بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
28/09/2026
مسلم دنیا پر امریکی بالادستی کا انحصار مسلمانوں کی افواج کے کندھوں پر ہے
’دی اکانومسٹ‘ (The Economist) جریدے نے 24 ستمبر 2026 کو لکھا: ”ایسا لگتا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں پھنس گیا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ اسے نظر نہیں آتا۔ تاہم، یہ تنازعہ جس بھی انجام کو پہنچے، درحقیقت ایک بالکل مختلف صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہوگا: یعنی وہ لمحہ جب امریکہ اس خطے سے پیچھے ہٹ جائے گا، اس مفہوم میں کہ وہ بالآخر وہاں اپنی بالادستی ترک کر دے گا۔ ایک صدی قبل بڑی طاقتوں کے ہاتھوں سلطنتِ عثمانیہ کے ٹکڑے کیے جانے کے بعد پہلی بار، مشرقِ وسطیٰ کا مجموعی نظام اب دور سے مسلط نہیں کیا جائے گا۔۔۔ عربوں کو طویل عرصے سے اس موقع کی تلاش رہی ہے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت بحال کر سکیں، جب وہ صدیوں قبل سائنس اور علم و دانش کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ امریکہ کا پسپا ہونا انہیں یہ موقع فراہم کرنے والا ہے۔“
https://www.economist.com/leaders/2026/09/24/when-america-walks-away
تبصرہ:
اول: ’دی اکانومسٹ‘ جریدے کے برطانوی انٹیلیجنس کے ساتھ دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ اس نے اگست 1956 سے بدنامِ زمانہ ’ڈبل ایجنٹ‘ (دوہرے جاسوس) کم فلبی (Kim Philby) کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے اپنا نامہ نگار مقرر کیا تھا، جو برطانوی انٹیلیجنس کے لیے اس کی سرگرمیوں کے لیے پردے کے طور پر کام کرتا رہا۔ آج بھی اس جریدے کے برطانیہ کی ’جوائنٹ انٹیلیجنس کمیٹی‘ (JIC) کے ساتھ مضبوط روابط ہیں اور یہ آزاد صحافت کے لبادے میں اپنے بیانیوں کو بڑی ہوشیاری سے ترتیب دیتا ہے۔ لہٰذا جب مسلمان اس کے مضامین کا مطالعہ کریں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے فہم و ادراک کی بنیاد براہِ راست مشاہدے اور اللہ تعالیٰ کے شرعی احکامات پر رکھیں۔
دوم: یورپ سے امریکہ کے انخلاء کے بعد برطانوی انٹیلیجنس اپنی حکمتِ عملی کی ازسرِ نو تشکیل کر رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی وہ مسلم دنیا میں باقی ماندہ معمولی برطانوی اثر و رسوخ کو بھی جارحانہ انداز میں ختم کر رہی ہے۔ اس مضمون میں جریدہ امریکہ کو خبردار کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسا خلا پیدا کر رہا ہے جسے اس نظام کے ذریعے پُر کیا جا سکتا ہے جسے مغربی استعمار نے عربوں اور ترکوں میں موجود غداروں کے ساتھ مل کر تباہ کیا تھا: یعنی ’خلافت‘۔
سوم: درحقیقت براہِ راست مشاہدے سے یہ بات عیاں ہے کہ مسلمانوں میں ”کھوئی ہوئی شان و شوکت کی بحالی“ کی خواہش بیدار ہو رہی ہے، حالانکہ یہ ان کی اپنی ہی افواج ہیں جو امریکہ کو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے قابل بناتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شرعی قانون افواج پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ سمیت تمام مغربی کافر ریاستوں سے تعلقات منقطع کریں اور خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اپنی 'نصرہ' (عسكرى حمایت و مدد) فراہم کریں۔
اللہ ﷻ کی شریعت کے نفاذ اور ایک خلافتِ راشدہ میں متحد ہونے کے ذریعے افغانستان اور پاکستان کے درمیان باہمی لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ کریں
24 ستمبر کو بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا کہ، ’’پاکستان نے افغانستان میں 10 ایسے مقامات پر درست نشانہ بنا کر فضائی اور ڈرون حملے کیے جو ڈرونز کے اجراء اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے، یہ بات وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے جمعرات کے روز کہی۔‘‘
https://www.brecorder.com/news/40441023/pakistan-strikes-10-locations-in-afghanistan-after-drone-incursions-tarar
مسلمانوں کے درمیان باہمی لڑائی ایک سنگین گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ» ’’جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل ہوں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ اسلام کے نفاذ اور مسلمانوں کو ایک امام کے تحت متحد کرنے ہی سے باہمی لڑائی کا خاتمہ ہوا۔ قبیلہ اوس اور خزرج کے جنگجوؤں نے اللہ کی خاطر باہمی لڑائی اور انتقام کی خواہش ترک کردی اور غزوۂ بدر میں کفار کے خلاف ایک ہی فوج میں مل کر لڑے۔
اگرچہ شریعت نسبی مرد رشتہ داروں (عَصَبة) کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین کرتی ہے، لیکن یہ قبائلی یا قومی نسب کی بنیاد پر عصبیت (عَصَبِیَّة) کو مسترد کرتی ہے۔ صدیوں تک مختلف قبائل، نسلوں، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک ہی خلیفہ کے تحت ایک ہی ریاست میں متحد رہے۔
تاہم، برطانوی استعمار نے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت ان مسلمانوں میں قبائلیت اور قوم پرستی کا تصور پیوست کیا جن پر وہ حکمرانی کرتے تھے۔ انہوں نے قوم پرستانہ ڈیورنڈ لائن کھینچی جو افغانستان اور پاکستان کو تقسیم کرتی ہے اور مسلسل تنازع کے لیے ایک پھندے کا کام کرتی ہے۔
اس کے باوجود، قوموں اور ریاستوں کی تاریخ میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ افغانستان اور پاکستان کے مسلمانوں نے سوویت روس کے قبضے کے دوران کفار کے خلاف ایک ہی مسلح قوت کے طور پر مل کر جنگ لڑی۔ تو آج وہ ایسا ہی کیوں نہیں کر سکتے کہ اللہ ﷻ کی شریعت کے مطابق حکومت کرنے والے ایک خلیفہ کے تحت متحد ہوجائیں، خواہ منافقین اور کفار کے ایجنٹ اسے ناپسند ہی کیوں نہ کریں؟
حزب التحریر افغانستان اور پاکستان کے جنگجوؤں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے اسے نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں، لہذا انہیں چاہیے کہ وہ اس پکار کا جواب دیں!
انسدادِ دہشت گردی کا مقصد: ہندو ریاست اور یہودی وجود کا علاقائی غلبہ اور مسلم ریاستوں کی محکومی
23 ستمبر 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ نے بیان دیا کہ، "سیکریٹری روبیو نے آج نیویارک میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے ملاقات کی۔ دونوں عہدیداروں نے اس اہم کردار کی توثیق کی جو امریکہ-بھارت اسٹریٹجک شراکت داری ایک محفوظ، مامون اور خوشحال ’انڈو پیسیفک‘ (Indo-Pacific) خطے کے فروغ میں ادا کر رہی ہے۔"
https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesman/2026/09/secretary-rubios-meeting-with-indian-external-affairs-minister-jaishankar-4/
انسدادِ دہشت گردی کے نام پر امریکہ نے مسلم دنیا کی ہیئت تبدیل کر دی ہے، جس سے مسلم ریاستیں کمزور اور امتِ مسلمہ کے دشمن مضبوط ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے حکمران مسلم افواج کو یہودی وجود اور ہندو ریاست کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے روکتے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کشمیر میں جہاد، کشمیری مسلمانوں کے ساتھ غداری ہے! مسلمانوں کے حکمران ان لوگوں کے خلاف افواج حرکت میں لاتے ہیں جو دہشت گرد یہودیوں اور ہندوؤں کے لیے خطرہ بنتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انہیں قید کیا جائے اور ان کے ہتھیار چھین لیے جائیں۔ جہاں ایک طرف مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں، وہیں یہودی اور ہندو دہشت گرد پراکسیوں اور 'فالس فلیگ' (false-flag) حملوں سمیت دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف اکساتے ہیں اور ساتھ ہی مسلم سرزمینوں پر اپنے قبضے کو مستحکم کرتے ہیں۔
اس سب کے باوجود ٹرمپ کے کارندے انسدادِ دہشت گردی کے امریکی تصور کو اپنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس طرح وہ ہمارے مفادات کو مغربی صلیبیوں اور نفرت انگیز ہندو مشرکین کے حوالے کرنے کے لیے کام کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا تھا، ﴿مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلاَ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾ "جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور اللہ تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے" [سورۃ البقرۃ: 105]۔
اے امت کے لشکرو! اُن غداروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو جو امت کو قاتل یہودیوں اور مکار ہندوؤں کے تسلط کے تابع کرنے کے امریکی منصوبے کو اپناتے ہیں۔ صرف نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافت راشدہ ہی ہے جو امریکی صلیبیوں، یہودیوں اور ہندو مشرکین کی دہشت گردی کا مقابلہ کرے گی۔
عاصم منیر نے ٹرمپ کے بیٹوں سے کامیکازی ڈرون خریدنے پر اتفاق کر لیا، جبکہ وہ ہندو ریاست کو اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد دے رہے ہیں
17 ستمبر 2026 کو فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا، "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیٹوں کی پشت پناہی رکھنے والی ایک ڈرون ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو دفاعی ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، جس کا مقصد اسلام آباد کا چین پر انحصار کم کرنا ہے۔ پاورَس، جس کے سرمایہ کاروں میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ بھی شامل ہیں، نے پاکستان کے حقیقی حکمران فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔"
https://www.ft.com/content/b114584c-524b-4022-b0ed-438211bd3d38?syn-25a6b1a6=1
پاکستان کا حکمران عاصم منیر ٹرمپ کے بیٹوں کو امیر بنا رہا ہے اور ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل کے خطاب کا حق ادا کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی پاکستان کے فوجی ڈرون کے بنیادی ڈھانچے کو بھارتی جوابی اقدامات کے لیے غیر محفوظ بنا رہا ہے۔
ایک طرف ٹرمپ کے بیٹے پاکستان کو کامیکازی ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں، تو دوسری طرف بھارت کو اینٹی کامیکازی ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے میں بھی مدد دے رہے ہیں۔ بھارتی فوجی سازوسامان بنانے والی کمپنی پیراس ڈیفنس اینڈ اسپیس ٹیکنالوجیز لمیٹڈ نے 30 جون 2026 کو نیشنل اسٹاک ایکسچینج آف انڈیا کو مطلع کیا کہ “SEBI (Listing Obligations and Disclosure Requirements) Regulations, 2015 کے Regulation 30 کے تحت ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہے کہ M/s. Paras Defence and Space Technologies Limited (“PARAS”) نے Guardians Interceptor Technology کے لیے Tandem Defense LLC، جو ریاست جارجیا میں قائم ایک LLC کمپنی اور Autonomous Power Corporation، Delaware (“Powerus”) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے، کے ساتھ IP License Agreement پر دستخط کیے ہیں۔"
گارڈین انٹرسیپٹر ایک ایسا اینٹی ڈرون انٹرسیپٹر ہے جسے یک طرفہ حملے والے کامیکازی ڈرونز کے خلاف استعمال کے لیے بہتر بنایا گیا ہے، جن میں ایران کا HESA Shahed 136 اور دیگر Group 3 Unmanned Aerial Systems (UAS) کامیکازی ڈرونز شامل ہیں۔ اس طرح، امریکی اب بھارت کو YIHA-III، جسے Sivrisinek (ترکی زبان میں: مچھر) بھی کہا جاتا ہے، کے خلاف جوابی اقدامات تیار کرنے میں مدد دے رہے ہیں؛ یہ ترکی-پاکستانی کم لاگت اور اعلیٰ درستگی والا کامیکازی ڈرون ہے، جسے ترکی کی Baykar اور پاکستان کے National Aerospace Science & Technology Park (NASTP) نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
اے افواجِ پاکستان! تم نے ملک اور اس کے عوام کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کا حلف اٹھایا تھا؟ کیا تم نے ابھی تک عاصم منیر کی جانب سے وافر غداری نہیں دیکھ لی؟ ٹرمپ کے اس گھٹیا ایجنٹ کو ہٹا دو اور حزب التحریر کو خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اپنی نصرۃ (عسکری مدد) عطا کرو۔
چین کے حکمران کو ایغور مسلمانوں پر اپنی وحشیانہ ظلم و زیادتی بند کرنی ہوگی، ورنہ اسے آج کے قتیبہ بن مسلم کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے
ایغور ٹائمز نے لکھا ہے کہ، ’’اطلاع دی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ 24 ستمبر 2026 کو جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ذاتی طور پر شی جن پنگ کا استقبال کریں گے... شی جن پنگ ایغوروں کے خلاف چینی حکومت کے منظم جبر کی سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔‘‘
فی الحال، امریکہ مسلمانوں کے خلاف چینی جبر پر کھل کر تنقید کی اجازت دیتا ہے تاکہ چین کے حکمران کو شرمندہ کیا جا سکے۔ امریکہ ایسا اس حال میں کرتا ہے جب کہ خود مسلمانوں پر اس کا ظلم چین کے ظلم سے کہیں زیادہ ہے۔ جہاں تک چین کے ظالم حکمرانوں کا تعلق ہے، مشرقی ترکستان میں اسلام کے خلاف ان کی جنگ چین اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشمکش سے کئی دہائیاں پہلے شروع ہو چکی تھی۔
جہاں تک مسلمانوں کے حکمرانوں کا تعلق ہے، وہ شی جن پنگ کے جرائم کو چھپاتے ہیں تاکہ وہ امریکی معاشی استعمار کے ساتھ چینی معاشی استعمار بھی قائم کر سکیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی منڈیوں اور وسائل کو چینی کمپنیوں کے لیے کھول دیا ہے اور چینی بینکوں سے سود (ربا) پر مبنی تباہ کن قرضے لیے ہیں۔ انہوں نے ایسا اس حقیقت کے باوجود کیا کہ اسلامی امت کے ہاتھ میں چینی صنعت کی شہ رگ موجود ہے، کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور وہ آبنائے جن سے چینی تیل بردار جہازوں کو گزرنا پڑتا ہے، امت کے اختیار میں ہیں۔
صرف اسلام کے مطابق حکمرانی ہی چین کے حکمران کو اپنا ظلم ختم کرنے پر مجبور کرے گی۔ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" میں روایت کیا ہے کہ اموی خلافت کے مسلمان فوجی سپہ سالار قتیبہ بن مسلم نے شی جن پنگ کے جابر آباؤ اجداد کو کس طرح زیر کیا: (ثم اتفق الحال على أن بعث صحافا من ذهب متسعة ، فيها تراب من أرضه ليطأه قتيبة ، وبعث بجماعة من أولاده وأولاد الملوك ليختم رقابهم ، وبعث بمال جزيل ليبر بيمين قتيبة) ’’پھر یہ طے ہوا کہ اس نے سونے کے کشادہ تھال بھیجے، جن میں اس کی سرزمین کی مٹی بھری ہوئی تھی، تاکہ قتیبہ اسے اپنے قدموں تلے روندے؛ اور اس نے اپنے اور بادشاہوں کے بیٹوں میں سے ایک جماعت بھیجی تاکہ قتیبہ ان کی گردنوں پر مہر لگا سکے؛ اور ایک بہت بڑی دولت بھیجی تاکہ قتیبہ اپنی قسم پوری کرنے پر راضی ہو جائے۔‘‘
امتِ مسلمہ کو سیکولر سیاست کی نہیں بلکہ شریعت کی بنیاد پر سیاست کی ضرورت ہے
19 ستمبر کو روزنامہ ڈان نے رپورٹ کیا کہ ’’سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی کال کو مؤخر کرنے کا اختیار صرف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو حاصل ہے۔‘‘
https://www.dawn.com/news/2031144/no-one-can-minus-imran-senate-opp-leader-says-only-pti-founder-can-postpone-sept-27-islamabad-march
تبصرہ:
پاکستان میں اقتدار و اختیار کے معاملے پر حکمران دھڑے اور اپوزیشن دھڑے کے درمیان کشمکش شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تاہم، عام مسلمان دونوں میں سے کسی بھی دھڑے کے ساتھ وابستہ نہیں ہو رہے، کیونکہ انہیں اپنی مشکلات کے ازالے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ مسلمانوں میں دین کا عمومی شعور بڑھنے کے ساتھ یہ ناگزیر ہے کہ وہ سیکولر سیاست سے کنارہ کش ہوتے جائیں۔ سیکولر سیاست دراصل ایسی سیاست ہے جس میں دین کو کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔
اس کے برعکس، شرعی سیاست سے مراد مسلمانوں کے معاملات کو دین کی بنیاد پر چلانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ» ’’بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے۔ جب بھی کوئی نبی وفات پاتا، اس کے بعد دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، البتہ خلفاء ہوں گے اور وہ بہت زیادہ ہوں گے‘‘ [صحیح بخاری و صحیح مسلم]۔
امام نوویؒ نے اپنی ’’شرحِ مسلم‘‘ میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ) أَيْ يَتَوَلَّوْنَ أُمُورَهُمْ كَمَا تَفْعَلُ الْأُمَرَاءُ وَالْوُلَاةُ بِالرَّعِيَّةِ وَالسِّيَاسَةُ الْقِيَامُ عَلَى الشيء بما يصلحه» ’’آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ ’بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے، جب بھی کوئی نبی وفات پاتا تو اس کے بعد دوسرا نبی آتا‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء ان کے معاملات کی نگرانی اور تدبیر اسی طرح کرتے تھے جیسے حکمران اور والی اپنی رعایا کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ اور سیاست سے مراد کسی معاملے کو اس طریقے سے چلانا ہے جو اس کی اصلاح کا باعث ہو۔‘‘
اے مسلمانوں! اے مسلمانو کی سیاسی جماعتوں اور علمائے کرام! سیکولر سیاست کا میدان ترک کر دو اور شرعی سیاست کے پاکیزہ میدان میں اپنا کردار ادا کرو۔ مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں اپنی آراء کو قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی بنیاد پر مضبوطی سے قائم کرو۔ امتِ مسلمہ میں پیش آنے والے ہر بڑے واقعے کے بارے میں شرعی احکام کے نفاذ کا مطالبہ کرو۔ ایک ایسا نیا سیاسی میدان تشکیل دو، جس کے اندر اللہ تعالیٰ کے اذن سے خلافتِ راشدہ دوبارہ قائم ہو۔
کفار کے خلاف جہاد مسلمانوں کے درمیان فتنے کو روکتا ہے
ڈان اخبار نے 18 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ "جمعہ کو 15 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 21 افراد اس وقت شہید ہوئے جب کوہاٹ پولیس لائنز میں ایک مسجد کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی میں دھماکہ ہوا، جس کے بعد دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ میں گھس کر پولیس کی تنصیبات پر حملہ کیا، سینئر پولیس اور ضلعی صحت کے حکام کے مطابق... قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے بیان کے مطابق خودکش حملہ آور سمیت چھ حملہ آور مارے گئے۔"
https://www.dawn.com/news/2030862/15-cops-among-21-martyred-in-blast-at-kohat-police-lines-more-than-80-injured
تبصرہ:
سوڈان سے لے کر پاکستان تک پوری مسلم دنیا میں مسلم ریاستوں کے مابین اور مسلم ریاستوں کے داخلی تنازعات میں مسلمانوں کا مسلمانوں قتل کرتے دیکھنا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے جب دونوں ہی فریق رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کریں؟!
جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ اسلامی ریاست کے قیام کا طریقہ ہتھیار اٹھانا ہے، جب رسول اللہ ﷺ کو بیعت عقبہ ثانیہ دینے والوں نے اہلِ منیٰ کے مشرکین سے جنگ کرنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لم نؤمر بذلك» "ہمیں ابھی تک جنگ کا حکم نہیں دیا گیا ہے"۔ شرعی قانون کے قیام کا طریقہ مسلمانوں کے اندر مسلح افواج اور مسلح ملیشیاؤں میں فوجی طاقت اور روک تھام کی قوت رکھنے والے افراد سے نصرۃ (فوجی مدد) لینا ہے۔
تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کی مسلح افواج اور ملیشیا آپس میں اور ایک دوسرے سے لڑیں؟ کیسے؟! یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے بم، ڈرون اور میزائل مسلمانوں سے لڑنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور حملہ آور کافروں یعنی امریکی صلیبیوں، یہودیوں اور ہندو ریاست پر حملہ کرنے کے لیے نہیں؟ کیسے؟!
اے مسلمانو! مسلمانوں کی مسلح افواج اور مسلح ملیشیا سے مطالبہ کریں کہ وہ خلافت راشدہ کے قیام کے لیے نصرۃ کی فراہمی اور کفار کے خلاف جہاد کا دوبارہ آغاز کے ایک واحد مقصد کو اپنائیں۔ ہمیں فتنے کی آگ میں جلنے سے روکنے کا، تمام مسلمانوں کو ایک مقصد کے گرد جمع کرنے اور لشکروں اور ملیشیاؤں میں موجود کفار کے ایجنٹوں کو بے نقاب کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
لہٰذا اے مسلمانو، اپنی تمام افواج اور ملیشیاؤں کو ہدایت کرو کہ وہ حزب التحریر کو اپنی نصرۃ دیں۔
Latest from
- عالمی اثرات اور اسلامی نظام کے متبادلات کے مابین افراطِ زر اور مانیٹری نظام کی تبدیلیاں
- خون سے لت پت اُمت: فتنے اور جغرافیائی سیاسی استحصال کی داستان
- پاکستان اور ایران کو دوسری خلافتِ راشدہ کا مرکز بنائیں!
- مسلمان فوجی کمانڈرز دشمن فوجی کمانڈرز سے کیوں ملاقات کرتے ہیں؟!
- مبارک سرزمینِ: فلسطین کی آزاد خواتین خواتین کو بدعنوان کرنے اور CEDAW معاہدے کو فروغ دینے والوں کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں!




