الثلاثاء، 22 جمادى الثانية 1443| 2022/01/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    14 من جمادى الأولى 1443هـ شمارہ نمبر: 28 / 1443
عیسوی تاریخ     ہفتہ, 18 دسمبر 2021 م

پریس ریلیز

افغانستان کے انسانی بحران کا حل او آئی سی کے کٹھ پتلی فورم کے محدود امداد کے وعدے نہیں بلکہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ خلافت کی شکل میں وحدت ہے

 

افغانستان کے مجاہد مسلمان اس وقت سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں ،  اور قریباً 4 کروڑ کی آبادی کا آدھا حصہ بھوک کا شکار ہےلیکن اس بحران میں ان کی خاطر خواہ مدد کرنے کے بجائے پاکستان کے ایجنٹ حکمران اس موقع کو بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ طالبان حکومت کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ مکمل طور پر مغربی طرز کی قومی جمہوری اور لبرل حکومت تشکیل دیں۔ اور یہ سب کچھ افغان عوام کی مدد کیلئے او آئی سی کے فورم پر وزرائے خارجہ کی غیرمعمولی کانفرنس کے نام پر کیا جا رہا ہے جس میں افغانستان کے عارضی (Interim)وزیر خارجہ سمیت امریکہ، روس،  چین کے نمائندے بھی شریک ہو رہے ہیں جبکہ جرمنی، کینیڈا، آسٹریلیا اور جاپان کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان افغانستان کے شہریوں کے انسانی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی تشویش کو سنے۔جیسے کہ یہ عالمی برادری افغانستان کے شہریوں کے انسانی حقوق کو پامال کرنے کی ذمہ دار نہیں جب انھوں نے افغانستان پر ناجائز قبضہ کرکے ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا اور لاکھوں افغان شہری زخمی اور معذور ہوئے۔ یہ اسی عالمی برادری کا نام نہاد سربراہ امریکہ ہی ہے جس نے افغانستان کے قریباً 10 ارب ڈالر ضبط کئے ہوئے ہیں اور واپس کرنے سے انکاری ہے۔

 

او آئی سی دراصل مسلمانوں کی وحدت کو روکنے کا فورم ہے تاکہ مسلمان اسی فورم سے "بھائی چارہ" بڑھانے اور "تعاون" کرنے پر ہی قناعت کریں اور عملاً ان مصنوعی، استعماری قومی ریاستوں کی جگہ ایک خلافت کے مشن پر کام نہ کریں۔  مغرب کے ایجنٹ حکمران ہی مسلمانوں کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں ، پس یہ آخر اکھٹے ہو کر مسلمانوں کی تقسیم کو مضبوط بنانے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟ ان نام نہاد مسلم حکمرانوں نے تو اب تک طالبان حکومت کو "تسلیم" تک نہیں کیا، لیکن  ماضی میں افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد امریکی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم کرنے کیلئے یہی حکمران دوڑے چلے گئے تھے۔ کسی ایک بھی مسلم حکمران نے افغانستان پر امریکہ کے غیر قانونی قبضے اور کٹھ پتلی حکومت کے خلاف چوں تک نہ کی تھی اور نہ ہی امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی تھی، لیکن طالبان حکومت کے حوالے سے یہ حکمران امریکی بولی بول رہے ہیں۔  اونٹ کے منہ میں زیرے والی ان کی امداد کے وعدے دراصل وہ رشوت ہے جس کے ذریعے یہ طالبان حکومت کو مزید کمپرومائز(مصالحت) پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حکمران اگر محض بارڈر کھول دیں تو مسلم امت چند دنوں میں اپنے مجاہد بھائیوں کی تمام ضروریات کو پورا کر دے گی۔ اور یہ تب ہو گا جب ان بارڈرز کو ختم کر دیا جائے گا۔  کیا مونٹیمر ڈیورنڈ کی کھینچی ہوئی لکیر یہ فیصلہ کرے گی کہ باڈر کے اِس طرف لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء میسر ہوں لیکن باڈر کے اُس پار مسلمان اور ان کے بچے فاقے کریں؟

 

اے افواج پاکستان!

بہت ہو گیا، افغانستان اور پاکستان دین کی رو سے، جغرافیہ ، تاریخ اور ثقافتی رشتوں سے ایک ہی معاشرہ ہے۔ افغانستان مسلم علاقہ ہے اور اس کے بچوں کی بھوک اور افلاس کے بارے میں قیامت کے روز آپ سے سوال ہو گا۔ افغانستان کو سپورٹ کرنے کی ذمّہ داری بین الاقوامی برادری کی نہیں بلکہ مسلم امت اور اس کے اہل قوت کی ہے۔ آگے بڑھیں اور ان امریکہ نواز حکمرانوں کو ہٹا دیں، اور خلافت کے قیام کے ذریعے امت کو اس کی ڈھال لوٹا دیں۔ افغان عوام  اور اس سے آگے وسطی ایشیا اور مڈل ایسٹ (مشرق وسطیٰ) کے مسلمان آپ کا استقبال کرنے کو تیار ہیں۔ امت اپنے امام، اپنے خلیفہ کے انتظار میں ہے جو بھوکے بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرے، بیواؤں کی داد رسی کرے، مسلم علاقوں کی کفار سے حفاظت کرے اور اسلام کے پیغام کو پوری دنیا تک لے کر جائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا؛

 

﴿۞إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٖ كَفُورٍ﴾

"بے شک اللہ تعالیٰ سچے مومنوں کی دشمنوں کے معاملے میں دفاع کرتا ہے۔ بےشک اللہ کسی خیانت کرنے والے اور کفران نعمت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔"(سورۃ الحج:  38)

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک