السبت، 06 ذو الحجة 1447| 2026/05/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

شام کے معاشی بحران کا صحیح حل، موجودہ صورتحال کا تجزیاتی جائزہ اور اسلامی متبادل

 

تحریر: استاد احمد القصص

 

(ترجمہ)

 

 

شام میں آج کا معاشی بحران وہاں کے عوام کی ایک بڑی تعداد کے لیے انتہائی شدید اور تکلیف دہ صورت اختیار کر چکا ہے، جو غربت، بھاری ٹیکسوں اور تنخواہوں کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی وجہ سے کراہ رہے ہیں۔ بنیادی حل کے مطالبے کے لیے عوامی احتجاج کی بڑھتی ہوئی لہر کے ساتھ، اس بحران کی نوعیت کے بارے میں چند اہم اور فیصلہ کن سوالات ابھر رہے ہیں: کیا یہ بحران اس ملک کا ایک ناگزیر نتیجہ ہے جو ابھی چودہ سالہ طویل اور تباہ کن جنگ سے نکلا ہے؟ یا شاید خرابی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے اور اس کا تعلق ریاست کے نظم و نسق اور دولت کی تقسیم کے طریقہ کار میں موجود بنیادی ڈھانچے کے نقص سے ہے؟

 

یہ مضمون ایک فوری جائزہ ہے جس میں میں ان رائج بیانیوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو ناکامی کا جواز پیش کرتے ہیں، اور ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں جن کے ذہن سے یہ بات اوجھل ہو گئی ہے کہ اسلام میں ایک مکمل معاشی نظام موجود ہے اور یہی نظام معاشی مسئلے کا جڑ سے خاتمہ کرنے والا حقیقی حل ہے۔

 

وسائل کی کمی کا وہم اورشام کی حقیقی دولت

موجودہ سیاسی بیانیہ اس سنگین بحران کا جواز بنیادی مقومات اور وسائل کی کمی کو قرار دے کر پیش کرنے کی طرف مائل ہے! لیکن شام کی موجودہ جغرافیائی اور معاشی حقیقت اس کے بالکل برعکس ثابت کرتی ہے۔ شام ایک مضبوط، آزاد، اور خود کفیل معیشت کی تعمیر کے لیے ضروری وسائل کی کمی کا شکار ہرگز نہیں ہے، کیونکہ اس کے پاس تیل اور گیس کی صورت میں توانائی کے کافی ذرائع موجود ہیں، خاص طور پر مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد۔ اس کے علاوہ متبادل توانائی، جیسے شمسی توانائی کے شعبے میں بھی بے پناہ امکانات موجود ہیں جو صحرائی علاقوں (بادیہ) میں بکثرت دستیاب ہے۔ مزید برآں، صنعت کے لیے ضروری خام مال کی واضح فراوانی اور ایسی زرخیز زرعی زمینیں موجود ہیں جو اندرونی طور پر غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہیں اور پڑوسی ممالک کو برآمدات کے دروازے کھولتی ہیں۔ اور ہم سب سے اہم دولت یعنی شام کے ذہین دماغوں، علمی صلاحیتوں اور ہنر مند افرادی قوت کو بھی فراموش نہیں کر سکتے۔ یہ تمام عوامل مل کر اس بات کو بلا شبہ ثابت کرتے ہیں کہ شام میں اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ایک ایسے عادلانہ معاشی نظام کی عدم موجودگی ہے جو ان دولتوں کے حسنِ انتظام اور لوگوں کے درمیان ان کی متوازن تقسیم پر قادر ہو۔

 

سرمایہ دارانہ اور رینٹیئر (Rentier) نمونوں کی نقل کا جال

کچھ حلقوں کی جانب سے ہمیشہ اس بات کی تشہیر کی گئی کہ شام کے بحران کے لیے چین جیسے بین الاقوامی، یا خلیجی ریاستوں جیسے علاقائی، یا ترکی کے معاشی نمونوں کی نقل کرنا ہی نجات کا راستہ ہے۔ لیکن گہرائی سے مطالعہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نمونے اپنے اندر گہرے ساختی نقائص رکھتے ہیں جو ایک حقیقی اور عادلانہ ترقیاتی منصوبے کے لیے کسی صورت موزوں نہیں ہیں۔

 

جہاں تک چین کا تعلق ہے، تو اپنی عالمی تجارتی پیداوار اور برآمدات کی وسعت کے باوجود، اس نے اپنی برآمدی عظمت ان لاکھوں محنت کشوں کے استحصال پر کھڑی کی ہے جو انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں تاکہ افرادی قوت (لیبر) کی قیمت کو بہت کم رکھا جا سکے۔ رہی بات خلیجی ممالک کی، تو ان کی معیشت رینٹیئر اور صرف کرنے والی (consumer) ہے جو مکمل طور پر تیل کی آمدنی پر منحصر ہے، اور اس ذریعے کے ختم ہونے کی صورت میں یہ پورا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا، جیسا کہ وینزویلا کے ساتھ ہوا جس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، مگر آج وہ حصار اور اپنے معاشی نظام کی خرابی کی وجہ سے شدید غربت کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ ترکی کا ماڈل بھی، اپنی تمام تر سرگرمی کے باوجود، مہنگائی، غربت اور اکثریت کے لیے رہائش کی فراہمی میں دشواری کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جیسا کہ کسی بھی سرمایہ دارانہ معیشت کا حال ہوتا ہے جہاں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتی ہے۔ ایک کامیاب معیشت کی پیمائش ہرگز پیداوار کے حجم سے نہیں کی جاتی، بلکہ اس کی اصل کامیابی دولت کی منصفانہ تقسیم اور ہر فرد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں ہے، جبکہ لوگوں کو ان کی خواہشات اور صلاحیتوں کے مطابق تعیشات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، اس طرح کہ معاشرے کے مطلوبہ معیارِ زندگی کا تحفظ ہو سکے۔

 

بیرونی وابستگی کے خطرات اور قومی وسائل کی نجکاری

شام کی موجودہ انتظامیہ جس سب سے بڑے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، وہ عالمی سرمایہ دارانہ معیشت میں اندھی شمولیت کی کوشش ہے تاکہ امریکہ کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی منصوبوں اور ’ویژن 2030‘ کا حصہ بنا جا سکے۔ یہ خطرہ ان قوانین کی تیاری کے رجحان سے واضح طور پر عیاں ہے جو غیر ملکی کمپنیوں کو تیل نکالنے کے حقوق (امتیازات) دینے کو قانونی حیثیت دیتے ہیں اور غیر ملکیوں کو زرعی زمینوں کی ملکیت اور ان میں سرمایہ کاری کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ اختیار کردہ طریقہ کار ملک کی دولت کی منظم انداز میں بیرونِ ملک لوٹ کھسوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے، جس سے شام کے سپوتوں اور ان کی صلاحیتوں کو غیر ملکی سرمایہ کار کے محض نوکروں اور مزدوروں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

 

حقیقی آزادی کے لیے ایک ایسی خود کفیل معیشت کی تعمیر درکار ہے جس کا اپنا مکمل معاشی چکر ہو اور وہ کسی بھی بیرونی محاصرے کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتی ہو، تاکہ ریاست بیرونی مرضی کی یرغمال نہ بنے۔ یہ اس اصول کی عملی پکار ہے جسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان نے قائم کیا ہے:

 

﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً

"اور اللہ نے کافروں کے لیے مومنوں پر (غلبے کا) کوئی راستہ نہیں رکھا ہے۔" (سورۃ النساء:آیت 141)

 

تاریخ میں ہمارے لیے عبرت موجود ہے۔ 1930 کے عظیم معاشی بحران (گریٹ ڈپریشن) میں صرف وہی ریاستیں بچ سکیں جو عالمی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا نامیاتی حصہ نہیں تھیں۔

 

بیت المال کی شرعی آمدنی بمقابلہ ظالمانہ ٹیکسوں کی وصولی

اس تمام تر افراتفری کے عالم میں ایک مؤثر حل، یعنی اسلامی معاشی نظام کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے، جو اس خرابی کے علاج کے لیے ایک جامع وژن رکھتا ہے۔ اس نظام کا سنہرا اصول مال کے ارتکاز اور اسے چند ہاتھوں میں محدود ہونے سے روکنا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

 

﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ

"تاکہ وہ (دولت) تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتی رہے۔" (سورۃ الحشر:آیت 7)

 

یہ ربانی نظام آج کل رائج ٹیکسوں کی جبری پالیسیوں کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ چنانچہ کم آمدنی والے افراد اور غریبوں پر عائد ٹیکس، ویلیو ایڈڈ ٹیکس (جی ایس ٹی/VAT) اور کسٹم ڈیوٹی شریعت کے ترازو میں 'مکس' (ناجائز ٹیکس) اور شرعاً حرام چوری قرار دیے جاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ» (ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا)۔

 

بلکہ ریاست کی جانب سے بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے عوض بھاری بھرکم بل وصول کرنا ان وسائل کی اس شرعی حیثیت کے سراسر منافی ہے جس کے مطابق یہ تمام شہریوں کی 'ملکیتِ عامہ' (عوامی ملکیت) ہیں، جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں ہے: «النَّاسُ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ» (لوگ تین چیزوں میں شریک یعنی حصہ دار ہیں: پانی، چراگاہ اور آگ یعنی توانائی)۔

 

اس کے برعکس، اسلام میں ریاست کے خزانے (بیت المال) کی آمدنی ٹھوس اور عادلانہ شرعی ذرائع پر مبنی ہوتی ہے، جیسے کہ زکوٰۃ جو مسلمان مالداروں پر فرض کی جاتی ہے تاکہ اسے شرعی مصارف، بالخصوص غرباء پر خرچ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکیتِ عامہ جیسے کہ تیل اور معدنیات سے حاصل ہونے والی بھاری آمدنی کو بھی براہِ راست امت کے مفاد میں اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خرچ کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان کے حقوق غیر ملکی کمپنیوں کو سونپے جائیں۔ اور اگر شرعی ذرائع آمدن ناکافی ہونے کی وجہ سے کوئی ناگہانی خسارہ پیدا ہو جائے، تو اسلام میں ٹیکس صرف صاحبِ حیثیت اور مالدار مسلمانوں پر ہی عائد کیا جاتا ہے، اور یہ کسی بھی صورت میں غریبوں یا کم آمدنی والے طبقے کی جیبوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔

 

خلاصہ کلام یہ کہ شام کو اپنی لپیٹ میں لینے والا معاشی بحران محض کوئی عارضی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک خالص سیاسی اور نظامی بحران ہے جو غیروں کی غلامی کا نتیجہ ہے۔ حکام کا اسلامی معاشی نظام کو غائب رکھنے پر اصرار، خواہ یہ پختہ جہالت کا نتیجہ ہو یا عالمی استعماری قوتوں کے ساتھ عالمی منڈی میں شامل ہونے کے لیے کیے گئے سیاسی سودوں کی تعمیل ہو، یہی لوگوں کی مسلسل تکالیف اور بڑھتی ہوئی غربت کی اصل اور بنیادی وجہ ہے۔

 

قوموں کو مفلس بنانا ان کے سیاسی فیصلوں کو کنٹرول کرنے اور ان کے ارادوں پر قبضہ کرنے کا ایک قدیم استعماری حربہ ہے۔ اس بند گلی سے نکلنے اور اس ذلت آمیز وابستگی سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے ایک حقیقی سماجی شعور کے، جو اصرار کے ساتھ اس جامع ربانی معاشی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرے جو دولت کی تقسیم میں انصاف کو یقینی بنائے، امت کے وسائل کی حفاظت کرے، اور سرمایہ داری کے بے رحم شکنجوں سے دور رہ کر اس کی حقیقی آزادی کو ممکن بنائے۔

 

 

حزب التحریر کے   مرکزی میڈیا آفس کے رکن

 

 

 

 

 

Last modified onہفتہ, 23 مئی 2026 19:19

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک