بسم الله الرحمن الرحيم
میونخ سیکورٹی کانفرنس 2026 :عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور نئے توازنات کاآغاز
تحریر: پروفیسر حسن حمدان
(ترجمہ)
میونخ سیکورٹی کانفرنس کا 62 واں اجلاس 13 سے 15 فروری 2026 کے دوران جرمنی کے شہر میونخ کے 'بائیرشر ہوف' اور 'روز ووڈ' ہوٹلوں میں منعقد ہوا۔ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جسے عالمی نظام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف تنازعات بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف روایتی اتحادوں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ سخت تر ہوتا جا رہا ہے۔ سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کے مسائل پر بحث کے لیے دنیا کے اس ممتاز ترین فورم کے طور پر، یہ کانفرنس عالمی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ماہرین کو ایک مرکزی پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی نظام کے مستقبل اور اس کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران یہ کانفرنس بین الاقوامی نظام میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور اسٹریٹجک توازنات کے رجحانات کو پرکھنے کا ایک اہم سالانہ مرکز بن چکی ہے، جس میں سربراہان مملکت و حکومت، وزرائے دفاع و خارجہ اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ساتھ ماہرین، تحقیقی مراکز کے نمائندے اور ٹیکنالوجی و دفاعی صنعتوں کی بڑی کمپنیاں بھی شرکت کرتی ہیں۔
اس کانفرنس کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے دیکھ سکتے ہیں کہ اس کا انعقاد انتہائی پیچیدہ حالات میں ہوا ہے، جہاں ملاقاتوں کے ماحول پر اتحادیوں کے درمیان اعتماد کی کمی، بلکہ بعض اوقات مکمل طور پر اس کے فقدان کا غلبہ رہا۔ اسی طرح امریکی اندرونی تقسیم اور سرکاری موقف میں تضاد بھی واضح طور پر سامنے آیا۔ اگرچہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے خلاف لہجے میں کچھ نرمی لانے کی کوشش کی، لیکن بہت سے اہم مسائل پر ان کے اختلافات اس قدر گہرے تھے کہ یہ مصالحتی کوششیں ناکام نظر آئیں، جس کی وجہ سے یہ کانفرنس پچھلی تمام کانفرنسوں سے بالکل مختلف ثابت ہوئی۔ اس منظر نامے کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہم دیکھتے ہیں کہ "قواعد پر مبنی عالمی نظام" کے بکھرنے کا موضوع سب سے نمایاں رہا، جہاں کانفرنس کے ایجنڈے میں بین الاقوامی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی کارکردگی، طاقت کی منطق اور اثر و رسوخ کے علاقوں میں اضافے، اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں پر متزلزل ہوتے ہوئے اعتماد پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی عوام پسندی ، قوم پرستی اور بین الاقوامی وعدوں پر ان کے اثرات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔
کانفرنس کے چیئرمین وولف گانگ ایشنگر نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس تلخ حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت بے چینی اور اضطراب کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، اور یہ کہ عالمی نظام ایک حقیقی "تباہی" کے عمل سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سال کی رپورٹ کا عنوان "زیرِ تباہی" (Under Destruction) ان سنگین چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے جو بین الاقوامی سلامتی اور ممالک کے باہمی تعلقات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اور یہ عنوان اپنے اندر بحران اور خطرے کے تمام معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک میرٹز نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نظام کے قواعد کو تباہ کیا جا رہا ہے اور دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ریاستیں تیزی سے طاقت کے استعمال کی پالیسی اپنا رہی ہیں۔ اس کے برعکس، یورپی رہنماؤں، جن میں خاص طور پر فرانسیسی صدر میکرون اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین شامل ہیں، کے خطابات میں یورپ کی اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے اور دفاعی فیصلے کرنے میں خود مختاری کی طرف ایک سنجیدہ رجحان نظر آیا۔ چنانچہ میکرون نے واضح طور پر یورپی سلامتی کے ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی دعوت دی جس میں ایٹمی دفاعی تعاون بھی شامل ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ یورپ اب بیرونی شراکت داروں، اور یہاں تک کہ کئی معاملات میں امریکہ پر بھی مکمل بھروسہ نہیں کر سکتا۔
جہاں تک امریکی بیانیے میں تبدیلی کا سوال ہے، تو 2025 کی گزشتہ کانفرنس کے مقابلے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کے خطاب کے لہجے میں واضح تبدیلی نظر آئی۔ اس وقت جے ڈی وینس نے یورپی سیاسی اشرافیہ کو مغربی تہذیب کے زوال پر خبردار کیا تھا اور ان پر اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے اور بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کے خطرے کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے برعکس، روبیو کا خطاب یہ کہتا ہوا نظر آیا کہ واشنگٹن یورپ کے ساتھ روحانی، ثقافتی اور سیاسی طور پر جڑا ہوا ہے، اور اس نے "اس تہذیب کا مل کر دفاع" کرنے کی دعوت دی۔ ایسا لگتا ہے کہ روبیو نے وینس کے گزشتہ خطاب سے دانستہ طور پر ایک مختلف تاثر پیش کیا تاکہ لفظی حد تک ماحول کو سازگار بنایا جا سکے، لیکن یہ نرمی یورپ کے ساتھ "ٹرمپ طرز" کے رویے کی اصل حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ یہ وہی پرانی پالیسی ہے جو اب کم سخت الفاظ میں پیش کی جا رہی ہے، مگر اس میں اب بھی ایک ڈھکی چھپی دھمکی موجود ہے جیسا کہ ان کا یہ کہنا: "اگر یورپ ڈونلڈ ٹرمپ کے نقشِ قدم پر چلے گا تو یہ اتحاد قائم رہے گا، ورنہ یورپ کو اپنی مدد آپ کرنی ہوگی"۔ جرمن نشریاتی ادارے DW نے "شراکت داری داؤ پر" کے عنوان سے اس بات کی تصدیق کی اور اشارہ کیا کہ روبیو کے خطاب نے بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں کے درمیان اس گہری خلیج کو بے نقاب کر دیا ہے جس کا ذکر ميرٹس نے کیا تھا۔
یہ معاملہ صرف یورپ کے ساتھ اختلافات تک محدود نہیں رہا، بلکہ امریکہ کی اندرونی تقسیم بھی کھل کر سامنے آگئی جب رکن پارلیمنٹ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ٹرمپ پر بحرِ اوقیانوس کے پار اتحاد کو تباہ کرنے اور آمریت کا دور قائم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ اس نے اخبار 'دی گارڈین' کے ذریعے بائیں بازو کی ایک متبادل خارجہ پالیسی پیش کی اور خبردار کیا کہ ٹرمپ اور روبیو کی امریکہ کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوششیں پیوٹن کے لیے یورپ میں اپنی طاقت دکھانے کا راستہ ہموار کر رہی ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے بھی اس تنقید میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ عارضی ہیں اور وہ تین سال میں چلے جائیں گے"۔ یہ اختلافات غزہ جیسے سلگتے ہوئے عالمی مسائل تک بھی پھیل گئے۔ جہاں کایا کالاس نے ٹرمپ کی قائم کردہ "امن کونسل" پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ایسا ذاتی آلہ کار قرار دیا جس میں جوابدہی کا فقدان ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل البارس نے صدر ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ سے تجاوز کرنے اور یورپ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ یورپ فلسطینی اتھارٹی کو مالی امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا فریق ہے۔
ایک باریک بین مبصر دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات اب محض ٹیکٹیکل نہیں رہے، بلکہ یہ نیٹو میں اخراجات کی تقسیم، یوکرین جنگ پر موقف، روس کے خلاف دفاعی ترجیحات، اور تجارتی پالیسیوں و محصولات تک پھیل چکے ہیں۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے اور قواعد کو صرف اپنے مفاد کے لیے تبدیل کر رہی ہے، جس کی وجہ سے میونخ کانفرنس 2026 ایک ایسے آئینے کی شکل اختیار کر گئی ہے جس میں اسٹریٹجک فیصلوں میں خود مختاری کے لیے یورپ کی مضبوط خواہش جھلکتی ہے۔ امریکہ کے "مفاد پرستانہ یکطرفہ پن" اور بین الاقوامی اداروں کی اہمیت کم کرنے کی طرف جھکاؤ کے ساتھ، ہم ایک ایسے عالمی نظام کے سامنے کھڑے ہیں جو اپنی اس تاریخی مرکزیت کو کھو رہا ہے جس نے دہائیوں تک قوموں کی تقدیر پر غلبہ حاصل کر رکھا تھا۔ امتِ مسلمہ کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان متوقع یہ بڑی توڑ پھوڑ اور امریکہ کی اندرونی تقسیم، تاریخی مواقع کا ایک نیا دریچہ کھول سکتی ہے۔ کیونکہ بڑی طاقتوں کی اپنی باہمی جنگوں میں مصروفیت ہمارے خطے پر اپنی مشترکہ پالیسیاں مسلط کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دے گی۔ اسی طرح پرانے بین الاقوامی قواعد کا بکھرنا نئے توازنات کے ابھرنے کی راہ ہموار کرتا ہے جو سیاسی آزادی اور ترقی و بیداری کے لیے زیادہ گنجائش فراہم کرتے ہیں۔ شاید اس اضطراب اور مغربی مفادات کے ٹکراؤ میں بڑی طاقتیں آپس میں ہی الجھ کر رہ جائیں، اور ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ یہ صورتحال امتِ مسلمہ کے لیے خیر، غلبہ اور خودمختاری کا باعث بنے، ایک ایسی دنیا میں جو اب زیادہ منصفانہ اور متوازن متبادلات کی تلاش میں ہے۔




