بسم الله الرحمن الرحيم
پاکستان میں آزادی کی عدم خودمختاری کی ایک تکلیف دہ امریکی یاد دہانی
"امریکہ کی جانب سے، میں پاکستان کے عوام کو یومِ آزادی پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ علاقائی ثالثی، اہم معدنیات، توانائی، انسدادِ دہشت گردی، ثقافتی ورثے، اور تجارت و سرمایہ کاری کے شعبوں میں اپنے باہمی تعاون کے ذریعے ہم مل کر امکانات کو پیش رفت میں تبدیل کر رہے ہیں۔۔۔"
پریس بیان: پاکستان کا یومِ آزادی
مارکو روبیو، وزیرِ خارجہ، امریکہ
13 اگست 2026ء
https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/08/pakistan-independence-day-2/
تبصرہ:
امریکی وزیرِ خارجہ کی جانب سے آزادی کے حوالے سے دی جانے والی مبارک باد پاکستان کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ امریکی استعماری نظام نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ "امکانات کو پیش رفت میں تبدیل کرنا" دراصل امریکی مفادات کے لیے ہو۔
- جہاں تک "علاقائی ثالثی میں تعاون" کا تعلق ہے، امریکی سیاسی استعماری نظام مسلم دنیا میں پاکستان کی حیثیت کو اس امریکی منصوبے کے مطابق ڈھالنے کی طرف پیش رفت کر رہا ہے جس کا مقصد ایران کو امریکہ سے آزاد ہونے سے روکنا اور علاقائی اتحادوں کے ایک جال کے ذریعے مسلمانوں کی افواج کی قوت سے یہودی وجود کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
- جہاں تک "اہم معدنیات اور توانائی" کا تعلق ہے، تو امریکی معاشی استعماری نظام پاکستان کے وسیع ایندھن اور معدنی وسائل کو اس پیش رفت میں تبدیل کر رہا ہے جس کے ذریعے امریکی کمپنیاں مسلم دنیا کے وسائل پر غلبہ حاصل کریں، جن میں نایاب ارضی عناصر (Rare Earth Elements—REEs) بھی شامل ہیں، جو سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹر چِپس اور مصنوعی ذہانت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
- جہاں تک "انسدادِ دہشت گردی" کا تعلق ہے، تو امریکی فوجی استعماری نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قوت مسلمانوں کے باہمی لڑائیوں میں استعمال ہو کر ختم ہوتی رہے اور کسی بھی ایسے مسلمان کو غیر مسلح کیا جائے جو قبضے کے خلاف لڑ رہا ہو، جبکہ افواج کو ان دشمنانِ الٰہی کے خلاف لڑنے سے روکا جائے جو دہشت گرد ریاستوں کی صورت میں موجود ہیں، مثلاً یہودی وجود، ہندو ریاست اور امریکہ۔
- جہاں تک "ثقافتی ورثے" کا تعلق ہے، تو امریکی ثقافتی استعماری نظام مسلمانوں کے دین پر مبنی شناخت سے ان کے تعلق کو توڑ رہا ہے اور اس کی جگہ ایسی شناخت پیدا کر رہا ہے جو زمین اور نسل سے وابستگی پر مبنی ہو۔
- جہاں تک "تجارت اور سرمایہ کاری" کا تعلق ہے، تو امریکی معاشی استعماری نظام پاکستان کی معیشت کو ایک ایسی بین الاقوامی معیشت میں تبدیل کر رہا ہے جہاں امریکی معیشت پاکستان سے سستے خام مال اور کم قدر کی اشیا حاصل کرنے سے فائدہ اٹھاتی رہے، جبکہ پاکستان کی وسیع منڈی میں اپنی زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات فروخت کرنے سے بھی فائدہ اٹھائے۔
اے پاکستان کے مسلمانو!
جب تک پاکستان میں امریکی استعماری نظام موجود رہے گا، ہمیں اپنی حقیقی صلاحیت سے محروم رکھے گا۔ امریکی استعماری نظام مسلسل ہمیں نقصان پہنچا رہا ہے، خواہ یہ شہری بالادستی کے تحت ہو یا فوجی بالادستی کے تحت۔ ہمیں "شہری بالادستی بمقابلہ فوجی بالادستی" کی بے نتیجہ بحث سے نکل کر اپنی فکری اور سیاسی کوششیں مکمل طور پر اللہ ﷻ کی شریعت کی بالادستی کے لیے صرف کرنی چاہییں۔
- شریعتِ اسلامی موجودہ مسلم ریاستوں کو ایک طاقتور واحد ریاست میں متحد کر کے امریکی سیاسی استعماری نظام کا خاتمہ کرے گی؛ ایسی ریاست جو مسلمانوں کی سرزمینوں، بشمول فلسطین، پر قبضہ ختم کرنے کے لیے افواج کو متحرک کرے، اور فلسطین کو دریا سے سمندر تک آزاد کرائے۔
- شریعتِ اسلامی ایندھن اور توانائی کی معاشی استعماری اجارہ داری کا خاتمہ اس طرح کرے گی کہ انہیں عوامی ملکیت قرار دے گی تاکہ ان سے حاصل ہونے والا فائدہ اور ان کی قیمت پوری مسلم برادری کے لیے ہو، نہ کہ نجی کمپنیوں کے لیے۔
- شریعتِ اسلامی مسلمانوں کی افواج کو ایک واحد امیرِ جہاد کے تحت متحد کر کے فوجی استعماری نظام کا خاتمہ کرے گی اور انہیں مقبوضہ علاقوں کی آزادی اور دارالاسلام کی حدود کو وسعت دینے کے لیے جہاد میں متحرک کرے گی، یہاں تک کہ دینِ اللہ تمام دوسرے نظامِ حیات پر غالب ہو جائے۔
- شریعتِ اسلامی ثقافتی استعماری نظام کا خاتمہ اس طرح کرے گی کہ شناخت اور تعلیم کو قرآنِ مجید کی زبان، عربی، قرآنِ مجید کی تفسیر، سنتِ نبوی ﷺ کی شروحات، اور فقہِ اسلامی کے اس وسیع ذخیرے سے جوڑ دے گی جو انسانیت کے تمام مسائل کے حل فراہم کرتے ہیں۔
- شریعتِ اسلامی منڈیوں اور خام مال کی معاشی استعماری اجارہ داری کا خاتمہ اس طرح کرے گی کہ ایک مشینی صنعت قائم کی جائے گی جو مہنگی درآمدات کا متبادل فراہم کرے، ملک کے اندر صنعتی انقلاب کو آگے بڑھائے، اور ایسی ترقی یافتہ مصنوعات برآمد کرنے کے قابل بنائے جو ایک ایسی دنیا کو فراہم کی جا سکیں جو استعماری کمپنیوں کے استحصال سے تھک چکی ہے۔
اے پاکستان کے مسلمانو!
ہمیں ان باہم مقابل سیاسی اور فوجی دھڑوں سے منہ موڑ لینا چاہیے جنہوں نے آٹھ دہائیوں سے مغربی استعماری طاقتوں کے ہاتھوں پاکستان کی تباہی کو یقینی بنایا ہے۔ ہمیں اپنے چہرے شریعتِ اسلامی کی طرف موڑنے چاہییں، اس کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہیے، اسے دوسروں تک پہنچانا چاہیے اور اس کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ استعماری نظام سے آزادی (تحریر) حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
اور حزب التحریر (یعنی "آزادی کی جماعت") کے علاوہ ہمیں آزادی کی طرف کون لے جا سکتا ہے؟ اس نے خلافت کا ایک جامع خاکہ تیار کیا ہے، جس میں ایک مجوزہ دستور اور تشریحی کتب شامل ہیں، جن میں قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ سے دلائل پیش کیے گئے ہیں، نیز کلاسیکی علما مثلاً ابو عبید، ابن قدامہ اور ابو یوسف الحنفی رحمہم اللہ کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔
اس نے ایسے مردوں اور عورتوں کی جماعتیں تیار کی ہیں جو اسلام کی بنیاد پر نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والے باصلاحیت شرعی سیاست دان ہیں، جو نہ تھکتے ہیں اور نہ اللہ ﷻ کے سوا کسی سے ڈرتے ہیں۔
اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾
"تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔” [سورۃ آلِ عمران 3:104]
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
Latest from
- خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)17/08/2026
- ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ کا اتحاد
- رایہ اخبا ر شمارہ نمبر 612
- تو پھر یہودی وجود، امریکی صلیبیوں اور ہندو ریاست کی جارحیت کو روکنے کے لیے معاہدہ کب ہوگا؟
- ٹرمپ کا اصرار ہے کہ مزاحمت کار مسلمان اپنے ہتھیار پھینک دیں، جبکہ امہ کے دشمنوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں




