الإثنين، 20 صَفر 1448| 2026/08/03
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کیا امریکی قومی قرضہ امریکی ڈالر کی عالمی بالادستی کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے؟

 

 

گزشتہ آٹھ دہائیوں سے زائد عرصے سے، ڈالر صرف امریکہ کی قومی کرنسی کے طور پر ہی نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی مالیاتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ اسی ڈالر کے ذریعے سے زیادہ تر تیل اور اشیاء کی تجارت کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں، مرکزی بینک کے ذخائر کا بڑا حصہ سنبھالا جاتا ہے، بین الاقوامی ادائیگیوں کا لین دین ہوتا ہے، اور عالمی منڈیوں میں اثاثوں کی قدر کا تعین بھی اسی ڈالر کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔

 

اس صورتحال نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو ایک ایسا استثنائی حق عطا کر دیا ہے جس سے جدید تاریخ کی کسی دوسری معاشی طاقت نے فائدہ نہیں اٹھایا، یعنی اپنے خسارے کو پورا کرنا اور اپنی قومی کرنسی میں اپنے قرضے کو جاری کرنا، جبکہ ڈالر اور امریکی ٹریژری بانڈز کی مسلسل عالمی مانگ قائم رہے۔

 

تاہم، اقتصادی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی کرنسی کی بالادستی ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ برطانوی پاؤنڈ اسٹرلنگ نے عالمی مالیاتی نظام کی قیادت میں ڈالر سے پہلے قدم رکھا تھا، لیکن برطانوی سلطنت کی معاشی اور مالیاتی طاقت میں کمی کے ساتھ ہی اس پاؤنڈ نے تدریجی طور پر اپنا مقام کھو دیا۔ اگرچہ پاؤنڈ اسٹرلنگ کی بالادستی کبھی اس سطح تک نہیں پہنچی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ڈالر نے حاصل کر لی ہے، لیکن یہ تجربہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ کسی بھی کرنسی کی طاقت بالآخر اس کے پیچھے موجود معیشت کی طاقت سے جڑی رہتی ہے۔

 

اگرچہ ابھی تک، ڈالر کے فوری خاتمے کے کوئی حتمی اشارے موجود نہیں ہیں، لیکن ڈالر کو  ایسے چیلنجوں کا سامنا ہے جن کی مثال دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے نہیں ملتی۔ امریکی عوامی قرضوں کی مسلسل اضافہ، دائمی مالیاتی خسارہ، اور اس قرض کی ادائیگی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی لاگت—ان تمام عوامل نے ممالک کی ایک بڑی تعداد کو امریکی کرنسی پر اپنے انحصار پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا ہے۔

 

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس صدی کے بدلنے کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں عالمی زرمبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کا حصہ گر کر 57 فیصد رہ گیا ہے جو کہ گزشتہ صدی میں 70 فیصد سے زیادہ تھا۔ اگرچہ ڈالر کا یہ حصہ اب بھی تمام دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ایک بڑے فرق کے ساتھ اعلیٰ ترین مقام کو برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم یہ کمی مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں اپنے ذخائر میں تنوع لانے کی سمت ایک تدریجی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

 

لہٰذا اسی لئے، دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے سونے کی خرید میں شدت پیدا کر دی ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے جدید ریکارڈ مرتب کرنے کا آغاز ہوا ہے تب سے 2022ء اور 2023ء کے دوران سونے کی سرکاری خرید کی اعلیٰ ترین سطح دیکھی گئی ہے، اور یہ رجحان 2024ء اور 2025ء میں بھی جاری رہا۔

اعداد و شمار درج ذیل نکات کو ظاہر کرتے ہیں:

 

- سال 2022ء : 1,082 ٹن (ایک تاریخی ریکارڈ)۔

- سال 2023ء : 1,037 ٹن (دوسری سب سے بڑی سالانہ سطح)۔

- سال 2024ء : تقریباً 1,045 ٹن، کچھ تخمینوں نے اس اعداد و شمار کو 1,089 ٹن تک بھی ظاہر کیا ہے۔

- سال 2025ء : تقریباً 1,025 ٹن، جس نے اسے لگاتار چوتھا سال بنا دیا جس میں سرکاری خریداری ایک ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔

- سال 2026ء : پہلی چھ ماہی کے اعداد و شمار نے رجحان کے جاری رہنے کا اشارہ دیا، جس میں پہلی سہ ماہی میں خریداری تقریباً 85 ٹن تک پہنچ گئی۔

 

سونے کی یہ مانگ صرف سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے نہیں، بلکہ حکمت عملی کی بنیاد پر بھی ہے۔ مغربی مالیاتی پابندیوں، خاص طور پر 2022ء میں روس کے ذخائر کے ایک حصے کو منجمد کرنا، سمیت دیگر پابندیوں نے بہت سے ممالک کو ایسے اثاثوں میں اپنی ہولڈنگز بڑھانے کی ترغیب دی ہے جو کسی ایک ریاست کے کنٹرول کے تحت نہ ہوں، نیز اپنے ذخائر میں مختلف تبدیلیاں لانے اور افراط زر اور جیو پولیٹیکل خطرات سے بچاؤ کی خواہش بھی شامل ہے۔ یوں اس طرح، سونا اثاثہ جات کی قدر کے ایک روایتی ذریعہ اور مالیاتی خودمختاری کی حفاظت کے آلے کے طور پر اپنے روایتی کردار کی طرف لوٹ آیا ہے۔

 

اسی دوران، برکس (BRICS) گروپ روایتی مالیاتی نظام کے لئے ایک انتہائی اہم چیلنج کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کے رکن ممالک نے اپنی باہمی تجارت میں مقامی کرنسیوں کا استعمال بڑھا دیا ہے اور معاملات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگرچہ برکس کی بنیادوں کے بارے میں تحفظات موجود ہیں۔ اس کے باوجود، برکس کے پاس ابھی تک کوئی ایسی متحدہ کرنسی یا مالیاتی نظام موجود نہیں ہے جو عالمی سطح پر امریکی ڈالر کا مقابلہ کر سکے۔

 

ان تمام پیش رفتوں کے باوجود، امریکی ڈالر کی طاقت صرف امریکی معیشت کے سائز پر مبنی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے مربوط نظام پر قائم ہے جس میں امریکی مالیاتی منڈیوں کی اہمیت، ٹریژری بانڈز کی زبردست بے اعتدالی (لیکویڈیٹی)، قانون کی حکمرانی، مالیاتی اداروں کی خودمختاری، اور ڈالر پر مبنی اثاثوں پر عالمی اعتماد شامل ہے۔ آج کے دن تک، کوئی دوسری کرنسی ایسی نہیں ہے جو ان تمام عناصر کو ایک ساتھ مجتمع کئے ہوئے ہو۔

 

تاہم، حتمی فیصلہ کن عنصر خود امریکہ کے اندر موجود ہے۔ اگر وفاقی قرض معاشی نمو کی شرح سے زیادہ رفتاری سے بڑھتا رہا، اور اس قرض کے سود کی ادائیگیوں نے وفاقی بجٹ کے ایک بڑے حصے کو نگلنا شروع کر دیا، تو امریکی ڈالر پر عالمی اعتماد کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے— جو کسی برتر حریف کے ابھرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس مالیاتی نظام کے بوسیدہ ہو جانے کی وجہ سے  جس مالیاتی نظام پر یہ غالب کرنسی انحصار کرتی ہے۔

 

امریکی ڈالر کا اثر و رسوخ کیوں زوال پذیر ہو سکتا ہے؟

غور کیا جائے تو ان بنیادی عوامل کا ایک ایسا مجموعہ شامل حال ہے جو اس تنزلی کو تیز کر سکتا ہے، جن میں سب سے نمایاں عوامل درج ذیل ہیں:

 

- عوامی قرضوں میں مسلسل اضافہ، جو 38 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، نیز دائمی مالیاتی اور تجارتی خسارے، جو امریکہ کو قرض لینے پر انحصار کرنے میں اضافہ کرتے ہیں۔

- جیو پولیٹیکل تنازعات میں ڈالر کا بڑھتا ہوا استعمال، جس نے کچھ ممالک کو ایسے متبادل کی تلاش پر مجبور کیا ہے جو انہیں مالیاتی پابندیوں سے بچا سکیں۔

- سیاسی پولرائزیشن اور قرض کی حد اور عوامی اخراجات کے حوالے سے بار بار ہونے والے مسائل کی وجہ سے امریکی معاشی پالیسیوں کے استحکام پر اعتماد کا گرنا۔

- بین الاقوامی تجارت میں، خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مابین، مقامی کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ۔

 

ڈالر کی بالادستی کیسے کم ہو سکتی ہے؟

اگر یہ رجحانات اسی طرح جاری رہتے ہیں، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ڈالر کا یہ زوال اچانک ہونے کے بجائے تدریجی ہوگا، اور یہ کئی مراحل سے گزر سکتا ہے:

 

- عالمی ذخائر اور تجارتی معاملات میں ڈالر کے حصے میں تدریجی کمی۔

- بین الاقوامی تجارت کے معاملات میں سونے اور مقامی کرنسیوں پر بڑھتا ہوا انحصار۔

- بعض ریجنل مارکیٹوں میں یوآن، یورو، اور خودمختار ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال میں اضافہ۔

- ڈالر پر تقریباً مکمل انحصار کے بجائے، عالمی مالیاتی نظام کا تدریجی طور پر ایک ملٹی کرنسی نظام میں منتقل ہونا۔

 

جہاں تک ڈالر کے مکمل طور پر بیٹھ جانے یا تباہ ہو جانے کے منظرنامے کا تعلق ہے، تو اس کے لئے ایک وسیع پیمانے پر امریکی معیشت اور اس کے مالیاتی اداروں پر سے اعتماد کے خاتمے کی ضرورت ہوگی، اور بہرحال موجودہ اشارے اس کی طرف نشاندہی نہیں کر رہے، اگرچہ مالیاتی عدم توازن کا برقرار رہنا مختصر اور طویل دونوں مدتوں میں اس اعتماد کے خاتمے کے امکانات کو بڑھا بھی سکتا ہے۔

 

کیا امریکی ڈالر کا کوئی متبادل موجود ہے؟

ابھی تک، ایسا کوئی ایک متبادل موجود نہیں ہے جو ان تمام خصوصیات کا حامل ہو جو ڈالر کو حاصل ہیں، لیکن عالمی منظرنامہ کئی آپشنز کو سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں سب سے نمایاں درج ذیل ہیں:

 

- یورو : جو سب سے ممکنہ ترین حریف ہے، لیکن اسے فی الحال یورپی یونین کے اندر ہی سیاسی اور معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے اور یہ ڈالر سے بھی پہلے  گر سکتا ہے۔

- چینی یوآن: جسے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی حمایت حاصل ہے، تاہم چینی سرمائے کے مبادلہ پر عائد پابندیاں چینی یوآن کے عالمی پھیلاؤ کو محدود کر رہی ہیں۔

- سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیز (CBDCs)، جو ڈالر کی بالادستی سے ہٹ کر سرحد پار ادائیگیوں کو آسان تو بنا سکتی ہیں، لیکن اگر انہیں ریاستوں کی طرف سے نہ اپنایا جائے تو ان کرنسیوں کا استعمال محفوظ نہیں ہے۔

- برکس گروپ کے اندر نئے مالیاتی انتظامات، خواہ قومی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے کے ذریعے ہوں یا مشترکہ سمجھوتوں کے ذریعے۔

- سونا، جس نے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خطرات کے درمیان ایک اسٹریٹجک اثاثے اور محفوظ پناہ گاہ کے طور پر اپنا مقام دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

 

ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ، اگر ایسا وقوع پذیر ہو گیا، تو یہ کسی ایک ریاست یا اتحاد کے سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں ہوگا، اور نہ ہی یہ راتوں رات اس کی جگہ لینے والی کسی نئی کرنسی کے اعلان کے ذریعے آئے گا۔ اس کے بجائے، یہ ایک طویل راہ کا اختتام ہوگا جس کے دوران مالیاتی عدم توازن جمع ہوتا جائے گا، ریاستوں اور سرمایہ کاروں کے رسک کے اعشاریہ جات بدل جائیں گے، اور ایک زیادہ کثیر القطبی مالیاتی نظام کے حق میں ڈالر پر انحصار تدریجی طور پر کم ہوتا جائے گا۔

 

مزید برآں، حقیقی اثاثوں کی طرف واپسی ہی سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ مصائب، تکالیف، تباہی اور مالیاتی بحرانوں سے نجات کا واحد ذریعہ ہے، یعنی فیٹ کرنسیوں (غیر کاغذی/عوامی کرنسیوں) جیسے امریکی ڈالر پر مبنی موجودہ مالیاتی نظام کو بدل کر اور دو دھاتی (سونے اور چاندی کے) معیار کی طرف واپس لوٹ کر، کیونکہ یہ مندرجہ ذیل طریقوں سے ان مسائل کا حل پیش کرتے ہیں :

 

مالیاتی افراط زر اور غیر ذمہ دارانہ اخراجات پر قابو پانا: سونا اور چاندی چھاپے نہیں جا سکتے، جس سے یہ عمل محدود ہو جاتا ہے کہ ریاستیں بنا کسی ضوابط کے پیسہ چھاپتی چلی جائیں، اور اس طرح بے لگام مالیاتی افراط زر اور حد سے زیادہ حکومتی اخراجات کو روکا جا سکتا ہے۔

 

طویل مدتی مالیاتی استحکام: کرنسی کو کسی قیمتی دھات سے منسلک کرنا شدید اتار چڑھاؤ کو روکتا ہے اور مالیاتی نظام کو مزید استحکام مہیا کرتا ہے۔

 

عدل اور شفافیت: کرنسی کا دو دھاتی نظام سیاسی فیصلوں سے پیسے کی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔

تاہم، کرنسی کے دو دھاتی نظام کی طرف واپسی کو کوئی بھی نافذ کرنے پر قادر نہیں ہوگا سوائے ایک ایسی مضبوط ریاست کے جو اپنے سیاسی فیصلوں پر خود مختار ہو، اور اس دھاتی نظام کو اس کے اصولوں سے جڑا ہونا چاہیے۔ اسلام کے علاوہ کوئی ایسا نظریہ نہیں ہے جو کرنسی کے دو دھاتی نظام کے استعمال کو لازم قرار دیتا ہو، یا ایک ایسی نمائندہ کرنسی کو جو مکمل طور پر 100% سونے، چاندی، یا دونوں سے منسلک ہو۔ لہٰذا، ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی معاشی نظام ان بحرانوں، مسائل، بے ترتیبی اور عدم استحکام سے کوسوں دور ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے پیدا کردہ ہیں۔

 

اے مسلمانو ! اس دنیا کے لئے درست اور بنیادی حل آپ کے عقیدے (اسلام) میں موجود ہیں، لیکن انہیں عملی طور پر کرہ ارض پر نافذ ہونا ہوگا، اور خلافت راشدہ کی ریاست کے علاوہ کوئی بھی انہیں نافذ کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ لہذا، ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اپنی امت کی تقدیر سے واقف ہے اور اس بات سے آگاہ ہے جو اللہ ﷻ نے اس پر فرض کی ہے، کہ وہ اسلامی طرز حیات کو دوبارہ شروع کرنے اور شریعت کے نفاذ کے لئے حزب التحریر کے ساتھ مل کر آگے بڑھے، تاکہ اسلام کا عَلَم (رايه) بلند ہو، اور ہم تمام انسانیت کے لئے پیدا کی گئی بہترین امت کے طور پر لوٹ آئیں۔ کیونکہ اگر ہم خود اپنے اندر کی حالت کو نہیں بدلیں گے اور عمل نہیں کریں گے، تو اللہ ﷻ بھی ہماری حالت کو نہیں بدلے گا۔

 

اللہ ﷻ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اندر کی حالت کو نہ بدل دیں" [سورۃ الرعد؛ 13:11]

 

تحریر: نبیل عبد الکریم

 

 

 

Last modified onپیر, 03 اگست 2026 16:35

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک