاورت کی، اور ان تمام افراد نے ان مواد کو کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کی موجودگی کا ایک قابلِ اعتماد ثبوت قرار دیا۔
شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ جب کسی خطے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے، تو وہ عسکری اور سیاسی اقدامات کا ایک مجموعہ بروئے کار لاتا ہے؛ خواہ وہ بحران پیدا کر کے اس کے نتائج کا تعاقب کرنے کے ذریعے ہو، یا ایسے سیاسی اقدامات کے ذریعے جو اس کی استعماری پالیسی کی کامیابی اور ریاستوں کو تباہ کرنے کے لیے قوموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی طرف لے جائیں۔ وہ دنیا کی نمبر ون طاقت کے تخت پر براجمان رہتے ہوئے، دلدل میں پھنسنے والوں کو اسی حال پر چھوڑنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتا،جو درحقیقت خود امریکہ کی ہی پیدا کردہ دلدل ہوتی ہے۔ وہ ان اقدامات کو قانونی جرم قرار دینے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ فرار ہونے کی کوشش کرنے والوں کو مغلوب کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ ڈالتا ہے، جبکہ وہ ہر صورت ان کی نکیل تھامے رکھتا ہے، بالخصوص جب وہ برہان اور حمیدتی کی طرح اس کے وفادار ایجنٹ ہوں۔ چنانچہ وہ ایجنٹوں پر ہی سارے گناہوں کا ملبہ ڈالتا ہے اور ان پر دباؤ ڈالتا ہے تاکہ وہ مزید سرنگوں اور مطیع ہو جائیں!
امریکہ نے گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی سے ہی سوڈان کی تقسیم کے منصوبے کی قیادت کی اور اسے اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا، جب اس نے خرطوم سے نکل کر اسمرہ کا رخ کرنے والی اپوزیشن قوتوں میں گہری دلچسپی لی۔ اپوزیشن نے 1995ء میں اسمرہ میں "فیصلہ کن امور کی کانفرنس" کے عنوان سے اپنا وہ مشہور اجلاس منعقد کیا جس میں حقِ خود ارادیت کے نظریے کو اپنایا گیا۔ چنانچہ اس اتحاد نے اپنی قیادت اس وقت کے باغی قائد اور امریکی ایجنٹ جون قرنگ کے سپرد کر دی، اور امریکہ نے سن 2000ء میں اس اتحاد کو 10 ملین ڈالر فراہم کیے۔
پھر امریکہ نے دہشت گردی کی سرپرستی کے بہانے البشیر حکومت پر اقتصادی پابندیوں کے قانون کے ذریعے دباؤ ڈالا، یہاں تک کہ وہ جنوبی سوڈان کو علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
پھر سوڈانی عوام پر مصائب و آلام کا ایک نیا دور اس وقت شروع ہوا جب فوج نے 2003ء میں دارفور کی اس بغاوت سے نمٹنے کے لیے 'ریپڈ سپورٹ فورسز' بنائی جسے برطانیہ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اس وقت یہ فورس 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کے نام سے نہیں تھی، بلکہ المحامید قبیلے کے سردار موسیٰ ہلال کی قیادت میں 'بارڈر گارڈز' کا حصہ تھی۔ بعد میں 2013ء میں یہی بارڈر گارڈز ترقی پا کر آلِ دقلو ("حمیدتی" اور اس کے بھائیوں) کی قیادت میں 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کی شکل اختیار کر گئے۔
امریکہ دارفور کو الگ کرنے پر نظریں جمائے وقت کے ساتھ دوڑ لگا رہا ہے اور سوڈان میں برطانیہ کے ساتھ اپنی کشمکش میں تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔ چنانچہ جب بھی برطانیہ کوئی سیاسی جال بچھاتا ہے، امریکہ برطانوی اثر و رسوخ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے اس کا مقابلہ کہیں زیادہ حکمت اور مہارت سے کرتا ہے؛ خواہ وہ برطانیہ کا عسکری اثر و رسوخ ہو جو جوبا معاہدے پر دستخط کرنے والی باغی تحریکوں میں نمایاں ہے، یا سیاسی اثر و رسوخ جو سیاسی جماعتوں اور "صمود" بلاک کی شکل میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ سوڈان کے ٹکڑے کرنے میں امریکہ کی ضمناً توثیق ہی کرتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے جنوبی سوڈان کی پہلی بغاوت پیدا کی تھی اور ستمبر 1922ء میں "ممنوعہ علاقوں کا قانون" وضع کیا تھا۔
روزنامہ 'واشنگٹن پوسٹ' کی رپورٹ خواہ سچی ہو یا جھوٹی، ایسی حکومتوں کو پھنسانے میں امریکہ کے ادوار ہمیشہ سے مشکوک رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، تباہ کن مہلک ہتھیاروں کے وجود کے بہانے عراق کو تباہ کرنے میں اس کا کردار، جہاں اس نے بین الاقوامی ماہرین کا ایک کمیشن بنایا اور برطانیہ بھی اسی راستے پر چلا۔ امریکہ نے بش جونیئر اور اس کے وزیرِ خارجہ کولن پاول کی قیادت میں متعدد پریس کانفرنسوں میں میڈیا کے ذریعے یہ جھوٹ بولا کہ عراق کے پاس بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیار موجود ہیں، جبکہ اس کمیشن کو کچھ بھی نہیں ملا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ عراق کو تباہ کرنے کے راستے پر گامزن رہا اور انسانی حقوق، عالمی اداروں اور ریاستوں کی خودمختاری و عدمِ تجاوز کا نعرہ لگانے والی بین الاقوامی تنظیموں کے دور میں ایک ناپاک جنگ چھیڑی۔ اسی طرح کا کردار امریکہ نے اپنے ایجنٹ بشار الاسد کے معاملے میں بھی دکھایا؛ جب اس نے اہل سُوریہ (شام کے عوام) کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا اور انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے اپنا پورا عسکری زور لگا دیا۔ امریکہ ہی نے انقلابیوں کو کچلنے کے لیے روس، ایران، اس کی لبنانی پارٹی (حزب اللہ) اور ترکی کو جنگ میں جھونکا اور بشار کے تمام تر جرائم کے باوجود اس کا دفاع کیا۔ لیکن جیسے ہی اس نے اگلے مرحلے کے لیے الجولانی کو تیار کر لیا، تو اس نے بشار الاسد سے ہاتھ کھینچ لیا، بلکہ اس پر اور شامی عوام پر "شہریوں کے تحفظ کے قیصر قانون 2019ء" کے تحت پابندیاں عائد کر دیں جو 2025ء تک برقرار رہیں اور نظام کی گردن پر لٹکتی ہوئی تلوار بنی رہیں۔
اسی طرح وینزویلا کے صدر مادورو کے ساتھ بھی اسی بہانے کا استعمال کیا گیا کہ وہ منشیات کی تجارت کی سرپرستی کر رہا ہے اور اس کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنا رہا ہے؛ جبکہ یہ ایک باطل بہانہ تھا جس کا پردہ خود ٹرمپ نے یہ کہہ کر فاش کر دیا کہ وہ وینزویلا کا تیل چاہتا ہے، نہ کہ امریکہ پر منشیات کا حملہ روکنا، کیونکہ امریکہ تو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت منشیات سے زیادہ بھرا ہوا ہے!
امریکہ قوموں کے خون میں گردن تک ڈوبا ہوا ہے اور دنیا کی نمبر ون طاقت کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے عالمی بحرانوں میں بنیادی حصہ دار ہے، تاکہ وہ سیاسی و عسکری دام اور دباؤ کی پالیسی کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کر سکے۔ اسے اس بات کی ذرہ برابر پروا نہیں کہ انسان بھوکے مر رہے ہیں یا قتل کیے جا رہے ہیں۔
اور سوڈان کے عوام، تمام مسلمانوں اور بالخصوص پوری انسانیت کو نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی، جو اللہ کے اذن سے عنقریب قائم ہونے والی ہے؛ اور اسی مقصد کے لیے عمل کرنے والوں کو جدوجہد کرنی چاہیے۔