المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر
| ہجری تاریخ | 17 من جمادى الثانية 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/033 |
| عیسوی تاریخ | پیر, 08 دسمبر 2025 م |
پریس ریلیز
*اسلام کے خلاف امریکہ کی جنگ!*
(عربی سے ترجمہ)
امریکی انتظامیہ اور اس کے اندر موجود فیصلہ ساز اسلام کے خلاف اپنی دشمنی ظاہر کرنے اور اسلام کے خلاف جاری اور مختلف نوعیت کی جنگ کا اظہار کرنے سے باز نہیں آتے۔ کوئی بھی موقع ہو یا نہ بھی ہو، آپ کو کسی نہ کسی امریکی عہدیدار کی آواز سنائی دیتی ہےجو اسلام پر حملہ آور ہوتی ہے اور وہ اسے ایسے الفاظ میں بیان کر رہا ہوتا ہے جو اسلام کے خلاف ان کی نفرت کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے اس خوف کی شدت کی نشاندہی ہوتی ہےجو اسلام کے نام سے ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے۔
اور یہ بات تو سب کو معلوم و معروف ہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد، امریکہ نے گزشتہ صدی کے آخری عشرے کے آغاز سے ہی اسلام کو اپنے آئیڈیوجیکل دشمن کے طور پر لے لیا تھا، اور اسلام کے خلاف جنگ کے لئےفوجی دستے، ایجنٹ، سرمایہ، معاہدے اور سمجھوتے، یہاں تک کہ سب کچھ اس جنگ میں جھونک دئیے۔ اس جنگ میں نہ تو ابراہیمی معاہدے آخری حربہ ہیں اور نہ ہی اسلام کو رجعت پسندی، انتہاپسندی اور دہشت گردی سے موسوم کرنا ان کی پہلی کوشش تھی۔
حالیہ دنوں میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) فاکس نیوز کے پروگرام دی شان ہینٹی شو (The Sean Hannity Show) میں اینکر شان ہینٹی (Sean Hannity) کے ساتھ نظر آئے، جہاں اس نے یہ کہتے ہوئے اسلام پر الزام عائد کیا کہ، ”انتہا پسند اسلام نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ اس کی خواہش صرف دنیا کے کسی ایک حصے تک محدود رہنے اور ایک چھوٹی سی خلافت پر اکتفا کرنے کی نہیں ہے، بلکہ وہ توسیع چاہتا ہے۔ اسلام اپنی فطرت میں ہی انقلابی ہے، اور مزید علاقوں اور آبادیوں تک پھیلنے اور ان پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے …“ اور یہ سب بیان کرتے ہوئے روبیو نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا کہ جس چیز کا الزام وہ اسلام پر لگا رہا ہے، وہ بعینہٖ وہی کام ہے جو خود امریکہ کر رہاہے— بلکہ اس میں ایک بڑا واضح فرق ہے؛ اور وہ فرق یہ ہےکہ امریکہ دنیا پر اس لئے قبضہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کی دولت اور وسائل لوٹ سکے۔ اور اسی مقصد کے لئے، امریکہ لاکھوں انسانوں کو قتل کر دیتا ہے، ہرے بھرے کھیت ہوں یا کھلیان، سب کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے، اور تباہی وموت کے سوا پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا؛ صومالیہ، عراق اور افغانستان کی جنگیں ہم سے کوئی دور کی مثالیں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام انسانوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف کر آیا، بدحالی سے خوشحالی کی طرف لے کر آیا، اور انسانوں اور ان کے بنائے ہوئے قوانین کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کی بندگی کی طرف لے کرآیا۔
اور مارکو روبیو سے پہلے خود اس کا صدر (ٹرمپ) بھی اسلامی ممالک پر ابراہیمی معاہدے مسلط کرنے کا اظہار کر چکا ہے، تاکہ اسلام کو اس کے حقیقی مفہوم سے خالی کر کے اسے دیگر مذاہب کی طرح محض پادریوں کی رسومات تک محدود کر دیا جائے، اور اسلام کے سیاسی پہلو کو ذہنوں سے نکال دیا جائے۔ ٹرمپ نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں امریکہ کی پالیسی کی تصدیق اُس دستاویز میں بھی کی جسے اس نے نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی 2025 (National Security Strategy 2025) کا نام دیا، جہاں اس نے کہا: ”ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی مخالف طاقت مشرقِ وسطیٰ پر، اس کے تیل اور گیس کے ذخائر پر، اور ان آبی گزرگاہوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکے جن کے ذریعے ان وسائل کی ترسیل ہوتی ہے“ اور اس کے علاوہ، ایک اور موقع پر اس نے کہا: ”امریکہ کے ہمیشہ بنیادی مفادات رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، جن میں یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ خلیج کی توانائی کی سپلائیز کسی کھلے دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں، آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کھلی رہے، بحیرۂ احمر قابلِ آمدورفت رہے، تاکہ یہ خطہ امریکی مفادات یا امریکی سرزمین کے خلاف دہشت گردی کا گڑھ یا منبع نہ بنے، اور ”اسرائیل“ محفوظ رہے۔ ہم دہائیوں پر محیط لاحاصل و بے نتیجہ ”نیشن بلڈنگ“ (nation-building) جنگوں کے بغیر اس خطرے کا آئیڈیالوجیکل اور عسکری طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ ہمیں لازمی طور پر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے… نیز ہمارا ایک واضح مفاد یہ بھی ہے کہ ابراہیمی معاہدوں کو خطے کے مزید ممالک اور دیگر اسلامی ممالک تک وسعت دی جائے“۔
اور اس کے علاوہ ٹرمپ نے یہ بھی کہا: ”مشرقِ وسطیٰ میں ہمارے پارٹنرز انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کر رہے ہیں جو کہ امریکی پالیسی کا ایسا رجحان ہے جسے جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے“۔ اور ٹرمپ نے مزید کہا کہ، ”اور ہمیں افریقہ کے بعض حصوں میں دوبارہ ابھرنے والی اسلام پسند دہشت گرد سرگرمیوں سے خبردار رہنا چاہیے…“۔ اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اسلام کے بارے میں اپنی تمام تقاریر میں اور مسلمانوں کی درجہ بندی کے حوالے سے ٹرمپ نے وہی اصطلاحات استعمال کی ہیں جو اس سے قبل آنے والے امریکی صدور نے گھڑ لی تھیں؛ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو معتدل اور شدت پسند طبقہ میں تقسیم کیا، اور مسلمانوں کو اور اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا، اور ان اصطلاحات کو اسلام کے خلاف جنگ چھیڑنے کا جواز بنا لیا۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی فکری قوت، مسلمانوں کے ممالک کا وسیع جغرافیہ، اور مسلمانوں کے خطوں میں خلافت کے دوبارہ قائم ہونے کا خوف؛ کفر اور اس کی ریاستوں کے لئے، خصوصاً بڑی سپرپاورز کے لئے، شدید دہشت کا باعث ہے۔ یہ طاقتیں اسلام کو اپنے مفادات کے لئے بلکہ اپنی بقا کے لئے بھی ایک خطرہ سمجھتی ہیں، اسی لئے وہ وقتاً فوقتاً اس خدشے کا اظہار کرتی رہتی ہیں، حالانکہ ان کے پاس مادی طاقت بھی ہے اور مسلمانوں کے ممالک میں ان کے تابع اور ایجنٹ حکمران بھی موجود ہیں۔
لیکن ہم انہیں خوشخبری دیتے ہیں کہ جس امر سے وہ ڈر رہے ہیں وہ ان سب کے باوجود، ان کی تمام تر سازشوں کے باوجود، ان کی طاقت اور ان کے ایجنٹوں کے باوجود لازماً آ کر رہے گی؛ کیونکہ خلافت کی ریاست اللہ کے اذن سے بہت جلد واپس آنے کو ہے، اور وہ کائنات کو عدل سے بھر دے گی جیسے انہوں نے اسے ظلم اور غلامی سے بھر دیا تھا۔ بے شک اسلامی امت ایک زندہ امت ہے جو کبھی مرتی نہیں، خواہ کچھ عرصے کے لئے یہ امت غفلت میں ہی کیوں نہ پڑ جائے۔ یہ امت اللہ کے اذن سے دوبارہ اٹھے گی تاکہ اسلام کا پیغام — نور، ہدایت اور عدل کا پیغام — تمام انسانوں تک پہنچائے۔ اور امتِ مسلمہ کے اندر حزب التحریر موجود ہے، جو سچی راہنما جماعت ہے؛ ایک ایسی مخلص قیادت، جو اپنی امت سے جھوٹ نہیں بولتی، اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ ثانیہ کے قیام کے ذریعے امت کی صحیح نشأۃِ ثانیہ کے منصوبے کا بار اٹھائے ہوئے ہے۔ اور یہ کل تو ان کے لئے بہت قریب ہی ہے جو اس کا انتظار کر رہے ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے،
﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ * هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾
”وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی باتوں سے بجھا دیں، لیکن اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، خواہ کافر اسے ناپسند کریں۔ * وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو ناگوارہو“ ]سورۃ التوبۃ؛ 9: 32–33[
حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير مرکزی حزب التحریر |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon تلفون: 009611307594 موبائل: 0096171724043 http://www.hizb-ut-tahrir.info |
فاكس: 009611307594 E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info |





