بسم الله الرحمن الرحيم
شام کے عوام کے خلاف امریکہ کے جرائم اور اس کی مکاریاں
تحریر: استاد محمد سعید العبود
(ترجمہ)
سیاست پر نظر رکھنے والوں اور اس میدان کے ماہرین سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ شام، حافظ اسد کے دور کے آغاز سے ہی امریکہ کا تابع بن گیا تھا، اور امریکہ ہی نے اپنے باپ کے بعد بشار اسد کے اقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار کی تھی۔ اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ نے بشار کو اقتدار کی منتقلی کے اس ڈرامے میں شرکت کی تھی، جس میں دنیا کے کسی دوسرے رہنما نے شرکت نہیں کی تھی، اور دمشق سے یہ بیان جاری کیا تھا کہ اقتدار کی منتقلی پرامن اور ہموار طریقے سے ہوئی ہے، جو کہ اس منتقلی کی حمایت اور بشار کی پشت پناہی کا واضح اظہار تھا۔
شام میں امریکہ کے جرائم کا ایک بڑا ثبوت آل اسد کی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا اور گزشتہ صدی کی اسی (80) کی دہائی میں حماہ کے واقعات کے دوران مسلمانوں کو کچلنے میں اس کی مدد کرنا ہے۔ اسی طرح، شام کے انقلاب کو دبانے کے لیے بشار کی سرپرستی اور حمایت کرنا بھی اس کے جرائم میں شامل ہے، جہاں امریکی حکام کے بیانات محض دکھاوے اور دھوکے پر مبنی تھے۔ مثال کے طور پر باراک اوباما نے یہ بیان دیا کہ بشار اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے اور اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے، لیکن عملی طور پر بشار پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ اس کے برعکس، پردے کے پیچھے بشار کو خفیہ طور پر فنڈز اور وقت فراہم کیا جاتا رہا تاکہ وہ شام کے انقلاب کا خاتمہ کر سکے۔ بشار نے شام میں مسلمانوں کے خلاف کئی بار کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے کسی سزا کا خوف نہیں تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے "ٹی فور" (T-4) ایئر بیس کے بعض رن ویز پر بمباری کی صورت میں جو کارروائی ہوئی، وہ محض ایک نمائشی ڈرامہ تھی۔ مزید برآں، ایسی پابندیاں لگائی گئیں جن کا حکومت پر تو کوئی اثر نہ ہوا، لیکن شامی عوام ان کی آگ میں جھلس گئے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے انقلاب کو ختم کرنے اور اسے ناکام بنانے کے لیے ہمارے دشمنوں اور ان لوگوں کو استعمال کیا جو منافقانہ طور پر ہماری دوستی کا دم بھرتے تھے۔
اسد حکومت کے جرائم پر امریکہ کا یہ تمام تر علانیہ عمل محض ایک پردہ تھا، جبکہ وہ خفیہ طور پر اس کی حمایت کر رہا تھا۔ اس نے ایران اور اس کی ملیشیاؤں کو شام میں داخل ہونے اور حکومت کے پہلو بہ پہلو لڑنے کا اشارہ دیا۔ جب ایران انقلاب کو ختم کرنے میں ناکام رہا تو امریکہ نے حکومت کو بچانے اور اسے تحفظ دینے کے لیے روس کے ساتھ بھی ہم آہنگی اور تعاون کیا۔
امریکہ کے تحفظ اور سرپرستی میں یہ ظالم حکومت چودہ سال سے شام کے لوگوں کا قتل عام کر رہی تھی، انہیں قید کر رہی تھی، ان کے شہروں اور بستیوں کو تباہ کر رہی تھی اور انہیں بے گھر کر رہی تھی۔ اسے کسی حقیقی سزا کا کوئی خوف نہیں تھا، جبکہ اس کے برعکس امریکہ چھوٹی نسلی اقلیتوں کو بغاوت پر اکسا کر ان کے تحفظ کا ڈھونگ رچاتا رہا۔ امریکہ نے اسلامی ممالک کے قلب میں موجود اپنے سرحدی اڈے، یعنی "یہودی وجود" کو ملک کے بنیادی ڈھانچے پر بمباری کے لیے استعمال کیا۔ "قیصر ایکٹ" کی پابندیاں، جنہیں حکومت کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو جانا چاہیے تھا، امریکہ نے انہیں اب بھی شامی عوام کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار بنا کر رکھا ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈال کر نئی انتظامیہ کے سیاسی، سیکورٹی اور معاشی مطالبات منوائے جا سکیں۔ شام پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے اور اپنی بالادستی کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ کا بدترین حربہ چھوٹی نسلی اقلیتوں کے معاملے کو سہارا بنا کر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔ وہ پردے کے پیچھے سے انہیں اکسا کر شام کی تقسیم کے بیج بو رہا ہے تاکہ وفاقی نظام اور انتظامی عدم مرکزیت کے درمیان کوئی ایسی درمیانی شکل پیدا کی جا سکے جو ملک کو مستقل طور پر مفلوج اور تنازعات کا شکار رکھے۔ اس طرح وہ اپنے نمائندے ٹوم باراک اور دفتر خارجہ و کانگریس کے وفود کے ذریعے ان تنازعات کو کنٹرول کر سکے گا اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں مداخلت کرے گا، جبکہ ساتھ ہی وہ جھوٹ اور فریب کے ساتھ ملک کی وحدت اور استحکام کی حمایت کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔
شامی عوام بالخصوص اور پوری امت مسلمہ کا اصل دشمن امریکہ ہے۔ وہ جس طرح خفیہ طور پر چھوٹی نسلی اقلیتوں کو ابھارتا ہے اور علانیہ طور پر ان کی بغاوت کی حمایت کرتا ہے، اور ایک معمولی اشارے سے انہیں پرسکون کرنے یا قومی دھارے میں لانے کی طاقت رکھنے کے باوجود ایسا نہیں کرتا، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ شامی عوام بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کی تقدیر کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے حکام مسلط کرتا ہے اور جب وہ اس کے مفادات کی تکمیل کے قابل نہیں رہتے تو انہیں ہٹا دیتا ہے۔ لہٰذا، امریکہ پر بھروسہ کرنا سیاسی خودکشی اور امت اور دین کے حق میں سنگین ترین جرائم میں سے ایک ہے۔
شام پر امریکی جارحیت، اس کی تباہی اور اس کے ایجنٹ بشار کے ہاتھوں وہاں کے عوام کی بے گھری کے خلاف ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم شام اور تمام مسلم ممالک سے امریکی اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، اس کے آلاتِ کار کو نکال باہر کرنے اور اس کے ساتھ تعاون، اتحاد یا اس کی ہمنوائی کرنے سے خبردار کرنے کے لیے کام کریں۔ جہاں تک اس پر بھروسہ کرنے اور اقتدار کی مضبوطی اور ملک کی خوشحالی کی امید میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کا تعلق ہے، تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کانٹوں سے انگور کی امید رکھے! حالیہ دنوں میں شام کے عبوری دور کے صدر احمد الشرع کی پالیسی اور ان کے ان بیانات کے بارے میں بہت زیادہ بات ہو رہی ہے جو امریکی خواہشات کے عین مطابق ہیں۔ ان میں قطر کے دوحہ فورم کے دوران سی این این (CNN) کی بین الاقوامی امور کی چیف میزبان کرسٹیان امانپور کو دیا گیا وہ بیان بھی شامل ہے جس میں انہوں نے خود سے دہشت گردی کا الزام ہٹانے کی بھرپور کوشش کی! یہ بات ذہن نشین رہے کہ 'دہشت گردی' کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ کا مختلف حکومتوں کے ساتھ معاہدہ دراصل اسلام اور اس کے احکامات کے خلاف جنگ ہے!
امریکہ کے سامنے موجودہ انتظامیہ کی ان رعایتوں اور پیچھے ہٹنے والوں کو موقع فراہم کرنے پر خاموشی اختیار کرنا اللہ کی شریعت کی خلاف ورزی ہے، جو ملک کو مزید بکھراؤ، تصادم، تباہی اور سیاسی، سماجی و معاشی عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔ بلکہ یہ لازمی طور پر ایسی داخلی قوتوں کے غلبے کا باعث بنے گا جو دل و جان سے اسلام کی دشمن ہیں۔ ان رعایتوں کا جواز پیش کرنا، ان کی تشہیر کرنا اور انہیں درست ثابت کرنے کے لیے گمراہ کن فتوے گھڑنا ایک خطرناک کھائی اور ایسا شر ہے جس کی لپیٹ میں نہ صرف موجودہ انتظامیہ آئے گی، بلکہ یہ شام کے عوام اور ان کی تمام تر قربانیوں کو بھی متاثر کرے گا۔
اس تنازعے کا حتمی فیصلہ کرنے، اختلافات کو ختم کرنے اور امریکی مداخلت کا ہاتھ کاٹنے کا واحد ذریعہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کا نفاذ ہے، جس کا ارشاد ہے:
﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾
"اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر (غلبے کا) کوئی راستہ نہیں دے گا"(سورۃ النساء : آیت 141)۔
کیونکہ اللہ کی شریعت ہی ہر حق دار کو اس کا حق دیتی ہے، اور جیسے ہی غیر مسلم اسلام کی رحمت اور اس کے عدل و انصاف کو محسوس کریں گے، وہ نہ صرف پرسکون ہو جائیں گے بلکہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ شریعت کے نفاذ کے لیے حکمران پر لازم ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے حواریوں جیسے مجرم کافروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اندرونِ ملک موجود مسلمانوں سے مدد طلب کرے جو کہ تعداد میں کم نہیں ہیں، اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو پکارے، تو وہ لاکھوں کی تعداد میں اس کی پکار پر لبیک کہیں گے!
اسی طرح قائدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ جان، مال اور اقتدار کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: «لَوْ وَضَعُوا الشَّمْسَ فِي يَمِينِي وَالْقَمَرَ فِي شِمَالِي عَلَى أَنْ أَتْرُكَ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يُظْهِرَهُ اللَّهُ أَوْ أَهْلِكَ فِيهِ مَا تَرَكْتُهُ» "اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں، یہاں تک کہ اللہ اسے غالب کر دے یا میں اسی راہ میں ہلاک ہو جاؤں، تو بھی میں اسے نہیں چھوڑوں گا"۔
جی ہاں، دین کی مضبوطی اور رب العالمین کی شریعت کی حکمرانی کا یہی نبوی طریقہ کار ہے، نہ کہ اللہ کے ان دشمنوں کے سامنے جھکنا اور انہیں رعایتیں دینا جو دن رات امت کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلا وَلا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ﴾
"وہ کسی مومن کے بارے میں نہ تو کسی قرابت داری کا پاس رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا، اور یہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں"(سورۃ التوبہ : آیت 10 )




