بسم الله الرحمن الرحيم
امریکیوں کے شام کی التنف چھاؤنی چھوڑنے کے پسِ پردہ حقائق
تحریر: استاد نبیل عبد الکریم
(ترجمہ)
ایک انتہائی حساس علاقائی لمحے میں شام کے صحرائے بادیہ کی گہرائی میں واقع التنف فوجی اڈے سے امریکہ کی دستبرداری نے جوابات سے زیادہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ التنف محض صحرا کے وسط میں کوئی تنہا فوجی چوکی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا جغرافیائی و سیاسی مرکز تھا جو شام، عراق اور اردن کے سنگم پر راستوں کو کنٹرول کرتا تھا، اور واشنگٹن، تہران اور ماسکو کے درمیان توازن کی مساوات میں ایک حساس کڑی کی حیثیت رکھتا تھا۔ برسوں کے دوران یہ چھاؤنی ایک ایسی امریکی موجودگی کی علامت بن گئی تھی جو تعداد میں تو محدود تھی لیکن اپنے مفہوم میں بہت گہری تھی۔ یہ نگرانی کا ایک راستہ، سٹریٹیجک زمینی گزرگاہوں میں رکاوٹ ڈالنے والا مقام اور خود شام کے جغرافیہ سے کہیں بڑے مذاکرات میں بالواسطہ دباؤ کا ایک ذریعہ تھی۔
لہٰذا، یہاں سے رخصتی کو محض ایک انتظامی اقدام یا عارضی فوجی نقل و حرکت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ترجیحات کی ازسرنو ترتیب اور اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے فلسفے میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ کیا یہ اخراجات کم کرنے اور تھکا دینے والے محاذوں سے پیچھے ہٹنے کے لیے ایک جنگی حکمتِ عملی ہے؟ یا شام سے باہر کے معاملات سے متعلق کسی وسیع تر علاقائی معاہدے کے تحت اٹھایا گیا ایک نپا تلا قدم ہے؟ یا پھر یہ ایک ڈھکا چھپا پیغام ہے کہ بڑی علامتی اہمیت رکھنے والے چھوٹے فوجی اڈوں کا دور ختم ہو چکا ہے تاکہ دور بیٹھ کر تنازعات کو سنبھالنے کے دور کا آغاز ہو سکے؟
بڑی تبدیلیوں کی پیمائش پیچھے ہٹنے والے فوجیوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں اور اسے کون پُر کر رہا ہے۔ کیونکہ التنف محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں تھا بلکہ کئی منصوبوں کے درمیان ٹکراؤ کا نقطہ تھا: شام کی اپنی سرحدوں پر خودمختاری کی بحالی کا منصوبہ، دارالحکومتوں کو زمین کے ذریعے جوڑنے کا ایک علاقائی منصوبہ، اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی کی نئی تعریف کرنے کا ایک امریکی وژن۔
ایک ایسی دنیا میں جہاں بحران آپس میں ٹکراتے ہیں اور درست سمت کا تعین مشکل ہو جاتا ہے، التنف سے دستبرداری محض ایک فوجی خبر سے بڑھ کر ہے، بلکہ یہ نئے توازن کے انتخاب کا لمحہ اور علاقائی تنازع کے ڈھانچے میں گہری تبدیلیوں کا آئینہ دار ہے۔ یہیں سے اصل صورتحال کا ادراک شروع ہوتا ہے: سوال یہ نہیں کہ امریکہ کیوں گیا؟ بلکہ یہ ہے کہ ابھی اور خاص طور پر اسی وقت جانے کے کیا معنی ہیں؟
التنف کا فوجی اڈہ شام، عراق اور اردن کے سرحدی مثلث میں دمشق-بغداد بین الاقوامی شاہراہ پر واقع سٹریٹیجک التنف گزرگاہ کے قریب واقع ہے، جہاں یہ اڈہ 2016 میں داعش سے لڑنے کے بہانے امریکہ کی قیادت میں ایک صلیبی اتحاد کے تحت قائم کیا گیا تھا، لیکن یہ ایک ایسے سیاسی مرکز میں تبدیل ہو گیا جو تہران اور بیروت کے درمیان زمینی رابطے میں رکاوٹ بنتا تھا۔
اس واقعے کو صرف ایک فوجی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی توازن میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ التنف چھاؤنی سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء ہوا اور اسے ہفتوں تک جاری رہنے والی بتدریج واپسی کے بعد شامی فوج کے حوالے کر دیا گیا، جس کے لیے اردن کے ساتھ ہم آہنگی کی گئی تھی، اور شامی فوج نے سرحدی مثلث (شام، عراق، اردن) کے ارد گرد کے علاقے میں اپنے یونٹس اور سرحدی محافظوں کی تعیناتی شروع کر دی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق: "امریکی افواج کے انخلاء کے بعد شامی فوج نے التنف چھاؤنی کا کنٹرول سنبھال لیا ہے" (یورو نیوز)۔
یہ قدم بین الاقوامی اتحاد کے فریم ورک کے اندر، ان کے دعوے کے مطابق، داعش کا مقابلہ کرنے میں اڈے کا پرانا سٹریٹیجک کردار ختم ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ امریکہ نے بیان دیا ہے کہ "اس کا انخلاء منظم تھا، اور وہ ضرورت پڑنے پر فضائی قوت اور انٹیلی جنس معلومات کا استعمال کرتے ہوئے داعش کے خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت برقرار رکھے گا" (ڈیفنس نیوز)۔
یہ انخلاء صحرائے بادیہ میں مجموعی عدم استحکام کو مزید گہرا کرتا ہے، جو برسوں کی جنگ کے بعد کمزور سیکورٹی نگرانی اور سماجی عدم استحکام کا شکار علاقہ ہے، جیسا کہ الجزیرہ نیٹ کہتا ہے: "تنظیمِ ریاست (داعش) اور نئے شام میں اس کی واپسی کے خطرات"۔ وہاں جنگجوؤں سے بھری جیلیں موجود ہیں جہاں سے منتقلی یا فرار کے ممکنہ امکانات ہیں، کیونکہ رپورٹس میں ہزاروں قیدیوں کو عراقی صوبوں میں منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے اور سیکورٹی میں تضاد کے دوران اسمگلنگ یا فرار کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں: "حقائق: شام میں زیرِ حراست داعش کے ارکان کو اب کہاں رکھا گیا ہے؟" (رائٹرز)۔
امریکی موجودگی کے بجائے شامی حکومتی افواج کی موجودگی اس مقام کے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ امریکی-ایرانی تصادم کے دوران براہ راست ہدف بننے کے امکانات کو کم کر دیتی ہے، کیونکہ اب یہ امریکی ہدف نہیں رہا۔ یعنی اس منتقلی سے یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے کہ بڑے ٹکراؤ کی صورت میں خود یہ چھاؤنی نشانہ بنے، کیونکہ اب اس کا کنٹرول اس کے اپنے قومی مالکان کے پاس ہے۔ اگر یہ امریکہ کے زیرِ اثر رہتی تو یہ براہ راست اتحاد سے وابستہ مقام سمجھا جاتا، جس کی وجہ سے تنازع پھیلنے کی صورت میں یہ امریکی دشمنوں کے جوابی حملوں کا نشانہ بن سکتا تھا۔ "شامی فوج کا 54 واں ڈویژن چھاؤنی کے اندر اور اس کے گرد و نواح میں عراق اور اردن کی سرحدوں پر حفاظتی کمک کے ساتھ تعینات ہو چکا ہے"۔ (العربی الجدید)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شام میں امریکی موجودگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ فرات کے مشرقی علاقوں یا اردن جیسے دیگر مقامات پر منتقل ہو گئی ہے۔ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ التنف سے یہ انخلاء خطے کے بارے میں امریکی نقطہ نظر کی تبدیلی کا حصہ ہے، جس کا مقصد اثر و رسوخ کے ذرائع کی نئی تعریف کرنا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکمتِ عملی گزشتہ کئی برسوں سے تین اہم ستونوں پر مبنی ہے:
· بھاری بھرکم اور مہنگے مستقل فوجی اڈوں کو کم کرنا اور اسے زمینی قبضے کے بجائے نیٹ ورک (رابطوں) کے ذریعے کنٹرول میں بدلنا۔
· درست نشانے والی کارروائیوں، انٹیلی جنس اور مقامی اتحادیوں پر انحصار کرنا، تاکہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کم سے کم ہو۔
· اپنی سٹریٹیجک توجہ ایشیا اور چین کے گھیراؤ پر مرکوز کرنا، یعنی کسی دور افتادہ چھاؤنی کی روزمرہ حفاظت کی ذمہ داری اٹھائے بغیر مداخلت کی صلاحیت کو برقرار رکھنا۔
درج بالا حقائق کی روشنی میں، سیاست کا اندازہ جانے والے فوجیوں کی تعداد میں تبدیلی سے نہیں بلکہ اس علاقائی نظام سے لگایا جاتا ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس فوجی اڈے کو چھوڑنا محض ایک عسکری باب کا خاتمہ نہیں بلکہ قوتوں کی ترتیب (انجنیرنگ) میں تبدیلی کا ایک خاموش اعلان ہے۔ یعنی زمین پر مضبوط قبضے سے نکل کر فضا، معیشت اور معلومات میں لچکدار موجودگی کی طرف منتقلی۔ یہ 'چھاؤنیوں کے جغرافیہ' سے 'نیٹ ورکس کی جیو پالیٹکس' کی طرف منتقلی کا لمحہ ہے۔
آج شام توازن کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جو صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ گزرگاہوں، سرحدوں، پابندیوں اور تعمیرِ نو کی رفتار کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے وابستہ ہے۔ اس مرحلے میں سب سے خطرناک چیز خلا (ویکیوم) نہیں بلکہ اس خلا کا غلط اندازہ لگانا ہے۔ جب کوئی بڑی طاقت کسی علامتی مقام سے پیچھے ہٹتی ہے تو کوئی علاقائی طاقت نہ صرف اس جگہ کو پُر کرنے کے لیے آگے بڑھتی ہے بلکہ اپنے اثر و رسوخ کی حدود کا انتخاب بھی کرتی ہے، اور یہیں سے خطے کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے: یا تو یہ ایک نپا تلا مقابلہ ہوگا جو کسی بڑے دھماکے کو روکے گا، یا پھر یہ ایسی پراکسی (بالواسطہ) جنگوں کی طرف پھسل جائے گا جو غلط فہمیوں اور تیزی سے بھڑک اٹھنے والے حالات سے طاقت حاصل کرتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں تنازعات کا انتظام کم شور شرابے والے اور زیادہ پیچیدہ طریقوں سے کیا جاتا ہے، اور جو ان تبدیلیوں کو وقت سے پہلے سمجھ لے گا وہی ان کے طوفانوں سے بچ پائے گا، اور جو اسے ماضی کی منطق سے پرکھے گا وہ شاید خود کو ایک ایسی مساوات کے بیچ پائے گا جس کی چابیاں اس کے پاس نہیں ہوں گی۔




