الأحد، 19 صَفر 1448| 2026/08/02
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

قرآنِ کریم کے ساتھ

 

اسلامی عقیدے کی انسانی فطرت (الفِطرة) کے ساتھ موافقت

 

خلیفہ محمد – اردن

(عربی سے ترجمہ)

 

الواعی میگزین، شمارہ نمبر 481

صفر 1448ھ، بمطابق جولائی 2026ء

https://www.al-waie.org/archives/article/20443

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيل َلِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

"پس آپ یکسو ہو کر اپنا رُخ اس دین کی طرف قائم رکھیں، یہی اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی پیدا کی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی سیدھا اور درست دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے" [سورة الروم؛ 30:30]

 

یہ مبارک آیت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی متعدد نشانیوں کے ذکر کے بعد آئی ہے؛ جن میں سے چند یہ ہیں: زِندہ کو مردہ سے نکالنا اور مردہ کو زِندہ سے نکالنا، زمین کو مر جانے (بنجر ہو جانے) کے بعد دوبارہ زِندہ کرنا ( زرخیز کر دینا)، انسان کو مٹی سے پیدا کرنا، انسانوں کے لئے جوڑے بنانا تاکہ وہ ان کے پاس سکون حاصل کریں، اور میاں بیوی کے درمیان محبت و رحمت پیدا کرنا، آسمانوں اور زمین کی تخلیق، مختلف زبانوں اور رنگوں کا تنوع، رات کے وقت لوگوں کا سونا اور دن کے وقت اس کا فضل تلاش کرنا، اور یہ کہ وہ ﷻ ہمیں خوف اور امید کے طور پر بجلی کی کڑک دکھاتا ہے، اور آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے تاکہ زمین کو اس کے بنجر ہونے کے بعد زِندہ کرے، اور آسمانوں اور زمین کا اس کے حکم سے قائم رہنا، اور قیامت کے بعد ہمیں دوبارہ زِندہ کرنے پر اس ﷻ کی قدرت، اور یہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اسی کی ملکیت ہے اور تمام مخلوقات اس کی فرمانبردار ہیں، اور یہ کہ وہی ﷻ تخلیق کرتا ہے اور وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ یہ مبارک آیت، جس پر ہم بات کر رہے ہیں، حرفِ عطف "الفاء" (پس) سے شروع ہوتی ہے جو وضاحت کے لئے ہے (الفاء الفصيحة)، اور یہ اپنے بعد آنے والے کلام کو پہلے والے سیاق و سباق سے مفہوم کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس کا اشارتاً مفہوم یہ ہے: "اگر تم پچھلی آیات سے اللہ ﷻ کی قدرت اور عظمت کو جان چکے ہو، تو اب یکسو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف موڑ لو" یہ انداز نہایت بلیغ اور مختصر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی "الفاء" پر اکتفا فرمایا، جو اپنے اندر وہ مفہوم سموئے ہوئے ہے جو سیاق و سباق سے، یعنی اس سے پہلے بیان کی گئی متعدد آیات سے، خود بخود سمجھ میں آ جاتا ہے۔

 

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ کے لئے یہ حکم آیا کہ وہ اپنا رخ دینِ حق کی طرف موڑ لیں۔ اللہ ﷻ کا اپنے نبی ﷺ سے خطاب دراصل ان کی پوری امت سے خطاب ہوتا ہے، الا یہ کہ کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو اسے صرف نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص کرتی ہو۔ یہاں تخصیص کی ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، لہٰذا اپنا رخ دینِ حق کی طرف موڑنے کا یہ حکم عام ہے جو رسول اللہ ﷺ اور ان کی امت دونوں کو شامل ہے۔ اس بات کی مزید تائید اس کے فوراً بعد آنے والی اس آیت سے ہوتی ہے:

 

﴿مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾

"(اس حال میں کہ) اسی کی طرف رجوع کرنے والے رہو، اور اس سے ڈرو، اور نماز قائم کرو، اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ" [سورۃ الروم؛ 30:31]۔

 

یہاں لفظ ﴿مُنِيبِينَ﴾ "اس کی طرف رجوع کرنے والے" جمع کے صیغے میں ہے، اور اس کے بعد آنے والے دو احکامات اور نہی (ممانعت کا حکم) پورے معاشرے (جماعة) سے مخاطب ہیں : یعنی ﴿وَاتَّقُوهُ﴾"اور اس سے ڈرو"، ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ "اور نماز قائم کرو"، اور ﴿وَلَا تَكُونُوا﴾ "اور نہ ہو جاؤ [ان لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا]" یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سابقہ آیت میں رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا حکم صرف آپ ﷺ کے لئے ہی مخصوص نہیں، بلکہ پوری امت کے لئے عام ہدایت ہے۔

 

چہرے کو قائم کرنے یا سیدھا رکھنے کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ چہرے کو بغیر کسی دائیں یا بائیں جانب موڑے، بالکل سیدھا اسی چیز کی طرف رکھنا جس کی طرف دیکھا جا رہا ہو۔ یہ دین کے لئے مکمل اور خالص لگن بطورِ استعارہ بیان کرنے کا ایک اسلوب ہے۔ چہرے کا قائم کرنا اور اس کا رخ متعین کرنا قرآنِ کریم میں ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر ہوا ہے؛ جیسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے الفاظ کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے ارشاد ہے:

 

﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ﴾

"بے شک میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا" [سورۃ الانعام؛ 6:79]۔

 

اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ ارشاد:

 

﴿وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾

"اور ہر سجدے کے وقت اپنے رخ سیدھے (قبلہ کی طرف) رکھو، اور اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اسے پکارو" [سورۃ الاعراف؛ 7:29]

 

اور اس کے علاوہ دیگر آیات میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔

 

لفظ ﴿الدِّينِ﴾ پر آنے والا معرفہ کا حرف "ال" اس مخصوص، متعین اور مشروع دین کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا حکم اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دیا ہے، یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی کے ذریعے نازل فرمایا۔

 

اور جہاں تک لفظ ﴿حَنِيفًا﴾ (یکسو، حق کی طرف مائل) کا تعلق ہے، تو 'الحنيف' کے لغوی معنی ہیں 'میلان اختیار کرنا'، یعنی باطل سے منہ موڑ کر حق کی طرف پوری طرح مائل ہو جانا۔ حق اور باطل ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایمان اور کفر بھی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو خالق، رازق اور مدبرِ کائنات ماننے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے سوا ہر معبود، ہر باطل عقیدے اور ہر جھوٹے دعوے کا انکار کیا جائے۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّاغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ﴾

"پس جو شخص طاغوت (باطل معبودوں) کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، تو یقیناً اس نے مضبوط سہارا تھام لیا" [سورۃ البقرة؛ 2:256)۔

 

اور ارشاد فرمایا:

 

﴿فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَا﴾

" یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے نوع انسان کو پیدا کیا ہے" [سورۃ الروم؛ 30:30]۔

 

لفظ "الفِطرة" (فطرت) فعل "فَطَرَ" سے ماخوذ ہے جس کے معنی "تخلیق کیا گیا" کے ہیں۔ اسی سے اللہ ﷻ کا یہ فرمان ہے: ﴿ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ فَاطِرِ ٱلسَّمَـٰاوَٰاتِ وَٱلۡأَرۡضِ﴾ "تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا فاطر ہے" [سورۃ فاطر؛ 35:1] یعنی آسمانوں اور زمین کا خالق۔ اس آیت میں الفطرۃ(فطرت) کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تعظیم و تکریم کے لئے کی گئی ہے، کیونکہ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس نفس کی قسم کھائی ہے جس میں یہ فطرت ودیعت کی گئی ہے اور جسے اس نے متوازن اور درست بنایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:

 

﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا * فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَاهَا﴾

"اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست (تناسب کے ساتھ) بنایا، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کر دی" [سورۃ الشمس؛ 91: 7-8]

 

پھر اللہ ﷻ نے انسان کی اس جبلی فطرت کو ان تمام چیزوں کی بنیاد قرار دے کر اس کی مزید توثیق فرمائی جن پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اور اس مقصد کے لئے حرفِ جر "علیٰ" (پر) کا استعمال فرمایا جو استعلاء (غلبے اور برتری) کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی وجہ انسانوں پر اس فطرت کا وہ گہرا اثر ہے کہ گویا یہ ان کے اوپر غالب، مسلط اور ان کے اندر مضبوطی سے قائم و دائم ہے۔

 

یہاں فعل محذوف سمجھا جاتا ہے، یعنی مفہوم یہ ہے: "اس چیز کی پیروی کرو اور اسے مضبوطی سے اختیار کرو جس کا تقاضا تمہاری وہ فطرت کرتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے، یعنی اپنا رخ اللہ کے دین کی طرف یکسو کر لو"۔ اس کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس فطرت کے ثبات، دوام اور ناقابلِ تغیر ہونے کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

 

﴿لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ﴾

"اللہ کی خلق (بنائی ہوئی فطرت) میں کوئی تبدیلی نہیں" [سورۃ الروم؛ 30:30]

 

 چنانچہ آدم علیہ السلام سے لے کر زمین پر آنے والے آخری انسان تک، تمام انسان اسی فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں، اور یہ فطرت اپنی اصل حقیقت میں کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی اپنی راہ سے ہٹتی ہے۔ یہ جبلی انسانی فطرت ہی وہ اندرونی میلان اور نفسیہ ہے جس پر نوعِ انسانی کو تخلیق کیا گیا ہے؛ اور اس کی بنیاد انسان کے اندر عجز (بے بسی) اور نقص (نہایت محتاج ہونے) کا قدرتی احساس ہے، جو صرف اور صرف خالقِ کائنات—اللہ سبحانہ و تعالیٰ—کی تعظیم و توقیر کو لازم اور ضروری بناتا ہے۔

 

جہاں تک اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ﴾ "یہی سیدھا اور درست دین ہے" [سورۃ الروم؛ 30:30]، تو یہاں اسمِ اشارہ ﴿ذَٰلِكَ﴾ (یہی) اس دین کی عظمت، امتیاز اور اس کی اہمیت کو مزید نمایاں کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ لفظ "القیِّم" (سیدھا) ایک وصف ہے جو "فَیْعِل" کے وزن پر ہے، جیسے "ہَیِّن" (آسان) اور "جَیِّد" (عمدہ)۔ یہ وزن اس صفت کی مضبوطی اور پختگی کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے اندر موجود ہے۔ یہاں "القیِّم" کو کجی اور ٹیڑھے پن کی نفی کے لئے بطورِ استعارہ استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ ان آیات میں آیا ہے: ﴿وَلَمۡ يَجۡعَل لَّهُۥ عِوَجَا ۝ قَيِّمًا﴾ "اور اس (کتاب) میں کسی قسم کی کجی نہیں رکھی، بلکہ اسے بالکل سیدھا اور درست بنایا" [سورۃ الکہف؛ 18: 1-2] اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ﴾ "یہی سیدھا، مضبوط اور درست دین ہے" [سورۃ التوبۃ؛ 9:36]

 

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ﴾ "لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے" [سورۃ الروم: 30] کا تعلق ہے، تو یہ اکثر لوگوں—یعنی کفار اور مشرکین—کی اصل حقیقت کو واضح کرنے کے لئے ایک بیان ہے، جو اپنے دنیوی امور میں مشغول ہیں اور اس علم سے غافل ہیں جو انہیں سچے دین کی تفہیم تک لے جاتا ہے۔ یہ بات قرآنِ کریم کے متعدد مقامات پر اکثر لوگوں کے لا علم ہونے، بے اعتقاد ہونے اور ناشکرے ہونے کے اوصاف سے مطابقت رکھتی ہے۔

 

اس سیاق و سباق میں "الفِطرة" (فطرت) سے مراد انسان کے اندر رکھے گئے میلان کے وہ فطری اور جبلی تقاضے ہیں جن میں جسمانی حاجات مثلاً کھانے، پینے، سونے وغیرہ کی حاجت، اور تین بنیادی جبلتیں—جبلتِ تدین، جبلتِ بقا، اور جبلتِ نوع —اپنے مختلف مظاہر، اور ان سے متعلق احساسات اور میلان کے ساتھ شامل ہیں۔

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ» "ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی (آتش پرست) بنا دیتے ہیں" (صحیح ابن حبان، اور اسے بخاری و مسلم نے بھی روایت کیا ہے) اور امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا» "اللہ عزوجل نے فرمایا: 'میں نے اپنے تمام بندوں کو یکسو اور حق کی طرف مائل (حنفاء) پیدا کیا ہے، لیکن ان کے پاس شیاطین آئے اور انہوں نے انہیں ان کے دین سے بہکا دیا، اور ان کے لئے وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شریک ٹھہرائیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں'"

 

چنانچہ، انسانی فطرت (الفِطرة) کہ جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے، خالص توحید اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور مکمل تسلیم و رضا کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہے؛ جس کا مطلب نوعِ انسانی کی محدودیت اور نقائص کا اعتراف کرنا، اور صرف اور صرف خالق و رازق کی تقدیس و تعظیم کرنا ہے۔ لہٰذا، عقیدے کی اصل بنیاد انسانی فطرت کے مطابق ہے: یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت، اور عبادت و حاکمیت کو صرف اسی کے لئے خالص کرنا۔ یہی وہ مشترک اصول ہے جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی رسالتوں اور دعوت کا بنیادی پیغام رہا ہے۔

 

اور جہاں تک شریعت کے مقررکردہ احکامات کا ذکر ہے، تو وہ انسان کی جسمانی ضروریات اور فطری جبلّتوں کے تقاضوں کو درست اور متوازن انداز میں پورا کرنے کے لئے نازل کیے گئے ہیں، تاکہ انسان حقیقی سعادت حاصل کر سکے۔ اسلام نہ تو ان خواہشات اور تقاضوں کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے، اور نہ ہی انہیں مکمل طور پر دبا دیتا ہے۔ بلکہ اسلام کا فلسفۂ حیات اس اصول پر قائم ہے کہ مادی اور روحانی پہلو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ چنانچہ انسان اپنی مادی ضروریات اور دنیاوی اعمال انجام دیتا ہے، لیکن انہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکام و نواہی کا پابند بنا کر انجام دیتا ہے۔ اس طرح اس کے اعمال میں روحانی پہلو بھی پیدا ہو جاتا ہے، خواہ بعض اوقات شریعت کے یہ احکام اس کی نفسانی خواہشات، طبعی میلانات یا ذاتی رغبتوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔

 

 

 

 

 

Last modified onہفتہ, 01 اگست 2026 20:17

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک