الأحد، 09 ربيع الأول 1442| 2020/10/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال وجواب :

 

بٹکوائن (Bitcoin) کے بارے میں حکم شرعی

سوال:

امیرِ محترم! اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،

میں اور ایک بھائی بٹکوائن (Bitcoin)، ایتھیریئم (Ethereum)، ڈیش (Dash)، رپل (Ripple) جیسی کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سےمتعلق حکم شرعی پر گفتگو کر رہے تھے۔ ہم نے استاد ابو خالد الحجازی کے اجتہاد کا مطالعہ کیا ہے لیکن دونوں ہی شیخ سے مطمئن نہیں ہیں۔ہمیں شیخ کی کرپٹو کرنسی کی حقیقت کی سمجھ میں مسئلہ محسوس ہوتا ہے، اور اُن کے اجتہادی مضمون کے نیچے کاسیکشن بھائیوں کے اختلافی تبصروں سے بھرا ہوا ہے کہ شیخ نے تحقیق المناط (مسئلے کی حقیقت کی تحقیق) ٹھیک طور پر نہیں کیا ہے۔ ہم کرپٹو کرنسی کی خرید وفروخت کے بارے میں حکم شرعی جاننا چاہتے ہیں۔ برائے کرم راہنمائی فرمایئے، کیونکہ یہ معاملہ واضح نہیں ہے۔ جزاک اللہ خیر۔

شکران جان

 

دوسرا سوال:

اسلام علیکم ،

بٹکوائن (Bitcoin)کرنسی آٹھ سال پہلے وجود میں  آئی اور اب یہ ایک غیر معمولی انداز میں پھیل چکی ہے اور ایک عدد کرنسی کی قیمت 8000 ڈالر سے زائد تک پہنچ گئی ہے، اور میری تحقیق کے مطابق، اس میں اور ڈالر میں کوئی فرق نہیں، سوائے یہ کہ بٹکوائن (Bitcoin) کے مقابلہ میں ڈالر حقیقی جسمانی وجود رکھتا ہے؟ مجھے امید ہے کہ مندرجہ ذیل سوالوں سے متعلق محترم شیخ احکام شریعہ کی روشنی  میں راہنمائی فرمائینگے۔

1) اس کی خرید وفروخت کے معاملے کو واضح فرمائیں ؟

2) سکہ سازی: "نئی کرنسیوں کا اجراء کرنا" ؟

3) اس کے اور دیگر حقیقی جسمانی وجود رکھنے والی کرنسیوں کے درمیان تبادلے کا حکم ؟

اگر آپ چاہیں تو، میں آپ کوویب سائٹس اور یو ٹیوب کے ذریعے اِن کی حقیقت کی وضاحت کرسکتا ہوں،لیکن چونکہ یہ آسانی سے دستیاب ہیں، لہٰذا ضرورت نہ ہو۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کوبرکت دے۔ 

وِصِم الہنینی

ختم شد

 

جواب:

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

بٹکوائن (Bitcoin) سے متعلق ہم نے پہلے ہی اسی طرح کےسوالوں کے جوابات 28/4/2017 دیئے ہیں، اُن جوابات کا متن مندرجہ ذیل ہے:

 

(1 بٹکوائین کوئی کرنسی نہیں ہے؛ یہ کرنسی ہونے کی شرائط کو پورا نہیں کرتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جس کو کرنسی مقرر کیا اور نافذ کیا وہ سونا اور چاندی تھے یعنی دینار اور درہم تھے۔ یہ اسلامی کرنسی تین اہم شرائط کو پورا کرتیں تھی:

1. یہ اشیاء اور خدمات کا اندازہ کرنے کی بنیاد تھیں، اور ان کی مدد سےقیمتوں اور اجرتوں کا اندازہ بھی بہت آسانی سے ہو جاتا تھا۔

2. درہم اور دینار کو ایک مرکزی اتھارٹی کی طرف سے جاری کیا جاتا تھا، اور اسے جاری کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والی اتھارٹی نامعلوم نہیں ہواکرتی تھی۔

3. یہ سہولت صرف کچھ  لوگوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس درہم اور دینار تک بآسانی وسیع پیمانے پر عام لوگوں کی رسائی تھی۔

بٹکوائن مندرجہ بالا تین شرائط پر پورا نہیں اُترتا:

یہ اشیاء اور خدمات کا اندازہ کرنے کی بنیاد نہیں ہے؛ بلکہ یہ صرف خاص اشیاء اور خدمات کے تبادلے کا ایک ذریعہ ہے۔اس کو جاری کرنے والی اتھارٹی معلوم نہیں، بلکہ نامعلوم ہے۔

بٹکوائن کرنسی کی سہولت معاشرے کے تمام لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جو اس میں لین دین کریں اور اس کی قیمت تسلیم کریں۔

اس لئے بٹکوائن کو اسلامی شریعت کی روح سے کرنسی نہیں مانا جاسکتا۔

 

(2- لہذا، بٹکوائن ایک شے ہے نہ کہ کرنسی ؛ البتہ، یہ شے کسی نامعلوم ذریعے کی طرف سے جاری کی گئی ہے؛ اس کے پیچھے کوئی  بیکنگ(backing) نہیں ہے۔اس کے علاوہ یہ دھوکہ دہی، قیاس آرائیوں اور استحصال کابڑا ذریعہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے ذریعے نہ تو تجارت کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسےخریدا یا بیچا جاسکتا ہے۔ اس کی جاری کردہ اتھارٹی کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے شک کیا جاتا ہے کہ یہ کرنسی بڑے سرمایہ دارانہ ممالک، خاص طور پر امریکہ سے منسلک ہے، یا ان ممالک کے کسی مجرمانہ گروہ کے ساتھ منسلک ہے جن کے کوئی خفیہ مقاصد ہیں یا پھر یہ اہم بین الاقوامی کمپنیوں سے منسلک ہے، جو جوئے، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور منظم جرائم کی انجام دہی میں ملوث ہیں۔ ورنہ اور کس وجہ سے اسے جاری کرنے والے نامعلوم ہیں؟

حاصلِ کلام یہ ہے کہ بٹکوائن صرف ایک شے (product) ہے جو کہ کسی نامعلوم (مجہول) ذریعہ کی طرف سے جاری کی  گئی ہے جس کے پیچھے کوئی  حقیقی بیکنگ (backing) نہیں ہے، اور اس لئے قیاس آرائیاں اور دھوکہ دہی اس کے ذریعے بہت آسان ہے، اور یہ بٹکوائن استعماری ممالک، خاص طور پر امریکہ کو موقع فراہم کرتا کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرے اور اُن کے وسائل لوٹ سکے۔

لہذا اس کو خریدنے کی اجازت نہیں ہے، کیونکہ شرعی شواہد کی بنیاد پر مجہول شے (product) کی خرید و فروخت حرام ہے، جس کا ثبوت یہ ہے:

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«نَهَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ»

 

"رسول اللہ ﷺ نے غرر اور حصاة والے لین دین سے منع کیا."(مسلم) ابوہریرؓۃ سے اسے امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ...

"حصاة فروخت" کامعنی یہ ہے کہ جب کپڑوں کا تاجر خریدار سے کہے: "میں آپ کو وہ چیز بیچوں گا جس رُخ پر یہ پتھر(حصاة) اچھالنے کے بعد آکرگرے گا" یا زمین کو فرخت کرنے والا کہے" میں آپ کو وہ زمین بیچوں گا جس رخ پر یہ پتھر(حصاة) اچھالنے کے بعد آکر گرے گا"۔ لہذا، اس لین دین میں جو چیز فروخت کی جا رہی ہے وہ نہ معلوم ہے، اور یہ حرام ہے۔

" غرر کا لین دین" جس کے معنی غیر یقینی چیز کا لین دین ہے، یعنی یہ ایک ایسا لین دین ہے کہ وقوع پذیر ہوبھی سکتا ہے اور نہیں بھی؛ مثال کے طور پر وہ مچھلی بیچنا جو ابھی پانی میں ہی تیر رہی ہو، یا وہ دودھ بیچنا جو ابھی تک گائے کے تهنوں سے نہ نکالا گیا ہو، یا وہ فروخت کرنا جو حاملہ (جانور) کے پیٹ میں ہو وغیرہ وغیرہ؛ یہ حرام ہے کیونکہ یہ لین دین غرر ہے۔

لہذا یہ واضح ہے کہ غرر لین دین یا وہ چیز جو غیر یقینی ہے، جیسے کہ بٹکوائن کی حقیقت ہے، کہ وہ محض ایک شے ہے اور وہ بھی کسی نامعلوم غیرسرکاری ذریعہ کی طرف سے، کہ جس کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ لہذا اس کی خریدوفروخت حرام ہے۔ اختتام

 

آپ کے بھائی،

عطاءبن خلیل ابو رَشتہ

 

30ربيع الاول1439ھ ،

CE 18/12/2017

Last modified onبدھ, 17 جنوری 2018 00:01

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک