الخميس، 09 رمضان 1447| 2026/02/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اعتدال اور وسطیت کے نام پر اسلامی بیانیے کی وحدت کی کانفرنس

 

تحریر: استاد احمد الصورانی

(ترجمہ)

 

15 فروری 2026ء  براز اتوار کو دمشق کے 'قصر المؤتمرات' (کانفرنس پیلس) میں وزارتِ اوقاف کی پہلی کانفرنس بعنوان "اسلامی بیانیے کی وحدت" کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ یہ کانفرنس ریاست کی سربراہی اور سپریم افتاء کونسل کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جس میں شام کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علمی اور دعوتی مکاتبِ فکر کے علماء، مبلغین اور سرکاری و مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا اختتام کئی سفارشات پر ہوا جنہیں ایک حتمی چارٹر (میثاق) کی شکل دی گئی۔ میڈیا کے ذرائع، بشمول سرکاری خبر رساں ایجنسی 'سانا' نے، اس کے چھٹے اصول پر خاص توجہ مرکوز کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کانفرنس کا مقصد مذہبی بیانیے کو اعتدال اور وسطیت کے منہج پر متحد کرنا ہے۔

 

مذہبی بیانیے کو اعتدال اور وسطیت کی بنیاد پر متحد کرنے کا تصور دراصل "مذہبی بیانیے کی تجدید" کے اسی خیال کا دوسرا نام ہے جسے مغربی ممالک ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد اس بیانیے کا مقابلہ کرنا ہے جسے 'شدت پسند'، 'انتہا پسند' اور 'دوسروں کو رد کرنے والا' (ایکسکلوژنسٹ) بیانیہ قرار دیا جاتا ہے۔

 

کانفرنس کے چارٹر کے چھٹے اصول میں درج ہے کہ: "اعتدال اور وسطیت ایک مستند اسلامی منہج ہے، اور یہ وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے ہر مذہبی بیانیے کو افراط و تفریط (کمی یا زیادتی) سے دور رکھ کر منظم اور قابو میں لایا جائے گا۔" اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً

 

"ور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا" (سورۃ البقرۃ: آیت 143)

 

پس، اصل مقصد مذہبی بیانیے کو کنٹرول کرنا ہے، یعنی اس مبینہ بنیاد پر شرعی احکامات اور فتووں کو ایک خاص سانچے میں ڈھالنا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو کسی بھی مذہبی بیانیے کی سمت متعین کرے گی، خواہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، اور ان دیگر تعبیرات کے سامنے رکاوٹ بنے گی جو افراط یا تفریط کی طرف مائل ہو سکتی ہیں۔

 

لیکن اس آیتِ کریمہ کا اصل مطلب کیا ہے؟ کیا یہ واقعی 'وسطیت اور اعتدال' کے اس  منہج کی طرف اشارہ کرتی ہے، یا کسی اور چیز کی طرف؟

 

حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ:

 

﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ويَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً

 

"اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے"(سورۃ البقرۃ: آیت  143

 

اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہم نے تمہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبلے کی طرف اس لیے پھیرا اور اسے تمہارے لیے اس لیے چنا تاکہ ہم تمہیں تمام امتوں میں سے بہترین امت  بنائیں، تاکہ تم قیامت کے دن دیگر امتوں پر گواہ بنو۔ کیونکہ تمام لوگ تمہاری فضیلت کا اعتراف کریں گے۔ یہاں 'وسط' سے مراد 'بہترین اور عمدہ ترین' ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ قریش نسب اور گھر کے لحاظ سے عربوں میں سب سے 'اوسط' ہیں، یعنی سب سے بہتر ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ اپنی قوم میں 'وسط' تھے، یعنی نسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ معزز۔ اسی سے 'نمازِ وسطیٰ' (درمیانی نماز) ہے جو کہ تمام نمازوں میں سب سے بہترین نماز ہے، اور وہ عصر کی نماز ہے، جیسا کہ صحیح احادیث اور دیگر ذرائع سے ثابت ہے۔ اور جب اللہ نے اس امت کو 'وسط' (بہترین) بنایا تو اسے مکمل ترین شریعت، درست ترین طریقہ کار اور واضح ترین مسلک سے بھی نوازا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيداً عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ (سورۃ الحج:آیت 78)

 

"اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے، اسی نے تمہیں چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، یہ تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے، اسی نے پہلے تمہارا نام 'مسلم' رکھا اور اس کتاب میں بھی، تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو"۔" یہاں ابن کثیر کی گفتگو ختم ہوئی۔

 

پس، 'وسطیت' کا اصل مفہوم یہی ہے: یعنی بہترین اور برتر ہونا۔ اس میں عدل و انصاف کی اس صفت کا معنی بھی شامل ہے جو گواہوں کے لیے لازمی ہے، اور یہ امتِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک بنیادی شرط ہے جو قیامت کے دن دیگر امتوں پر اس بات کی گواہی دے گی کہ رسولوں کے پیغامات ان تک پہنچ چکے تھے۔ یہ نظریہ اس 'معتدل اور وسطی بیانیے' کے تصور کی قطعی نفی کرتا ہے جو مغرب کو خوش کرنے کے لیے گھڑا گیا ہے، جس کا مقصد اسلام کے احکامات میں تبدیلی لانا ہے تاکہ انہیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ یہ (مغربی تصور) ہر اس اسلامی بیانیے کو 'انتہا پسند' قرار دیتا ہے جو عملی زندگی میں اسلام کی حکمرانی کی دعوت دیتا ہے اور مومنین و کافرین کے درمیان واضح امتیاز کی بات کرتا ہے، اور اسے اس اعتدال کے خلاف سمجھتا ہے جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ مغرب ایک ایسا اسلام چاہتا ہے جس سے رہنمائی صرف حیض، طہارت، نماز، حج اور انفرادی عبادات کے مسائل تک محدود ہو۔ وہ ایسا اسلام ہرگز نہیں چاہتا جو دنیا کے سیاسی، معاشی اور سماجی نقشے کو بدل کر رکھ دے اور سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کے طور پر ایک نظام بن کر ابھرے، کیونکہ یہی سرمایہ دارانہ نظام انسانیت کی تمام تر بدبختیوں کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے مغرب موجودہ شامی انتظامیہ پر یہ دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ ریاست اور معاشرے میں اسلام کو نہ اپنائے، بلکہ اسلام صرف مساجد اور پرسنل لاء (عائلی قوانین) کے چند حصوں تک ہی محدود رہے۔ وہ انہیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر اس اسلامی رجحان یا بیانیے کو کچل دیں جو شام میں ایک ایسی حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے جو اسلام کو زندگی کے ایک مکمل اور جامع نظام کے طور پر نافذ کرے۔

 

اس صورتحال میں، کانفرنس کے منتظمین یعنی علماء اور مشائخ کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ وہ اس اجلاس کو شامی انتظامیہ سے شریعتِ اسلامی کے نفاذ اور ملک میں سیکولر  طرزِ حکومت کے خاتمے کے مطالبے کا ذریعہ بناتے۔ کیونکہ صرف اسلامی نظام ہی ہمارے تمام مسائل کو حل کرنے کا ضامن ہے اور یہی اسلامی مسالک اور فرقوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات کے دائرے کو محدود کر سکتا ہے۔ جیسا کہ علمِ اصول کے ماہرین نے یہ ضابطہ بیان کیا ہے کہ 'حاکم (امام) کا حکم اختلاف کو ختم کر دیتا ہے'۔

 

اصل مسئلہ اسلامی بیانیوں کا تنوع یا بہتات نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ امت کے اس نگران اور سربراہ کا نہ ہونا ہے جو اسلام کے احکامات کے مطابق اس کے معاملات چلائے، اس کے بکھرے ہوئے شیرازے کو اکٹھا کرے، اس کے مظلوموں کی مدد کرے، اس کی سرحدوں کی حفاظت کرے، اور ذلت، رسوائی، انتشار، بربادی اور مشرق و مغرب کی غلامی میں گزرنے والی ایک صدی کے بعد اسے اس کی کھوئی ہوئی عزت اور باوقار زندگی دوبارہ لوٹا دے۔

 

 

Last modified onبدھ, 25 فروری 2026 23:54

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک