الإثنين، 19 شوال 1447| 2026/04/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

مسجدِ اقصی کی تالا بندی کا جرم

 

تحریر: استاد عبدالحمید عبدالحمید

 

(ترجمہ)

 

قبلہ اول اور تیسرے حرم یعنی مسجدِ اقصی  کی تالا بندی کے اس مجرمانہ فعل کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور  مسلمانوں کو وہاں نماز کی ادائیگی اور اعتکاف کرنے سے روک دیا گیا ہے، اور یہ ایسی پابندی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ سب جھوٹے حیلوں اور فرضی بہانوں کے تحت کیا گیا ہے، اور اس گھناؤنے جرم کے سامنے ہم درج ذیل نکات کو ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں:

 

اول: مسجدِ اقصی کی تالا بندی کا یہ جرم عام مسلمانوں کی غفلت اور ان کے غدار و ایجنٹ حکمرانوں کی خاموشی بلکہ ملی بھگت سے سرزد ہو رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غاصب یہودی ہمارے مقدسات، ہمارے دین اور ہماری شریعتِ مطہرہ کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دء رہے۔ان کے پیچھے ان کے وہ لالچ اور خواب کارفرما ہیں جن کے تحت وہ مسجدِ اقصی  کے کھنڈرات پر اپنا نام نہاد ہیکل تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

 

دوم: مسجدِ اقصی  کی یہ تالا بندی دراصل ایک طویل سلسلے کی کڑی اور اس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس پر یہودی-صلیبی اتحاد عمل پیرا ہے، اور جس کا حتمی مقصد مسجدِ اقصی کو شہید کر کے اس کی مقدس زمین پر اپنا خود ساختہ ہیکل تعمیر کرنا ہے۔

 

سوم: مسجدِ اقصی کی تالا بندی کا یہ جرم دراصل مسلمانوں کے جذبات کو کچلنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ ذلت و رسوائی کے عادی ہو جائیں، اور جب ان کے مقدسات اور حرمتوں کو پامال کیا جائے تو وہ کوئی حرکت نہ کریں۔

 

آخر میں، امتِ اسلامیہ کے عام فرزندوں کے دلوں میں مسجدِ اقصی کے عظیم مقام و مرتبے کو اجاگر ضروری ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی مسلم افواج مسجدِ اقصی کی نصرت کے لیے اور اسے مجرم غاصبوں سے آزاد کرانے کے لیے حرکت میں آئیں، تاکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی یہ بشارت پوری ہو سکے: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمْ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ» "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کر لیں، پھر مسلمان انہیں قتل کریں گے اور یہودی پتھروں اور درختوں کے پیچھے چھپیں گے، تو پتھر یا درخت پکارے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے (چھپا) ہے، آؤ اور اسے قتل کر دو، سوائے غرقد کے درخت کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے"۔

 

اور یہ اللہ کے حکم سے یقیناً ہو کر رہے گا، چاہے ہمارے ذریعے ہو یا کسی اور کے ذریعے۔ پس آئیے دنیا و آخرت کی سر بلندی کے لیے پہل کریں، اپنی ریاستِ خلافت تعمیر کریں، اپنی شریعت کو نافذ کریں، اپنی عزتوں کی حفاظت کریں، اپنے مقدسات کی پاسبانی کریں اور اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کریں۔ اور اسی جیسے عظیم مقصد کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔

 

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

 

"اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"۔ (سورۃ یوسف: آیت 21)

 

ولایہ شام میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی  کے رکن

 

 

Last modified onپیر, 06 اپریل 2026 07:22

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک