الخميس، 16 رمضان 1447| 2026/03/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

خواجہ آصف کا یہ اعتراف کہ پاکستانی نظام "ٹوالٹ پیپر" ہے، درحقیقت 75 سالہ غداری کا اقرار ہے

 

 

تحریر: پروفیسر محمد یونس – انڈیا

 

(ترجمہ)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَاباً أَلِيماً * الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً

 

"منافقوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے * (یہ وہ لوگ ہیں) جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ تو (یاد رکھو کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے" (سورۃ النساء: آیت 139-138)

 

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا حال ہی میں، 10 فروری 2026 کو قومی اسمبلی میں یہ اعتراف کہ مغرب نے پاکستان کو "ٹوالٹ پیپر سے بھی بدتر" استعمال کیا اور پھر ایک طرف پھینک دیا، کوئی خود احتسابی کا لمحہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے اجرتی کارندے کا شرمناک اعتراف ہے جسے آخر کار یہ احساس ہو گیا ہے کہ اس کے آقا کو اب اس کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ بیان اس رسی کی مانند ہے جو پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کی گردنوں کو غداری کے اس ایک ہی سلسلے میں جکڑ دیتی ہے جو پاکستان کے "اسلام کے قلعہ" کے طور پر قیام سے لے کر بے وفائی کی موجودہ حالت تک پھیلا ہوا ہے۔ خواجہ آصف کے الفاظ اس خارجہ پالیسی کے خلاف ایک خود ساختہ فردِ جرم ہے جو کبھی بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت یا امت کی خدمت کے لیے وضع نہیں کی گئی تھی، بلکہ واشنگٹن اور لندن میں بیٹھے صلیبیوں کے اسٹریٹجک مفادات کی تکمیل کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ تسلیم کر کے کہ انہیں "استعمال کیا گیا"، انہوں نے درحقیقت اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کے خون، ملک کے وسائل اور پاکستان کی مسلم فوج کے وقار کو ایک ایسی جارحانہ جیو پولیٹیکل منڈی میں سستی اشیاء میں بدل دیا گیا جو صرف کفار کی خدمت کرتی ہے۔

 

غداری کا یہ سلسلہ موجودہ حکومت سے شروع نہیں ہوا۔ بلکہ یہ استعمار کے بعد قائم ہونے والی ریاست کا وہ جینیاتی کوڈ ہے جس کا آغاز ایوب خان سے ہوا جس نے "سیٹو" (SEATO) اور "سینٹو" (CENTO) کے ذریعے امت کو امریکہ کی گاڑی کے ساتھ باندھ دیا، اور مسلم فوج کی منفرد طاقت کو کمیونزم کے خلاف مغرب کے لیے ایک کرائے کی قوت میں تبدیل کر دیا، جبکہ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے کشمیر کے دریا بھارت کے حوالے کر دیے۔ پھر غداری کا یہ عصا یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے پاس چلا گیا، جنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں حصہ لیا، اور پھر شملہ معاہدہ کیا جس نے لائن آف فائر (جنگ بندی لائن) کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) میں تبدیل کر دیا، یوں عملی طور پر کشمیر کو تقسیم کر دیا اور جہاد کے مطالبے کو دو طرفہ تعلقات اور مذاکرات کے بوجھ تلے دفن کر دیا۔

 

پھر ضیاء الحق آیا، جس نے مخلص مجاہدین کو دھوکہ دیا۔ اس نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑی، مسلمانوں کے خون کو سرخ فوج (ریڈ آرمی) کو پاش پاش کرنے کے لیے استعمال کیا، لیکن اس سے پہلے کہ خلافت قائم ہوتی، اس نے اسلام کے سفر کو روک دیا تاکہ اس خطے کا امریکی مدار میں رہنا یقینی بنایا جا سکے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے جمہوری لبادوں تلے یہ غداری مزید گہری ہو گئی۔ بینظیر نے مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بھارت کے مغربی محاذ کو محفوظ بنانے میں مدد کی، جس سے بھارت کو کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف اپنی افواج مرکوز کرنے کا موقع ملا۔ جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے، تو "تجارت کے لیے امن" اور "اعلانِ لاہور" کے جنون میں اس نے کارگل کے دوران کشمیر جہاد کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، جب اس نے بل کلنٹن کی صرف ایک فون کال پر اپنی فاتح افواج کو واپس بلا لیا۔ اس نے ظالم پرویز مشرف کے لیے راستہ ہموار کیا، جس نے عملی طور پر "سب سے  پہلے امریکہ" کو جواز فراہم کرنے کے لیے "سب سے  پہلے  پاکستان"  کا نعرہ وضع کیا۔ اس نے وہ فضائی اڈے، لاجسٹکس اور انٹیلی جنس فراہم کی جس نے امریکہ کو افغانستان کے مسلمانوں پر اتنی بمباری کرنے کے قابل بنایا کہ وہ خاک بن گئے، اور اسی دوران اس نے کشمیر کی جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی، اور اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مخلص آزادی پسندوں پر "دہشت گردی" کا لیبل لگا دیا۔

 

اس کے باوجود، (غداری کے) سیاہ ترین ابواب اس جدید تثلیث یعنی اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ کے ہاتھوں لکھے گئے۔ کیانی اور راحیل نے 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' کے نام پر پاکستان کے قبائلی علاقوں کو آگ و خون میں جھونک دیا، اور سرحد کے دوسری طرف امریکی قبضے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے ہی ہزاروں لوگوں کو قتل کیا۔ لیکن وہ جنرل باجوہ تحا جس نے کشمیر کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔ جب بھارت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کر کے کشمیر کا الحاق کر لیا اور اسے ایک قید خانے میں تبدیل کر دیا، تو باجوہ اور عمران خان کی حکومت نے کھوکھلی تقریروں اور 'ایک منٹ کی خاموشی' کے سوا کچھ نہ دیا جس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اور پسِ پردہ، باجوہ نے لائن آف کنٹرول پر ایک شرمناک جنگ بندی (سیز فائر) مسلط کر دی، جس سے بھارت کو یہ موقع مل گیا کہ وہ سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا کر وادی کے اندرونی حصوں میں جاری مزاحمت کو کچلنے کے لیے استعمال کر سکے۔ یہی باجوہ کا 'جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس' کی طرف منتقلی کا نظریہ  تھا، جو درحقیقت آئی ایم ایف (IMF) کے قرضوں اور فیٹف (FATF) کی شرائط کے بدلے کشمیر کے خون کا سودا کرنے کے لیے ایک پرکشش اصطلاح کے سوا کچھ نہ تھا۔ جہاں تک شہباز شریف اور عاصم منیر کی موجودہ حکومت کا تعلق ہے، تو یہ اس قبرستان کے محض چوکیدار ہیں، جو بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ بھارت کھلے عام مسلمانوں کو دھمکیاں دیتا ہے، جبکہ یہ حکومت وینٹی لیٹر کے ذریعے اپنی سانسیں بحال رکھنے کے لیے مغرب سے چند ارب ڈالر کی بھیک مانگ رہی ہے۔

 

اے خواجہ آصف! اے پاکستان کے حکمرانو! کشمیر تمہارے اس اعتراف کا گواہ ہے، اور وادی کے وہ پہاڑ جو شہیدوں کے خون سے رنگین ہیں، تم پر گواہی دے رہے ہیں۔ یہ "استعمال" ہونا جس کا تم رونا رو رہے ہو، تمہارا اپنا انتخاب تھا۔ تم نے اقتدار اور کرسی کے بدلے اپنی عاقبت بیچ ڈالی۔ تم نے امت کے شیر، پاک فوج کو امریکہ اور بھارت کے مفادات کا پہرے دار بنا دیا۔ تم مظلوم نہیں ہو۔ تم اس جرم میں برابر کے شریک ہو۔ سرینگر کی ماؤں کی چیخیں، چھروں (پیلیٹ گنز) سے چھلنی نوجوانوں کی بینائی اور وہ گمنام قبریں تم سے "اخلاقی مدد" کی طلبگار نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں تمہارے اس شکوے سے کوئی سروکار ہے کہ تمہیں "استعمال" کر کے چھوڑ دیا گیا، بلکہ وہ تمہاری غداری پر لعنت بھیجتی ہیں۔

 

پاک فوج کے مخلص افسران کے نام: وزیر دفاع کا یہ اعتراف تمہارے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ تمہاری قیادت خود تسلیم کر رہی ہے کہ وہ مغرب کے ہاتھوں میں "ٹوالٹ پیپر" کی طرح ہے! تو آخر تم کب تک ان ایجنٹوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھاتے رہو گے؟! کب تک تم اپنی طاقت کو امریکی مفادات کی خدمت کے لیے استعمال ہونے دو گے جبکہ کشمیر کے مسلمانوں کو بے دردی سے کچلا جا رہا ہے؟! ان حکمرانوں نے تمہیں اور پوری امت کو بیچ ڈالا ہے، اور وہ تباہی کے گڑھے کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور انہیں صرف ان غداروں کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے اس سرزمین پر کفر کے نفاذ کی راہ ہموار کی جو محمد بن قاسم کی تلوار سے فتح ہوئی تھی۔ اب اس غلامی کے معاہدے کو چاک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم 'حزب التحریر' کو نصرۃ (عسکری مدد)  فراہم کرو تاکہ  نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم کی جا سکے، جو تم سے اس ذلت کو دور کرے گی، کشمیر کو آزاد کرائے گی، اور مغرب کے ساتھ ایک ایسے آقا کے طور پر نہیں جس کی اطاعت کی جائے، بلکہ ایک ایسے دشمن کے طور پر نمٹے گی جس کا مقابلہ کیا جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيراً وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ

 

"سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور اپنی مظلومی کے بعد (ظلم کے خلاف) بدلہ لیا، اور عنقریب ظلم کرنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس  انجام کی طرف پلٹتے ہیں"(سورۃ  الشعراء، آیت227)

  

Last modified onجمعرات, 05 مارچ 2026 00:32

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک