الإثنين، 17 محرّم 1444| 2022/08/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    4 من ذي الحجة 1443هـ شمارہ نمبر: 74 / 1443
عیسوی تاریخ     اتوار, 03 جولائی 2022 م

پریس ریلیز

سیکولر جمہوریت کی مانند سیکولر عدالتیں بھی سود کی محافظ ہیں جہاں سود کے خاتمے کا کیس دائروں میں گھومتا رہتا ہے۔ سود کا خاتمہ صرف خلافت میں ممکن ہے جس کے قیام کا وقت آ گیا ہے

 

پاکستان کے مسلمان اس بات پر مشتعل ہیں کہ پاکستان کی معیشت سے سود کے خاتمے کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کو  ایک بار پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، جہاں پہلے بھی اس کیس کو دوبارہ ریویو کے نام پر بیس سال لٹکایا گیا ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اتنے واضح اور قطعی حکم کو تیس برس کورٹ کچہری کے چکر لگاتے گزر چکے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو یاد ہے کہ اسی سپریم کورٹ کے ایک جج نے سود کے خلاف سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ سود لینا نہیں چاہتے نہ لیں، جو لے رہے ہیں انہیں اللہ پوچھے گا۔ جبکہ دوسرے جج نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے باہر مدرسہ کھول کر لوگوں کو سود کے خاتمے کا سبق نہیں دے سکتے۔ تاہم انھوں نے کبھی ٹیکس کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ جو ٹیکس دینا چاہیں تو دے دے، اور جو نہ دینا چاہیں ، اُن سے اللہ پوچھے گا، اور ہم سپریم کورٹ کے باہر لوگوں کو ٹیکس دینے کی تلقین کرنے کا ادارہ نہیں کھول سکتے۔ پاکستان کے عوام کا اس فیصلے کے خلاف اپیل پر غم و غصے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انھیں مکمل یقین ہے کہ سپریم کورٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دے گی۔ یہ ہے پاکستان کی سیکولر عدلیہ کے بارے میں لوگوں کے جذبات و احساسات! تاہم اس فیصلے پر اپیل کرنےکے خلاف غم و غصہ کا اظہار اور اپیل کرنے والے بعض بینکوں کے بائیکاٹ کا اعلان جہاں مسلمانوں کا اس دین سے محبت اور اس کیلئے کچھ کرنے کے جذبے کا اظہار ہے، وہیں پر یہ بعض امور کی وضاحت کا متقاضی ہے:

 

1)      سود کی حرمت قطعی اور اس کی خباثت واضح ہے جس نے پاکستانی معیشت کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی حکومت اور اس کے ادارے آئی ایم ایف کے آلہ کار کے طور پر سودی ادائیگیوں کے لیے پاکستان کے عوام کا خون چوس رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود قومی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جون 2023 تک پاکستان کو 3,950 ارب روپے سود (ربا)  ادا کرنے ہیں، جبکہ اس کے بجٹ میں محاصل ( ٹیکس ریونیو) کا ہدف 7,000 ارب روپے ہے،  اس طرح ٹیکس محاصل کا  56 فیصد سے زیادہ سود کی ادائیگی پر خرچ کیا جائے گا۔ 1982 میں قومی قرضہ 189 ارب روپے تھا، لیکن مارچ 2022 میں یہ 44,366 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔

 

2)      جس طرح پاکستان کی سیکولر جمہوریت، سرمایہ دارانہ استعماری نظام کی محافظ ہے، اسی طرح یہ سیکولر عدلیہ بھی اسی نظام کا حصہ ہے اور اسی سیکولر آئین کے ماتحت ہے۔ یہ عدلیہ اس نظام سے غیر اسلامی اجزاء کو نکالنے کو اپنی ذمے داری نہیں سمجھتی، بلکہ یہ اسی نظام کی عدلیہ ہے اور اس سیکولر سودی نظام کی محافظ ہے۔ اس عدلیہ سے شریعت کے نفاذ کی امید لگانا دیوانے کا خواب ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا؛  

 

« لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ» 

"مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔"(ابن ماجہ بروایت  ابن عمر رضي الله عنه)

 

3)      اسلام ایک مکمل مربوط نظام ہے ، اس کے احکامات ایک دوسرے سے باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ اور ان کو خلافت کے نظام میں ہی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان احکامات کو جزوی طور پر یا جدا گانہ طور پر نافذ کرنے کی کوششوں کا ناکام ہونا یا مطلوبہ نتائج مہیا نہ کرنا ایک منطقی اور فطری نتیجہ ہے۔ اسلام میں رقم کو کاروباروں میں لگانے (انویسٹ) کرنے کا طریقہ کار (مکینزم) براہ راست  شراکتی کاروبار قائم کرنا ہے نہ کہ کوئی "اسلامی" بینکنگ چینل، جبکہ بھاری صنعتیں (ہیوی انڈسٹریز) عمومی طور پر بیت المال سے فنانس کی جاتی ہے۔ کرنسی سونے اور چاندی پر مبنی ہوتی ہے، جس کی قدر وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی۔مالیاتی نظم و ضبط(فسکل ڈسپلن) کے ذریعے خسارے کی نوبت ہی نہیں آتی جس کو پیسے چھاپ کر یا سودی قرضوں کے ذریعے پورا کیا جائے، اور کسی  ہنگامی  صورتحال میں امت سے بلاسود قرضوں یا دولت مندوں سے ایک دفعہ کے ایمرجنسی ٹیکس کے ذریعے اسے پورا کیا جاتا ہے۔ پاکستان ابھی بھی سودی ادائیگیوں کے بغیر بڑی حد تک مالیاتی خسارے ( فسکل ڈیفیسٹ) سے آزاد ہے۔ سونے اور چاندی پر مبنی کرنسی کے باعث بنیادی بین الاقوامی تجارت ڈالر میں نہیں کی جاتی، یوں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے  یعنی ڈالروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے غیر ملکی سودی قرضے بھی نہیں لئے جاتے۔ اور افراد کے آپسی باہمی قرضے اسلام کی رو سے قرضہ حسنہ کے اجر کے حصول کیلئے دئیے جاتے ہیں جس پر امت آج بھی عمل پیرا ہے۔اس کے علاوہ جہاں ضرورت پڑے، ریاست بلا سود قرضے کاروبار کو سپورٹ کرنے کے لیے مہیا کرے گی۔ پس ایک مربوط نظام کے ذریعے سود کی نہ ضرورت پیش آتی ہے اور نہ اسلامی معیشت میں اس کی گنجائش ہے۔ 

 

4)      یہ صرف خلافت ہی ہے جو خلافت کے قائم ہونے کے بعد فوراً سود کو ختم کرے گی اور تمام سود کی ادائیگیوں سے انکار کرے گی۔ جہاں تک اصل  رقم کی ادائیگی کی بات ہے تو خلافت اُن حکمرانوں اور اہلکاروں کو اس رقم کی واپسی کا ذمہ دار ٹھہرائے گی، جنہوں نے یہ سودی قرض لیے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس دور میں  ان کی ذاتی دولت میں  بے پناہ اضافہ ہو ا جس دور میں یہ قرضے لیے گئے تھے۔ لہٰذا، اصل قرض کی رقم کو ان حکمرانوں اور اہلکاروں کی اُس دولت سے ادا کیا جائےگا جو ان کی عام ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے بعد زائد ہوگی ۔

 

5)      اپیل کرنے والے بینک اس اپیل سے قبل بھی سود میں ڈیل کر رہے تھے اور ابھی بھی ایسا کر رہے ہیں۔ اپیل نہ کرنے والے بینک بھی اِس گناہ میں اُسی طرح ہی لُتھڑے ہوئے ہیں۔ اپیل کرنے والا چوتھا بینک، ان بینکوں کا ریگولیٹر، اسٹیٹ بینک ہے جو ملک میں شرح سود کا تعین کرتا ہے اور ان بینکوں کو لائسنس جاری کرتا ہے۔ اور یہ اسٹیٹ بینک اسی ریاستِ پاکستان کا ادارہ ہے جو  SBP Act, 1956 اور Banking Companies Ordinance 1962 کے تحت آپریٹ کر رہا ہے جس کو جمہوری پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے۔ تو اس خبیث درخت کی شاخ تراشی کرنا یا اس کے خبیث پھل کو توڑ کر پھینکنا جبکہ درخت کو باقی رکھنا اس مسئلے کو کبھی حل نہیں کرے گا۔اور جب تک یہ درخت موجود ہے،  یہ ایسے ہی خبیث پھل دیتا رہے گا۔ 

 

6)      یہ خلافت ہی ہو گی جو اس سیکولر جمہوریت اور عدلیہ کو اکھاڑ کر اس کی جگہ اسلام کا نظام قائم کرے گی۔ اسلام سیکولر عدالتوں میں اپیلیں کرنے سے قائم نہیں ہو گا، نہ ہی اس سیکولر آئین پر حلف اٹھانے اور اس کے قواعد و ضوابط کو قبول کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں لابنگ اور تقریروں سے قائم ہو گا، بلکہ یہ اسی منہج نبویﷺ سے قائم  ہو گا جس کے ذریعے ہمارے حبیب محمد ﷺ نے مدینہ میں ریاست قائم کی جب مدینہ میں رائے عامہ قائم کرنے کے بعد مدینہ کے سرکردہ سرداروں اور فوجی کمانڈروں جیسے سعد بن معاذؓ ،  اسید بن حضیرؓاور  سعد بن عبادہ ؓنے بیعت عقبہ ثانی میں اپنا اقتدار اور طاقت رسول اللہ ﷺ کی جھولی میں ڈال دیا۔ اور یوں اسلام کے قیام اور نفاذ کا راستہ ہموار ہو گیا۔ یہ ہے وہ راستہ  ہےجس پر  چلنے کے لیے مسلمانوں کو اپنے بھائیوں، بیٹوں اور عزیز رشتہ داروں کو قائل کرنا چاہیئے ، جو افواج پاکستان میں کلیدی عہدوں پر کام کر رہے ہیں کہ وہ حزب التحریر کو نصرہ دیں جو کہ مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کی تیاری کے ساتھ میدان عمل میں قربانیاں دے رہی ہے اور مسلم دنیا کے سب سے بڑے سیاسی ڈھانچے کے ساتھ عالمی صورتحال پر مکمل گرفت رکھتی ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس کی سربراہی ایسے عالمی سیاستدان علماء کے ہاتھوں میں ہے جو بفضل تعالیٰ امت مسلمہ کو یکجا کرنے اور مسلم علاقوں کو وحدت بخشنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اور اب اس خلافت کے قیام کا وقت آ چکا ہے۔ تو اس  کو قائم کرنے کے عظیم اجر کو حاصل کرنے سے محروم نہ رہیں۔ 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک