Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

برکس: کیا عالمی نظام بدل رہا ہے؟ یا اس کے اندر طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں؟

 

 

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

 

(ترجمہ)

 

12 ستمبر 2026ء کو بھارت میں برکس (BRICS) کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا، جو "نئی دہلی اعلامیے" کی منظوری پر اختتام پذیر ہوا۔ اس اعلامیے میں گروپ نے کثیر الجہتی (multilateralism) کو فروغ دینے، عالمی حکمرانی کے اداروں میں اصلاحات لانے، ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے اور ایک "زیادہ عادلانہ اور منصفانہ" بین الاقوامی نظام کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

ان نتائج نے ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لا کھڑا کیا ہے جو برکس کے قیام کے وقت سے ہی اس کے ساتھ منسلک رہا ہے: کیا یہ مغربی غلبے کو محدود کرنے کا ایک حقیقی ذریعہ ہے، یا پھر یہ متضاد مفادات کا ایسا مجموعہ ہے جو بین الاقوامی نظام کے لیے کوئی متبادل نظریہ رکھے بغیر محض طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے؟

 

برکس: غلبے کا توازن، نہ کہ ایک ہم آہنگ بلاک کی تعمیر

 

سب سے پہلے، اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ برکس کا قیام بنیادی طور پر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو گرانے کے لیے نہیں ہوا تھا۔ "برک" (BRIC) کی اصطلاح 2001ء میں گولڈمین ساکس بنک کے ماہرِ معیشت جِم او نیل نے وضع کی تھی، تاکہ امریکی یک قطبی غلبے کے سایے تلے برازیل، روس، بھارت اور چین کو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے طور پر بیان کیا جا سکے۔ بعد میں یہ اصطلاح سیاسی اور معاشی تعاون کے ایک فریم ورک میں ڈھل گئی؛ چنانچہ اس کے اجلاس 2006ء میں شروع ہوئے، پہلی سربراہی کانفرنس 2009ء میں منعقد ہوئی، اور پھر 2010ء میں جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد اس کا نام "برکس" (BRICS) ہو گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس درجہ بندی نے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر جنم لیا تھا، وہ ایک ایسے اتحاد میں بدل گئی جو اسی نظام کے اندر طاقت کی از سرِ نو تقسیم، مغربی غلبے کو محدود کرنے اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام سے باہر نکلنے یا عالمی معاشی نظام کو منہدم کرنے کا کوئی روڈ میپ پیش کرے۔

 

تاہم، برکس کی توسیع نے اسے زیادہ ہم آہنگ بنانے کے بجائے مزید متضاد بنا دیا ہے۔ بھارت امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری قائم رکھے ہوئے ہے اور اپنے ایشیائی پڑوس میں چین کا مقابلہ کر رہا ہے، جبکہ روس امریکہ کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ سے خائف ہے اور اس کے شعبہ ہائے اثر میں اسے چیلنج کرنے سے گریز کرتا ہے، نیز وہ اس بات کا بھی حریص ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو خود اپنے اوپر غلبے میں نہ بدلنے دے۔ مزید برآں، عرب ممالک اور ایران کی شمولیت نے پیچیدہ علاقائی توازنات اور کشمکش کو جنم دیا ہے۔ ایران کو ایسے حریفوں کا سامنا ہے جن میں سے کچھ کے واشنگٹن کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، جبکہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس نے سربراہی اجلاس میں صرف اپنے وزیرِ خارجہ کی نمائندگی پر اکتفا کیا۔ اس کے باوجود، برکس ان تمام متضاد فریقوں کو ایک چھت تلے جمع کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

 

ان تضادات کی گہرائی گزشتہ مئی میں اس وقت سامنے آئی جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر اختلافات کی بنا پر برکس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہا، اس سے قبل کہ نئی دہلی سربراہی اجلاس ایک ایسا مشترکہ اعلامیہ جاری کر کے اس امتحان سے سرخرو ہوتا جس میں "انتہائی درجے کے ضبطِ نفس"، مکالمے اور سفارت کاری کی اپیل کی گئی۔ اس تناظر میں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی شرکت کوئی معمولی بات نہیں تھی؛ وہ ان ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ بیٹھے جن کے امریکہ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، اور انہوں نے خلیجی ممالک کو اعتماد میں لینے اور مذاکرات کے راستے کھولنے کی کوشش کی، چنانچہ انہوں نے ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات بھی کی۔ برکس کی اصل اہمیت یہی چھپی ہے: یہ ضروری نہیں کہ اپنے ارکان کے تنازعات کو حل کرے، لیکن یہ ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتی ہے جہاں حریف ایک ساتھ بیٹھتے ہیں بغیر اس کے کہ واشنگٹن ان کے بیٹھنے کے قواعد طے کرے۔ یوں مغربی مرکز سے ہٹ کر جوڑ توڑ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی گروپ کی توسیع اس کے اندرونی تضادات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

 

چین: طاقت کے توازن سے ڈھانچے کے کنٹرول تک

 

پھر اگر روس اور چین ایک ایسے عالمی نظام کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جو زیادہ کثیر القطبی (multipolar) ہو، تو چین کے پاس ایک اضافی ہتھیار بھی موجود ہے: صنعتی اور ٹیکنالوجیکل طاقت۔ صدر شی جن پنگ نے سربراہی اجلاس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں صنعتی تعاون کو گہرا کرنے، تحقیق، ترقی اور اطلاق کے نتائج کے تبادلے، اور صنعت و سپلائی چینز میں تعاون کو فروغ دینے کی دعوت دی۔ اس رخ نے اجلاس کے اعلامیے کو بھی متاثر کیا، چنانچہ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور زیادہ قدر و قیمت والے صنعتی مراحل میں ترقی پذیر ممالک کی شرکت بڑھانے کے چرچے غالب رہے۔

 

تاہم، یہ نعرے جو چین کے صنعتی عروج سے مرعوب افراد کو اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں، معاشی اثر و رسوخ کی رقابت کی حقیقت کو چھپا نہیں سکتے۔ یہ اعلانیہ تعاون عملی طور پر سپلائی چینز پر چین کے اثر و رسوخ کی توسیع، اور اسلامی ممالک سے خام مال کے حصول میں اس کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ صفائی، تصفیہ، اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ اور قیمتی ٹیکنالوجی کے تمام مرحلے ان اسلامی ممالک سے باہر ہی مرکوز رہیں گے۔

 

یوں ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب نے خود اس طاقت کو بنانے میں حصہ ڈالا ہے جس سے وہ آج خائف ہے: اس نے اپنی پیداوار چین منتقل کی، اسے دنیا کا کارخانہ بنایا، اور پھر اسے معلوم ہوا کہ یہ کارخانہ صرف سامان ہی تیار نہیں کرتا بلکہ سپلائی چینز کی چابیاں بھی اسی کے پاس ہیں۔ اسی لیے چین کے اثر و رسوخ سے موجودہ مغربی تشویش ان معاشی فیصلوں سے الگ نہیں ہے جو مغربی کمپنیوں اور ریاستوں نے خود دہائیوں کے دوران اختیار کیے تھے۔

 

حساس معدنیات: کشمکش کا نیا میدان

 

حساس معدنیات (critical minerals) کا موضوع اس سربراہی اجلاس میں بھارت کا کوئی سرسری  قدم نہیں تھا، بلکہ نئی دہلی اعلامیے کے پیراگراف 67 میں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر آیا، جس میں حساس معدنیات کے لیے ایسی سپلائی چینز کے قیام کی دعوت دی گئی جو قابلِ اعتماد، متنوع، لچکدار اور عادلانہ ہوں، نیز وسائل سے مالا مال ممالک میں منافع کی تقسیم، ویلیو ایڈیشن اور معاشی تنوع کو یقینی بنایا جائے۔ اعلامیے نے ان معدنیات کو توانائی کے تحفظ اور سپلائی چینز کی لچک سے بھی جوڑا، اور دیگر مقامات پر زیادہ قدر والی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ترقی پذیر ممالک کی شرکت بڑھانے کی اپیل کی۔

 

حساس معدنیات سے مراد صرف نایاب معدنیات (rare earth metals) ہی نہیں ہیں، بلکہ حساس معدنیات ایک وسيع تصور ہے جس میں اینٹیمنی (Antimony)، گیلیئم (Gallium)، جرمینیم (Germanium) اور ٹنگسٹن (Tungsten) جیسے مواد شامل ہیں۔ ان کی "حساس" نوعیت ان کی معاشی اور اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے ہے، جبکہ ان کی فراہمی میں تعطل یا مخصوص ممالک میں ان کے تمرکز کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ ان کا مسئلہ عالمی سرمایہ دارانہ معیشت کے ڈھانچے میں ایک گہرے بگاڑ کو بے نقاب کرتا ہے: وسائل سے مالا مال ممالک کو اکثر خام مال برآمد کرنے تک ہی محدود رکھا جاتا ہے، جبکہ صفائی، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے عمل،جو کہ سب سے زیادہ قیمتی حلقے ہیں،بڑی صنعتی ریاستوں کے پاس مرکوز رہتے ہیں۔ چنانچہ حساس معدنیات کے گرد کشمکش جوہر کے اعتبار سے اس بات کی کشمکش ہے کہ الموارد کا مالک کون ہے، ان میں ویلیو کون ایڈ کرتا ہے، اور ان سے جڑی صنعتی و ٹیکنالوجیکل زنجیروں پر کس کا کنٹرول ہے۔

 

دوسری طرف، چین پر انحصار کے حوالے سے مغرب کی تشویش مسلسل بڑھ رہی ہے۔ "گووینی" (Govini) کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی فوج کے تقریباً 1900 اسلحہ سسٹمز میں 80 ہزار سے زائد پرزے پانچ حساس معدنیات میں سے ایک یا ایک سے زیادہ کا استعمال کرتے ہیں: اینٹیمنی، گیلیئم، جرمینیم، ٹنگسٹن اور ٹیلوریم (Tellurium)؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی وزارتِ جنگ (پینٹاگون) کے تقریباً 78 فیصد اسلحہ سسٹمز ان سپلائی چینز سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

 

چین کو ان پانچوں معدنیات کی پیداوار، ان کی پروسیسنگ اور ان کی عالمی سپلائی چینز پر زبردست غلبہ حاصل ہے، جس کے باعث گیلیئم، جرمینیم، اینٹیمنی وغیرہ کی برآمدات پر چینی پابندیاں امریکہ کے لیے براہِ راست تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اب سپلائی چینز کو محض ایک معاشی معاملہ سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی کا مسئلہ ماننا شروع کر دیا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ چین کی طرف سے اس طاقت کا استعمال مغرب کو متبادل سپلائی چینز کی تعمیر تیز کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، تاکہ اس پر انحصار ختم کیا جا سکے۔

 

کثیر القطبی دنیا سے مبدأ (آیئڈیالوجی) کے سوال تک

 

برکس اب زیادہ وسیع اور بھاری بھرکم ہو چکا ہے، اور مغربی نظام کے غلبے پر محض اعتراض کرنے کی سطح سے نکل کر ایسے مالی، صنعتی اور ٹیکنالوجیکل وسائل کی تعمیر کی کوشش کر رہا ہے جو اس پر انحصار کو کم کر دے۔ لیکن یہ اپنے بنیادی تضاد سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا: وہ مغرب سے زیادہ آزاد نظام کیسے قائم کر سکتا ہے جبکہ چین اس گروپ کے اندر سب سے بھاری صنعتی اور ٹیکنالوجیکل طاقت بنا ہوا ہے؟ اور کیا کثیر القطبی نظام کا مطلب لازمی طور پر عدل و انصاف ہے، یا بین الاقوامی تعلقات کا منطق طاقت، مفاد اور اثر و رسوخ ہی پر قائم رہے گا؟

 

آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض ایک فاسد سرمایہ دارانہ نظام کے اندر مسلط قطب کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہ مبدأ (آیئڈیالوجی) ہے جسے اقوام کے درمیان تعلقات کو قائم رکھنا چاہیے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں حزب التحریر کی دعوت ایک متبادل تہذیبی ماڈل کی پیش کش کے طور پر ابھرتی ہے، نہ کہ محض ایک نئے جیو پولیٹیکل محور کے طور پر۔ اور یہ تہذیبی پروجیکٹ جو کہ ' خلافتِ راشدہ' کی صورت میں مجسم ہوتا ہے، صرف طاقت کی از سرِ نو تقسیم پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسا معیار پیش کرتا ہے جو خود طاقت پر حکمرانی کرتا ہے، اور وہ ہے اسلام؛ تاکہ ریاستوں کے درمیان تعلقات عدل، حق اور عہد کی پاسداری پر قائم ہوں، اور معاشی یا عسکری طاقت کو غلبے کے حق اور قوموں کو مقہور کرنے اور ان کا خون چوسنے کی خواہش میں بدلنے سے صاف انکار کیا جا سکے۔

 

پس، برکس مغربی مرکز کے بعض آلات و وسائل کو کمزور کرنے میں تو شاید کامیاب ہو جائے، لیکن وہ اپنے اندر اس دنیا کا کوئی جامع تصور نہیں رکھتا جسے وہ تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقی خلا ہے: یہ طاقت کا خلا نہیں، بلکہ مبدأ (آیئڈیالوجی) کا خلا ہے، اور یہ ایک ایسا اسٹریٹجک تہذیبی خلا ہے جسے اللہ کے حکم سے عنقریب آنے والی اسلامی ریاست کے سوا کوئی پُر نہیں کر سکے گا،

 

 

﴿وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾.

 

(یہ) اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔[سورۃ الروم:آیت 6]

 

 

 

Last modified onجمعہ, 25 ستمبر 2026 01:19

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.