الخميس، 09 رمضان 1447| 2026/02/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اداریہ

 

رمضان:  عبادت کا میدان بھی اور  جنگ کا میدان بھی

 

تحریر: استاذہ مسلمہ الشامی (ام صہیب)

(ترجمہ)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی محکم کتاب کی سورہ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ

 

"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں" (سورۃ البقرۃ:آیت 183)،

 

 

اور اس کے چند ہی آیات کے بعد اللہ جل وعلا فرماتا ہے:

 

﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ

 

"تم پر قتال فرض کر دیا گیا ہے"(سورۃ البقرۃ: آیت 214)،

 

 

تاکہ نفس کی اصلاح میں اللہ کی اطاعت اور اس کے دین کی نصرت میں اللہ کی فرمانبرداری کے درمیان تعلق قائم کیا جا سکے۔

 

یہ دو عظیم آیات  نفس کے خلاف جہاد اور دشمن کے خلاف جہاد، یعنی رمضان کی عبادت اور جہاد کی بندوق کو یکجا کرتی ہیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ رمضان صرف روزے، نماز اور عبادت کا مہینہ نہیں ہے، بلکہ یہ جہاد، فتوحات اور کامیابیوں کا مہینہ بھی ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو روحانی عبادت اور ہر قسم کے جہاد کو جمع کرتا ہے۔ یہ روزے اور قیام کے ذریعے نفس کی تربیت گاہ ہے، تو دوسری طرف ظلم کے خلاف لڑنے، مظلوموں کی مدد کرنے اور زبان و مال کے ذریعے جہاد کا میدان بھی ہے۔ یہ وہ ایمانی تربیت گاہ ہے جہاں ہم حق کی نصرت کے لیے دلوں کو تیار کرتے ہیں اور اپنے باطن کو پاک کرتے ہیں تاکہ ہم اللہ کی زمین پر غلبہ و اقتدار (تمکین) کے مستحق بن سکیں، جیسا کہ اسی مبارک مہینے میں اسلام کے وہ بڑے غزوات پیش آئے جن میں نصرت مسلمانوں کا مقدر بنی، جیسے کہ معرکہ بدر جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا (فرقان) تھا اور جس کے بعد مسلمانوں کو عزت و قوت نصیب ہوئی۔ اسی طرح فتح مکہ، جس کے ذریعے سرزمینِ حرم سے بت پرستی کے جھنڈے سرنگوں ہوئے اور اسلام کے جھنڈے سربلند ہوئے۔ اسی مہینے میں مسلمانوں نے "عین جالوت" کے مقام پر تاتاریوں کو شکست دی اور اندلس کو فتح کیا۔ اس کے علاوہ بہت سی ایسی جنگیں اور فتوحات اس بابرکت مہینے میں ہوئیں جن کے مسلمانوں کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

 

یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کے تمام حقائق، اخلاق اور احکامات کھل کر سامنے آتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ

 

"رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے"(سورۃ البقرۃ: آیت185)۔

 

چنانچہ اس مہینے میں خیر، احسان اور ایثار کی تمام نشانیاں مجسم ہو جاتی ہیں۔ ہم دن رات طاعات اور عبادات کے ذریعے اللہ کے قریب ہوتے ہیں، اور احسان، مدد اور محبت کے ذریعے اللہ کی مخلوق کے قریب ہوتے ہیں۔

 

رمضان اس بات کی بھی تاکید کرتا ہے کہ روزہ ان شعائر میں سے ہے جو مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرتا ہے اور انہیں یاد دلاتا ہے کہ ان کا رب ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، ان کا قبلہ ایک ہے اور ان کا غم و فکر بھی ایک ہے۔ لیکن جب سے ریاستِ خلافت کا خاتمہ ہوا ہے، امتِ مسلمہ تفرقے اور بکھراؤ کا شکار ہے، اور ظلم، جبر، ذلت اور غلامی کی زندگی گزار رہی ہے، یہاں تک کہ رمضان کے آغاز اور اختتام کے تعین میں بھی وہ دوسروں کی محتاج ہے! مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اللہ کی کتاب کے مطابق حکمرانی آج بھی معطل ہے، اور ہم پر آج بھی وہ انسانوں کے بنائے ہوئے (وضعی) نظام لاگو ہیں جنہوں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا ہے، اور جس نے ہر طرف فساد پھیلا کر لوگوں کو دربدر کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا خون مباح سمجھ کر بہایا جا رہا ہے جیسا کہ ہم غزہ، کشمیر، چین اور اسلامی ممالک کے ظالموں کی جیلوں میں دیکھ رہے ہیں، اور ہر اس جگہ جہاں مسلمان مظلوم اور کمزور ہیں اور ان کا کوئی نگہبان اور مددگار نہیں۔

 

اور اسی وقت امت یہ محسوس کر رہی ہے کہ اسے اس کی بدحالی سے اللہ کے سوا کوئی نجات نہیں دلا سکتا۔ کیونکہ سب اس پر ٹوٹ پڑے ہیں اور اس کا گوشت نوچ رہے ہیں، اور اس پر وہی وقت آ چکا ہے جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی تھی کہ امتیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے اپنے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

 

لیکن یہ نجات، یہ تبدیلی اور حق کو ثابت کرنے اور دین کو غالب کرنے کا ہدف محض آرزوؤں اور امیدوں سے حاصل نہیں ہوگا، اگرچہ خیر کی امید رکھنا بذاتِ خود ایک اچھی بات ہے۔ اور نہ ہی یہ ہدف صرف دعا سے حاصل ہوگا، اگرچہ ہم اللہ کے حضور عاجزی اور فریاد کے سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ کیونکہ دعا تو مطلوب ہے لیکن اس کی قبولیت کی کچھ شرائط ہیں، اور ان شرائط میں سے ایک اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر لبیک کہنا  ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

 

(اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں قریب ہی ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں" (سورۃ البقرۃ: آیت 186)

 

الحمد للہ، اسلام لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے، اور اللہ کی اطاعت کا جذبہ اور عمل کی لگن بہت سے لوگوں میں موجود ہے۔ وہ دین کے مختلف امور میں دلچسپی رکھتے ہیں، جیسے فضائلِ اعمال کی دعوت، عبادات، سنتیں، قرآن کی تلاوت و حفظ، بدعت کی بیخ کنی، اخلاق کی دعوت، لوگوں کی مدد اور دیگر فضائل، اقدار، اخلاق اور معاملات، چاہے انفرادی طور پر ہوں یا اجتماعی طور پر۔ اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں اور اللہ کے سامنے سبکدوش ہو جائیں گے، اور یہ کہ تبدیلی کے عمل اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ان پر ان کاموں کے علاوہ اور کوئی ذمہ داری نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ شرعی طور پر مطلوب ہے اور اس پر اجر بھی ملتا ہے، لیکن یہ دین کے قیام کے لیے جدوجہد کے فریضے کا نعم البدل نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ شخص کوتاہی کرنے والا شمار ہوگا جو زمین پر اللہ کے حکم کو شرعی طریقے سے نافذ کرنے کے لیے کام نہیں کرتا۔

 

اور رمضان میں، وہ مہینہ جس سے اللہ محبت کرتا ہے اور اس میں مسلمانوں کے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے، ان کے لیے شیطانوں کو جکڑ دیتا ہے، اور اس میں اجر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے، تو مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کی اطاعت صرف ان کاموں تک محدود نہ رہے جن کا ہم نے ذکر کیا یعنی روزہ، نماز، صدقہ وغیرہ، بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ بھی اسی طرح کریں جیسے ان سے پہلے صحابہ اور تابعین نے کیا تھا کہ تمام فرائض کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیں تاکہ اللہ کی عبادت اور اطاعت مکمل ہو جائے اور اجر دوگنا ہو جائے۔ لہٰذا آج ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ دعوت اور اللہ کے حکم و شریعت کے قیام کے لیے جدوجہد کی اطاعت کو بھی شامل کریں، جو کہ خاص ترین اطاعتوں میں سے ہے اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ وہ اطاعت ہے جس سے باقی تمام اطاعتیں وجود میں آتی ہیں اور جس کے ذریعے گناہوں کو روکا جاتا ہے، وہ اطاعت جو مسلمانوں اور ان کے وجود و مرکزیت کی حفاظت کرتی ہے، وہ اطاعت جس کے ذریعے ہم اللہ کے کلمے کو بلند کرتے ہیں، اس کے حکم کو غالب کرتے ہیں اور اسلام کی خیر کو پوری زمین اور تمام انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہی وہ اطاعت ہے جس کے ذریعے اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سے یہودیوں، امریکہ اور کفر کی تمام قوتوں کے شر کو دور فرمائے گا۔ یہ وہ اطاعت ہے جو اپنے اپنوں اور بیگانوں سب کے لیے خیر لاتی ہے، یہ وہ اطاعت ہے جس کے بغیر کسی خیر کا وجود ممکن نہیں۔

 

بیشک رمضان سال کے کیلنڈر میں کوئی عارضی پڑاؤ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کوئی ایسا روحانی سیزن ہے جس کا اثر اس کے ایام گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے، بلکہ یہ انسان کی زندگی میں فیصلہ کن لمحات ہیں۔ ایک ایسا موقع جو اللہ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے تاکہ وہ اپنی ترجیحات اور اپنے معاملات کی ترتیبِ نو کریں، اپنے دلوں کی اصلاح کریں، اپنی زندگی کا رخ درست کریں، اور اللہ کے مزید قریب ہو کر ایک نئے سفر کا آغاز کریں۔ اور اللہ کے نزدیک اس کے دین کو غالب کرنے اور اس کے کلمے کو بلند کرنے کی جدوجہد سے بڑھ کر کوئی اور عمل ایسا نہیں ہے جو انسان کو اس کے قریب کر دے۔ اور یہ ہدف اس مخلص گروہ کے ساتھ مل کر سنجیدہ جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں جو رسول اللہ کے طریقے کی پیروی کرتا ہے اور زمین پر اللہ کی شریعت کو دوبارہ نافذ کرنے اور منہج نبوت پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے، جس کا وقت اب قریب آ چکا ہے جیسا کہ حالات سے ظاہر ہے، اور مبارکباد ہے اس کے لیے جو اس کا گواہ اور اس کا سپاہی بنا۔

 

اے ایمان والے مسلمانو! آپ کی امت تاریخ کے مختلف ادوار اور رمضان کے مہینوں میں بڑی بڑی آزمائشوں اور شدید سختیوں سے گزری ہے، لیکن وہ اللہ کے فضل اور پھر اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرنے والی ایک مضبوط ریاست کی بدولت ثابت قدم رہی اور اسے فتح نصیب ہوئی۔ یہ امت خالص سونے کی طرح ہے کہ اسے جتنا آگ پر تپایا جائے اس کی چمک اتنی ہی بڑھ جاتی ہے، اور اسی طرح قرآن کی اس امت کو دوبارہ پلٹنا ہوگا، چاہے اس پر مصائب و مشکلات کے پہاڑ کتنے ہی کیوں نہ ٹوٹیں اور شر کی قوتیں متحد کیوں نہ ہو جائیں، جیسا کہ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا ہے:

 

﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

 

"اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو"(سورۃ آلِ عمران: آیت  139)

پس اس رمضان کو اپنے حق میں گواہ بنائیں اور اسے اپنے خلاف گواہ نہ بننے دیں، اسے نصرت اور غلبے (تمکین) کا مہینہ بنائیں اور اسے بے بسی اور کمزوری کا مہینہ نہ بننے دیں۔

Last modified onجمعرات, 26 فروری 2026 00:12

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک