الأربعاء، 25 ربيع الثاني 1448| 2026/10/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ، چین اور اپنے زوال کی منتظر جھوٹی تہذیبیں

 

تحریر: استاد حسن حمدان

(ترجمہ)

 

 

امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ، 23ستمبر 2026ء کو دارالحکومت واشنگٹن کے قریب ایک فضائی اڈے پر اپنے چینی ہم منصب شی چن پنگ کا استقبال کیا، جو چینی صدر کے 3روزہ سرکاری دورے کا آغاز تھا۔

 

بنیادی طور پر، چین ستر کی دہائی میں دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا، مگر وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں تبدیل ہو گیا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے، "دنیا کا کارخانہ" بن گیا۔ لیکن یہ تبدیلی کوئی اتفاقیہ امر نہیں تھی، بلکہ ایک طویل المیعاد وژن، ایک طے شدہ منصوبے اور حکمتِ عملی پر مبنی صبر کا نتیجہ تھی۔ اس سفر کا آغاز 1978ء میں ڈینگ شیاؤ پنگ کے چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سنبھالنے سے ہوا، جہاں انہوں نے مبدأ (آئیڈیالوجی) کی بجائے معیشت کو ترجیح دی؛ چنانچہ انہوں نے ایک ایسا معاشی ماڈل قائم کیا جو کم اجرتوں اور اعلیٰ بیرونی برآمدات پر مبنی تھا، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دروازے کھولے۔ اس کے بعد انہوں نے 1979ء میں مشرقی چین کے شہروں میں خصوصی معاشی زون (SEZ) قائم کیے، اور 2010ء سے چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معاشی طاقت بن گیا۔

جہاں تک عسکری پہلو کا تعلق ہے، چین اپنی معاشی طاقت کو عسکری قوت میں ڈھالنے کی راہ پر گامزن ہے، کیونکہ وہ ہر سال اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ "2025ء کے لیے قومی دفاعی بجٹ میں 7.2فیصد کا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو دفاعی بجٹ میں مسلسل دسویں سال یک ہندسی (single-digit) نمو کی نمائندگی کرتا ہے، اور رواں سال ملک کا متوقع دفاعی خرچ 1.784665ٹریلین یوآن (تقریباً 249ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ جائے گا..."۔ اس کے ساتھ ساتھ، چینی فوج کی روایتی اور ایٹمی صلاحیتیں بھی مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔ امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے بدھ کے روز کانگریس میں پیش کی گئی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ 2024ء کے وسط تک چین کے پاس 600سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے، اور 2030ء تک ان کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔ نیز چین نے 3ستمبر 2025ء کو ایک فوجی پریڈ میں اپنے جدید ترین ہتھیار نمائش کے لیے پیش کرنے کا خاص اہتمام کیا تھا۔

 

چنانچہ، آج کا چین ستر کی دہائی یا اس سے پہلے کا چین نہیں ہے، اور اس کے ساتھ مذاکرات اب ویسے نہیں ہوں گے جیسے ماضی میں ہوتے تھے؛ کیونکہ امریکہ آج ایک ایسی زبردست عسکری قوت کے سامنے کھڑا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور ایک ایسی دیوہیکل معاشی طاقت کے روبرو ہے جس کا پورا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ اور یہی بات امریکی انتظامیہ، بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل سے واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

 

حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی طرف سے 22نومبر 2025ء کو شائع ہونے والے ایک سوال کے جواب میں، جس کا عنوان "چین اور اس کا اپنی محدود علاقائی سوچ سے آزاد ہونا" تھا، بیان کیا گیا ہے: "امریکہ نے اپنی ایشیائی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے چین کے عروج کو روکنے اور اسے محصور کرنے کی کوشش کی ہے ، اور وہ اب بھی کوشش کر رہا ہے؛ کبھی اپنے فوجیوں اور جنگی سامان کو یورپ سے بحرِ الکاہل کے علاقے میں منتقل کر کے، کبھی تائیوان کے بحران کو استعمال کر کے، کبھی بھارت کو استعمال کر کے، کبھی علاقائی ممالک کے ساتھ عسکری اتحاد قائم کر کے جیسے 'آکس' (AUKUS - آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ) اور 'کواڈ' (Quad - امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور جاپان)، اور کبھی 'ہواوے' جیسی چینی کمپنیوں کے خلاف تجارتی جنگیں چھیڑ کر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے سوویت یونین کے زوال کے بعد، اسلام کو نظریاتی دشمن اور چین کو ریاستی دشمن کے طور پر اپنے دشمنوں کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا۔ اور اگرچہ عراق اور افغانستان کی جنگوں نے چین کے ساتھ اس کے تصادم کو مؤخر کیا اور سست کر دیا، لیکن ان جنگوں کے بعد اس نے اپنا تمام تر ہدف چین پر مرکوز کر دیا، بالخصوص تجارتی جنگوں کے ذریعے"۔

 

اور اب، جہاں تک زیرِ بحث اور زیرِ مذاکرات موضوعات کا تعلق ہے، تو کیا یہ سربراہی اجلاس اسی طرح کامیاب ہو سکتا ہے جس طرح ٹرمپ اس کی تشہیر کر رہا ہے؟!

 

میڈیا میں نقل کیے جانے والے ٹرمپ کے بیانات ، جن میں ان کا یہ کہنا شامل ہے کہ اس نے اور اس کے چینی ہم منصب شی جن پنگ نے چینی صدر کے دورہ واشنگٹن کے دوران "زبردست پیش رفت" کی ہے، نیز دونوں فریقوں کی جانب سے ایران پر جنگ پر تبادلہ خیال کرنے اور سال کے اختتام سے قبل مزید دو اجلاس منعقد کرنے کے امکان کا انکشاف کیا گیا ہے (بی بی سی) ، شدید گمراہ کن اور حقیقی خدشات کا اظہار ہیں، اور یہ سچے بیانات نہیں ہیں؛ اس کی متعدد وجوہات ہیں:

 

انتخابات کا معاملہ: ٹرمپ کی جانب سے امریکی عوام، بالخصوص کسانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کہ اس ملاقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

 

سیاسی و معاشی بحران: ایران کے ساتھ جنگ میں اس کا بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اثرات اور عالمی و امریکی معیشت پر پڑنے والے برے اثرات، نیز امریکہ کے اندر تیل کی قیمتوں میں اضافہ۔

 

اندرونی و بیرونی دباؤ: ریپبلکن پارٹی کے اندر  کا بحران اور خود امریکہ کے اندر سیاسی تقسیم؛ اسی لیے امریکہ اب بھی چین کو دشمنوں کے گھیرے میں لیے ہوئے ہے اور ان سے پابندیاں اٹھانے اور دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کرتا ہے، جیسے وہ یورپی ممالک سے نیٹو (NATO) کے لیے اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

 

جہاں تک پیش کیے گئے موضوعات کا تعلق ہے، تو وہ بہت سے ہیں اور ہر نکتے پر الگ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے معاملے میں ایسا نہیں لگتا کہ اس پر کوئی حقیقی پابندی یا وابستگی ہوگی، باوجود اس کے کہ شی نے بیان دیا تھا ("واشنگٹن اور بیجنگ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو اس طرح تیار اور منظم کریں جو مفادِ عامہ کے کام آئے"، نیز انہوں نے وضاحت کی: "ہم دونوں کے پاس یہ صلاحیت اور ذمہ داری ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو عمومی فائدے کے لیے فروغ دیں اور اس کے نظم و نسق کو سنبھالیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کی ترقی ہمیشہ انسانی نگرانی کے تحت رہے")۔

 

میڈیا نے اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے حوالے سے نقل کیا ہے: (ٹرمپ نے خطرات کی طرف بہت کم توجہ دی ہے اور اس نئے ٹول کی تنظیم و ضوابط کی کوئی پروا نہیں کی، ان کی تمام تر فکر صرف یہ ہے کہ امریکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین پر فتح حاصل کرے، چاہے حفاظت و سلامتی کے معیارات کچھ بھی ہوں)۔ اخبار نے مزید ذکر کیا کہ عملی لحاظ سے، اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ کوئی بھی اکیلا اجلاس سب سے حساس مسائل میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت حاصل کر سکے، لیکن امریکہ اور چین صرف بین الاقوامی اثر و رسوخ پر ایک دوسرے کے حریف ہی نہیں ہیں، بلکہ عالمی استحکام کے معاملے میں دونوں کے مشترکہ مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔

 

جہاں تک حساس اور اہم معدنیات کا معاملہ ہے، تو چین ان کی اہمیت اور نزاکت سے بخوبی واقف ہے، اور اس نے اپنی تجارتی جنگ میں امریکہ سے مراعات حاصل کرنے کے لیے ان کا بطورِ ہتھیار استعمال کیا ہے، چاہے یہ چین کا ایک ردِعمل ہی کیوں نہ ہو۔ 'پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس' کے سینئر فیلو کولن ہینڈرکس نے 'الحرة' ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ ان اشیاء کی برآمدات پر پابندیاں لگا کر اپنے حریفوں کی صنعتی اور دفاعی سپلائی چینز کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ اور 'بروکنگز انسٹی ٹیوشن' کے سینئر فیلو ہاس کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے امریکہ کو ان معدنیات کی فراہمی منقطع کرنے کے اس کی معیشت پر بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہوں گے۔

 

ملاقات کی محدود کامیابی کی ایک دلیل برآمدات کے تسلسل پر اعتماد کا فقدان ہے؛ جیسا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسون گریر نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے یہ کہے جانے کے بعد کہ چینی سپلائی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچی، امریکہ کو حساس معدنیات سے متعلق معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے چین پر دباؤ جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس ملاقات کی محدود کامیابی کی ایک اور دلیل تجارتی جنگ بندی میں صرف دو ماہ کی توسیع ہے؛ کیونکہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ بندی میں اس کی 10نومبر کو ختم ہونے والی میعاد سے 10جنوری 2027ء تک دو ماہ کی توسیع کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جیسا کہ خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' نے رپورٹ کیا۔

 

میں اپنے مضمون کا اختتام مذکورہ بالا سوال کے جواب کے اختتامی کلمات پر کرتا ہوں، جہاں فرمایا گیا:

 

"اور اختتام پر یہ کہ، یہ ممالک خواہ امریکہ ہو یا چین یا دونوں، وہ اس دنیا میں ایک دوسرے کے خلاف اس طرح نبرد آزما ہیں کہ اس سے خیر پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایسا شر پیدا ہوتا ہے جو ان کو اور ان کے پیروکاروں کو گھیرے ہوئے ہے، اور یہ ایک ایسی باطل  تہذیب ہے جس کے ماننے والے کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ رہا ان کا آج زمین پر غالب و سر بلند نظر آنا، تو وہ اس ریاست کے عدم وجود کی وجہ سے ہے جو دنیا بھر میں خیر کو پھیلائے، تاکہ ان کے شرور کا خاتمہ کرے اور ان کی بنیادوں کو مسمار کر دے۔۔۔ اور وہ بفضلِ خدا لوٹنے والی ہےیعنی خلافتِ راشدہ، جو ان کا خاتمہ کر دے گی جیسا کہ اس نے ان سے پہلے فارس و روم جیسے طاقتوروں کا خاتمہ کیا تھا۔۔۔ پس امتِ مسلمہ ایک زندہ اور متحرک امت ہے، اور وہ تیزی کے ساتھ اپنی اس اصل کیفیت کی طرف گامزن ہے جس کے لیے اللہ نے اسے پیدا فرمایا تھا:

 

﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾

"تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔"[سورة آل عمران:آیت 110]

 

مزید برآں، اس امت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے ایک مخلص اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ سچی جماعت (حزب) موجود ہے، جو تیز گامی سے سفر طے کر رہی ہے، دن رات ایک کیے ہوئے ہے، یہاں تک کہ اللہ سبحانہ کا وعدہ اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت اس کے ہاتھوں پوری ہو جائے۔ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتی، نہ اس کا عزم متزلزل ہوتا ہے اور نہ اس کی ہمت پست ہوتی ہے ان شاء اللہ، یہاں تک کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا وعدہ اس کے ہاتھوں پورا ہو جائے، اور خلافتِ راشدہ ، جو اللہ سبحانہ کا وعدہ اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت ہے ، بحال ہو جائے اور مسلمان مجاہدین کے بازوؤں سے روم اسی طرح فتح ہو جائے جیسے قسطنطنیہ فتح ہوا تھا۔

 

امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے:عن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَقَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلاً قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلاً يَعْنِي قُسْطَنْطِينِيَّةَ»"حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: "ہم رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھ کر لکھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سا شہر پہلے فتح ہوگا، قسطنطنیہ یا رومیہ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'ہرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا'، یعنی قسطنطنیہ۔"

 

 

 

 

Last modified onمنگل, 06 اکتوبر 2026 05:31

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک