بسم الله الرحمن الرحيم
سوال و جواب
یمن میں عسکری پیش رفت کے پہلو!
(ترجمہ)
سوال:
” جمعہ کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں مشترکہ مکہ دفاعی معاہدہ کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کا اجلاس منعقد ہوا تاکہ سعودی مملکت کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات پر غور کیا جا سکے..“ [الجزیرہ، 26 ستمبر2026ء]۔ ان ممالک کا یہ مشترکہ اتحاد اور ایسا اجلاس اس وقت تک خاموش تماشائی بنا رہا تھا جب تک حوثیوں نے یمن کے پورے یا زیادہ تر مغربی ساحل پر اپنا کنٹرول قائم نہیں کر لیا، اور سعودی عرب نے یا حتیٰ کہ امریکہ نے بھی اس میں کوئی مداخلت کی۔ بلکہ ٹرمپ نے تو یہاں تک بیان دے دیا کہ حوثیوں نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ بحیرۂ احمر میں امریکی جہازوں پر حملہ نہیں کریں گے، اس لئے امریکہ اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا! اور پھر ایسا ہی ہوا۔ چنانچہ کچھ دنوں سے حوثی مغربی ساحل پر بڑی آسانی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔ 11 ستمبر، 2026ء کو یہ اعلان کیا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے ایک جارحانہ حملہ جو کہ صرف چند دن تک ہی رہا تھا، اس حملہ کے بعد حوثی گروہ نے باب المندب پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اور پھر یہ گروہ حیس، الخوخہ، المخا اور اس کی بندرگاہ سے لے کر باب المندب اور جزیرہِ میون تک کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ آخر یہ سب اتنی آسانی سے کیسے ممکن ہو گیا؟ اور سعودی عرب اور اس کے سہ فریقی اتحاد نے مداخلت کیوں نہیں کی؟ اور امریکہ نے، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایران کے حلیفوں کے بھی خلاف ہے جبکہ حوثی ایران کا ایک اہم بازو ہیں، تو پھر امریکہ نے مداخلت کیوں نہیں کی؟! بلکہ امریکہ تو یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس نے حوثی جماعت سے براہِ راست رابطہ کیا ہے، اور خود حوثی جماعت نے بھی 20 ستمبر2026ء کو امریکہ کے ساتھ اپنے رابطے کا اعتراف کیا ہے۔ تو پھر آخر ایران سے جڑے اس گروہ کے حوالے سے امریکہ کا کیا منصوبہ ہے؟
جواب:
معاملات کی حقیقی صورتحال کو واضح طور پر سمجھنے کے لئے ہم درج ذیل نکات کا جائزہ لیتے ہیں :
1-یمن میں بین الاقوامی کشمکش گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی کے آغاز سے شدید تر ہوتی چلی آ رہی ہے۔ یہ کشمکش یمن پر سابقہ استعماری قوت، برطانیہ اور نئی استعماری قوت، امریکہ کے درمیان جاری ہے۔ اور ان میں سے ہر استعماری قوت کے پاس اپنے اپنے علاقائی اور مقامی ایجنٹ موجود ہیں۔ یمن پر برطانیہ کا اثر و رسوخ اس کے ایجنٹوں کے ذریعے قائم رہا، جن میں سب سے نمایاں ایجنٹ، علی صالح تھا جو 1978ء سے 2011ء تک اقتدار میں رہا... اور اس کے بعد منصور ہادی آ گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے اپنے ایجنٹ، سعودی عرب کو یمن میں مداخلت کا اشارہ دیا، چنانچہ 2015ء میں ”فیصلہ کن طوفانی آپریشن- Operation Decisive Storm“ اور سعودی قیادت میں نام نہاد ”شرعی حکومت کی حمایت کا اتحاد- Coalition to Support Legitimacy“ کا اعلان کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ آپریشن حوثی گروہ کی پشت پناہی کے لئے تھے۔ جیسا کہ ہم نے 26 مارچ، 2015ء کے اپنے بیان میں ذکر کیا تھا کہ، ”امریکہ نے ایران کے ذریعے حوثیوں کو مختلف قسم کا اسلحہ اور جنگی سامان فراہم کیا تاکہ وہ طاقت کے زور پر یمن پر مسلط ہو سکیں، کیونکہ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یمن کا سیاسی طبقہ برطانوی نواز ہے اور غالباً انگریزوں کی ہی شاطرانہ تربیت کا نتیجہ ہے۔ اس طرح حوثیوں نے یہ گمان کر لیا کہ ان کے پاس ایسی طاقت موجود ہے جو انہیں یمن پر مکمل تسلط دلا سکتی ہے، چنانچہ انہوں نے صدر ”ہادی“ کو اپنے گھیرے میں کر لیا تاکہ اس سے اپنی مرضی کے مطابق رعایتیں جاری کروا سکیں۔ شروع میں تو وہ رضامندی ظاہر کرتا رہا مگر بعد میں عملدرآمد میں ٹال مٹول سے کام لیتارہا، یہاں تک کہ حوثیوں نے اس پر گھر میں نظربندی عائد کر دی، مگر وہ ان کے چنگل سے نکل کر عدن بھاگ گیا، حوثی وہاں بھی اس کے پیچھے پہنچے لیکن وہ دوبارہ ان کی گرفت سے نکل بھاگا..“۔
2-پھر اس کے بعد یوں ہوا کہ برطانیہ کی ایجنٹ ریاست، متحدہ عرب امارات (UAE) یمن کو بچانے کے بہانے سعودی عرب کے تشکیل کردہ مذکورہ اتحاد میں شامل ہو گئی اور اس نے جنوبی یمن کے متعدد علاقوں کو حوثیوں کے قبضے سے چھڑا کر وہاں برطانیہ اور اس کے مقامی ایجنٹوں کے اثر ورسوخ کو مضبوط کیا۔ اماراتی فورسز ایک اہم بندرگاہ ”الحدیدہ“ تک پہنچ گئیں جو کہ حوثیوں کے لئے نہایت اہمیت کی حامل تھی، اور انہوں نے اس بندرگاہ پر تقریبًا کنٹرول حاصل کر لیا، اور ان کا مقصد اس کے بعد صنعاء کی طرف پیش قدمی کرنا تھا۔ لیکن امریکہ نے انسانی ہمدردی پر تشویش کے بہانے تراش کر امارات (UAE) کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بھڑکایا اور سویڈن کا اجلاس منعقد کروایا۔ اس اجلاس کے نتیجے میں الحدیدہ شہر میں جنگ بندی اور اماراتی افواج اور طارق صالح کی قیادت میں ملیشیاؤں کا انخلاء طے پایا، یوں اس شہر کا سکیورٹی کنٹرول حوثیوں کے پاس ہی برقرار رہا۔ جیسا کہ ہم نے 20 دسمبر، 2018ء کو شائع ہونے والے ایک سوال کے جواب میں ذکر کیا تھا کہ، ”برطانیہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ ایرانی مدد ہی ہے جو حوثیوں کے لئے بقا کا سہارا ہے، اور صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور جنوب کی بندرگاہوں پر کنٹرول کے بعد ایران کے لئے الحدیدہ کی بندرگاہ ہی وہ واحد اہم ذریعہ رہ گئی جس کے راستے وہ حوثیوں تک اپنی مدد پہنچا سکے۔ چنانچہ اسی لئے امارات (UAE) نے الحدیدہ پر قبضے کا رخ کیا، لیکن الحدیدہ کے گرد پیش قدمی کی راہ میں امارات کو شدید امریکی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جو امریکہ نے انسانی ہمدردی کا یہ دعویٰ کرتے ہوئے کی کہ الحدیدہ بندرگاہ لاکھوں یمنیوں تک امداد پہنچانے کا ذریعہ ہےاور جنگ کی صورت میں یمنی عوام کو امداد کی ترسیل منقطع ہو سکتی ہے۔ گویا امریکہ کو انسانیت کی کوئی پرواہ ہو اور اس کے نزدیک انسانیت کا کوئی احترام موجود ہو حالانکہ اسی امریکہ نے ہی اپنے ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اور اقوامِ متحدہ کی نظروں کے عین سامنے بدترین محاصرے کر کے اور بیرل بموں کا استعمال کر کے شام کو روند ڈالا تھا۔ تاہم حقیقت یہ تھی کہ امریکہ صرف یہ جواز پیدا کرنا چاہتا تھا تاکہ ایران کی ملٹری مدد جاری رکھنے کے لئے الحدیدہ کی بندرگاہ کھلی رہے.. “۔
3-سال 2022ء میں سعودی عرب نے 07 اپریل، 2022ء کو صدر ہادی کی جگہ رشاد العلیمی کی سربراہی میں ایک یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل (Presidential Leadership Council) کی تشکیل کا اعلان کیا، جہاں ہادی نے اپنے تمام اختیارات اس کونسل کے سپرد کر دئیے۔ اس سے قبل 02 اپریل، 2022ء کو متحارب فریقین کے درمیان یمن میں دو ماہ کی قابلِ توسیع جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا جو کہ اسی روز ہی نافذ العمل ہو گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ اور امریکہ نے اس اچانک جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور اس میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ باوجود اس کے کہ کونسل کے اکثر ارکان ماضی میں برطانیہ کے آدمی رہے تھے، لیکن امریکہ سعودی عرب کے ذریعے کونسل کے سربراہ العلیمی کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو گیا حالانکہ وہ انگریزوں کا وفادار رہا تھا اور سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے دور سے بڑے سیاسی عہدوں پر فائز رہا تھا، مگر سعودی عرب میں اس کی رہائش اور سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی مالی اور سکیورٹی امداد پر اس کا شدید انحصار.. ان تمام عوامل نے سعودی عرب کو العلیمی پر ایک مضبوط اثر و رسوخ فراہم کر دیا جو حالیہ عرصے میں مزید بڑھا ہے۔ جہاں تک کونسل کے باقی ارکان کا تعلق ہے تو ان میں سے اکثر امارات (UAE) یعنی انگریزوں کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔ ہم نے 20 اپریل، 2022ء کے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ، ”یہ بات قابلِ غور ہے کہ صدارتی لیڈرشپ کونسل کے تمام ارکان کو امارات کی حمایت حاصل ہے یا وہ خود صدر ہادی کے گروہ سے ہیں، اس لئے کونسل میں مؤثر حاوی رائے برطانیہ ہی کے تابع ہے“۔ چنانچہ اس طرح یہ جنگ بندی، یہ فیصلہ اور اس کونسل کی تشکیل، یہ تمام امور امریکی اور برطانوی اتفاق سے ہی طے پائے تھے، جس میں بہت سے ایجنٹ اور مدار میں گردش کرتے کارندے اس سازباز میں شامل تھے۔ اور ہر صورت میں یہ اتفاق مستقل نہیں بلکہ صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب تک وہ حالات تبدیل نہ ہو جائیں جو اس اتفاق کا باعث بنے تھے !
4-اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ سال 2025ء کے اختتام پر صدارتی کونسل کے رکن اور امارات (UAE) کے حمایت یافتہ عیدروس الزبیدی کی قیادت میں یمن کی ”ٹرانزیشنل کونسل (Transitional Council)“ کی فورسز نے حضرموت اور المہرہ میں اپنے دستے تعینات کر دئیے جس سے معاملات کافی الجھ گئے۔ چنانچہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے 30 دسمبر، 2025ء کو یمن میں ایک محدود عسکری کارروائی کا اعلان کیا جس میں حضرموت کی بندرگاہ ”المکلا“ پر امارات (UAE)سے پہنچنے والے اسلحے اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پھر یہ دھمکی جاری رہی یہاں تک کہ امارات ”جھکنے“ پر مجبور ہو گیا اور اس نے یمن سے اپنی افواج واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران سعودی عرب نے یمن میں موجود امارات (UAE) کے ایجنٹوں (عیدروس الزبیدی کی قیادت میں ٹرانزیشنل کونسل) کو حضرموت اور المہرہ سے نکل جانے کی دھمکیاں اور وارننگ دینا جاری رکھا، جس کے نتیجے میں یمن میں موجود جنوبی ٹرانزیشنل کونسل کی فورسز نے انخلاء شروع کر دیا.. اور بعد ازاں 08 جنوری، 2026ء کو الزبیدی بھی صومالی لینڈ سے ہوتا ہوا ابوظہبی فرار ہو گیا!
5-اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ حال ہی میں مغربی ساحل پر جو کچھ ہوا، یعنی رواں ماہ ستمبر کی 3 اور 11 تاریخ کو حوثیوں کا حیس، الخوخہ، المخا اور اس کی بندرگاہ، جزیرہِ میون اور بحیرۂ احمر کے جنوب میں واقع دیگر یمنی جزائر سے لے کر باب المندب تک کنٹرول قائم ہونا، یہ سب 2018ء میں ہونے والے واقعات کے مشابہ ہے، جب الحدیدہ سے امارات (UAE) اور اس کے مقامی ایجنٹوں کو نکال دیا گیا تھا، اور 2025ء کے اواخر میں اور 2026ء کے آغاز میں ہونے والے واقعات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جب حضرموت اور المہرہ سے امارات اور اس کے ایجنٹوں کو بے دخل کر دیا گیا تھا۔ ان واقعات کو ہم ایک جیسا اس لئے کہتے ہیں؛ کیونکہ امریکہ نے حوثی آپریشن کے ذریعے مغربی ساحل پر برطانیہ کے ایجنٹوں پر ضرب لگا کر یمن میں برطانیہ کے نفوذ کو توڑنا چاہا تھا۔ جہاں طارق صالح کی قیادت میں ”نیشنل مزاحمت ریپبلک گارڈز (National Resistance -Republican Guard) “ کے نام سے ایک ایسی فورس قائم تھی، جسے امارات (UAE) نے اپنے آقا برطانیہ کے حکم پر پروان چڑھایا اور اس کی نگہداشت کی، مگر اس کا انجام بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع المخا اور خالد ملٹری کیمپ کے زوال اور پورے ساحلی علاقے پر حوثی گروہ کے مکمل کنٹرول کی صورت میں ہوا۔ چنانچہ 10 ستمبر، 2026ء کو المخا شہر کے زوال نے اس مزاحمت فورس کے لیڈر، طارق صالح کو شدید دھچکا پہنچایا جوکہ خود بھی ایک برطانوی ایجنٹ ہے اور سابق صدر علی صالح کا بھتیجا ہے، اور جسے امارات (UAE) کی حمایت حاصل تھی۔ برطانوی ایجنٹ، عیدروس الزبیدی کے شکست کھا کر امارات فرار ہونے پر مجبور ہونے کے بعد یمن میں برطانیہ کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے یہ ایک اور قدم تھا، اور اس اقدام پر غور کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سعودی عرب ”یمنی جمہوری گارڈز“ کے اندر اپنے ایجنٹوں کو داخل کرنے میں کامیاب رہا تھا اور انہوں نے سعودی عرب کے احکامات پر ہی مغربی ساحل کے علاقوں میں اپنی پوزیشنیں چھوڑ دیں۔ اس بات نے طارق صالح کے تحت فورس، ریپبلک گارڈز کے اندر موجود برطانیہ کے حامی دھڑے کو حواس باختہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شہر کے تمام مقامات سے اپنی افواج کو واپس بلانے پر مجبور ہو گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا اور جو کہ انٹرنیٹ پر لیک ہونے والی آڈیو ریکارڈنگز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب طارق صالح کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا جسے اس نے ”اندر سے غداری“ قرار دیا (جس سے اس کی مراد یمنی جمہوری گارڈز کے اندر موجود سعودی دھڑے تھے) اور جسے اس نے ”برادران کی بے وفائی“ قرار دیا (جس سے مراد خود سعودی عرب تھا) جو اس کی مدد اور حوثیوں کی پیش رفت کو روکنے کے لئے آگے نہیں بڑھا تھا۔ یوں اس تمام تر صورتحال کے بعد حوثی ان علاقوں میں بلا کسی مزاحمت کے داخل ہو گئے، بالکل اسی طرح جیسے وہ اس سے قبل صنعاء میں بلا کسی مزاحمت کے داخل ہوئے تھے !
6-اور اس بات کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ سعودی عرب نے اس مشترکہ سہ فریقی اتحاد کو بھی متحرک اور فعال نہیں کیا اور نہ ہی اپنے اتحادیوں پاکستان اور ترکی سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب ساز باز کیے ہوئے ہے اور حوثیوں کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ امریکہ، جو اس سہ فریقی اتحاد کے قیام کے پیچھے تھا، اس نے اس اتحاد کو فعال کرنے اور حوثیوں کے خلاف مداخلت کی ہدایت نہیں دی حالانکہ حوثی سعودی عرب کے اپنے علاقوں کو بھی نشانہ بنا رہے تھے! اور ترکی و پاکستان نے محض مذمتی بیانات اور غیر سنجیدہ اعلانات پر اکتفا کیا کہ وہ مدد کے لئے تیار ہیں۔ نیز یہ کہ محمد بن سلمان نے بھی نہ تو ان کی طرف رخ کیا اور نہ ہی ان سے مدد کرنے کی کوئی اپیل کی، بلکہ اس نے اس وقت تک انتظار کیا جب تک یمن کا پورا یا زیادہ تر مغربی ساحل حوثیوں کے ہاتھ میں نہیں آ گیا، اور اس کے بعد ہی اس نے ”مکہ اتحاد“ کو اجلاس کی دعوت دی تاکہ حوثی حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب کی مدد کا جائزہ لیا جا سکے۔ ”جمعہ کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں مشترکہ دفاعی مکہ معاہدہ کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی مسلح افواج کے چیفس آف سٹاف کا اجلاس منعقد ہوا تاکہ سعودی مملکت کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات پر غور کیا جا سکے۔ سعودی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اجلاس میں انٹیلی جنس اور عسکری تعاون کے فروغ اور صلاحیتوں کی یکجہتی پر بات چیت ہوئی تاکہ اجتماعى دفاع اور جوابی ردِ عمل کی صلاحیت کو تقویت مل سکے۔ وزارت کے مطابق چیفس آف سٹاف نے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور مکہ مکرمہ و سعودی مملکت کے شہری انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ جبکہ معاہدے کے فریقین نے مشترکہ دفاع کے لئے اپنی مکمل وابستگی کا اعادہ کیا جو کہ سعودی عرب کی سکیورٹی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لئے تینوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے.. “ [الجزیرہ، 26 ستمبر، 2026ء]، یعنی یہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب حوثی یمن کے مغربی ساحل پر اپنا مکمل تسلط قائم کر چکے تھے!
7-علاوہ ازیں امریکہ نے نہ تو مداخلت کی اور نہ ہی حوثیوں پر کوئی حملہ کیا جبکہ وہ بار بار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایران کے حامیوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اور نہ امریکہ نے سعودی عرب سے حوثیوں پر حملہ کرنے کو کہا اور نہ ہی سہ فریقی اتحاد کو فعال کرنے کی ہدایت دی۔ اور یہ سب باوجود اس حقیقت کے ہے کہ امریکہ نے شام، عراق اور لبنان میں موجود ایران کے باقی ایجنٹوں کے معاملے میں سخت اقدامات کیے ہیں۔ اگرچہ حوثی یمن میں ایران کا ایک مضبوط بازو ہیں لیکن امریکہ اور سعودی عرب نے کوئی حتمی کارروائی نہیں کی جیسا کہ انہوں نے ایران کے دیگر بازوؤں کے ساتھ معاملہ روا رکھا ہے، چنانچہ وہ حوثیوں کو یمن کے مغربی ساحل پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لئے بالکل متحرک نہیں ہوئے! اس معاملے میں ان دونوں کی سازش ہر اس ذی شعور کے لئے بالکل واضح ہے جو معاملات پر نظر رکھتا ہو۔ چنانچہ رائٹرز نیوز ایجنسی نے 13 ستمبر، 2026ء کو تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں ٹرمپ نے اسے اپنا ”ایک اچھا دوست“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہر چیز بالکل درست اور بہترین انداز میں ہو جائے گی۔ معاملات ٹھیک جا رہے ہیں“۔ اور اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ اس سازش کے پیچھے ہے کیونکہ ”ہر چیز بالکل ٹھیک اور بہترین ہوگی“ کا معانی یہ ہے کہ یعنی جیسا امریکہ چاہتا ہے اور نتیجہ اس کے مفاد میں نکلے گا۔ اور اس بات کی مزید تصدیق امریکی وزیرِ خارجہ، مارکو روبیو کے دورۂ سعودی عرب اور اس کے حکمران، محمد بن سلمان سے ملاقات کرنے سے ہوتی ہے جو کہ عین اس دوران ہوئی جب حوثی مغربی ساحل پر پیش قدمی کر رہے تھے، اور بعد ازاں 08 ستمبر، 2026ء کو مارکو روبیو کے اس بیان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ، ”ہمارے سعودی عرب کے ساتھ انتہائی مضبوط عسکری دفاعی تعلقات ہیں۔ اور ہم ان تعلقات میں اپنے عہد کو پورا کریں گے“۔ یوں امریکی عہدیدار یہ اعلان کرتا ہے کہ امریکہ حالات کی باریک بینی سے نگرانی کر رہا ہے، یعنی کہ امریکہ پیش آنے والے ہر واقعے سے مکمل آگاہ ہے !
8-اور اس کی مزید تصدیق اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ امریکہ نے یمنی حکومت کی جانب سے عسکری مداخلت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ رائٹرز نیوز ایجنسی نے 21 ستمبر، 2026ء کو ایک یمنی اور ایک ویسٹرن ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ”یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ، رشاد العلیمی نے گزشتہ روز ایک ٹیلی فون کال کے دوران ٹرمپ سے امریکی عسکری امداد کی درخواست کی، اور ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے اس گفتگو کے دوران عسکری امداد کی فراہمی کا کوئی براہِ راست وعدہ نہیں کیا“۔ اسی طرح ٹرمپ نے خود یہ بیان دیا کہ، ”حوثیوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے، اور انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ میں ان پر حملہ کروں“ (العربي الجديد، 13 ستمبر، 2026ء)۔ اور اس کے علاوہ رائٹرز ایجنسی نے 16 ستمبر، 2026ء کو پانچ ذرائع کے حوالے سے خبر دی کہ ”امریکی حکام نے ویک اینڈ کے موقع پر مسقط میں واقع امریکی سفارت خانے کے اندر یمنی حوثی جماعت کے نمائندوں سے ایک خفیہ ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نمایاں حوثی عہدیداروں نے شرکت کی جن میں حوثی گروپ کے ترجمان، محمد عبد السلام اور عبد الملک العجری بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ محمد عبدالسلام پر امریکی پابندیاں بھی عائد ہیں“۔ ذرائع نے بتایا کہ ”حوثی نمائندوں نے ملاقات کے دوران 2025ء میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی پابندی کرنے اور امریکی یا اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کا عہد کیا، تاہم انہوں نے خود پر حملہ آور جہازوں پر حملہ کرنے کا اپنا حق برقرار رکھا“۔ اور خود حوثی جماعت کے پولیٹکل بیورو کے رکن محمد البخیتی نے 20 ستمبر، 2026ء کو صنعاء سے امریکی نیوز ایجنسی، ایسوسی ایٹڈ پریس کو بذریعہ زوم (Zoom) ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ، ان کے گروپ اور امریکہ کے درمیان سلطنتِ عمان کی وساطت سے بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں۔ اس نے مزید یہ بیان دیا کہ حوثی گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ امریکہ پر یا بحرِ احمر اور باب المندب میں موجود امریکہ کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، اور یہ کہ ان کا موجودہ آپریشن سعودی عرب کے خلاف ہے۔ نیز البخیتی نے یہ بھی تذکرہ کیا کہ واشنگٹن نے حوثی گروپ سے اس وقت رابطہ کیا تھا جب اس کی فوجیں یمن کے مغربی ساحل پر پیش قدمی کر رہی تھیں اور باب المندب پر واقع علاقوں تک پہنچنے کے قریب تھیں“۔ پس یہ تمام شواہد اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ امریکہ ہی کا تیار کردہ منصوبہ تھا اور حوثی گروپ نے دانستہ طور پر اس منصوبے پر عمل کیا !
9-یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کے حملوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حوثی تقریباً پورے ساحل پر اپنا کنٹرول حاصل کر چکے ہیں، تو ان حقائق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو امریکہ عدن میں یمنی حکومت کی مدد کے لئے متحرک ہوا اور نہ ہی سعودی عرب حرکت میں آ رہا ہے حالانکہ حوثی حملوں نے اسے بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسقط (عمان) میں امریکیوں کے ساتھ حوثی نمائندوں کی ملاقاتیں اور عدن حکومت کی درخواست کے باوجود مغربی ساحل پر حوثی حملوں کو روکنے کے لئے امریکہ کے مداخلت نہ کرنے کے مذکورہ بالا بیانات، یہ تمام امور اس بات کا ثبوت ہیں کہ یمن کے بیشتر مغربی ساحل پر حوثیوں کا قبضہ امریکی اور سعودی منظوری سے ہی ہوا ہے۔ اور یہ اقدام مندرجہ ذیل تین مقاصد سے مطابقت رکھتا ہوا ظاہر ہوتا ہے :
اول : یمن کے نظامِ حکومت میں حوثیوں کو شامل کرنا اور حکومت میں انہیں بنیادی کردار دینا، تاکہ مرحلہ وار انداز میں یمن میں موجود برطانوی ایجنٹوں کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے، خاص طور پر اس حقیقت کے بعد کہ یمن میں برطانیہ کے وفاداروں کا بھی تک مکمل خاتمہ نہیں ہوا بلکہ ان میں سے کچھ صدارتی کونسل اور اس کے ارد گرد اب بھی موجود ہیں۔
دوئم: یہ اقدام ایرانی حکومت کو ترغیب دینے اور امریکہ کے بارے میں ان کے موقف میں نرمی پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جیسا کہ نیویارک میں امریکی و ایرانی ملاقاتوں میں ظاہر ہوا، اور اسی طرح ایرانی صدر اور ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پیش کیے گئے اس ایرانی منصوبے سے بھی جسے وہ ٹرمپ کی منظوری ملنے کی توقع کر رہے تھے تاکہ ایران دوبارہ اسی طرح سے امریکی مدار میں گردش کرنے لگے، لیکن ٹرمپ نے اپنے تکبر کی وجہ سے اس پیشکش کو مسترد کر دیا کیونکہ ٹرمپ اب بھی اس بات پر مُصر ہے کہ ایران محض ایک مطیع اور تابع فرمان ایجنٹ بن کر رہے۔
سوئم : یہ ”جنگجوں کے لئے کچھ دیر آرام“ کی حکمتِ عملی میں سے ہے، کیونکہ امریکہ کو تقریباً ایک ماہ بعد مڈ ٹرم انتخابات کا سامنا ہے، اور بہرحال انتخابی عمل کا تقاضا ہے کہ حالات کو، بالخصوص عسکری تصادم کو انتخابات کے اختتام تک پرسکون رکھا جائے۔
اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں مقاصد، خواہ یہ فرداً فرداً ہوں یا مجموعی طور ہوں، امریکی اور سعودی عرب کی جانب سے یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کے کنٹرول کے خلاف موثر جوابی کارروائی نہ کرنے کی بنیادی وجہ ہیں، جس کے نتیجے میں حوثیوں کو مغربی ساحل پر نہایت آسانی کے ساتھ کنٹرول حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا !
10-یوں اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یمن میں اینگلو امریکی (برطانوی امریکی) کشمکش علاقائی اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے اپنے عروج پر ہے۔ یمن کے عوام اس کشمکش کا ایندھن بنے ہوئے ہیں اور دہائیوں سے اس کشمکش کے باعث دوہرے مصائب جھیل رہے ہیں۔ ان ایجنٹوں کو عوام سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کی فکر ہوتی ہے۔ اس لئے یمن کے پاس کوئی خلاصی ممکن نہیں سوائے اس کے کہ ان ایجنٹوں سے اپنی جان چھڑا لے، جو باہم برسرِ پیکار استعماری طاقتوں کو یمن میں موجود رہنے اور اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اور ان ایجنٹوں سے تب تک چھٹکارا حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ قائم نہ کر لی جائے، جس کا وعدہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے، ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ ”تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں اللہ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں جانشین (حکمران) بنائے گا“ (النور؛ 24:55)۔ اور خلافت کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے بھی دی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا، «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» ”پھر نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہوگی“ (اسے احمد، طیالسی اور البزار نے روایت کیا ہے)۔
اسی لئے ہم اہل یمن کو، جن کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے، «الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا» ”ایمان یمن کا (یعنی اہل یمن کا) ہے، بالکل یہیں“ (اسے بخاری نے روایت کیا ہے) اور آپ ﷺ نے فرمایا، «الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ» ”فہم و فقہ یمن کی ہے اور حکمت یمن کی ہے“ (اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)۔ ہم اہل یمن کو دعوت دیتے ہیں کہ حزب التحریر کی نصرت و مدد کریں تاکہ ہم سب مل کر اللہ غالب و عزیز کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کی تکمیل کے لئے جدوجہد کریں، یوں ہم اس دنیا اور آخرت، دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی حاصل کریں اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
15 ربیع الثانی 1448ھ
بمطابق 27 ستمبر، 2026 عیسوی
Latest from
- عالمی اثرات اور اسلامی نظام کے متبادلات کے مابین افراطِ زر اور مانیٹری نظام کی تبدیلیاں
- خون سے لت پت اُمت: فتنے اور جغرافیائی سیاسی استحصال کی داستان
- خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا) 28/09/2026
- پاکستان اور ایران کو دوسری خلافتِ راشدہ کا مرکز بنائیں!
- مسلمان فوجی کمانڈرز دشمن فوجی کمانڈرز سے کیوں ملاقات کرتے ہیں؟!




