الأحد، 15 رجب 1444| 2023/02/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سرمایہ دارانہ معاشی ماہرین اور منتظمین کے پاس پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے

 

 

خبر:

            روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ اور اس کے نتیجے میں زبردست مہنگائی کی لہر جاری ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ملک کی معاشی صحت، خاص طور پر ضروری اشیاء کے درآمدی بل کی ادائیگی کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں زبردست کمی آئی ہے، جو سکڑ کر 4.34 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو کہ نو سال کی کم ترین سطح ہے۔

 

تبصرہ:

 

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے، جو کہ ڈالر کا بحران ہے، بہت سے کارخانے بند ہو رہے ہیں، یا پیداوار میں زبردست کمی کر رہے ہیں۔ لاکھوں نوکریاں ختم ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی صنعت اور زراعت دونوں کا درآمدات پر بہت زیادہ انحصار ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سےکمیاور درآمدات پر حکومتی پابندیوں کی وجہ سے خام مال، طبی آلات اور اشیائے خوردونوش کے ہزاروں کنٹینرز کراچی پورٹ پر پھنس گئے ہیں ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر گزشتہ ہفتے 4.3 ارب ڈالر تک گر گئے، جو فروری 2014 کے بعد ان کی کم ترین سطح ہے۔

 

سرمایہ دارانہ معاشی ماہرین مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں خاطر خواہ کمی کرنی چاہیے۔ ان کا اصرار ہے کہ ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے پاکستان کو کسی بھی قیمت پر آئی ایم ایف پیکیج حاصل کرنا چاہیے۔وہ ریاستی اثاثوں کی نجکاری کے بعد مزید غیر ملکی سودی قرضوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے ڈالر کی آمد میں اضافے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں ۔ درحقیقت یہ وہ اقدامات ہیں جن کو کئی بار آزمایا جاچکا ہے اور ان کے نتائج سے بھی ہم آگاہ ہیں ۔ ان اقدامات نے پہلے بھی ایک یقینی بحران کو صرف وقتی طور پر ٹالا تھا۔ ان اقدامات کے نتائج ہمیشہ مہنگائی اور غیر ملکی قرضوں میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں ۔

 

پاکستان کی برآمدات اور درآمدات میں بہت بڑا فرق ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، سبزیاں، پھل اور گوشت جیسی کم قیمت اشیاء برآمد کرتا ہے۔ ان اشیاء کی پیداوار خواہ کتنی ہی بڑھ جائے، پاکستان کو ہمیشہ ڈالر کی قلت اور بحران کا سامنا رہتا ہے۔ہم تقریباً ہر اس شے کے لیے تیل، گیس، مشینری، کیمیکلز اور خام مال درآمد کرتے ہیں جسے ہم بناتے اور برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان مہنگی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔پاکستان پولٹری پیدا کرتا ہے لیکن پولٹری فیڈ درآمد کرتا ہے۔ پاکستان گاڑیاں اسمبل کرتا ہے لیکن گاڑیوں کے انجن درآمد کرتا ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل تیار کرتا ہے لیکن ٹیکسٹائل مشینری درآمد کرتا ہے۔ پاکستان دوائیں تیار کرتا ہے لیکن درکار کیمیکل درآمد کرتا ہے۔ پاکستان خوراک برآمد کرتا ہے لیکن زرعی مشینری درآمد کرتا ہے۔ درآمدات ہماری برآمدات کے مقابلے میں زیادہ اوربہت مہنگی ہیں، اس لیے ہمیں ہمیشہ زیادہ ڈالرز کی ضرورت رہتی ہے۔

 

موجودہ، عالمی، سرمایہ دارانہ معاشی نظام، جو کہ امریکہ کی جانب سے بریٹن ووڈز معاہدے کے ذریعے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کیا گیا تھا، پاکستان جیسے ممالک سے کہتا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو برآمدی اشیاء کی پیداوار پر کھڑا کریں ، تاکہ ترقی یافتہ دنیا کےلیے درکارکم قیمت اشیاء کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔پاکستان کی موجودہ صورتحال اس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک کہ معیشت کو اس بنیاد پر کھڑا نہیں  کیا جاتاکہ وہ مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو ، یعنی خود کفالت پر توجہ دی جائے۔ پاکستان کو مشینیں، کیمیکل، انجن اور بھاری صنعتی مشینری بنانا چاہیے۔ اس کے لیے بھاری صنعت کے قیام کی ضرورت ہے، بشمول فوجی صنعت اور ٹیکنالوجی۔ جب پاکستان جیٹ انجن تیار کر سکے گا تو وہ اعلیٰ معیار کے کار انجن بھی تیار کر سکے گا۔

 

ہمارے پاس اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہمیں نبوت کے نقش قدم پر خلافت کو دوبارہ لازمی قائم کرناہے ، جو مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے معیشت کی تعمیر کرے گی۔خلافت تمام مسلم سرزمینوں اور ان میں موجود مختلف وسیع وسائل کو ایک ریاست کے تحت یکجا کرے گی ۔ اس کے بعد خلافت کی معیشت ایک مضبوط فوج کو بنانے اور ریاست کو وسعت دینے پر قادر ہوگی ، اور تمام باطل طریقہ زندگی پر اسلام کے غلبہ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ

"وہی (اللہ سبحانہ و تعالیٰ)ہے جس نے اپنے رسولﷺ کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے۔"(التوبۃ، 9:33)

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے

انجینئر شہزاد شیخ نے یہ مضمون لکھا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک