الخميس، 14 ربيع الأول 1448| 2026/08/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)

 

24/08/2026

 

امریکی ڈالر کے تسلط کو توڑنے اور تمام فیٹ کرنسیوں کے نقائص کے خاتمے کے لیے سونے اور چاندی کی کرنسی قائم کریں

 

 

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران اور بغداد پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی ڈالر کو "کاری ضرب لگانے" کے لیے اپنی قومی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارت کریں... قالیباف نے کہا: ”آج ہم اپنی قومی کرنسیوں کو استعمال کرتے ہوئے تجارت کر سکتے ہیں اور امریکی ڈالر کو کاری ضرب لگا سکتے ہیں۔“

 

21 اگست 2026

 

https://www.aa.com.tr/en/middle-east/qalibaf-urges-tehran-baghdad-to-use-national-currencies-to-deal-blow-to-us-dollar/4033712

 

تبصرہ:

 

بین الاقوامی تجارت اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر کے چیلنج نہ کیے جانے والے تسلط کے دور کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے بے تحاشا اخراجات کے نتیجے میں امریکی ڈالر کا تسلط پوری دنیا کو مالیاتی افراطِ زر (مہنگائی) کا شکار بنا رہا ہے۔ عملی طور پر، ٹرمپ اخراجات کر رہا ہے اور پوری دنیا اس کا بل ادا کر رہی ہے۔ ڈالر مسلسل کمزور ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کمزور ممالک کے پاس موجود ڈالر کے ذخائر اپنی قدر کھو رہے ہیں، جس سے ان کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی افراطِ زر کو ہوا مل رہی ہے۔

 

ڈالر اپنی قدر اس لیے کھو دیتا ہے کیونکہ یہ ایک فیٹ (اعتباری/کاغذی) کرنسی ہے، جس کی پشت پناہی سونے یا چاندی جیسی ذاتی قدر رکھنے والی شے سے نہیں ہوتی۔ اس کی قدر صرف اس اعتماد سے حاصل ہوتی ہے جو لوگوں کو حکومت اور اس قانون پر ہوتا ہے جو اسے قانونی کرنسی قرار دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام معاشی نمو کی رفتار سے ہٹ کر، سرکاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے زر کی فراہمی میں اضافے کی اجازت دیتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، کرنسی کا ہر یونٹ کمزور اور قدر کم  ہو جاتی ہے۔ عوام دکھ جھیلتے ہیں جبکہ حکومت کے قرضوں کے کریڈٹ سے بینکس اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرمایہ دار مالکان فائدہ اٹھاتے ہیں۔

 

فیٹ کرنسی کی دیگر اقسام پر انحصار بڑھانا بھی کوئی حل نہیں ہے، کیونکہ نہ چینی یوآن، نہ برطانوی پاؤنڈ، نہ فرانسیسی فرانک، نہ ایرانی ریال، نہ عراقی دینار اور نہ ہی پاکستانی روپیہ سونے اور چاندی کی پشت پناہی رکھتے ہیں۔ لہٰذا کمزور ہوتی کرنسی اور بڑھتی ہوئی افراطِ زر کا مسئلہ برقرار رہے گا، خواہ فیٹ کرنسیوں کا کوئی مجموعہ (باسکٹ) ہی عالمی ریزرو کرنسی کے طور پر امریکی فیٹ کرنسی کی جگہ کیوں نہ لے لے۔

 

عملی اور شرعی حل سونے اور چاندی کے معیار (Gold and Silver Standard) کی طرف واپسی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کےإقرار سے یہ ثابت ہے کہ کرنسی کی پشت پناہی سونے اور چاندی سے ہوتی ہے۔ کسی بھی کاغذی کرنسی کی مکمل نمائندگی سونے یا چاندی کے ذریعے ہونی چاہیے اور اسے مکمل طور پر سونے اور چاندی میں تبدیل کرنے کی سہولت موجود ہونی چاہیے۔ شرعی کرنسی سرکاری اخراجات پر نظم و ضبط نافذ کرتی ہے، نیز سونے اور چاندی کی ذاتی موجودگی اور حقیقی دولت کی بدولت قیمتوں میں استحکام لاتی ہے۔ ریاستِ خلافت نے صدیوں تک تجارت کے لیے سونے اور چاندی کو غالب کرنسی کے طور پر قائم رکھا، غریب ریاستوں کے استحصال کا سدِ باب کیا اور تمام انسانیت کو رب العالمین کی عطا کردہ نعمتوں سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔ پس مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں جو دنیا اور آخرت کی بھلائی کو یقینی بناتی ہے۔

 

شام اور پاکستان کے درمیان تعاون امریکی اور یہودی دہشت گردوں کے سکیورٹی خطرے کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے

“شام کے وزیرِ خارجہ نے اپنے وفد کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔”

 

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR)، پاکستان

راولپنڈی — 21 اگست 2026

نمبر: PR-185/2026-ISPR

https://www.ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7759

 

یہ تعاون دراصل کس کی سکیورٹی کے بارے میں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کے “پسندیدہ فیلڈ مارشل” نے ٹرمپ کے “سخت گیر شخص” احمد الشرع کی حکومت سے ملاقات کی تاکہ امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی تعاون کیا جا سکے، جبکہ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور تہران کو لبنان، یمن اور عراق میں موجود اس کے محورِ مزاحمت (Axis of Resistance) سے کاٹنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے قبل سکیورٹی تعاون کے حوالے سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب یہودی وجود غزہ کی خواتین اور بچوں پر گھر منہدم کر رہی تھی۔

 

تو پھر مسلمانوں کے درمیان سکیورٹی تعاون کس مقصد کے لیے ہونا چاہیے؟ واضح سکیورٹی خطرہ امریکی اور یہودی دہشت گردوں کی طرف سے ہے۔ یہودی وجود شام پر بمباری کر رہی ہے، جبکہ غزہ پر اپنے قبضے کو مزید وسعت دے رہی ہے۔ امریکہ کے فوجی اڈے اور جنگی بحری جہاز ایک کے بعد دوسری مسلم ریاست کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یقیناً، شام اور پاکستان کے مسلمانوں کے درمیان تعاون جنگ برپا کرنے والے کفار کے سکیورٹی خطرے کے خاتمے کے لیے کافی سے زیادہ ہے۔ پاکستان شام کو جوہری تحفظ فراہم کر سکتا ہے، تاکہ اس کی مسلح افواج اور مجاہدین یہودی وجود پر بھرپور حملے کر سکیں، جبکہ شام اپنی فضائی حدود اور اڈے پاکستان کی کمک کے طور پر آنے والی افواج کے لیے کھول سکتا ہے۔ یہی وہ سکیورٹی تعاون ہے جس کی امت آرزو مند ہے۔

 

شام اور پاکستان کے مسلمان خلافتِ راشدہ قائم کریں اور ایسے نیک اعمال انجام دیں جو دین کے تمکین (تمكين) اور امن (أمن) کے حصول کا سبب بنیں۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ َلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمْنًا﴾

 

 

“اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے کہ وہ ضرور انہیں زمین میں اسی طرح خلافت عطا کرے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی، اور ان کے لیے ان کے پسندیدہ دین کو ضرور اقتدار بخشے گا، اور ان کے خوف کو ضرور امن میں بدل دے گا”[سورۃ النور: 55]۔

 

ایران کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ خلافتِ راشدہ ہے

 

“کئی دہائیوں سے ایرانی نظامِ حکومت نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں دہشت پھیلانے کے لیے حزب اللہ کو استعمال کیا ہے۔ آج امریکی محکمۂ خزانہ نے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور-قدس فورس (IRGC-QF) کو معاونت فراہم کرنے والی حزب اللہ کی سرگرمیوں کے باعث اس کے خلاف پابندیوں کو دوبارہ نافذ کیا ہے۔”

 

امریکی محکمۂ خارجہ

 

قدس فورس اور حزب اللہ کے لیے اسمگلنگ نیٹ ورک پر امریکی پابندیاں

 

پریس بیان

 

تھامس "ٹومی" پیگوٹ، ترجمان

20 اگست 2026

https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/08/u-s-sanctions-smuggling-network-for-qods-force-and-hizballah/

 

امریکہ ایران کے مسلمانوں کے گرد پابندیوں، معاشی محاصرے اور مسلمانوں کی افواج کے ذریعے فوجی دباؤ کی حکمتِ عملی استعمال کرتے ہوئے گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ اس نے مسلم دنیا میں موجود اپنے تمام ایجنٹوں اور پیروکاروں کو اپنے ساتھ متحرک کر لیا ہے تاکہ اس کی معاونت کی جا سکے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر نے 15 اگست کو مشرقِ وسطیٰ کا دس روزہ دورہ مکمل کیا، جس کا مقصد ایران کے گرد موجود ریاستوں کی افواج کو ہدایات دینا تھا۔ ابن سلمان نے مسلمانوں کی بحری افواج پر مشتمل ایک بحری اتحاد قائم کیا ہے تاکہ ایران کو یمن میں موجود اس کے حامی گروہوں سے الگ کیا جا سکے۔ لبنان اور شام کے حکمران لبنان میں ایران کو اس کے حزب سے الگ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ عراق کے حکمران انسدادِ بدعنوانی کی مہم کو ایران کو عراق میں موجود اس کے حامی گروہوں سے الگ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ، جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس سے “بہت خوش” ہے، ایران کے خلاف باز رکھنے کی قوت (deterrence) کے طور پر پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے۔

 

جب تک مسلم ریاستوں کی قیادتیں قوم پرستی اور فرقہ واریت کو اختیار کیے رکھیں گی اور امریکیوں کے لیے سہولت کار، پیروکار اور ایجنٹ کا کردار ادا کرتی رہیں گی، کفار مسلم ریاستوں کو ایک کے بعد ایک نشانہ بناتے رہیں گے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ امریکہ کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا مطالبہ کرے، تاکہ اگر امریکہ جنگ کی جرأت کرے بھی تو اسے اپنی بزدل فوج اور زوال پذیر معیشت کے ساتھ اکیلے ہی لڑنا پڑے۔ خلافتِ راشدہ ہی کفار کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا واحد شرعی طریقہ ہے، اور یہی موجودہ مسلم ریاستوں کو ایک طاقتور اسلامی ریاست کے طور پر متحد کرنے کو یقینی بنائے گی۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً﴾

 

 

“اے ایمان والو! مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور حلیف نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کے لیے اپنے خلاف ایک واضح حجت قائم کر دو؟” [سورۃ النساء: 144]۔

 

 

ایک امریکی یونی پولر (Unipolar) عالمی نظام دراصل طاقت کی حکمرانی اور جنگل کے قانون کا نام ہے

 

“ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف بالکل واضح ہے: بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) ایک بدعنوان اور بری طرح سیاسی زدہ ماورائے قومی عدالت ہے، جس نے بدنیتی کے ساتھ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔۔۔ ٹرمپ انتظامیہ ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ ICC کو منظم انداز میں ختم کیا جا سکے اور بالآخر اسے اس قابل نہ رہنے دیا جائے کہ وہ امریکی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکے۔”

 

پریس بیان

مارکو روبیو، امریکی وزیرِ خارجہ

18 اگست 2026

https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/08/advancing-the-united-states-campaign-to-address-the-threat-posed-by-the-international-criminal-court/

 

تبصرہ:

 

امریکہ کون ہوتا ہے کہ خودمختاری کی بات کرے؟ کئی دہائیوں سے واشنگٹن نے مسلسل مسلم سرزمینوں کی آزادی، خون اور وسائل کو پامال کیا ہے، یا یہودیوں اور ہندو مشرکین کو ایسا کرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔ اس کی دردناک مثالوں میں افغانستان، عراق، فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور ایران شامل ہیں۔ امریکہ نے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن سے جنگل کے درندے بھی گریز کریں، اور وہ یہودیوں اور ہندوؤں کو بھی ان جرائم کے ارتکاب میں تحفظ فراہم کرتا رہا ہے۔ مزید برآں، امریکہ نے اپنے جرائم کو صرف امت مسلمہ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ دنیا بھر میں بہت سی اقوام کی نفرت بھی اپنے لیے مول لی ہے۔

 

نہ صرف عالمی رائے عامہ امریکہ کے خلاف ہو چکی ہے، بلکہ بڑی طاقتیں اور دیگر ریاستیں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) جیسے کثیر الجہتی اداروں کے ذریعے امریکی توسیع پسندی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ چنانچہ امریکہ اب ان کثیر الجہتی اداروں کو ختم کر رہا ہے جو اس کی ناجائز بالادستی کو بے نقاب اور اس کے لیے باعثِ شرمندگی بن سکتے ہیں۔ حکمتِ عملی کے اعتبار سے، امریکہ کثیر قطبی عالمی نظام کو ختم کرکے ایک یونی پولر (Unipolar) عالمی نظام کی راہ ہموار کر رہا ہے، جہاں تاریخ کا رخ متعین کرنے کا اختیار صرف امریکہ کے پاس ہو۔ اسی لیے امریکہ کثیر الجہتی اداروں کو ختم کرکے علاقائی اتحادوں کے ایک ایسے جال کی راہ ہموار کر رہا ہے جس کی سربراہی صرف امریکہ کے ہاتھ میں ہو، جیسا کہ بورڈ آف پیس (Board of Peace

 

جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، اس پر لازم ہے کہ مسلمانوں پر کفار کی ہر قسم کی بالادستی کو مسترد کرے۔ امت مسلمہ طویل عرصے سے ان کثیر الجہتی اداروں کے تحت مشکلات کا شکار رہی ہے جنہیں امریکہ سمیت بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اب یہ ان علاقائی اتحادوں کے باعث بھی مشکلات سے دوچار ہے جو امریکہ کے یونی پولر (Unipolar) عالمی نظام کے وژن کی تکمیل کے لیے قائم کیے جا رہے ہیں۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾

 

“اور اللہ ہرگز کافروں کو مؤمنوں پر غلبے کی کوئی راہ نہیں دے گا” [سورۃ النساء 4:141]۔

 

 

لہٰذا امت کے بیٹوں اور بیٹیوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی اقتدار، یعنی خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں، جو پوری امت مسلمہ کے وسیع وسائل کو یکجا کرے گی اور اسلام کے عظیم دین کے عدل و ہدایت کے ذریعے پوری انسانیت کی قیادت کرے گی۔

 

ریاست ہائے جباية (وصولی کی ریاستوں) کے بجائے ریاستِ رعاية (سرپرست ریاست) کا قیام لازم ہے

 

 

انسٹٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP)، پشاور آفس نے "ٹیکس سال 2026ء کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے" کے موضوع پر ایک معلومات افزا سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس سیشن کی قیادت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ڈومین ٹیم نے کی، جس نے گوشوارے جمع کرانے کے عمل کا جامع جائزہ پیش کیا اور ٹیکس سال 2026ء کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے تازہ ترین ضروریات، اہم تبدیلیوں، آن لائن فائلنگ کے طریقہ کار اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

 

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) وزارتِ اطلاعات و نشریات، پاکستان کا مرکزی شعبہ ہے۔

پشاور: 18 اگست 2026ء

https://pid.gov.pk/site/press_detail/33639

 

تبصره

 

مسلم ممالک میں قائم موجودہ ریاستیں سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہمہ گیرظالمانہ (regressive) ٹیکسیشن کے ماڈل پر آمدن حاصل کرتی ہیں۔ شرعی معاشی نظام کے برعکس، سرمایہ دارانہ نظام لوگوں کی مالی استطاعت، غربت اور مقروض ہونے کی پروا کیے بغیر ان پر ٹیکس عائد کرتا ہے۔ غریبوں اور مقروضوں کو ٹیکسوں کے نیچے کچلنے کے بعد، موجودہ ریاستیں اپنی بیشتر آمدنی قرضوں کی ادائیگی (Debt Servicing) اور سرمایہ دارانہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں (IFIs) کو سود (ربا) دینے پر خرچ کر دیتی ہیں۔ سود کی لعنت کے باعث ہر سال قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے، سود و قرض کی ادائیگی کی رقم بڑھتی ہے اور یوں غریبوں اور مقروضوں پر ٹیکسوں کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ موجودہ ریاستوں کو "ریاستِ جباية" (وصولی کی ریاستیں) کہنا بالکل بجا ہے، نہ کہ شریعت کی "ریاستِ رعاية" (سرپرست ریاست) جو غریبوں اور مقروضوں کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔

 

شرعی ریاست میں بیت المال کے مستقل ذرائعِ آمدن، جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے، غریبوں، مقروضوں اور مالی طور پر نادار افراد پر بوجھ نہیں ڈالتے؛ اس حوالے سے چند شرعی احکام درج ذیل ہیں:

 

                   سود (ربا) کی ادائیگی قطعی طور پر حرام ہے، اور اصل زر کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ مسلمانوں کے فاسد و بدعنوان حکمرانوں اور عہدیداروں کے اثاثوں سے غصب و خیانت شدہ مال (مالِ غلول) ضبط کیا جائے۔

                   آمدنی پر ٹیکس عائد کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ محنت کا معاوضہ محنت کش کی محترم و ناقابلِ تجاوز ذاتی ملکیت ہے، خواہ وہ ذہنی محنت ہو، جسمانی محنت ہو یا دونوں۔

                   جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ کسی شے یا سروس کی مارکیٹ قیمت سے زائد رقم وصول کر کے خریدار کی ذاتی ملکیت کو ناحق کھانا ہے۔

                   جزیہ صرف صاحبِ استطاعت غیر مسلم مردوں سے لیا جاتا ہے، اور یہ عورتوں، بچوں، معذوروں یا ضعیف و ناہل بوڑھوں سے نہیں لیا جاتا۔

                   خراج زرعی زمین سے لیا جاتا ہے، اور یہ ان لوگوں سے وصول کیا جاتا ہے جو زمین کے مالک بھی ہوں اور اس پر کاشت کاری بھی کرتے ہوں۔

                   زکوٰۃ صرف صاحبِ استطاعت (مالدار) لوگوں سے لی جاتی ہے، جبکہ اسے مقروضوں، غریبوں اور محتاجوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

                   تجارتی سامان پر زکوٰۃ ان تاجروں سے لی جاتی ہے جن کے پاس نصاب (کم از کم حد) سے زیادہ کا اسٹاک ہو اور اس پر ایک قمری سال (حول) گزر چکا ہو، جبکہ جن تاجروں کے پاس نصاب سے کم اسٹاک ہو یا قمری سال نہ گزرا ہو، ان پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔

                   عوامی ملکیت (ملکیتِ عامہ) جیسے توانائی اور معدنیات سے حاصل ہونے والے منافع کو عوام کی ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے، اور نجی کاری (پرائیویٹائزیشن) کے بعد ان کے منافع کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنا بالکل جائز نہیں ہے۔

                   ہنگامی ٹیکس (ایمرجنسی ٹیکس)—اگر شرعی فرائض کو پورا کرنے میں بیت المال کے مستقل ذرائع کم پڑ جائیں—تو یہ صرف ان مسلمانوں کے مال سے لیا جاتا ہے جو ان کی اور ان کے معمول کے معیارِ زندگی کے مطابق بنیادی و آسائشی ضروریات سے زائد ہو۔ یہ ٹیکس صرف ان مسلمانوں سے وصول کیا جاتا ہے جن کے پاس بنیادی اور آسائشی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد اضافی مال موجود ہو۔ جن کے پاس اضافی مال نہ ہو، ان سے کچھ نہیں لیا جاتا۔ یہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں ہے: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى» "بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا (مالداری / ضرورت سے زائد مال) کی حالت میں دیا جائے" (صحیح بخاری، بحوالہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)۔

 

اے مسلمانو! ریاستِ رعاية یعنی خلافتِ راشدہ کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرو تاکہ تم دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کر سکو!

 

اللہ ﷻ کی راہ میں جہاد سے مجرمانہ غفلت اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلمانوں سے دشمنی پر مبنی تعاون کو مسترد کر دو

 

خبر:

 

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں مصر کے سفیر، عالی جناب ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی صدارت کی، جس میں زراعت، غذائی تحفظ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

17 اگست 2026

https://pid.gov.pk/site/press_detail/33619

 

تبصرہ:

 

ایک ایسے وقت میں جب یہودی وجود المسجد الاقصیٰ پر دھاوے بول رہا ہے اور غزہ میں مسلمانوں کو شہید کر رہا ہے، جہاں بیواؤں کی آہ و زاری اور یتیموں کی چیخ و پکار سے فضا گونج رہی ہے، پاکستان اور مصر کے حکمران زراعت، فصلوں، مویشیوں اور کھیتی باڑی کے بارے میں بات چیت میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں پر فرض تھا کہ وہ مصر کے فرعون اور ٹرمپ کے "پسندیدہ ڈکٹیٹر" السیسی سے مصر میں موجود فوجی اڈوں تک رسائی اور رفح بارڈر کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کرتے، جس کی بندش مسلمانوں کو پینے کے پانی، خوراک، چھت اور ادویات سے محروم کرنے کا اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان اور مصر کی مشترکہ افواج اللہ ﷻ کی نصرت اور پوری امتِ مسلمہ کی دعاؤں سے محض ایک دن کے چند گھنٹوں میں فلسطین کو دریا سے سمندر تک آزاد کرانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

 

کیا یہ روبیضہ (کم ظرف/پست) حکمران پیارے محمد المصطفیٰ ﷺ کی اس تنبیہ پر کان نہیں دھریں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُم "جب تم العینہ (سود کی ایک قسم) کی خرید و فروخت کرنے لگو گے، گائے کی دم پکڑ لو گے (کھیتی باڑی میں مگن ہو جاؤ گے)، زراعت پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے اس وقت تک نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ آؤ۔" [ابو داؤد]

 

جب اللہ ﷻ کے کلمے کو بلند تر کرنے کے لیے اس کی راہ میں کافروں کے خلاف جہاد کا معاملہ آتا ہے تو ان حکمرانوں کے پاس عذر اور بہانوں کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ تاہم، جب امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے مسلمانوں سے لڑنے کی بات آتی ہے تو وہ ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ پاکستان اور مصر دونوں نے ٹرمپ کے ایجنٹ اور حجاز و نجد میں امریکی مفادات کے خادم، ابن سلمان کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی بحری اتحاد میں اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ اس بحری اتحاد کا بنیادی مقصد حوثیوں اور ایران کے درمیان تعلق کو کاٹنے کی کوشش کرنا ہے—یہ ایک ایسا ہدف ہے جو یمن، لبنان اور عراق میں ایران کے حامیوں (پروکسیز) پر حملہ کرنے کے امریکی منصوبوں کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

 

تاہم، یمن میں جنگ اور تصادم طویل ہونے کی توقع ہے، جہاں مسلمان سالہا سال تک مسلمانوں کو ذبح کرتے رہیں گے۔ یہاں سعودی فوج کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اس سے قبل یمن میں طویل تنازعات میں مبتلا رہی ہے—جو 2015 سے 2019 اور اس کے بعد "آپریشن فیصلہ کن طوفان" (Decisive Storm) اور "آپریشن امیدِ نو" (Restoring Hope) کے تحت شروع ہوئے اور بالآخر خون خرابے کی ایک دہائی پر محیط ہو گئے۔ مصری فوج کو جمال عبدالناصر کی اس حماقت کو نہیں بھولنا چاہیے جس نے 1960 میں یمن میں افواج بھیجیں اور 1967 تک بے سود جنگ لڑی۔ مصر کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا، جس میں دسیوں ہزار فوجی مارے گئے اور وہ مکمل کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہا، اور بالآخر خالی ہاتھ اپنی افواج واپس بلا لیں۔ اور پاکستان کی فوج کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمانوں کی افواج کے لیے امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ امریکی صلیبیوں، یہودی وجود اور ہندو ریاست کے لیے سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کریں، جبکہ مسلمانوں کا خون بہا کر اپنے سروں پر گناہوں کا بوجھ لادتے رہیں۔ ٹرمپ کی "طاقت کے ذریعے امن" کی پالیسی درحقیقت مسلمانوں کی افواج کی طاقت کے ذریعے امریکی تسلط قائم کرنا ہے۔

 

مسلمانوں کی افواج کے اندر موجود مخلص افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمرانوں کی اس غداری کو فوراً روکیں۔ انہیں اپنی قیادت میں موجود امریکہ کے ایجنٹوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ انہیں نبوت کے طریقے پر خلافت راشدہ کے قیام کے لیے نصرت (عسکری مدد) فراہم کرنی چاہیے، جو گناہ اور دشمنی میں تعاون کا خاتمہ کرے گی اور نیکی اور تقویٰ میں تعاون کو قائم کرے گی۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ

 

 

"اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو۔" [المائدہ: 2]

 

پس، افواج میں سے کون ہے جو حزب التحریر کی اس پکار پر سب سے پہلے لبیک کہے گا؟

 

ٹرمپ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے مسلم حکمرانوں کی حقیقت پوری طرح بے نقاب کر دی ہے

 

’’یہ دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے حال ہی میں، اور بالآخر، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کس طرح متحد ہو رہا ہے اور اب ممالک آخرکار زیادہ مؤثر انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔ مذکورہ تینوں ممالک کی عظیم قیادت کو مبارکباد۔ یہ ایک بڑا، جرات مندانہ اور نہایت اہم پہلا قدم ہے — واہ!‘‘

 

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

16 اگست 2026

@TrumpTruthOnX

https://x.com/TrumpTruthOnX/status/2089096263279226992

 

پچھلے امریکی صدور مسلم حکمرانوں میں موجود اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں کی جانب سے امریکہ کی مذمت کو برداشت کرتے رہے، کیونکہ اس کے ذریعے حکمران ایک طرف امریکی مفادات کا تحفظ کرتے تھے، جبکہ دوسری طرف امت مسلمہ میں پیدا ہونے والے منفی ردِعمل کو کم کرنے میں کامیاب رہتے تھے۔ اسی لیے سابق امریکی صدور نے ان حکمرانوں کی جانب سے گھڑی گئی ان بیانیوں کو برداشت کیا جن میں امریکہ کو ’’عظیم شیطان‘‘ قرار دیا جاتا تھا یا یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں۔ لیکن متکبر ٹرمپ کو اپنے لیے داد اور تعریف حاصل کرنا پسند ہے، خواہ اس کی قیمت اس کے اپنے ایجنٹوں اور پیروکاروں کو بے نقاب کرنے اور امت مسلمہ کو ان کے خلاف بھڑکانے کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

 

یہ بات بالکل واضح ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلام اور امت مسلمہ کے مفاد میں نہیں ہے، جس طرح یہ بھی واضح ہے کہ ٹرمپ اس بات پر ’’بہت خوش‘‘ ہے کہ مسلم حکمرانوں نے ’’بالآخر دستخط کر دیے ہیں۔‘‘ یہ معاہدہ ٹرمپ کی جانب سے بنائے جانے والے اتحادیوں کے اس جال کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کی افواج کو ایسے جال میں پھانسنا ہے کہ وہ امریکہ کے فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے استعمال ہوں، جن میں اس کا یہ اہم فوجی اڈہ بھی شامل ہے جو مسلم مشرقِ وسطیٰ کو مسلم افریقہ سے جدا رکھنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، یعنی یہودی وجود۔

 

اگر مسلم حکمران اسلام اور مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں مخلص ہوتے تو وہ صرف مسلم ریاستوں کے درمیان تعاون تک محدود کیوں رہتے؟ انہوں نے وہ قدم کیوں نہ اٹھایا جس کا شریعت تقاضا کرتی ہے، یعنی تمام مسلم ریاستوں کو ایک واحد ریاست خلافت میں متحد کرنا؟ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو مسترد کریں، جو مکہ پر حکمرانی کرنے والے قریش کے ظالم سرداروں کے نقشِ قدم پر قائم کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بنائے جانے والے اتحادوں کا یہ جال احزاب کے اس شر انگیز اتحاد کی مانند ہے جو رسول اللہ ﷺ کی اسلامی ریاست کے خلاف قائم کیا گیا تھا، اور جس سے صرف یہود، مشرکین اور منافقین ہی خوش ہوئے تھے۔ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس شرعی طریقۂ کار کے ذریعے تمام مسلم ریاستوں کو ایک واحد ریاست میں متحد کرنے کے لیے جدوجہد کریں، یعنی خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔

 

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ» ’’بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور میرے بعد بہت سے خلفاء ہوں گے۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: «فَمَا تَأْمُرُنَا؟» ’’پس آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: «فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ» ’’پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرو، پھر اس کے بعد آنے والے کی بیعت کو‘‘ [صحیح مسلم]۔ اس حدیث کی شرح میں امام نوویؒ فرماتے ہیں: «وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَةٍ بَعْدَ خَلِيفَةٍ فَبَيْعَةُ الْأَوَّلِ صَحِيحَةٌ يَجِبُ الْوَفَاءُ بِهَا وَبَيْعَةُ الثَّانِي بَاطِلَةٌ يَحْرُمُ الْوَفَاءُ بِهَا وَيَحْرُمُ عَلَيْهِ طَلَبُهَا وَسَوَاءٌ عَقَدُوا لِلثَّانِي عَالِمِينَ بِعَقْدِ الْأَوَّلِ جَاهِلِينَ وَسَوَاءٌ كَانَا فِي بَلَدَيْنِ أَوْ بَلَدٍ أَوْ أَحَدُهُمَا فِي بَلَدِ الْإِمَامِ الْمُنْفَصِلِ»۔’’اگر ایک خلیفہ کی بیعت ہو چکی ہو اور اس کے بعد دوسرے خلیفہ کی بیعت کی جائے تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اس کی پاسداری واجب ہے، جبکہ دوسرے کی بیعت باطل ہے، اس کی پاسداری کرنا حرام ہے اور دوسرے خلیفہ کے لیے اس بیعت کا مطالبہ کرنا بھی حرام ہے۔ اس حکم میں کوئی فرق نہیں کہ لوگوں نے پہلے خلیفہ کی تقرری سے باخبر ہوتے ہوئے دوسرے کی بیعت کی یا اس سے بے خبر ہوتے ہوئے۔ اسی طرح اس میں بھی کوئی فرق نہیں کہ دونوں خلیفہ الگ الگ علاقوں میں ہوں یا ایک ہی علاقے میں، یا ان میں سے ایک ایسے علاقے میں ہو جو دوسرے سے بالکل جدا ہو۔‘‘

 

اللہ کی اجازت اور اس کی نصرت سے خلافتِ راشدہ مشرق میں ٹرمپ کے حلیف مودی کو شکست دے گی

 

 

’’صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم مودی کے درمیان ذاتی تعلقات کی بدولت امریکہ اور بھارت کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں اور پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہیں۔ دفاع اور توانائی کے تحفظ سے لے کر اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت، خلائی تعاون اور تجارت تک، ہماری باہمی شراکت داری دونوں ممالک اور بحرِ ہند کے وسیع تر خطے کو زیادہ محفوظ، مضبوط اور خوش حال بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔‘‘

 

پریس بیان: بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر

مارکو روبیو، امریکی وزیرِ خارجہ

14 اگست 2026

https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/08/india-independence-day-2/

 

امریکی وزیرِ خارجہ کا بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر دیا گیا پیغام، پاکستان کے لیے ان کے یومِ آزادی کے پیغام کے بالکل برعکس ہے۔ امریکہ واضح طور پر ہندو ریاست کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کی ترقی اور خلائی تعاون بھی شامل ہیں۔ ان کے یہ پیغامات واضح طور پر اس فرق کو نمایاں کرتے ہیں جو امریکہ کی پالیسی میں ایک طرف مسلم ریاستوں اور دوسری طرف مشرق میں ہندو ریاست اور مغرب میں یہودی وجود کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔

 

مسلم ریاستوں کے حوالے سے امریکہ کی فوجی پالیسی دہشت گردی کے خلاف جنگ (Counter-Terrorism) کے گرد تشکیل دی گئی ہے، جس کے تحت مسلمانوں کی افواج ہی مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں، تاکہ نہ تو امریکی غلبے کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت پیدا ہو اور نہ ہی یہودی وجود اور ہندو ریاست کی جانب سے مسلم سرزمین پر قبضے کے خلاف کوئی مزاحمت باقی رہے۔ اس کے برعکس، امریکہ مغرب میں یہودی وجود کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف محاذ سنبھالے، جبکہ مشرق میں ہندو ریاست کو بھی بھرپور عسکری طاقت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ چین اور مسلمانوں، دونوں کا مقابلہ کر سکے۔

 

مسلم ریاستوں کے حوالے سے امریکہ کی ثقافتی پالیسی یہ ہے کہ مسلمانوں کے دین کو کمزور کیا جائے، کیونکہ یہی دین مسلمانوں میں ظلم اور قبضے کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، امریکہ نیتن یاہو کی اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جس کے ذریعے یہودی وجود کو وسعت دینے اور مسجدِ اقصیٰ کو تباہ کرنے کے تلمودی تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح امریکہ مودی کے ہندوتوا کے نظریے کی بھی حمایت کرتا ہے، جو افغانستان، بنگلہ دیش، پاکستان اور مالدیپ کو ’’اکھنڈ بھارت‘‘ یعنی عظیم تر بھارت کا حصہ تصور کرتا ہے۔

 

اہلِ کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ، کا بت پرست ہندو مشرکین کے ساتھ اتحاد اہلِ ایمان کے لیے کوئی حیران کن بات نہیں۔ نہ یہود و نصاریٰ اور نہ ہی مشرکین یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کوئی بھلائی حاصل ہو۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:

 

﴿مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾

 

 

’’اہلِ کتاب میں سے کافر اور مشرک یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے خاص کر لیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘ [سورۃ البقرۃ: 105]۔

 

افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور مالدیپ کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ ﷻ کے فرامین اور کافروں کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔ موجودہ قوم پرستانہ مسلم ریاستیں کبھی بھی ہندو ریاست کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ مسلم ریاستوں کی تقسیم کو برقرار رکھا جائے، جبکہ انہیں تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدوں کے ذریعے ہندو ریاست کو مزید مضبوط کرنے کی طرف مائل کیا جائے۔ اسلامی منصوبہ ہی مشرکین کے علاقائی غلبے کا واحد عملی اور شرعی جواب ہے۔

 

شریعت پر مبنی نظامِ حکمرانی تمام مسلم ریاستوں کو ایک واحد اسلامی ریاست میں متحد کرتا ہے۔ شریعت میں ایسی کسی خلافت کے قیام کی کوئی ممانعت نہیں جو ابتدا ہی میں تمام ہمسایہ علاقوں کو شامل نہ کرتی ہو، مثلاً پاکستان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے اتحاد سے آغاز کرنا۔ اللہ ﷻ کی اجازت اور اس کی نصرت سے دوسری خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ مسلمانوں کے تمام وسائل کو کافروں کے قبضے اور غلبے کے خلاف مجتمع اور متحرک کرے گی۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی نظامِ حکمرانی کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کریں، جو اس خطے کے تمام باشندوں کے لیے امن اور خوش حالی کو یقینی بنائے گا، جیسا کہ اس نے صدیوں تک اس خطے میں امن و خوش حالی قائم رکھی۔

 

Last modified onجمعرات, 27 اگست 2026 03:26

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک