بسم الله الرحمن الرحيم
متفرقات الرایہ - شمارہ 590
پہلے صفحے کی پیشانی پر
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ رمضان کے اس مہینے کو امت کے شعور میں تبدیلی کا ایک اہم موڑ بنا دے، اور اسے بصیرت اور ثابت قدمی عطا فرمائے، اور اس کے لیے ہدایت کے ایسے اسباب فراہم کرے جس میں اللہ کے اطاعت گزاروں کو عزت ملے اور نافرمانوں کو ہدایت نصیب ہو، جس میں نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے، اور جس میں خلافتِ راشدہ مسلمانوں کو متحد کرنے والی، اسلام کے مرکز کی محافظ اور عدل و رحمت کے ساتھ لوگوں کے معاملات کی نگہبانی کرنے والی بن کر دوبارہ قائم ہو جائے۔
===
پہلے صفحے کے لیے
سوڈانی عدلیہ اسلام کی دعوت کے خلاف برسرِ پیکار
ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت، شہر 'الابیض' میں حزب التحریر کے ان نوجوانوں کی بے گناہی ظاہر ہونے کے باوجود جن پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے، اور جن پر سوڈانی فوجداری قانون کی دفعات 63، 67، 69 اور 126 کے تحت مقدمہ چل رہا تھا، جج نے اتوار 1 مارچ 2026ء کی سماعت میں دیگر دفعات کو ختم کرنے کے بعد دفعہ 69 کے تحت مقدمہ جاری رکھنے پر اصرار کیا، اور مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے کے لیے پیر 30 مارچ 2026ء کی تاریخ مقرر کی۔ یہ دفعہ 69 وہی پہلی دفعہ ہے جس کی بنیاد پر 27 جنوری 2026ء کو ان نوجوانوں کے خلاف رپورٹ درج کی گئی تھی۔ اس دفعہ کی عبارت یہ ہے: "جو شخص امنِ عامہ میں خلل ڈالے، یا ایسا فعل کرے جس کا مقصد امنِ عامہ یا عوامی سکون میں خلل ڈالنا ہو یا جس سے اس کا احتمال ہو، اور وہ فعل کسی عوامی جگہ پر کیا گیا ہو، تو اسے ایک ماہ سے زیادہ کی قید یا جرمانہ، یا بیس سے زیادہ کوڑوں کی سزا دی جائے گی"۔ یہ وہ دفعہ ہے جس کے بارے میں قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہ ایک لٹکتی ہوئی تلوار اور جبر کا وہ ہتھیار ہے جسے حکومت ان لوگوں کے خلاف استعمال کرتی ہے جنہیں وہ اپنا دشمن تصور کرتی ہے!
اس حوالے سے حزب التحریر ولایہ سوڈان کے آفیشل ترجمان، استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک اخباری بیان میں کہا: "ہم نے حزب التحریر ولایہ سوڈان کی جانب سے اس وقت ایک اخباری بیان جاری کیا تھا جس کا عنوان تھا: 'کیا اسلام کی دعوت اور اس کی حکمرانی کا قیام امنِ عامہ اور عوامی سکون میں خلل بن چکا ہے؟!'"۔ ہم ایک بار پھر یہی سوال دہراتے ہیں: کیا واقعی اسلام کی دعوت دینا اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے سائے میں اسے نافذ کرنا ایک جرم اور امنِ عامہ و عوامی سکون میں خلل بن گیا ہے؟!
استاد ابو خلیل نے مزید کہا: "حزب التحریر کے وہ نوجوان جن پر حکومت اور اس کے سیکورٹی، عدلیہ اور قضائی ادارے ایک عظیم فرض یعنی اسلام کی دعوت اور اس کی حکمرانی کے قیام کی پاداش میں مقدمہ چلانے پر اصرار کر رہے ہیں، ان کے بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے:
﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾
"اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جس نے اللہ کی طرف بلایا، نیک عمل کیا اور کہا کہ بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں"(سورۃ فُصِّلَت: آیت 33) ۔
کیا سبحانہ وتعالیٰ نے نہیں فرمایا:
﴿وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْر وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
"تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو خیر (اسلام) کی طرف بلائے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"؟(سورۃ آلِ عمران:آیت 104)
ابو خلیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "یہ ظالم نظام جو کافر استعماری مغرب کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے، اس کے اوامر و نواہی کا پابند ہے، اللہ کی طرف بلانے اور اس کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کی حکمرانی سے روکنے والا ہے، اور دارفور کی علیحدگی کی سازش پر عمل درآمد میں ملوث ہے، یہ اس قابل نہیں ہے کہ اس بہترین امت پر حکومت کرے جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے نکالی گئی ہے۔ پس اے سوڈان کے مسلمانو! کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے عقیدے اور تمہارے رب کی شریعت کے نفاذ کی دعوت دینے والوں کو مجرم قرار دیا جائے، اور پھر تم ٹس سے مس نہ ہو؟! حزب التحریر کے وہ نوجوان جن پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے، انہوں نے جو کام کیا ہے وہ آپ پر بھی فرض ہے، لہٰذا ان ظالموں کے ہاتھ پکڑو اور اسلام کے نظام اور اس کی ریاست، نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرو، تاکہ تم اس عظیم پیشی کے دن کامیاب ہونے والوں میں سے ہو جاؤ، اور اس سے پہلے تم وہ عزت والی زندگی جیو جو ان اولین مسلمانوں نے جی تھی جنہوں نے اس دین کو اٹھایا اور اسے نافذ کیا"۔
استاد ابو خلیل نے اپنے اخباری بیان کا اختتام اہل سوڈان کو سبحانہ وتعالیٰ کے اس فرمان کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کیا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا للهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے"(سورۃ الانفال:آیت 24)
===
مرکزی عنوان کے تحت
کفار سے وفاداری دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب ہے
مسلم ممالک کے حکمران کفار سے وفاداری کی سنگینی کو نہیں سمجھ پائے کہ یہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً﴾
"جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ تو (جان لیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے"(سورۃ النساء:آیت 139)۔
یہ حکمران اس بات کو نہیں سمجھ رہے کہ کافر ممالک کے لیے سب سے پہلی ترجیح ان کے اپنے مفادات ہیں اور وہ دن رات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی پالتے ہیں، چنانچہ اگر وہ کسی ایسی ریاست سے کسی قسم کی رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں جو ان کے زیرِ اثر ہو یا ان کے ایجنٹوں میں سے ہو، تو وہ ان کے لیے خیر نہیں چاہتے بلکہ وہ دل میں برائی چھپائے رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
اگر یہ حکمران، خواہ وہ ان کے زیرِ اثر ہوں یا ان کے ایجنٹ ہوں، اس بات کو سمجھ لیتے کہ امریکہ کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اگر امریکہ کے مفادات ان کے خاتمے کا تقاضا کریں، تو وہ تاریخ کے واقعات سے عبرت حاصل کرتے، کیونکہ اس نے کتنے ہی ایجنٹوں کو ان کا کام ختم ہونے کے بعد گرا دیا ہے۔ اگر ان حکمرانوں میں عقل ہوتی تو وہ کفار کو اس طرح نکال باہر کرتے جیسے گٹھلی کو پھینک دیا جاتا ہے، لیکن یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں، سو وہ رجوع نہیں کرتے۔ استعماری کفار کے ساتھ ان کی وفاداری اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان میں سے ہر ملک پر حملہ کیا جاتا ہے لیکن دوسرے اس کی مدد کے لیے حرکت نہیں کرتے، بلکہ ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو مقتولین اور زخمیوں کی گنتی کرتا ہے! جیسا کہ ایران پر حملے کے حوالے سے ہو رہا ہے۔
(حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پمفلٹ کا اقتباس)
===
حزب التحریر/ ولایہ ترکی خلافت کے انہدام کی برسی کے موقع پر سرگرمیاں!
صلیبی برطانیہ اور استعماری کافر مغرب کی جانب سے، عرب اور ترک غداروں کے تعاون سے اسلامی ریاست (خلافتِ عثمانیہ) کے انہدام، امتِ مسلمہ کی زندگی سے اسلام کے نظامِ حکومت (خلافت) کو ختم کرنے اور مسلم ممالک کو کمزور کاغذی ریاستوں میں تقسیم کرنے، جن پر استعماری کافر کے ایجنٹ حکومت کرتے ہیں، کی 105 ویں ہجری اور 102 ویں عیسوی برسی کے موقع پر۔ اس المناک موقع اور اس دردناک یاد کو تازہ کرنے کے لیے حزب التحریر ولایہ ترکی نے ترکی بھر میں 50 مقامات پر بیک وقت وسیع پیمانے پر سیمینارز اور ملاقاتوں کا سلسلہ منظم کیا جس کا عنوان تھا: "خلافت کوئی انتخاب نہیں بلکہ شرعی ضرورت ہے!"۔
ان سرگرمیوں اور سیمیناروں میں مسلمانوں کی شرکت مثالی تھی، تاکہ منہجِ نبوت پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے سنجیدہ جدوجہد کی حمایت اور نصرت کی جا سکے، جس کا وعدہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان الفاظ میں کیا ہے:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً...﴾
"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو عطا فرمائی تھی جو ان سے پہلے تھے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور مضبوطی سے قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے امن سے بدل دے گا..."(سورۃ النور:آیت 55)۔
اور اس کے رسول ﷺ کی خوشخبری جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی جیسا کہ امام احمد نے مسند میں حضرت حذفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے: «... ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ» "... پھر جبر کی بادشاہت ہوگی، پس جب تک اللہ چاہے گا وہ رہے گی، پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اسے اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوگی"۔
===
روزہ اس لیے فرض نہیں کیا گیا کہ اس کا اثر صرف مسجدوں تک رہے
امتِ مسلمہ پر رمضان المبارک ایک ایسے وقت میں گزر رہا ہے جب وہ سیاسی بکھراؤ، ریاستوں کی کثرت اور جابرانہ و نقصان دہ نظاموں کے تسلط کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف بڑی طاقتیں اس پر ٹوٹ پڑی ہیں، اس کے مقدسات کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور اس کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں۔ اس مبارک مہینے میں سب سے اہم بات جو ذہن نشین ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ روزہ امت کی تربیت تقویٰ پر کرتا ہے، اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ امت اسلام کو اپنی زندگی کا مکمل اور غیر مبہم نظام بنائے۔ حکمرانی میں بھی اور طرزِ عمل میں بھی، معیشت میں بھی اور معاشرت میں بھی، اور اندرونی معاملات میں بھی اور بیرونی تعلقات میں بھی۔
بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے روزہ محض اس لیے فرض نہیں کیا کہ اس کا اثر صرف مسجدوں تک محدود رہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک ایسی امت کی تشکیل کرے جو اپنے دین پر فخر کرے، اس کے حکم کے قیام کے لیے کام کرے اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لیے اٹھ کھڑی ہو۔ امت کی وحدت کوئی خواب نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ اور تقدیر ساز ضرورت ہے، جو منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، جو امت کو ایک پرچم تلے متحد کر دے اور اسلام کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائے۔
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا محض ایک سیاسی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے ہم اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں، کیونکہ یہ اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز ہے اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے زمین میں خلافت اور غلبے کے اللہ کے وعدے کی تکمیل ہے۔ پس رمضان وہ مہینہ ہے جس میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، لہٰذا اسے اللہ کے ساتھ اس عہد کی تجدید کا مہینہ ہونا چاہیے کہ اس کے دین کی نصرت کریں گے، اس کی حکمرانی قائم کریں گے اور کلمہ 'لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ' کے جھنڈے تلے امت کی وحدت کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔
===
قوانینِ الہٰی عمل نہ کرنے والوں کو متبادل فراہم نہیں کرتے
دنیا آج ایک عالمگیر 'یومِ بعاث' (جنگ و خلفشار) جیسی صورتحال سے دوچار ہے، یہ مشابہت کسی خاص واقعے کے لحاظ سے نہیں بلکہ ماضی کے 'بعاث' میں جو ہوا تھا اس سے مماثلت کے لحاظ سے ہے: ایک بین الاقوامی نظام جو بوسیدہ ہو رہا ہے، فحش اقدار بے نقاب ہو رہی ہیں، ظالمانہ قانونیت گر رہی ہے اور ایک جھوٹی ہیبت بکھر رہی ہے۔ مگر قوانینِ قدرت (سننِ الہٰی) خود بخود کام نہیں کرتے، اور نہ ہی وہ ان لوگوں کو متبادل فراہم کرتے ہیں جو پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے کام نہیں کرتے۔ مغربی نمونے کے زوال سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے وہ بذاتِ خود کوئی متبادل منصوبہ نہیں رکھتا، بلکہ وہ زمین و آسمان کے نگہبان اللہ کے حکم، تدبیر اور تقدیر سے راستہ کھولتا ہے اور رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، ان لوگوں کے لیے جو اسلامِ عظیم کے پیغام کے لیے ایک حقیقی منصوبے کے طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ انسانیت کو اس سرمایہ داری سے بچایا جا سکے جس نے اسے کچل دیا ہے، اور اس جمہوریت سے نجات دلائی جا سکے جس نے اسے ہر اعلیٰ قدر سے خالی کر کے بغیر کسی رہنمائی کے بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
تاہم، یہ حقیقی اسلامی نظام جو اس خلا کو پُر کرے گا، محض انتظار کرنے یا دوسرے کے خود بخود گرنے پر تکیہ کرنے سے حاصل نہیں ہوگا۔ جس طرح ریاستِ مدینہ 'بعاث' کے کھنڈرات پر خود بخود تعمیر نہیں ہوئی تھی، اسی طرح آج کوئی بھی تہذیبی نشاۃِ ثانیہ محض موجودہ نظام کے انہدام پر کھڑی نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ اس حقیقی اسلامی نظام کو نافذ کرنے، اس کے احکامات کو لاگو کرنے اور انسانیت کو بچانے کے لیے سنجیدہ کام اور جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔
بعاث کوئی انجام نہیں تھا بلکہ ایک تمہید تھی، اور اسلامی نشاۃِ ثانیہ کوئی معجزہ نہیں تھی بلکہ یہ محنت، وابستگی اور صبر کا ثمر تھی۔ آج، حقائق کے اس بڑے انکشاف کے لمحے میں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ان کے بارے میں نہیں پوچھے گا جو گر گئے اور تباہ ہو گئے، بلکہ وہ ہم سے ہمارے اعمال اور اسلامِ عظیم کی عمارت کی تعمیر میں اس کے حکم کی پاسداری کے بارے میں سوال فرمائے گا۔
===
احساسات کی وحدت کو صفوں اور فیصلے کی وحدت میں بدلنا ہوگا
مسلم ممالک کی سیاسی تقسیم نے ہر ملک پر مغرب کے ایک ایسے ایجنٹ کو مسلط کر دیا ہے جو فلسطین کو امت کے مفادات کے بجائے اپنے (مغربی آقا کے) مفادات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ اس کے باوجود، جب بھی سرحدیں بند کی جاتی ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ دل کھلے رہتے ہیں اور یکجہتی کا جذبہ پھر سے تازہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلق اور وابستگی کی چنگاری ابھی بجھی نہیں، لیکن اسے ایک ایسے سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو اس جذبے کو عمل میں بدل سکے۔
رمضان المبارک اس حقیقت پر نظرِ ثانی کا ایک بہترین موقع ہے، اور یہ نظرِ ثانی محض دعا اور گریہ و زاری تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے لیے گہری سوچ بچار کی ضرورت ہے کہ: یہ منظر بار بار کیوں دہرایا جاتا ہے؟ المیے بغیر کسی بنیادی تبدیلی کے کیوں برقرار رہتے ہیں؟ کیا مسئلہ وسائل کی کمی ہے، یا اس سیاسی نظام کی نوعیت ہے جو ریاستوں کے تعلقات کو کنٹرول کرتا ہے اور ان کی نقل و حرکت کی حدیں طے کرتا ہے؟
اگر مظلوم کی نصرت و مدد کو چھوڑ دینا ایک اجتماعی گناہ ہے، تو اس گناہ سے نکلنے کا راستہ شعور سے شروع ہوتا ہے۔ یہ شعور کہ یہ مسئلہ صرف انسانی ہمدردی کا نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ اور یہ کہ احساسات کی وحدت کو ایک نہ ایک دن ریاست کی وحدت اور فیصلے کی وحدت میں تبدیل ہونا ہوگا۔ تب ہی فلسطین محض خبروں کی ایک سرخی نہیں بلکہ ایک عملی ترجیح بنے گا۔
غزہ نے درد محسوس کرنے والی امت اور نفع نقصان کا حساب کرنے والے ایجنٹ حکمرانوں کے درمیان خلیج کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ اس نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ مسئلہ مسلمانوں کی تعداد یا ان کے وسائل میں نہیں بلکہ ان کے باہمی تعلق کی صورت میں ہے۔ یہ ادراک خواہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو، تبدیلی کی جانب پہلا قدم ہے۔ کیونکہ بیماری کی حقیقت کا اعتراف ہی علاج کی تلاش کا آغاز ہوتا ہے۔ اور امت کی وہ اصل دوا جو اس کے بکھرے ہوئے رشتوں کو پھر سے جوڑتی ہے اور مقبوضہ اسلامی سرزمینوں، بالخصوص فلسطین کو آزاد کراتی ہے، وہ منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ ہے۔
===
نبی ﷺ کی بشارتوں کی تکمیل کا وقت آ گیا ہے، خواہ صلیبیوں کو ناگوار گزرے
اب وقت آ گیا ہے کہ اسلام کو غلبہ ملے، امت کی خلافت (ڈھال) اسے واپس ملے اور اسے زمین پر تمکن حاصل ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک ایسا خلیفہ راشد ہو جو مسلمانوں کی تمام افواج کو اکٹھا کر کے ہمارے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے والے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے، جن میں سرفہرست ہمارے خطے میں اس کا سب سے بڑا اڈہ یعنی صیہونی وجود (اسرائیل) ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری افواج اپنے حقیقی جنگی عقیدے یعنی ایمان، توکل اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی راہ میں جہاد کی طرف لوٹ آئیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ افواج میں موجود مخلص عسکری قائدین نبی ﷺ کی خوشخبریوں کو پورا کرنے کی جدوجہد کریں، خواہ صلیبی کتنا ہی اسے ناپسند کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «... ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "...پھر جبر کی بادشاہت ہوگی، پس جب تک اللہ چاہے گا وہ رہے گی، پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اسے اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوگی"۔ تو اے ہماری افواج میں موجود مخلص لوگو! تم میں سے کون ہے جو اس کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (مدد) فراہم کرے گا؟
آپ ﷺ نے فرمایا: «لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ» "تم یہودیوں سے ضرور لڑو گے اور انہیں قتل کرو گے"۔ تو تم میں سے کون ہے جو مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے امت کی افواج کی قیادت کے لیے آگے بڑھے گا؟ روایت ہے کہ: "جب ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے (احادیث) لکھ رہے تھے، تو آپ ﷺ سے سوال کیا گیا: ان دو شہروں میں سے کون سا پہلے فتح ہوگا، قسطنطنیہ یا رومیہ (روم)؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہرقِل کا شہر (قسطنطنیہ) پہلے فتح ہوگا"۔ تو تم میں سے کون ہے جو یورپ کی فتوحات کی قیادت کرے گا یہاں تک کہ روم اسلام کے زیرِ نگیں آ جائے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا» "بے شک اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا، پس میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا، اور یقیناً میری امت کی بادشاہت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی"۔ تو تم میں سے کون ہے جو ایسی فوج تیار کرے گا جس کے ذریعے امت کی حکمرانی پوری دنیا کے کونے کونے تک پھیل جائے؟
===
اردوغان کا یہ دعویٰ کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے، سراسر جھوٹ ہے
اردوغان نے کہا: "ہم ان واقعات میں غیر جانبدار نہیں ہیں جو ہمارے بھائیوں اور پڑوسیوں کے سکون میں خلل ڈالتے ہیں۔ ہم ان معاملات میں بھی غیر جانبدار نہیں ہیں جو پوری دنیا کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم، بطور ترکی، صلح اور امن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سکون، استحکام، یکجہتی اور تعاون کے ساتھ ہیں۔ ہم عالمی اقدار، انصاف اور ترقی کے ساتھ ہیں"۔
الراية: اے اردوغان! جب تک تم غیر جانبدار نہیں ہو، تو تم ان یہودیوں کے مقابلے میں کہاں ہو جو غزہ کی پٹی میں نسل کشی کر رہے ہیں؟۔ تم اس وقت کہاں تھے جب مشرقی ترکستان کے مسلمانوں کے خلاف چین کے مظالم آسمان تک پہنچ گئے تھے، جب میانمار میں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا جا رہا تھا، اور جب بشار اسد کے غنڈے شام میں مسلمانوں کے ٹکڑے کر رہے تھے؟!۔ اور تمہاری افواج ابھی تک چھاؤنیوں میں کیوں بیٹھی ہیں جبکہ اب ایران اور لبنان پر بمباری کی جا رہی ہے؟۔ کیا ان عظیم افواج پر سالہا سال سے اربوں ڈالر نبی ﷺ کی امت اور ان کے ممالک کی حفاظت کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں یا تمہارے تخت کی حفاظت کے لیے؟!۔
یقیناً یہ بیانات ایک سفارتی افیون ہیں جس کا مقصد امت کے جذبات کو سُن کرنا ہے۔ مسلمانوں کو سیکولر جمہوری نظام کی صلح اور امن کی کہانیوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ کی ضرورت ہے جو کفار کی جڑیں کاٹ دے، مسلمانوں کے درمیان مصنوعی سرحدوں کو ختم کرے، مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرائے، اور اس استعماری کافر اور غاصب وجود سے بدلہ لے جو مسلم ممالک پر حملے کر رہا ہے۔
===
سرمایہ دارانہ نظام کے زیرِ سایہ نہ امن ہے، نہ امان اور نہ ہی باوقار زندگی
منگل 3 مارچ 2026ء کو میلانیا ٹرمپ نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس اجلاس کی صدارت کی جو تنازعات والے علاقوں میں بچوں کے تحفظ کے طریقوں پر بحث کے لیے مخصوص تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اس اجلاس کی صدارت مشکل حالات میں ہو رہی ہے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ واشنگٹن دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ کھڑا ہے، اور امن کو فروغ دینے اور تعلیم و جدید ٹیکنالوجی تک بچوں کی رسائی کے حق کے تحفظ کی دعوت دی۔
الراية: امریکہ اور صیہونی وجود کی جانب سے ایران میں لڑکیوں کے ایک پرائمری اسکول پر بمباری، جس کے نتیجے میں 165 طالبات ہلاک ہوئیں، کے چند ہی دن بعد میلانیا ٹرمپ تنازعات والے علاقوں میں بچوں کے تحفظ کے طریقوں پر بحث کرنے والے اجلاس کی صدارت کرنے آئی ہیں!۔
بچوں کے حقوق، انسانی حقوق، اور تنازعات و جنگوں میں بے گناہوں کا تحفظ محض وہ مہرے ہیں جنہیں امریکہ اس وقت استعمال کرتا ہے جب وہ اسلام کے احکامات پر حملہ کرنا، مسلمانوں کے بچوں کو ان کے دین اور شناخت سے دور کرنا، اور ان کی صفوں میں بے راہ روی اور فساد پھیلانا چاہتا ہے۔ لیکن جب معاملہ ان مظالم اور جرائم کا ہو جو مسلمانوں کے بچوں پر ڈھائے جاتے ہیں، تو وہ یا تو قبر جیسی خاموشی اختیار کیے ہوئے تماشائی بن جاتے ہیں، یا اکثر اوقات ان جرائم میں شریکِ جرم ہوتے ہیں، اور غزہ میں نسل کشی کی جنگ اس کی بہترین دلیل ہے۔
بلاشبہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے تحت حکومت کرنے والی استعماری ریاستوں کے زیرِ سایہ بچے اور تمام انسانیت امن و امان اور باوقار زندگی کی نعمت سے بہرہ مند نہیں ہو سکتی۔ شاید ایپسٹین آئی لینڈ (Epstein Island) کے اسکینڈلز اور وہاں بچوں اور کم عمر افراد پر ہونے والے مظالم، جرائم اور زیادتیوں کے قصے اس حوالے سے بہت سی باتوں کو مختصر کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانیت کے لیے دوسری خلافتِ راشدہ کے سائے میں اسلام کے احکامات کے نفاذ کے علاوہ کوئی خلاصی نہیں ہے۔




