الإثنين، 19 شوال 1447| 2026/04/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

جب  پیغام رساں ریاست سے رخ مڑ کر اقتدار کی کشمکش کی طرف ہو گیا!

 

تحریر: استاد محمود اللیثی

 

(ترجمہ)

 

تاریخ اچانک نہیں گرتی، اور نہ ہی ریاستیں ایک ہی وار میں منہدم ہوتی ہیں، بلکہ زوال کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی رخ اپنی نظریاتی بنیاد سے ہٹ جاتا ہے، چاہے نام اور نعرے باقی ہی کیوں نہ رہیں۔ اسلام میں ریاست محض ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں ہے، اور نہ ہی ایسی کوئی طاقت ہے جو صرف اپنی بقا کی تلاش میں ہو، بلکہ یہ ایک 'پیغام رساں ریاست'  ہے، جس کا کام اندرونِ ملک اسلام کا نفاذ اور دعوت و جہاد کے ذریعے اسے پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔

 

خلافتِ راشدہ کے دور میں، حکمرانی بیعت کے مفہوم کی ایک عملی تصویر تھی، اور اس تصور کی عکاس تھی کہ حاکمیت (Sovereignty) شریعت کی ہے نہ کہ اشخاص کی، اور یہ کہ اقتدار امت کا حق ہے جو اپنے اوپر اللہ کے احکام نافذ کرنے کے لیے حکمران کا انتخاب کرتی ہے۔ حکمران احتساب سے بالا تر نہیں تھا، بلکہ وہ محاسبے کے تابع تھا، اور اقتدار بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں تھا، بلکہ دین کو قائم کرنے اور لوگوں کے معاملات کی شریعت کے مطابق دیکھ بھال کا ایک ذریعہ تھا۔ اسی لیے ریاست اپنے ہتھیاروں کی طاقت سے پہلے اپنے نظریے کی وضاحت اور مضبوطی کی وجہ سے طاقتور تھی۔

 

تاہم، اس کے بعد بعض تاریخی مراحل میں جو تبدیلی آئی وہ محض افراد کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ اس نے اقتدار کی منتقلی کے طریقے اور امت و حکمران کے درمیان تعلق کی نوعیت پر اثر ڈالا۔ جب حکمرانی 'ملکِ عضوض' (ملوکیت کی طرز پر) میں بدل گئی، سیاسی احتساب کا نظام کمزور پڑ گیا، اور عصبیتیں ابھرنے لگیں، تو ڈھانچہ جاتی بگاڑ پیدا ہونے لگا۔ معاشرے سے شریعت ختم نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی فتوحات رکی تھیں، لیکن سیاسی نظام کی روح اپنی وہ پہلی سی صفائی اور پاکیزگی کھونے لگی تھی۔

 

بنیادی مسئلہ نظام کی ساخت میں تھا: جب حکمرانی صحیح بیعت اور شعوری انتخاب کے بجائے غلبہ یا وراثت پر مبنی ہو جائے، تو 'اقتدار امت کا حق ہے' کا تصور عملی طور پر پیچھے ہٹ جاتا ہے، خواہ اصطلاحات وہی رہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، حکمران اور امت کے درمیان خلیج بڑھتی چلی جاتی ہے، اور حکمرانی 'رعایت' (دیکھ بھال) سے 'انتظام' (Management) میں، اور ایک 'مشن' سے 'اقتدار کی جنگ' میں بدل جاتی ہے۔

 

اس اندرونی توڑ پھوڑ نے ریاست کو بیرونی حملوں کے سامنے مزید کمزور کر دیا۔ چنانچہ صلیبی جنگیں اور پھر منگولوں کی یلغار، کمزوری کی پہلی وجہ نہیں تھی، بلکہ یہ اندرونی موشگافیوں کا نتیجہ تھی۔ وہ امت جس کا منصوبہ واضح اور قیادت متحد ہو، اسے توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جب لوگ اقتدار کی جنگوں میں الجھ جائیں، اور دعوت کو عام کرنے کی اہمیت کم ہو جائے اور وہ اولین ترجیح نہ رہے، تو ریاست کی فطرت ایک قائدانہ وجود سے بدل کر اپنی بقا کی تلاش میں سرگرداں وجود میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

 

اس کے باوجود، تاریخ کا سفر ہمیشہ تنزلی کی جانب نہیں رہا۔ ایسی اصلاحی کوششیں بھی سامنے آئیں جنہوں نے اس بظریاتی ریاست کے تصور کو دوبارہ اہمیت دی جو دنیا کے لیے ایک پیغام رکھتی ہے، جیسا کہ نور الدین محمود نے کیا، اور جیسا کہ صلاح الدین ایوبی نے اپنے اس منصوبے میں کر دکھایا جو محض زمین کی آزادی نہیں بلکہ امت کی وحدت اور اس کے مشن کی طرف رخ کی دوبارہ درستی تھی۔ پھر اپنے ابتدائی دور میں عثمانی آئے جنہوں نے مسلمانوں کی بکھری ہوئی قوت کو اکٹھا کیا اور ایک جامع سیاسی وجود کو دوبارہ قائم کیا، اگرچہ بعد میں ان کی ریاست پر بھی وہ کمزوری طاری ہوئی جو ہونی تھی۔

 

لیکن جدید تاریخ میں سب سے فیصلہ کن لمحہ 1924ء میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ تھا۔ یہاں نہ صرف ایک سیاسی اقتدار گرا، بلکہ وہ وجود ہی ختم کر دیا گیا جو اپنی کمزوری کے باوجود مسلمانوں کی سیاسی وحدت کی علامت تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک، ایک ریاست کی جگہ دوسری ریاست نے نہیں لی، بلکہ ایک تصور کی جگہ دوسرے تصور نے لے لی؛ چنانچہ 'متحدہ ریاست' کی جگہ 'وطنی قومی ریاست' (Nation State) نے لے لی، مصنوعی سرحدیں مقدس قرار پائیں، اور وفاداری کا رخ عقیدے کے رشتے سے مڑ کر زمین اور قومیت کے رشتے کی طرف ہو گیا۔

 

اس کے بعد جو نظام قائم ہوئے وہ اس بنیاد پر نہیں بنے تھے کہ حاکمیت شریعت کی ہے، بلکہ وہ انسانی ساختہ دساتیر (آئین) پر مبنی تھے جو اپنی قانونی حیثیت 'بین الاقوامی جواز' سے حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح امت ایک ایسے سیاسی نظام سے—جو اسلام کے نفاذ پر قائم تھا چاہے اس کی تطبیق میں کچھ کوتاہیاں ہی کیوں نہ رہی ہوں—ایسے نظاموں کی طرف منتقل ہو گئی جو اپنی اصل میں دین کو سیاست سے الگ کرتے ہیں، اور قانون سازی کا حق اللہ تعالیٰ کے بجائے پارلیمینٹ کو دیتے ہیں۔ ہم یہاں اس بات کو دہراتے ہیں جو پہلے طے ہو چکی ہے کہ اسلام کے ناقص نفاذ کا موازنہ دیگر نظاموں کے بہترین نفاذ سے نہیں کیا جا سکتا چاہے انہیں کتنے ہی اچھے طریقے سے نافذ کر لیا جائے، کیونکہ اسلام کا نفاذ ہی عین عدل ہے اور اس کے علاوہ کسی بھی نظام کا نفاذ سراسر ظلم ہے۔

 

اس کا نتیجہ محض ایک ظاہری تبدیلی نہیں تھا، بلکہ ریاست کی فطرت اور اس کے مقصد میں ایک گہری تبدیلی تھی۔ اب ریاست دنیا تک اسلام پہنچانے کا ذریعہ رہنے کے بجائے سرمایہ دارانہ عالمی نظاموں کا حصہ بن گئی، جو طاقت کے توازن کے تابع ہیں اور استعماری مالیاتی اداروں سے جڑے ہوئے ہیں، اور سیاسی و معاشی غلامی کو دوبارہ جنم دیتے ہیں۔ بار بار آنے والے معاشی بحران، قرضوں پر انحصار اور سیاسی تقسیم محض عارضی علامات نہیں ہیں، بلکہ یہ اس فکری اور سیاسی ڈھانچے کا نتیجہ ہیں جو امت کے عقیدے سے نہیں نکلا۔

 

موجودہ ڈھانچے کے اندر رہ کر اصلاح کی بات کرنا محدود ہی رہے گا کیونکہ خرابی بنیاد میں ہے نہ کہ تفصیلات میں۔ جب ریاست کو اسلام نافذ کرنے کی سوچ کے بجائے نظام کو بچانے کی سوچ سے چلایا جائے، اور جب امت کے مفاد پر محدود وطنی (قومی) مفاد کو ترجیح دی جائے، تو یہ انحراف برقرار رہتا ہے، چاہے چہرے اور نعرے بدل ہی کیوں نہ جائیں۔

 

راستے کی یہ درستگی ماضی کی محض جذباتی یادوں سے ممکن نہیں، بلکہ ریاست کی اس تعریف کو دوبارہ اپنانے سے ہو گی جو اسلام نے چاہی ہے۔ یعنی امت کا ایک ایسا واحد سیاسی وجود جس میں حاکمیت شریعت کی ہو اور اقتدار امت کا حق ہو، اور امت اپنی طرف سے ایک خلیفہ کو اپنا حاکم مقرر کرے جو شرعی بیعت کے ذریعے اس پر اسلام نافذ کرے اور اگر وہ کوتاہی کرے تو اس کا محاسبہ کیا جائے۔ جہاں دولت کی تقسیم اسلام میں ملکیت کے احکام کے مطابق ہو، اور خارجہ پالیسی کی بنیاد غلامی کے بجائے دعوت و جہاد کے ذریعے دنیا تک اسلام پہنچانے پر ہو۔

 

ہم امت کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ قرآن اس لیے نازل ہوا کہ اس کے ذریعے حکومت کی جائے، نہ کہ یہ صرف روحانی برکت کا ذریعہ ہو۔ ہماری عبادات سے وابستگی نظم و ضبط کا ایک مدرسہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ نفس کی غلامی اور عقیدے کے خلاف کسی بھی حقیقت کے سامنے جھکنے سے آزادی کا بھی ایک مدرسہ ہے۔ تاریخ کا جائزہ لینا محض ماضی میں کھو جانا نہیں ہے، بلکہ یہ عروج و زوال کے اصولوں کا مطالعہ ہے کیونکہ جب سیاسی رخ شریعت سے مڑتا ہے تو کمزوری جمع ہوتی جاتی ہے، اور جب اس کی تصحیح کی جاتی ہے تو بحالی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

 

انحراف کی نوعیت کا اعتراف ہی اس راستے کا پہلا قدم ہے، اور متبادل منصوبے کا شعور اگلا مرحلہ ہے، جبکہ اصولی اور منظم سیاسی جدوجہد ہی وہ پل ہے جو نظریے کو حقیقت سے جوڑتا ہے۔

 

 

﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ

 

"اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی (قانون) کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے نازل کردہ کسی حکم سے بہکا نہ دیں"۔ (سورۃ المائدہ: آیت 49)

 

 

ولایہ مصر   میں حزب التحریر کت میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onپیر, 06 اپریل 2026 07:45

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک