الجمعة، 20 رجب 1447| 2026/01/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    16 من رجب 1447هـ شمارہ نمبر: 042/1447
عیسوی تاریخ     پیر, 05 جنوری 2026 م

پریس ریلیز
خلافت کے خاتمے کی 105 ویں برسی پر... زمین اس کی واپسی کے لیے تیار ہو رہی ہے

 

( ترجمہ)

دنیا بھر اور اسلامی ممالک میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کو دیکھ کر کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ حالات، امتِ مسلمہ کے لیے مزید تاریک اور سنگین ہوتے جا رہے ہیں، اور اس کی نشاۃِ ثانیہ اور کھوئی ہوئی عزت کی بحالی کی امید دم توڑتی جا رہی ہے۔ لیکن ان تبدیلیوں پر گہری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی نویدِ سحر ہے جو روز بروز نئی اور پختہ ہو رہی ہے، اور امت کی بیداری کے قریب ہونے کی علامت ہے۔

 

اگرچہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب اور کفر کی مہمات مسلسل جاری ہیں، اور استعمار اپنے دانت نکال کر دنیا کے کئی حصوں میں مسلمانوں کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہو گیا ہے، لیکن اس کے باوجود کہ امت ایک سیاسی نظام اور ایک سربراہ (یعنی ریاستِ خلافت اور خلیفہ) سے محروم ہے، اس نے غیر معمولی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔ امت نے ان مہمات کا مقابلہ اس استقامت اور پامردی کے ساتھ کیا ہے جس نے استعمار اور کافر مغرب کو عاجز کر دیا ہے، یہاں تک کہ کئی مواقع پر تو ایسا محسوس ہوا کہ امت کی یہ جدوجہد، مسلم ممالک میں مغرب کے استعماری خوابوں کو چکنا چور کر دے گی۔

 

بلکہ امت کی اس ثابت قدمی نے پورے مغرب میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ اس امت کی پہچان (شناخت) کو ختم کرنا یا اسے مغربی تہذیب میں ضم کرنا ناممکن ہے۔ مغرب یہ جان چکا ہے کہ مسلم ممالک میں سیکولر طرزِ زندگی اور استعماری تسلط صرف جبر اور زبردستی کے زور پر ہی برقرار رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت وقتاً فوقتاً، یہاں وہاں، ان غیر فطری حالات کو جھٹکنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جواب میں مغرب ان پر مزید سختی کرتا ہے اور اپنے ایجنٹوں اور مہروں کو حرکت میں لاتا ہے تاکہ وہ شہروں پر بمباری کریں، بیرل بم برسائیں اور ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعے مردوں سے زیادہ بچوں اور خواتین جیسے کمزوروں کو قتل کریں۔ یہاں تک کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کافر استعمار اب مسلم ممالک میں "عوامی رائے پر بمباری" کر رہا ہے۔

 

امتِ مسلمہ کی اس استقامت اور مسلسل جدوجہد نے مغرب میں مایوسی کا ایک عمومی تاثر پیدا کر دیا ہے، یہاں تک کہ ان کے دانشور اور میڈیا کے نمائندے اپنے ہی اصولوں کی مخالفت اور آزادی کے دعووں سے پھر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ وہ تمام اقوام میں سے صرف مسلمانوں کو اس بات کے لیے نشانہ بنا رہے ہیں کہ انہیں اپنے سیاسی نظریات کے اظہار، بلکہ اپنی پاکیزہ اسلامی زندگی کو ظاہر کرنے سے بھی محروم کر دیا جائے۔ اب مغرب میں ایسی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جو پورے مغرب سے مسلمانوں کو نکالنے اور مسلم ممالک میں ہونے والے قتلِ عام پر احتجاج کرنے کو بھی جرم قرار دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

 

امتِ مسلمہ سے مغرب کی اس مایوسی نے ان کے اندر شک و شبہات اور سیاسی بے مقصدیت کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اب وہ اپنے ممالک کی خارجہ پالیسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک میں ان کی موجودگی ایک بے سود عمل ہے جس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ ان خدشات کے بطن سے اپنے آپ میں محدود ہونے کی پکار اٹھی ہے، جیسے "سب سے پہلے امریکہ" اور "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں" کے نعرے۔ اس کے علاوہ قوانین میں ایسی ترامیم کی گئیں کہ وہ پناہ گزینی اور ہجرت کے ادارے، جن کا مقصد انسانی وسائل (Human Capital) کو حاصل کرنا تھا، اب ایک ایسی سیاسی پولیس میں بدل گئے ہیں جو ہر غیر ملکی پر ظلم کرتی ہے اور انسانوں کے لیے دروازے بند کر رہی ہے۔

 

یہ سب ایک "تہذیبی ناکامی" کا اظہار ہے، یعنی مغرب اب خود کو ایک ایسا تہذیبی سانچہ نہیں سمجھتا جو دوسری قوموں کو اپنی تہذیب میں ضم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، بلکہ اب وہ اپنی تہذیب کو باقی دنیا سے الگ تھلگ رکھنا چاہتا ہے۔ یہ سب امتِ مسلمہ کی اپنی تہذیب اور پہچان پر ڈٹے رہنے اور اپنے اقتدار کی واپسی کے مطالبے کا نتیجہ ہے۔

 

چنانچہ، صرف اسی ایک علامت کی بنیاد پر، کہ پوری دنیا اس بات سے مایوس ہو چکی ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو اسلامی زندگی کی طرف واپسی کے ارادے سے باز رکھ سکے، ہم یہ کہتے ہیں کہ خلافت کے خاتمے کی 105 ویں برسی پر زمین اس کی واپسی کے لیے تیار ہو رہی ہے۔

 

اب امت کو اپنے طور پر جس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ آج خلافت کا قیام صرف ایک فیصلے کا مرہونِ منت ہے جو اس کے اہلِ قوت اور طاقت کے مرکز یعنی اس کی افواج کو لینا ہے، اور یہ کام چند گھنٹوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔ ہاں، محض چند گھنٹوں میں! کیونکہ امت کے تمام بیٹے اس بات کے لیے تڑپ رہے ہیں کہ ان کے درمیان سرحدیں ختم ہوں، ان کے ممالک دوبارہ ایک ریاست بنیں، اور ان کی نوجوان نسل کی توانائیاں ایک پرچم تلے جمع ہوں تاکہ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ کریں، اپنے مقدسات کو آزاد کرائیں اور اپنے وسائل پر اپنا اختیار حاصل کریں۔ انہیں اس کام سے صرف کمزوری اور عاجزی کے وہ دعوے روک رہے ہیں جو سراسر وہم، جھوٹ اور من گھڑت افسانے ہیں۔ ان جھوٹے افسانوں کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ بہادر ہے، تیزی سے عمل کرنے والی ہے اور اس کا مقدمہ ایک ہے۔ اگر اسے ادراک ہو جائے کہ وہ کسی کام کو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو وہ اسے پلک جھپکتے میں کر دکھاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس امت نے اچانک اٹھ کر بڑے بڑے جابروں اور ظالم نظاموں کو قصہ پارینہ بنا دیا، حالانکہ ان کے بارے میں یہ مشہور کیا جاتا تھا کہ ان کا اقتدار مستحکم ہے اور کوئی اسے ہلا نہیں سکتا!

 

اس طرح، آج مسلم ممالک میں چھائی ہوئی یہ گہری تاریکی اپنے پیچھے ایک بڑی امید اور اللہ کے حکم سے جلد آنے والی کشادگی کو چھپائے ہوئے ہے۔ کائنات میں اللہ کی سنت یہی ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاء وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

 

"اگر تمہیں کوئی زخم پہنچا ہے، تو ان (دشمنوں) کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے۔ اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے گواہ (شہداء) بنا لے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا" (سورۃ آل عمران: آیت 140)

 

چنانچہ ہم خلافت کت خاتمے کی اس 105 ویں برسی کو اس لیے نہیں منا رہے کہ اپنے حال پر ماتم کریں یا اپنی مصیبت پر آنسو بہائیں، بلکہ اس لیے کہ امتِ مسلمہ کو اس کا وہ شاندار ماضی یاد دلائیں جسے دوبارہ زندہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، اور وہ کھوئی ہوئی عزت یاد دلائیں جسے واپس لینے کا وقت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

﴿وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ

 

"اور ہم چاہتے تھے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا، ہم ان پر احسان کریں اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث بنا دیں" (سورۃ القصص: آیت 5)

 

ہم اپنی طرف سے، حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس میں، ان سرگرمیوں کی بھرپور کوریج کریں گے جو حزب اس برسی کی مناسبت سے دنیا بھر میں منعقد کرے گی، اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اس موقع کو آخری موقع بنا دے جو ہم پر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے بغیر گزرے۔

 

یہ ہر اس شخص کے لیے ایک کھلی دعوت ہے جو حق کو سننے اور سمجھنے والا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ ہمارے ہاتھ میں دے تاکہ ہم مل کر اسلام کی اس عظیم عمارت کو دوبارہ تعمیر کریں، اور اسے ایسی خلافتِ راشدہ کے طور پر واپس لائیں جس سے آسمان والے بھی راضی ہوں اور زمین والے بھی۔

 

 

انجینئر صلاح الدین عضاضہ

ڈائریکٹر، مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک