الجمعة، 27 ربيع الثاني 1448| 2026/10/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

دنیا بھر سے مسلمانوں کی خبریں!

 

 

(عربی سے ترجمہ)

 

 

الوعي میگزین – شمارہ نمبر،483

اکتالیسواں سال، ربیع الثانی 1448ھ

بمطابق، ستمبر 2026ء

 

یہودی وجود غزہ اور دیگر علاقوں پر اپنی فرعونیت اور تسلط مستحکم کرتا جا رہا ہے اور مزید ستم یہ کہ مغرب کے آلہ کار حاکموں کے ہاتھوں امت کی تقسیم اس کے علاوہ ہے

 

اسلامی مزاحمتی تحریک ”حماس“ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بدھ کی دوپہر غزہ شہر میں سول پولیس کے ہیڈ کوارٹر پر ”اسرائیل“ کی جانب سے کی جانے والی بمباری، جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید اور پولیس اہلکاروں و افسران سمیت 15 دیگر زخمی ہوئے، ایک ”جنگی جرم“ کا درجہ رکھتی ہے اور یہ جنگ بندی کے معاہدے کو ناکام بنانے کی غاصبانہ کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔ حماس تحریک نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قتلِ عام بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے اپنے معاہدوں و ذمہ داریوں سے مکرنے اور جنگ بندی کے معاہدے کے اگلے مراحل کو مکمل کرنے سے انکار پر یہودی وجود کی ڈھٹائی و ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ بیان میں یہ ذکر کیا گیا کہ یہ حملے ان سرگرم ملاقاتوں کے فوراً بعد سامنے آئے ہیں جو کہ ثالثوں اور ضامنوں کے ساتھ اور خطے کے لئے امریکی سفیر جیرڈ کوشنر (Jared Kushner) کے مابین منعقد ہوئی ہیں۔

 

الوعي میگزین (تبصرہ) :

 

کافر و استعماری مغرب سے اور نہ ہی اس کے آلۂ کار، اس غاصب یہودی وجود سے کسی خیر یا بھلائی کی توقع کی جا سکتی ہے جوکہ خود غرقد کے درخت سے تحفظ کا متلاشی ہے۔ امریکہ کے ذریعے کسی بھی حقیقی حل تک پہنچنا ناممکن ہے—نہ ہی مسلمانوں کے لئے اور نہ ہی کسی اور کے لئے۔ حقیقی سوال تو یہ ہے کہ وہ کون ہوگا جو اس معرکے اور کشمکش کا حتمی فیصلہ کرے گا، امریکہ کی ناک کو خاک میں رگڑے گا، اسے پورے عالمِ اسلام سے نکال باہر کرے گا، مبارک سرزمین فلسطین میں اس کے فوجی اڈوں کو تباہ و برباد کرے گا اور ازسرِ نو اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز کرے گا؟

======

 

اردن میں امریکی فوجی قبضے کی موجودگی کی تصدیق کے بعد اردنی حکمران میڈیا کے ذریعے اپنے کھوکھلے دعوے بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں

 

اردن کی وزارتِ خارجہ نے ”بحرین اور کویت پر شدید ایرانی جارحیت کے نئے سلسلے کی مذمت کی ہے، جس میں ایک پاور پلانٹ اور واٹر ڈی سیلینیشن (پانی صاف کرنے کے) پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا“۔ اردن نے اسے ”ریاستوں کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، ان کی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کے لئے سنگین خطرہ، ایک خطرناک پیش رفت، اور بین الاقوامی قانون و اقوامِ متحدہ کے منشور کی واضح خلاف ورزی“ قرار دیا۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ”برادر ممالک بحرین اور کویت کے ساتھ اردن کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور ان کی  خودمختاری، سلامتی اور اپنے شہریوں و رہائشیوں کے تحفظ کے لئے ہر اقدام میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا“۔

======

 

دمشق کے نئے حکمران شام پر مسلسل حملوں اور جارحیت کے بدلے میں یہودی وجود کو مزید "نارملائزیشن" اور "اعتماد افزا" ملاقاتوں کا انعام دے رہے ہیں

 

فرانس پریس (اے ایف پی) نے دو ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شام کے وزیرِ خارجہ أسعد الشيباني اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے سربراہ، رومن گوفمین کے درمیان اردن میں ہونے والی ملاقات—جس کا انکشاف ویب سائٹ 'ایکسیوس' نے کیا تھا—میں کئی اہم امور پر بات چیت کی گئی، جن میں اردن میں امریکی نگرانی کے تحت ایک خصوصی آپریشنز روم کا قیام بھی شامل ہے، تاکہ شامی سرزمین کے اندر شام اور یہودی وجود یا یہودی وجود اور ترکی کے درمیان کسی بھی قسم کی کشیدگی یا سنگین صورتحال کو روکا جا سکے۔

 

بعد ازاں، شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے وزارتِ خارجہ کے ایک سفارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا کہ اس ملاقات میں ”وزیرِ خارجہ اور جنرل و ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کا شامی وفد، اور یہودی حکام کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شامل تھا، جو امریکی ثالثی اور اردنی میزبانی میں منعقد ہوا؛ یہ ملاقات شامی سرزمین پر حالیہ ”اسرائیلی“ بمباری اور جنوبی شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد کشیدگی کو کم کرنے اور شام و خطے میں استحکام کی حمایت کی کوششوں کا حصہ تھی“۔

 

ذرائع نے مزید کہا: ”مذاکرات کا بنیادی محور یہودی جارحیت، گرفتاریوں اور نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو روکنے کے لئے عملی میکانزم وضع کرنا، اور مذاکراتی عمل کو بحال کرنا تھا تاکہ ایک ایسے سکیورٹی معاہدے تک پہنچا جا سکے جو مستقبل کے ایک زیادہ جامع معاہدے کی بنیاد بن سکے“۔

ذرائع نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا: ”گفتگو میں شام کے استحکام کی حمایت اور خطے کی سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر بھی غور کیا گیا، بشمول ترکی اور یہودی وجود کے درمیان مؤقف کو قریب لانے کی کوششیں اور اس بات کو یقینی بنانا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی کے اثرات شامی سرزمین پر نہ پڑیں۔ اجلاس میں کشیدگی کم کرنے کے لئے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی، اور اس کے ساتھ ہی مذاکراتی عمل کی طرف واپسی کے طریقوں پر غور کیا گیا، جبکہ شام نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی سکیورٹی انتظام کے لئے اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خودمختارانہ حقوق کا احترام لازم ہے“۔

یہ ملاقات شمال مغربی شام میں ابو الظہور ہوائی اڈے پر واقع ایک ایئر بیس پر یہودی فضائی حملے کے تقریباً ایک ہفتے بعد، اور گولان کی پہاڑیوں کے قریب شام میں چند افراد پر یہودی وجود کے حملے کے ایک دن بعد ہوئی جن کے بارے میں یہودی وجود نے دعوٰی کیا کہ وہ مسلح افراد تھے؛ دمشق نے اس حملے میں ایک شخص کے زخمی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری کی ”کھلی خلاف ورزی“ قرار دیا تھا۔ دسمبر 2024ء میں بشار الاسد کے اقتدار کا تختہ الٹ جانے کے بعد سے، یہودی وجود نے شام پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں، جن کا مرکز وہ ملٹری اہداف تھے جن کے بارے میں یہودی وجود کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد نئی شامی حکمران انتظامیہ کو سابق فوج کے اسلحہ خانے پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔ نیز یہ کہ یہودی وجود کی افواج گولان کی پہاڑیوں سے متصل بفر زون سے باہر بھی پیش قدمی کر چکی ہیں—جس کے بڑے حصے پر یہودی وجود نے 1967ء سے قبضہ کر رکھا ہے—اور اس نے جنوبی شام میں ایک غیر فوجی علاقہ (ڈی ملٹرائزڈ زون) قائم کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ یہودی حکام بارہا اس بات کو دہرا چکے ہیں کہ ان کی افواج کا اس علاقے سے انخلاء کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے۔

Last modified onجمعرات, 08 اکتوبر 2026 19:18

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک