الثلاثاء، 23 ذو الحجة 1447| 2026/06/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    21 من ذي الحجة 1447هـ شمارہ نمبر: 1447/40
عیسوی تاریخ     منگل, 09 جون 2026 م

 

پریس ریلیز

 

بجٹ 2026-27: آئی ایم ایف فِسکل اصلاحات کے نام پر ہماری معیشت کی پیداواری صلاحیت اور اکثریتی عوام کی معاشی حالت کو کچل رہا ہے، اور حکمران اسے میکرو اکنامک استحکام کہتے ہیں!

 

 

اب وہ وقت گزر چکا ہے جب حکمران آئی ایم ایف کی ڈکٹیشنز کو چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کرتے تھے کہ بجٹ عوامی نمائندوں، کاروباری حلقوں کی تجاویز اور ملک کے ماہرینِ معیشت کی محنت کا ثمر ہے۔ بلکہ اب وزیراعظم یہ بتانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ وہ تنخواہوں میں اضافے یا بجلی و پٹرول کی قیمتوں میں سبسڈی کے لیے آئی ایم ایف سے بات، یعنی اجازت، طلب کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف فسکل اصلاحات کے نام پر پاکستان کی معیشت کی مائیکرو مینجمنٹ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف معیشت کے جس شعبے پر چاہتا ہے ٹیکس عائد کر دیتا ہے، جس شعبے کے لیے چاہتا ہے سبسڈی بند کر دیتا ہے، اور جب چاہتا ہے درآمدات و برآمدات سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی کا حکم دے دیتا ہے۔ یہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی "مجوزہ" اصلاحات تھیں جنہوں نے پاکستان کی توانائی کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا۔ آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت کو خود کفالت پر مبنی اور مضبوط پیداواری صلاحیت کی حامل معیشت بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، جس میں ٹیکسوں کی بھرمار اور توانائی کی ہوش ربا قیمتوں کا بنیادی کردار ہے۔

 

اسلام کفار کو مسلمانوں کے امور میں مداخلت، غلبے یا کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے سال 2000ء میں 362 ارب روپے کے ٹیکس ہدف سے بڑھتے ہوئے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف تقریباً ساڑھے پندرہ ہزار ارب روپے مقرر کیا ہے۔ جو ڈالروں میں ٹیکس وصولی میں سات گنا جبکہ پاکستانی روپوں میں 42 گنا سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ عوام کی جیبوں پر اس کھلے ڈاکے کے باوجود نہ تو تجارتی خسارہ ختم ہوا اور نہ ہی آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر مبنی فسکل اصلاحات کا سلسلہ رکا ہے۔ آئی ایم ایف کے پچیس پروگراموں کے باوجود غربت میں مسلسل اضافہ اور معیشت کی محدود پیداواری صلاحیت کسی بھی عقل و شعور رکھنے والے شخص پر یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آئی ایم ایف کا ایجنڈا پاکستانی معیشت کو محدود کرنا، ہمیں مغربی معیشتوں کی خام مال کی سپلائی چین کا حصہ بنانا اور پاکستان کو گریٹ پاور بننے سے روکنا ہے، تاکہ پاکستان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے اسلام کے غلبے کے عظیم فرض اور مسلم دنیا سے امریکہ اور مغرب کو باہر نکالنے کے ایجنڈے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا:

 

﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾

"اور اللہ نے ہرگز کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ (غلبہ یا تسلط) نہیں دی ہوئی۔" (سورۃ النساء:141)

 

لیکن ان حکمرانوں کو نہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پروا ہے، نہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی، اور نہ ہی شریعتِ اسلامیہ کی۔ اسی طرح انہیں پاکستان کے ان عوام کا بھی کوئی احساس نہیں جو مسلسل غربت کے تاریک گڑھے میں پھسلتے جا رہے ہیں۔

 

پاکستان جغرافیائی محل و وقوع اور فوجی اعتبار سے مضبوط طاقت کا حامل ہے، اور مسلم دنیا کی قیادت کا بھرپور اہل ہے۔ اس لئے پاکستان کو کمزور رکھنا امریکی ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے۔ اسی لئے پاکستان کے توانائی کے شعبے کو دانستہ تباہ و برباد کیا گیا۔ پاکستان میں توانائی کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں، جبکہ انرجی درآمدات صرف ڈالروں میں، اور وہ بھی امریکی عالمی آرڈر کی منظور شدہ ممالک سے کرنے کی اجازت ہے، حالانکہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ ایران کا وافر اور نسبتاً سستا تیل دستیاب ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی دباؤ کے جعلی سراب کے علاوہ کون سی چیز پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات نسبتاً سستے ایرانی تیل سے پوری کرنے سے روک رہی ہے، خصوصاً جبکہ ایران کو اپنی اضافی پیداوار ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ اس نئے بجٹ میں صرف پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں 1700 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر ٹیکس اور توانائی کی سپلائی چین سے وابستہ کمپنیوں کا منافع اس کے علاوہ ہے۔ توانائی کی اس قدر بلند قیمتوں نے نہ صرف عوام پر بے تحاشا مالی بوجھ ڈال دیا ہے بلکہ پاکستان کی صنعت کو بھی عالمی منڈی میں غیر مسابقتی (Uncompetitive) بنا دیا ہے۔ اسلام کی رو سے نہ صرف یہ تمام ٹیکس حرام ہیں بلکہ توانائی کا شعبہ ملکیتِ عامہ کے زمرے میں آتا ہے، اور اس کی سپلائی چین نجی شعبے کے قبضے میں نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ اس شعبے میں موجود غیر معمولی منافع بھی عوام کی ملکیت شمار ہوگا اور اسے چند کمپنیوں کے لیے مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ، وَثَمَنُهُ حَرَامٌ»

"مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراگاہ اور آگ، اور ان کی قیمت لینا حرام ہے۔" (ابن ماجہ)

 

اس حدیث میں "آگ" توانائی کے عمومی مفہوم میں استعمال ہوئی ہے۔

 

مزید برآں، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ، ایران جیسے ملک کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھنے سے عاجز ہے۔ لہٰذا اگر پاکستان اپنی افواج کے ساتھ، جو پہلے ہی عرب دنیا میں موجود ہیں، ایک خلافت کے تحت مسلم ممالک کے ساتھ ضم ہو جائے تو توانائی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو سکتا ہے۔ بلکہ ایسی صورت میں خلافت عالمی توانائی کی قیمتوں کو براہِ راست طے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی، خصوصاً جبکہ دنیا کے اہم بحری راستے مسلمانوں کے علاقوں سے گزرتے ہیں۔ یہ مقصد پاکستان میں خلافت کے قیام کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

 

یہ تمام دلائل اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موجودہ حکمران طبقہ امریکی پالیسیوں کے دائرے سے باہر سوچنے سے قاصر ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو محض چند اصلاحات کی ضرورت نہیں بلکہ اس پورے لبرل کیپیٹلسٹ ماڈل اور واشنگٹن اتفاق رائے پر مبنی آئی ایم ایف کے ایجنڈے کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نظام کا متبادل پاکستان میں خلافت کا قیام ہے، جس کے لیے حزب التحریر قرآن و سنت سے اخذ کردہ اپنا تفصیلی پروگرام پہلے ہی امت کے سامنے پیش کر چکی ہے۔ آج تو صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کے ماہرینِ معیشت، پالیسی ساز، حکمران اور اشرافیہ عوام کو کسی نئی امید کا دلاسا دینے سے بھی قاصر ہیں۔ موجودہ نظام مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے اور اس کا انجام، جلد یا بدیر، زمین بوس ہونا ہی ہے۔ جتنا جلد یہ مرحلہ آئے گا، اتنا ہی جلد عوام کی مشکلات کے خاتمے کی امید پیدا ہوگی۔ 'گیم از اوور' نوشتۂ دیوار بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے اہلِ قوت اسے دیکھنے اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ﴾

"اور اگر وہ تورات اور انجیل کو، اور اس (قرآن) کو قائم کرتے جو ان کی طرف ان کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے، تو ان پر اوپر سے بھی رزق برستا اور ان کے قدموں کے نیچے سے بھی۔" (سورۃ المائدہ: 66)

 

 

 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک