بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
17/08/2026
’’اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک‘‘؟!
ٹیمپا، فلوریڈا — 13 اگست کو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ وہ پہلی مرتبہ کثیر الجہتی اور کثیر القومی حملہ آور ڈرون ٹاسک فورس قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس یونٹ کو ’’ٹاسک فورس فالکن اسٹرائیک‘‘ (Task Force Falcon Strike) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ فورس ایسے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز استعمال کرے گی، جن میں سمندر کے اوپر، سطحِ سمندر پر اور سمندر کے اندر کام کرنے والے بغیر پائلٹ نظام شامل ہوں گے۔ ان نظاموں کو امریکہ اور خطے کے شراکت دار ممالک کے فوجی معاون عملے کے ذریعے چلایا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (US CENTCOM)
13 اگست 2026
https://www.centcom.mil/MEDIA/PUBLIC-RELEASES/Article/4573159/centcom-launches-first-ever-multinational-attack-drone-task-force/
تبصره:
ٹرمپ مسلم ریاستوں کو یہودی وجود کے ساتھ جوڑنے کے لیے سکیورٹی اتحادوں کا ایک جال بننے میں مصروف ہے۔ اس نے مسلم دنیا میں اپنے تمام ایجنٹوں اور پیروکاروں کو متحرک کر دیا ہے، تاکہ مسلمانوں کے ہتھیار اور افواج یہودی وجود کی حفاظت کریں اور سرزمینِ فلسطین پر قبضے کے خلاف کسی بھی مزاحمت کو غیر مسلح کر دیں۔ ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘ (Board of Peace) بھی اسی جال کی ایک کڑی ہے، جس طرح مکہ معاہدہ اور نئی کثیر القومی حملہ آور ڈرون فورس بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ٹرمپ مسلسل اس کوشش میں مصروف ہے کہ مسلم ریاستوں اور یہودی وجود کے درمیان تعلقات کو معمول پر لایا جائے اور ساتھ ہی مسلم ریاستوں کو اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری سونپی جائے، تاکہ امریکہ پر پڑنے والے فوجی اور مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
جہاں تک پاکستان کے حکمرانوں کا تعلق ہے، انہوں نے یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے انکار کی طویل عرصے سے قائم سرکاری پالیسی کی بنیاد کو برقرار رکھا ہے، جس کی عکاسی پاکستانی پاسپورٹ پر درج اس عبارت سے ہوتی ہے: ’’یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے قابلِ استعمال ہے۔‘‘ حجاز کے حکمران ابن سلمان کی طرح، وہ بھی ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں، گویا فلسطینی ریاست کا قیام فلسطین کے بیشتر حصے پر یہودی قبضے کو تسلیم کرنے کی ایک شرط ہو۔ ٹرمپ کے دیگر تمام ایجنٹوں کی طرح، پاکستان کے حکمران بھی سکیورٹی اتحادوں کے اس جال میں شامل ہو رہے ہیں، حالانکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس جال میں یہودی وجود بھی شامل ہے۔
اے پاکستان کے مسلمانو! یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہو۔ غزہ اور مسجدِ اقصیٰ کی حمایت میں اپنی مسلح افواج کو متحرک کرنے کے مطالبے پر بھی ثابت قدم رہو۔
اے پاکستان کی مسلح افواج کے جوانو! کیا تم اپنے سے پہلے گزرنے والے اسلام کے سپاہیوں کی پیروی کرتے ہوئے فلسطین اور ہاشم کے غزہ کو آزاد نہیں کرا سکتے؟ کیا تم یہودی وجود کو کچل کر اور اسے ختم کرکے فلسطین کو آزاد نہیں کرا سکتے؟ تمہارے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو یہودی وجود تک پہنچ سکتے ہیں، اور حجاز میں ہزاروں فوجی بھی موجود ہیں، لیکن تمہیں صرف ایک مخلص اور وفادار کمانڈر کی ضرورت ہے۔ کیا تم میں کوئی ایسا کمانڈر نہیں جو تمہاری قیادت کرتے ہوئے تمہارے اس دشمن کے خلاف جنگ کرے جو ذلیل و خوار ہو چکا ہے اور تمہارے مقابلے میں کبھی فتح یاب نہیں ہو سکے گا؟ اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾
’’اور اگر وہ تم سے جنگ کریں گے تو تمہارے سامنے پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی‘‘ [سورۃ آلِ عمران: 111]۔
اور اگر حکمران تمہیں اپنے دشمن کے خلاف جنگ کرنے سے روکیں تو ہر ممکن طریقے سے انہیں ہٹا دو اور اللہ ﷻ کی نصرت کرو، پھر وہ تمہاری نصرت فرمائے گا۔ تب غزہ کے لوگ، بلکہ تمام فلسطین کے لوگ، فتح یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے، اللہ ﷻ کی حمد و تسبیح بیان کرتے ہوئے اور اپنے دشمن پر غالب آتے ہوئے، اس یہودی وجود کو تباہ کر دیں گے۔ یہ اس کے برعکس ہوگا کہ ٹرمپ اور مسلمانوں کے ذلیل حکمرانوں کے بنائے ہوئے اتحادوں کے جال کے ذریعے ان کا دشمن دوبارہ سرزمینِ فلسطین پر غلبہ حاصل کر لے۔
ایک واحد امام کی قیادت میں، اسلام کے مطابق حکمرانی کرنے والی مسلم ریاستوں کی وحدت پر مبنی طاقت امریکہ کو مسلم سرزمین سے اتنی دور تک دھکیلنے کے لیے کافی ہے کہ اس کی فوج حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے
بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی، جو سپریم لیڈر آف دی آرمی (IRGC) کے کمانڈر اِن چیف کے سینئر مشیر ہیں، نے مترجم کے ذریعے کہا: "ہم نے اس سے پہلے کبھی حقیقی جنگ نہیں دیکھی تھی، جس سے ہمیں امریکہ کے ساتھ لڑنے اور جنگ کرنے کا حقیقی تجربہ حاصل ہوتا۔ ان پانچ ماہ کے دوران ہم نے سیکھا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کیسے لڑنا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ امریکی فوج اس تصور سے کہیں زیادہ کمزور ہے جو ہمارے ذہن میں اس کے بارے میں تھا۔"
11 اگست 2026
https://www.pbs.org/newshour/show/top-adviser-to-irans-revolutionary-guard-leader-sits-down-for-rare-interview
تبصره:
بڑی تعداد میں شہادتوں اور زخمی ہونے والوں کے باوجود، ایران کے مسلمانوں نے دشمن کو نقصان پہنچایا ہے، انہیں ہلاکت اور زخمی ہونے کا سامنا کروایا ہے، اور اب بھی ایسا کر رہے ہیں۔ وہ دشمن کافروں کے خلاف لڑنے کی اپنی شرعی ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں اور اب بھی اسے نبھا رہے ہیں۔ اگرچہ مسلمانوں کی تکلیف شدید ہے، لیکن دشمن بھی اسی طرح کی تکلیف سے دوچار ہے۔ تاہم، آخرکار کامیابی مسلمانوں ہی کے لیے ہے، کیونکہ مسلمان اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہیں جس کی کافر جارحین کو کوئی امید نہیں۔ ایران کے وہ مسلمان جو کفار سے آزادی کی راہ پر ثابت قدم ہیں، اللہ تعالیٰ کے ان کلمات کی شیریں حقیقت کو محسوس کر رہے ہیں:
﴿إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ﴾
"اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو وہ بھی اسی طرح تکلیف اٹھا رہے ہیں جیسے تم تکلیف اٹھا رہے ہو، جبکہ تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جس کی وہ امید نہیں رکھتے" [سورۃ النساء: 104]۔
وہ اللہ تعالیٰ کے ان کلمات کی شیریں حقیقت کا اسی طرح ذائقہ چکھ رہے ہیں، جیسے ان سے پہلے افغانستان، عراق اور صومالیہ کے مسلمانوں نے چکھا، جب انہوں نے کفار کا مقابلہ میدانِ جنگ کے سب سے بھاری ہتھیار یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ کیا۔
بے شک، امریکہ کمزور ہے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگیں دور دراز علاقوں سے لڑتا ہے، جہاں اس کی سمندری رسد اور مواصلاتی راستے (SLOCs) طویل اور غیر محفوظ ہیں۔ اس کی جنگی طاقت ایسے فوجیوں پر منحصر ہے جو موت سے شدید خوف زدہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں ذہنی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان میں سے بہت سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ اس کے فوجی زمین، نسل اور جھنڈوں کے لیے لڑتے ہیں، جبکہ مسلمان اپنے رب ﷻ کی رضا کے لیے لڑتے ہیں، فتح اور شہادت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ اس کی جنگی طاقت ایسی معیشت پر منحصر ہے جو سود (ربا) کی برائی اور دولت مند طبقے کی بے لگام حرص و لالچ سے مفلوج ہو چکی ہے۔ اس کی جنگی صلاحیت ایک ایسی سیاسی قوتِ ارادی پر بھی منحصر ہے جو اس کی نام نہاد ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ کے دو بڑے ستونوں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، کے درمیان شدید باہمی کشمکش سے متاثر ہے۔ امریکہ مسلم دنیا میں موجود اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں پر بھی انحصار کرتا ہے، جن کے ٹیڑھے اور لرزتے ہوئے تخت ان کے نیچے بری طرح ہل رہے ہیں، جبکہ اللہ ﷻ کے اذن سے ان کا انجام بھی قریب آ رہا ہے۔
ایران کے مسلمانوں کے لیے حالات سازگار ہیں کہ وہ امت مسلمہ اور اس کی افواج کی قیادت کرتے ہوئے ایک فیصلہ کن معرکے میں اس سانپ، یعنی امریکی فوج، کو اس کے ٹھکانے سے نکال باہر کریں۔ انہیں اس رکاوٹ کے خاتمے پر اصرار کرنا چاہیے جو ان کے درمیان اور امت کی تمام افواج کی متحدہ صف بندی کے درمیان حائل ہے، اور وہ بوسیدہ قوم پرستانہ اور فرقہ وارانہ نظریہ ہے۔ انہیں اس امر کے نفاذ کا مطالبہ کرنا چاہیے جو پوری امت مسلمہ کو ایک ہی قیادت کے تحت وحدت بخشے گا، یعنی اللہ ﷻ کی شریعت کا نفاذ۔ تب ہی عجم و عرب کے تمام مسلمان، اور امام جعفر، امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے پیروکار، ایسا جہاد کریں گے جس کے ذریعے کفار کو شکست دی جائے گی اور اللہ ﷻ کا کلمہ سب سے بلند کیا جائے گا۔
حزب التحریر نے ایران کی مسلح افواج میں موجود مخلص افسران سے نُصرۃ (فوجی مدد) طلب کی ہے اور اب بھی اس کے حصول کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ دین کا مکمل نفاذ فوری طور پر شروع کیا جا سکے۔ شاید اب وہ اس دعوت کا جواب دیں۔۔۔
مسلم دنیا میں ایک ترقی یافتہ مشینی صنعت کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے، لیکن موجودہ حکمرانوں کی غلامانہ ذہنیت کے باعث یہ کام صرف خلافتِ راشدہ کے نظام کے تحت ہی ممکن ہے۔
اسلام آباد، 11 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج نے منگل کے روز یہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں اپنی وزارت سے متعلق امور، بالخصوص جاری ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت، کے بارے میں بریفنگ دی۔
11 اگست 2026ء
https://www.app.com.pk/national/defence-production-minister-briefs-pm-on-ongoing-projects/
تبصرہ
چونکہ وزارتِ دفاعی پیداوار پاکستان کی مسلح افواج کے لیے اسلحہ، جنگی سازوسامان اور مشینری کی تیاری و پیداوار پر توجہ مرکوز کرتی ہے، اس لیے وہ ملک کے اہم دفاعی صنعتی اداروں کی نگرانی کرتی ہے۔ ان میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز (POF)، پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس (PAC) کامرہ، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT)، نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC)، کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KS&EW) اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیبلشمنٹ (RDE) شامل ہیں۔
تاہم، پاکستان کے حکمران ایسی ترقی یافتہ مشینی صنعت قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں جو فوجی معیار کے انجنوں، کمپیوٹر چِپس اور دیگر اہم ٹیکنالوجیز کے لیے بیرونی ریاستوں پر انحصار ختم کر سکے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کی برآمدات میں اب بھی نمایاں حصہ چھوٹے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ہے۔ قیامِ پاکستان کے تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود ملک اعلیٰ معیار کی برقی مصنوعات، بھاری مشینری، انجنوں اور گاڑیوں کی درآمد پر بدستور بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کی نام نہاد صنعتی پیداوار کا ایک بڑا حصہ دراصل بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے پرزوں کو جوڑنے اور اسمبل کرنے تک محدود ہے۔
یہ سنگین ناکامی محض اتفاق نہیں، بلکہ تیسری دنیا، بالخصوص مسلم دنیا، کے بارے میں اختیار کی گئی نوآبادیاتی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ نوآبادیاتی طاقتیں، جن میں امریکہ اور چین بھی شامل ہیں، مسلم ریاستوں کے ساتھ بین الاقوامی معیشت کے ایسے ڈھانچے کے تحت معاملہ کرتی ہیں جس میں مسلم ریاستیں خام مال اور کم قدر صنعتی مصنوعات فراہم کرتی ہیں، جبکہ اعلیٰ فنی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے تیار ہونے والی مصنوعات کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ معاشی نمونہ چینی اور امریکی کمپنیوں کے غلبے کو مستحکم کرتا ہے اور مسلم ریاستوں کی حقیقی صنعتی خودکفالت حاصل کرنے کی صلاحیت کو محدود رکھتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کے حکمرانوں کا تعلق ہے، وہ واشنگٹن کے خدمت گزار ہیں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں خودمختار بنانے کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کریں گے۔ ان کی ذہنی غلامی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ ایران کی فوجی قیادت کے ایک دھڑے کی جانب سے خودمختاری کے حصول کی کوششوں سے بھی بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
آج مسلم سرزمینوں کے حکمران سیاست، قانون سازی، معیشت، صنعتی ترقی اور دیگر تمام شعبوں میں بیرونی ریاستوں پر انحصار کو قبول کیے بیٹھے ہیں۔ اس کے برعکس، جب اسلامی خلافت کی ریاست قائم ہوگی تو وہ محض اس انحصار کے خاتمے پر اکتفا نہیں کرے گی، بلکہ دنیا پر اثرانداز ہونے والی ایک نمایاں اور طاقتور ریاست بننے کے لیے کام کرے گی۔ وہ انتہائی تیز رفتاری سے ایک ترقی یافتہ صنعتی نظام قائم کرے گی، اور صنعتی ترقی اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگی۔
یقیناً اس کا یہ مطلب نہیں کہ صنعتی پالیسی کو نظرانداز کیا جائے یا اسے خلافت کے قیام تک مؤخر کر دیا جائے، اگر یہ کام کہیں ممکن ہو، مثلاً ایران میں اور وہ اپنی خودمختاری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ تاہم، کسی صنعتی ملک میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ تمام احکامات کے مطابق حکومتی نظام قائم ہونا خلافت کی ریاست کو ترقی یافتہ صنعتی نظام کی تکمیل کے لیے مزید قوت اور توانائی فراہم کرے گا اور، ان شاء اللہ، اس مقصد کے حصول میں درکار وقت کو بھی کم کر دے گا، اللہ تعالیٰ کے اذن سے۔
لہٰذا، اس امت کا ہر مخلص بیٹا اور بیٹی جو دین سے وابستہ ہو اور امت کی صنعتی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاکہ یہ امت صنعتی اعتبار سے اس سے آگے نکل جانے والی ریاستوں کا مقابلہ کر سکے، اسے خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے سائنسی صلاحیت، تکنیکی مہارت یا مشاورتی قابلیت عطا کی ہے، اور جو مسلم سرزمینوں کو درکار صنعت کے کسی بھی شعبے میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے، اسے اس مقصد کے لیے جدوجہد اور قربانی دینی چاہیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصرت عطا فرمائے اور ان کے دین کو تمکین بخشے۔
مسلم امت کو اس کے تیل اور پٹرولیم کے وسائل اور ان کی آمدنی سے محروم کرنا گناہ ہے
سوئٹزرلینڈ میں قائم عالمی توانائی کی تجارتی کمپنی گن وور گروپ (Gunvor Group) کے ایک وفد نے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احمد چیمہ سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے توانائی اور پٹرولیم کے شعبوں میں باہمی تعاون کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گن وور گروپ کے حکام نے مجوزہ ڈی ریگولیشن کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے درمیان صحت مند مسابقت کو فروغ ملے گا اور اس شعبے میں زیادہ کارکردگی اور مؤثریت پیدا ہوگی۔
10 اگست 2026
https://pid.gov.pk/site/press_detail/33520
تبصرہ:
چنانچہ پاکستان کے حکمران ملک کے منافع بخش تیل اور پٹرولیم کے شعبے کی نجکاری میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ اس وقت مسلم ممالک کے حکمران تیل کی دریافت و استخراج، ریفائننگ، ترسیل اور فروخت کے معاملے میں سرمایہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سرمایہ داری اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ ملک کے بڑے ذرائعِ دولت بڑے سرمایہ داروں کی ملکیت میں چلے جائیں، جس کے نتیجے میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتی ہے اور امیر و غریب کے درمیان وسیع معاشی تفاوت پیدا ہوتا ہے۔ حکمران تیل کے شعبے کو نجی ملکیت میں دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نجی کمپنیاں تیل کی قیمتوں سے منافع حاصل کرتی ہیں۔ چنانچہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) بھاری منافع کما رہی ہیں، جبکہ عام عوام، ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت سب مشکلات کا شکار ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہو رہا ہے، زرعی فارم تباہی سے دوچار ہیں اور کارخانے بند ہو رہے ہیں۔
امت مسلمہ کے تیل کے وسائل کے بارے میں شریعت کا حکم، خواہ ان کے استخراج، ریفائنری یا ترسیل و فروخت سے متعلق ہو، یہ ہے کہ یہ ملکیتِ عامہ ہیں، جن میں تمام مسلمان شریک ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «المسلمون شركاء في ثلاث في الماء والكلأ والنار» “مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراگاہیں اور آگ۔” اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ حضرت انسؓ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہوئے اس میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: «وثمنه حرام» “اور اس کی قیمت حرام ہے۔” اسی طرح ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «ثلاث لا يمنعن: الماء والكلأ والنار» “تین چیزیں لوگوں سے روکی نہیں جا سکتیں: پانی، چراگاہیں اور آگ۔”
جب تیل اور پٹرولیم کو مشینری، بشمول انجنوں اور ٹربائنوں کو چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ ایندھن (وقود) کے مفہوم میں آگ کے حکم میں آتے ہیں، اور آگ ملکیتِ عامہ میں شامل ہے۔ لہٰذا تیل اور پٹرولیم کے استخراج، ریفائننگ، ترسیل اور تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے آلات بھی اس کے حکم کے تابع ہو کر ملکیتِ عامہ شمار ہوں گے، اسی طرح ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ملکیتِ عامہ ہوگی۔ تیل اور پٹرولیم اپنی اصل حیثیت میں بھی، اور بازار میں ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی قیمت بھی، مسلمانوں کی اجتماعی ملکیتِ عامہ ہے۔ بیت المال میں ملکیتِ عامہ کی آمدنی کے لیے ایک الگ شعبہ ہوتا ہے۔ اس آمدنی کو امت کی ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے، خواہ وہ تیل اور پٹرولیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر ہو، یا صحت، تعلیم اور مسلمانوں کی جانب ریاست پر عائد دیگر ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر۔
اے مسلمانو! دنیا میں اپنے حصے اور آخرت کے اجر کے حصول کے لیے جدوجہد کرو۔ حکمرانوں کے اس گناہ کے خلاف آواز بلند کرو اور مطالبہ کرو کہ حکمرانی اور نظامِ حکومت میں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی شریعت کو نافذ کیا جائے۔
تو کیا اب مکہ معاہدۂ گستاخ یہودیوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہوگا؟
”اسرائیل تین ہزار سال پرانی تہذیب اور ایک کامیاب داستان ہے۔ پاکستان بیسویں صدی کی برطانوی نوآبادیاتی ایجاد اور ایک ناکام ریاست ہے۔ اول الذکر کو آخر الذکر سے کسی ’جواز‘ کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔“
@emmanuelnavon
ایمانوئل نادون، جاپان میں یہودی وجود کے سفیر
9 اگست 2026ء
https://x.com/emmanuelnavon/status/2086213196109512915
تبصره
پاکستان کے حکمرانوں سے ہرگز یہ توقع نہیں ہے کہ وہ کبھی اس گستاخ یہودی کو خاموش کروائیں گے۔ اور نہ ہی وہ کبھی اس کے علاوہ دیگر گستاخ یہودیوں کو روکیں گے، جو فلسطین کے مسلمانوں کا مسلسل قتلِ عام کر رہے ہیں اور مسجدِ اقصیٰ پر حملے کر رہے ہیں، تاکہ اس کی تباہی کےمنصوبے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یقیناً جب مسلمانوں، ان کی سرزمینوں، ان کے مقدسات اور ان کے امور کا معاملہ آتا ہے تو ان حکمرانوں میں کوئی شرم، غیرت یا عزت باقی نہیں رہتی۔ وہ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إنَّ ممَّا أدرك النَّاسُ من كلامِ النُّبوَّةِ الأولَى إذا لم تستحْيِ فاصنَعْ ما شئتَ» ”پچھلے انبیاء کے کلام میں سے جو باتیں لوگوں تک پہنچی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: ’اگر تم حیا نہ کرو تو پھر جو چاہے کرو۔‘“
جبکہ یہ بے حیا حکمران پورے پاکستان میں پوسٹر لگا کر مکہ معاہدے کا جشن منا رہے ہیں، لیکن وہ اسے مسلمانوں اور اسلام کی خاطر کبھی استعمال نہیں کریں گے۔ سالہا سال سے انہوں نے غزہ کی حمایت میں اپنی مسلح افواج کو متحرک کرنے کے لیے پاکستان کے باضمیر لوگوں کے مطالبے کو مسترد کیا۔ ان کے بہانوں کی طویل فہرست میں سے ایک بہانہ یہ تھا کہ غزہ تک پہنچنے کے لیے کوئی براہِ راست زمینی راستہ موجود نہیں ہے۔
اب جبکہ انہوں نے حجاز میں افواج بھیج دی ہیں اور معاہدۂ مکہ پر دستخط کر دیے ہیں، لہذا پاکستان کی افواج کے پاس اب غزہ تک کا براہِ راست زمینی مواصلاتی رابطہ (GLOC) موجود ہے۔ یہ زمینی راستہ یقیناً کارآمد ہے۔ جب یہودی وجود نے دیکھا کہ اس کی بحری سپلائی لائنز کو مسلمانوں کی طرف سے خطرہ لاحق ہے، تو حجاز کے حکمران اور یہودیوں کے محافظ، ابن سلمان نے اس کے لیے زمینی سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی خاطر خلیجی حکمرانوں کے ساتھ تعاون کیا۔ اور اب جبکہ ایران امریکی صلیبیوں اور یہودیوں کی مزاحمت کر رہا ہے، اگر پاکستان ایران کا ساتھ دیتا تو جنوبی ایران کے راستے زمینی طور پر بھی جزیرہ نما عرب تک پہنچنے کے لیے افواج بھیجی جا سکتی تھیں۔
اے پاکستان کے مسلمانو! بس بہت ہو گیا ان حکمرانوں کا، جو سب سے زیادہ ذلیل کی گئی قوم، یعنی یہودیوں کی زبان سے ذلت کو قبول کرتے ہیں۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ﴾
”ان پر جہاں بھی یہ پائے جائیں ذلت مسلط کر دی گئی ہے، سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں کی طرف سے کوئی معاہدہ“ [آل عمران: 112]۔
اپنی مسلح افواج سے مطالبہ کرو کہ وہ انہیں برطرف کریں اور فلسطین کی مبارک سرزمین اور مسجدِ اقصیٰ کی فوری آزادی کے لیے متحرک ہوں۔ کیا وہ اپنے ہاتھوں سے ایک آزاد مسجدِ اقصیٰ کے دروازے کھولنے کا شرف حاصل کرنے کے لیے نہیں تڑپتے؟
خلافت راشدہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک ریاست ہے، مسلم قومی ریاستوں کا اتحاد نہیں
"ایران کی طاقتور مسلح افواج نے دنیا کی مہنگی ترین فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی تیاری، صلاحیت اور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب مسلمان ایک ساتھ کھڑے ہوں گے، تو ہم بدنیتی پر مبنی بیرونی لوگوں کے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ صرف اپنے آپ پر بھروسہ کرنے اور حقیقی بھائی چارے کو اپنانے کا وقت ہے۔"
https://x.com/araghchi/status/2085791206542320058
سید عباس اراغچی
@araghchi
ایران کے وزیر خارجہ
7 اگست 2026
تبصرہ:
ایک صدی سے زائد عرصے سے مسلمانوں کے حکمران خلافت راشدہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے بددیانت بیرونی لوگوں کے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مسلمانوں کے حکمرانوں کی طرف سے اتحاد کی دعوت کے باوجود کفار بار بار مسلمانوں کی سرزمین پر ایک ایک کر کے حملے کرتے رہتے ہیں۔ شریعت میں اتحاد کی عملی صورت خلافت ہے۔ خلافت راشدہ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک تمام مسلمانوں کے لیے ایک واحد ریاست ہے۔ شرعی حکم کے مطابق مسلمانوں کا ایک ہی خلیفہ ہوتا ہے جو مسلمانوں کی سرزمین کے اندر تمام ولایت (صوبوں) کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ شریعت میں مشاورت کے لیے ایک ہی مجلسِ امت ہوتی ہے، جس میں دارالاسلام کے تمام علاقوں سے منتخب نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ شرعی معاشیات میں، ایک ہی بیت المال ہوتا ہے جو مسلمانوں کی تمام زمینوں سے آمدن جمع کرتا ہے۔ اسلامی جہاد میں، جہاد کا ایک ہی امیر پوری امت مسلمہ کی مشترکہ مسلح افواج کی قیادت کرتا ہے۔ اسی طرح خلافت راشدہ تنہا خلیج کے تیل کی دولت، ترکی کے صنعتی اڈے، ایران کی موثر بحری برتری اور پاکستان کی ایٹمی ڈیٹرنس صلاحیت کو یکجا کر سکتی ہے۔ یہی در حقیقت حقیقی بھائی چارے اور خود انحصاری کو اپنانے کا عملی مظہر ہے۔
تاہم مسلمانوں کے حکمران خلافت قائم کرنے کے بجائے قوم پرستی اور کمزور قومی ریاستوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے حکمران جب اتحاد کی بات کرتے ہیں تو ان کا مطلب شرعی اتحاد نہیں ہوتا۔ اس کی بجائے، ان کا مطلب محدود تعاون کے ساتھ بطور قوم ریاستیں تقسیم کو برقرار رکھنا ہے۔ اس طرح وہ مغربی ریاستوں کیتقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی کامیابی کے ذمہ دار ہیں۔ صدیوں پر محیط صلیبی جنگوں کے باوجود مغربی ریاستیں خلافت کو شکست دینے میں ناکام رہیں جس نے مسلمانوں کو ایک ریاست کے طور پر متحد کیے رکھا تھا۔ چنانچہ صلیبیوں نے پھر مسلمانوں میں قوم پرستی کو پھیلانے کی تحریکیں قائم کرکے مسلمانوں کی طاقت کے منبع یعنی شرعی اتحاد کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے عرب قوم پرستی کے ساتھ ساتھ ترک قوم پرستی کو بھی پھیلایا تاکہ عرب کو عجم سے تقسیم کیا جا سکے۔ پھر انہوں نے مزید تقسیم کے بیج ڈالنے کے لیے خلافت کی ہر سابقہ ولایت میں قوم پرستی کو پھیلایا۔ لہذا، وہ عملی طور پر Sykes-Picot معاہدے کو لاگو کرنے میں کامیاب ہو گئے، مسلمانوں کی زمینوں کو درجنوں ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ مسلمانوں کو تقسیم کرنے میں اپنی کامیابی سے حوصلہ پا کر کفار اب موجودہ مسلم ریاستوں کو مزید تقسیم کرنے کے لیے ذیلی قوم پرستی کو پھیلا رہے ہیں۔
اے مسلمانو!
خلافت کے انہدام کے بعد سے آزمائشیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ قوم پرستی اور اس کی قومی ریاست کو مسترد کریں، اور اسے مسترد کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کریں۔ مسلمانوں کی تمام زمینوں کو ایک خلیفہ راشد کے تلے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں، دین میں اخوت کا حقیقی شرعی مظہر یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
" بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں"۔ [سورۃ الحجرات 49:10]۔
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں کہا، أي في الدين والحرمة لا في النَّسَبِ ، وَلِهَذَا قِيلَ أُخُوَّةُ الدِّينِ أَثْبَتُ مِنْ أُخُوَّةِ النَّسَبِ ، فإن أُخُوَّة النَّسَبِ تنْقَطِع بِمُخَالَفَةِ الدِّينِ ، وَأُخُوَّة الدِّينِ لَا تنْقَطِع بِمُخَالَفَةِ النَّسَبِ "یعنی ( اخوت ) دین و حرمت میں ہے نہ کہ نسل میں، اسی لیے کہا گیا ہے کہ دین کی اخوت نسب کی اخوت سے زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے؛ کیونکہ نسب کی اخوت دین کی مخالفت کی صورت میں ختم ہو جاتی ہے، جبکہ دین کی اخوت نسب کے اختلاف سے ختم نہیں ہوتی۔"
Latest from
- پاکستان میں آزادی کی عدم خودمختاری کی ایک تکلیف دہ امریکی یاد دہانی
- ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ کا اتحاد
- رایہ اخبا ر شمارہ نمبر 612
- تو پھر یہودی وجود، امریکی صلیبیوں اور ہندو ریاست کی جارحیت کو روکنے کے لیے معاہدہ کب ہوگا؟
- ٹرمپ کا اصرار ہے کہ مزاحمت کار مسلمان اپنے ہتھیار پھینک دیں، جبکہ امہ کے دشمنوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں




