الثلاثاء، 06 شوال 1447| 2026/03/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ اور اس کے غنڈے، یہودی وجود کے خلاف جہاد کا اعلان ہی ہمارے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ ہے

 

خبر:

 

پاکستان کےنائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل 17 مارچ 2026 کو اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے حل اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق، ڈار نے یہ بات پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری موغدام سے ملاقات کے دوران کہی۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں دفتر خارجہ نے کہا، ایرانی سفیر نے "اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کی طرف سے بھرپور اخلاقی حمایت" کے لیے شکریہ ادا کیا۔ [1]

 

تبصرہ:

 

ایران کے خلاف شیطانی محور ،امریکہ اور اس کے غنڈے، یہودی وجود کی جارحیت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی اداروں جیسے اقوام متحدہ یا بین الاقوامی عدالت انصاف یا کسی اور بین الاقوامی فورم پر مسلمانوں کی سرزمین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ سب سے بڑے شیطان، امریکہ اور بڑی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔

 

امریکہ اور یہودی وجود کے شیطانی محور کی ایران کے خلاف جارحیت نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی کسی بھی مسلم ملک کی فوجی طاقت کو برداشت نہیں کر سکتے چاہے وہ ان کے ساتھ کتنا ہی تعاون کرے یا رعایتیں دے۔ امریکی سیکریٹری جنگ پیٹ ہیگسٹھ(Pete Hegseth) نے کہا کہ "ایران جیسی پاگل حکومتیں، جو اسلام کے پیغمبرانہ فریبوں پر تلی ہوئی ہیں، جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتیں۔" (“crazy regimes like Iran, hell-bent on prophetic Islamist delusions, cannot have nuclear weapons,”)۔نیز سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے 3 مارچ 2026 کو کہا کہ "اس دہشت گرد، بنیاد پرست، مولویوں کی قیادت والی(ایرانی) حکومت کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔" اگرچہ گزشتہ 26 برسوں میں ایرانی حکومت نے افغانستان، عراق، یمن اور شام میں امریکہ کی خارجہ پالیسی مقصد کے حصول میں امریکہ کی بھرہور معاونت کی لیکن جب امریکی خارجہ پالیسی کے مقصد کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایران کی فوجی طاقت کو  لپیٹنے(رول بیک) کی ضرورت پڑی تو امریکہ نے ایرانی حکومت کی خدمات کو نظر انداز کر دیا۔ امریکہ کا یہ رویہ ایک سبق ہے جو مسلم دنیا کے کسی بھی حکمران کو نہیں بھولنا چاہیے۔

 

پاکستان میں دانشور، سیاسی تجزیہ نگار اور سیاست دان کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان امریکہ اور اس کے غنڈے یہودی وجود کا اگلا نشانہ ہو گا۔ اور وہ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ، اس کا غنڈہ یہودی وجود اور اس کے مغربی اتحادی ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی ممکنہ صلاحیتوں اور اس کے میزائل ہتھیاروں کو برداشت نہیں کر رہے ہیں، تو یہ شیطانی  محور کیسے پاکستان کی زبردست عسکری صلاحیتوں کو برداشت کرے گی، جو کہ ایران سے کہیں زیادہ زبردست میزائل صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ایک اعلان شدہ ایٹمی طاقت ہے، اور پاکستان کو ایران کے طرح دیوار کی طرف دھکیلنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ یو ایس نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے بدھ، 18 مارچ 2026 کو خبردار کیا تھا کہ "پاکستان کا ترقی کرتا ہوا میزائل پروگرام امریکہ کو پاکستان کے میزائل کی رینج میں لا سکتا ہے۔"[2] لہٰذا امریکہ پہلے ہی پاکستان کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے بنیادیں تیار کر رہا ہے۔

 

عالمی اور خطے کی موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ پہل کرے، معاملات اپنے ہاتھ میں لے اور ایران کے مسلمانوں کی اخلاقی حمایت کے بجائے ان کی فوجی حمایت کرکے خطے سے امریکی تسلط کا خاتمہ کردے۔ امریکہ بین الاقوامی سطح پر اور خطے میں تنہا ہے۔ امریکہ کے  تکبر نے اس کے قابل اعتماد مغربی اتحادیوں کو مجبور  کر دیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول لینے کی کوشش میں امریکہ کو تنہا چھوڑ دیں۔ روس اور چین یوریشیا میں امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ علاقائی عرب حکومتیں امریکی حمایت کے باوجود خود کو محفوظ نہیں محسوس کر رہی ہیں کیونکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ کو صرف یہودی وجود کی سلامتی کی فکر ہے نہ کہ عرب حکومتوں کی، جہاں اس کے متعدد فوجی اڈے ہیں۔ لہٰذا اگر پاکستان اب اپنی جوہری چھتری ایران اور پورے خلیجی خطے تک پھیلا دے تو امریکا کو اس خطے سے باآسانی نکال باہر کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد یہودی وجود اگر گھنٹوں میں نہیں تو دنوں میں ضرور ختم ہو جائے گا۔

 

پاکستان کو سنہری موقع ملا ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ کو ملا تھا، جب قریش مکہ نے معاہدہ حدیبیہ کی خلاف ورزی کی تھی۔ ابو سفیان نے معاہدہ بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن رسول اللہﷺ نے اس کی صلح کی کوششوں کا جواب نہیں دیا بلکہ مسلمانوں کی فوجوں کو مکہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا اور 8 ہجری کے 20 رمضان کو مکہ فتح ہوا اور اگلے ڈیڑھ سال میں پورا جزیرہ نما عرب اسلامی ریاست کے زیر تسلط ہو گیا۔

 

پاکستان پچھلے سال مئی میں کشمیر کو آزاد کرانے کا سنہری موقع گنوا چکا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج نے ہندوستانی فضائیہ کو مکمل دو دن تک معذور کر دیا تھا۔ ان دو دنوں میں اگر پاکستان کی مسلح افواج سری نگر کی طرف بڑھتیں تو بھارت جوابی کارروائی کی پوزیشن میں نہ ہوتا۔ لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے ٹرمپ کو خوش کرنے کو ترجیح دی اور کشمیر کو آزاد کرانے اور ہندو ریاست کی بالادستی کے خاتمے کا سنہری موقع گنوا دیا۔

 

ایک بار پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پاکستان کو  سنہری موقع دیا ہے بلکہ پہلے سے بھی بڑا سنہری موقع دیا ہے؛ پورے خطے کو امریکی تسلط سے آزاد کرانا اور بالآخر مسجد الاقصی، فلسطین کی مکمل آزادی۔ لیکن پاکستان کے موجودہ حکمران اس سنہری موقع کو بھی حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے مسلح افواج میں موجود مخلص افسران کو چاہیے کہ وہ اب نبوت کے طریقے پر خلافت قائم کرنے کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ دیں، تاکہ ایک صالح خلیفہ جہاد میں ان کی قیادت کرے اور اس دین اسلام اور اس کی امت کو ایک بار پھر عظیم بنائے، بفضلِ اللہ تعالیٰ۔

 

﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ

"اور جو شخص اللہ, اس کے رسول ﷺ اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ اللہ کی جماعت میں داخل ہوگا اور) اللہ کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے۔" (المائدہ: 56)

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے ولایہ پاکستان سے شہزاد شیخ نے تحریر کیا

 

[1] https://www.dawn.com/news/1983074/dar-stresses-dialogue-diplomacy-for-achieving-regional-peace-in-meeting-with-iranian-ambassador

[2] https://ommcomnews.com/world-news/pakistan-missiles-could-hit-us-tulsi-gabbard/

Last modified onمنگل, 24 مارچ 2026 18:38

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک