الخميس، 25 جمادى الأولى 1448| 2026/11/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

اوفا میں سیکورٹی ادارے حزب التحریر کے ممبران کے خلاف من گھڑت عدالتی مقدمات کے ذریعے مسلسل "دہشت گردی کے خطرے " کو بڑھاوا دے رہے ہیں

انٹیلی جنس سروسز ((FSB نے 23 اپریل 2015 کو چیلیابنسک میں حزب التحریر کے ایک رکن کی گرفتاری کا اعلان کیا۔سیکورٹی سروسز کو اس کی گھر کی تلاشی کے دوران اسلامی کتابوں کے سوا کچھ نہ ملا۔  سیکورٹی فورسز نے اس کے خلاف رشین فیڈریشن کے کریمنل کوڈ  کے آرٹیکل 205.5 کے مطابق عدالت میں مقدمہ دائر کیا جس  کے متن میں " دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیوں میں شرکت" درج  کیا گیاہے۔

روسی انٹیلی جنس  ((FSB چیف  اور(NAC)  بور تنیکوف نے  ایک میٹنگ کے دوران جو اروال کے علاقے میں دہشت گردی کے خلاف کام کرنے پر بحث کے لئے منعقد کی گئی تھی ،حزب التحریر کا ذکر کیا اور اس کے بارے کچھ اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا  کہ "علاقے کے اندراجنبی دہشت گردوں اور بنیاد پرست تنظیموں کی سرگرمیاں ہورہی ہیں۔  گزشتہ سال میرے علاقے نیجنی فارتوفسک اور چیلیا بنسک میں عالمی دہشت گرد تنظیم حزب التحریر   سے منسلک  سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں اور  اس کے 19 اراکین کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے لئے مقدمات دائر کئے گئے "۔ یوں اروال کے علاقے میں یہ کاروائیاں حزب التحریر کے داعیوں کے خلاف جنگ کی گواہ ہیں  جنہوں نہ تو ماضی میں  معاشرے کے لئے خطرات پیدا کئے نہ ہی مستقبل میں وہ خطرہ ہیں۔

حسب عادت  ان بیانات کے بعد گرفتاریوں کی رپورٹیں آئیں  جو خطرے کے خلاف سیکورٹی فورسز  کی "کامیابی" کا ڈھنڈورا پیٹ رہی تھیں۔ چیلیا بنسک میں فیڈرل یونین کی طرف سے گرفتاریوں کے مطالبات سے یہ حقیقت آشکارا  ہوتی ہے کہ فیڈرل میڈیا (روسبالٹ ) اور TASS نے سب سے پہلےگرفتاری  پر روشنی ڈالی اورویڈیو کلپ جاری کی۔

 

ہم یا د دلاتے ہیں کہ روس دنیا کا وہ   واحد ملک ہے جوحزب التحریر کو دہشت گرد جماعت سمجھتا ہے  اور ایسے مواد کی موجودگی پر جو ان کی نظر میں دہشت گردی سے متعلق ہو تا ہے ،اس کے اراکین کا پیچھا کرتا ہے۔  اس حقیقت کے باوجودکہ حزب التحریر  کا دنیا میں کہیں بھی کسی دہشت گرد کاروائی سے تعلق ثابت نہیں کیا جاسکتا اور  یہ عدالتی مقدمات بھی من گھڑت   اور سیکورٹی فورسز کے جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں  جبکہ پوری دنیا   اس جھوٹ میں  ان کی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ لیکن اگر ان شریروں کے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا تو روس میں اسلام کی واپسی کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ  رشین فیڈریشن کے مختلف علاقوں میں تمام تر ظلم وستم اور اسلام دشمن پالیسی کے باوجود ، مسلمان اپنے دین کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں جبکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کو اپنی اقدار کے دفاع  کا حق دیا ہوا ہے۔  ارشاد ربانی ہے:

﴿وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾.

"اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ( کے شر ) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا  رہتا تو خانقاہیں  اور کلیسا اور عبادت گاہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے ، سب مسمار کردی جاتیں ، اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس ( کے دین ) کی مدد کریں گے ۔ بلا شبہ اللہ بڑی قوت والا ، بڑے اقتدار والا ہے" ( الحج : 40)۔

 

بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے صبر کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ نصرت ومدد کا وعدہ کیا ہے اورجو لوگ اتباع حق کے راستے میں ان کے لئے رکاوٹ بنتے ہیں ،ان کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے،

﴿وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ * كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُقْتَدِرٍ﴾

"اورفرعون کے خاندان کے پاس بھی تنبیہات آئیں، انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلادیا تھا ، اس لئے ہم نے ان کو ایسی پکڑ میں لیا جیسی ایک زبردست قدرت والے کی پکڑ ہوتی ہے" (القمر: 41-42)۔

 

روس میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

سقوط خلافت کے کی یاد میں حزب التحریرفلسطین  مختلف سرگرمیوں کے ذریعے مسلمانوں  کی امیدوں اور عزائم کو جلا بخشے گی

اسلام دشمن مغرب کی پشت پناہی سے    مجرم زمانہ  مصطفی کمال کے ہاتھوں ریاست خلافت کے انہدام کے چورانوے  (94)سال  مکمل ہونے پر  حزب التحریرفلسطین  اس المناک یاد کو  القدس ، غزہ اور مغربی کنارے کے کئی شہروں  میں اس  نعرے کے ساتھ منا رہی ہے کہ :

"نبوت کے طرز پر خلافت ہی نبوت کی میراث ہے جس سے ہم دین کی اقامت کریں گے"

اس مہم کا مقصد خلافت کے  دوبارہ قیام کی جدو جہد کے لیے مسلمانوں  کی حوصلہ افزائی کرنا اور  ان کو  اس کے پرچم تلے    جو کہ رسول اللہ ﷺ کا پرچم ہے ایک کرنا  ہے۔

حزب نے اپنی سرگرمیاں رجب کے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی شروع کردی ہیں جس میں بیانات،درس ،ملاقاتیں اور پمفلٹ کی  تقسیم شامل ہےجبکہ مرکزی سرگرمیاں یوں ہوں گی:

1۔ جمعہ 15 مئی 2015کو مسجد اقصیٰ میں بہت بڑا   اجتماع ہو گا

2 ۔ اتوار17 مئی 2015 کو غزہ میں  بہت بڑی ریلی ہو گی

3 ۔ ہفتہ 23 مئی 2015 کو رام اللہ  میں ایک پورہجوم کانفرنس ہو گی

اس کے علاوہ  کئی خطاب،سمینار  اور کانفرنسیں مغربی کنارے اور غزہ کے کئی شہروں  میں  ہوں گی  اور حزب اپنی ان سرگرمیوں کا اعلان  اور تفصیلات وقت کے ساتھ ساتھ جاری کرے گی۔

حزب التحریراللہ سبحانہ و تعالٰی کے سامنے  گڑگڑاتی اور یہ دعا کرتی ہے کہ اللہ ان اعمال کو قبول کرے اورانہیں    ان میں حصہ لینے والوں کے نیکی کے  ترازو میں ڈالے  اور ان سرگرمیوں کے پیغام کو تمام مسلمانوں کے دل میں اتار دے ،خاص کر ان لوگوں کے دلوں میں جو اسلام اور مسلمانوں کی نصرت پر قادر  اور اس کے متمنی ہیں اور  نبوت کے طرز پر خلافت کے قیام کے آرزو مند ہیں۔

﴿أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ﴾

" یہ لوگ نیکی میں جلدی کرتے ہیں اور یہ اس میں سبقت لے جاتے ہیں"(المؤمنون:61)

 

مقدس فلسطین میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

Read more...

نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے راحیل-نواز حکومت کے پاس حزب التحریرکے خلاف  جھوٹ کے سواء کچھ نہیں

3 مئی  کو ایک  انگریزی اخبار نے یہ خبر شائع ہوئی کہ پولیس نے  حزب التحریرکے ایک رکن دانیال کو جوہر  ٹاون میں ایک مسجد کے پاس سے گرفتار کیا اور اس کے پاس سے  بڑی تعداد میں" فرقہ وارانہ نفرت انگیز مواد" پر مبنی لٹریچر برآمد کیا۔  اس خبر  میں سوائے اس کے کوئی سچائی نہیں  کہ دانیال کو گرفتار کیا گیا ہے۔

راحیل-نواز حکومت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکی ہے ورنہ وہ دانیال سمیت گرفتار ہونے والے حزب کے درجنوں شباب کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت انگیز  مواد کی برآمدگی کا جھوٹا دعویٰ نہ کرتی۔ یہ بات ہر خاص و عام جانتا ہے کہ حزب التحریرکا شائع کردہ کوئی بھی مواد کسی بھی طرح  فرقہ وارانہ نفرت آنگیز نہیں ہوتا کیونکہ  حزب مسلم امہ کی یکجہتی اور  اس کو عملی شکل دینے کے لئے  ایک خلافت کے قیام  کی دعوت بغیر کسی مسلکی امتیاز کےتمام مسلمانوں کو دیتی ہے۔

آج  ہر اسلام پسند شخص، جو پاکستان سے امریکی راج کے خاتمے اور اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے،  کے خلاف  "نفرت انگیز مواد" رکھنے یا تقسیم کرنے کا الزام لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینکا جارہا ہے۔  حکمرانوں کو حزب کا یہ کردار قطعاً پسند نہیں کہ وہ اسلام اور امت مسلمہ کے مفاد کے تحفظ کے لئے حکمرانوں کا احتساب اور ان کی غداریوں کو بے نقاب  کرے ، لہٰذا انہوں نے استعماری کفار کے ساتھ گٹھ جوڑپر  حکمرانوں کے   احتساب کو "فرقہ وارانہ نفرت انگیز" قرار دینا شروع کردیا ہے۔

حزب حکمرانوں پر واضح کردینا چاہتی ہے کہ  حزب کے خلاف مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا کرنا دراصل ان کی فکری و سیاسی بانجھ پن  اور حزب کی سچائی کو ثابت کرتا ہے اوراس قسم کے جھوٹے الزام لگا کر وہ حزب کو امت کی نظروں میں گرا نہیں سکتے کیونکہ امت حزب اور غدار حکمرانوں کے کردار کو  اچھی طرح سے جانتی ہے۔ لہٰذا حزب حکمرانوں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ ایسے عمل سے توبہ کریں جس کا فائدہ نہ تو انہیں اس دنیا میں ملے گا اور آخرت میں تو اس کے بدلے سوائے عذاب کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيراً

"اور جو شخص رسولﷺ کی مخالفت پر کمربستہ ہو اور راہ راست کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے تو اسے ہم اسی طرف چلتا کردیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور ہم اسے جہنم میں جھونک دیں گے جو بدترین جائے قرار ہے" (النساء:115)

اس کے ساتھ ساتھ حزب میڈیا کے اداروں سےسوال کرتی ہے کہ حکمرانوں کے جھوٹ کو من و عن شائع کردینا کیا ان کی اسلامی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی خلاف نہیں ہے؟ کیا میڈیا یہ بات نہیں جانتا کہ حزب التحریرایک سیاسی جماعت ہے جو خلافت کے قیام کے لئے سیاسی و فکری جدہوجہد کرتی ہے اور عسکریت اور فرقہ پرستی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے؟ ہم میڈیا سے صرف اتنا ہی کہیں گے کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی  فرماتے ہیں ،

إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوۤاْ

"اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیقی کرلیا کرو"(الحجرات:06)

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

‏پاکستان‬ ‬ میں ‫اسلام‬ کو کچلنے کی ‫‏امریکی‬ مہم ‏ راحیل_نواز‬ حکومت اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے امام کعبہ کے دورے کو استعمال کررہی ہے

راحیل-نواز حکومت اور بادشاہ سلمان کی سعودی حکومت، جو دونوں ہی امریکہ کی غلام ہیں، نے امام کعبہ کے دورہ پاکستان کا اہتمام کیا تا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور اسلام سے ان کی محبت کو سعودی عرب کے جابر اور پاکستان کے مجرم حکمرانوں کی حمایت کے لئے استعمال کیا جائے۔ پاکستانی سیاست دانوں میں قرآنی آیات سے مزین قالین اور قرآنی نسخے بانٹتے ہوئے امام کعبہ نے میڈیا کی توجہ کو، جو حکومت نے مہیا کی تھی، یمن کے مسئلے پر امریکی موقف کی تشہیر کے لئے استعمال کیا ۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں امریکی ایجنٹ حکمرانوں کی مدد سے لڑی جانے والی امریکہ کی اسلام کے خلاف جنگ کی بھی حمایت کی۔
کیا حکومت کو اس کام کے لئے علماء کے دوروں کا اہتمام کرنا چاہیے؟ کیا حکمران افغانستان پر امریکی قبضے ، اسلام کی تضحیک اور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی سے بے خبر ہیں؟ کیا حکمرانوں کو فلسطین کی فکر نہیں یا وہ مقدس سرزمین پر یہود کے قبضے کو جائز سمجھتے ہیں؟ کیا وہ شام اورجابر بشار کے ہاتھوں قتل ہونے والے لاکھوں مسلمانوں سے بے خبر ہیں؟تو پھر حکومت نے امام کعبہ کے دورے کو مسلم افواج کے خون کو گرمانے کے لئے کیوں استعمال نہیں کیا تا کہ وہ فلسطین کی مقدس سرزمین کی آزادی اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی تباہ کن صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے حرکت میں آئیں؟ یا پھر یہ کہ حکومت صرف واشنگٹن میں بیٹھے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ہی علماء کے دوروں کا اہتمام کرتی ہے اور اسلام ، جہاد اور خلافت کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کردیتی ہے؟
یقیناً کعبہ ہمیں انتہائی عزیز ہے اور ہم اس کی زیارت کرنے کی شدید چاہت رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ہم پورے کے پورے دین پر عمل کر کے اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم رسول اللہﷺ کی اس حدیث کو بھی یا د رکھتے ہیں جو عبداللہ بن عمر نے روایت کی کہ،


((حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَيَقُولُ : " مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ , مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ , نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا))

"میں نے رسول اللہﷺ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا یہ کہتے ہوئے، " تم کتنے شاندار ہو اور تمہاری خوشبو کتنی شاندار ہے، تم کتنے عظیم ہو اور تمہارے حرمت کتنی عظیم ہے لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے مؤمن کی حرمت اللہ کی نظر میں تمہاری حرمت سے زیادہ ہے: اس کی جان و مال (کی حرمت) اور اس کے بارے میں صرف اچھی سوچ رکھنے(کی حرمت)" (ابن ماجہ)۔


علماء اور مسلم سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ سچ اور حق کا ساتھ دیں اور حکمرانوں کے موقف کو مسترد کردیں اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے خود کو محفوظ کرلیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ حکمرانوں کا احتساب کریں ، انہیں اسلام سے نصیحت کریں اور ان کے غضب سے خوف نہ کھائیں کیونکہ وہ جو دین کا علم رکھتے ہیں یہ بات ان کے شایان شان نہیں کہ وہ اللہ سے زیادہ حکمرانوں سے خوف کھائیں۔


"اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں" (فاطر:28)


پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

حزب التحریرولایہ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت  علماء اور اسلام پسند عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

حزب التحریرولایہ پاکستان نےنیشنل ایکشن پلان کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے۔مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ :"نیشنل ایکشن پلان ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے بجائےعلماء اور اسلام پسند عوام کو نشانہ بنا رہا ہے" ، "پاکستان میں بدامنی امریکی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کی وجہ سے ہے"۔

راحیل-نواز حکومت نے پشاور آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے عظیم سانحے کو علماء اور اسلام سے محبت کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا تا کہ افغانستان میں ہونے والے جہاد کا خاتمہ اور پاکستان میں اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو کچل دیا جائے۔ واشنگٹن میں بیٹھے راحیل-نواز حکومت کے آقا اسلام کی اقتدار میں واپسی سے شدید خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ یہ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح دنیا بھر کے مسلمان اسلام اور امت کے معاملات پر تیزی سےحرکت میں آتے ہیں  اور پاکستان کے مسلمان تواسلام کے حوالے سے کسی بھی تحریک میں  سب سے آگے ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اپنے ایجنٹوں  یعنی سیاسی و فوجی قیادت میں غداروں کو حکم دیا   کہ  ہر اس شخص کا، جو پاکستان میں امریکی راج کی مخالفت کرتا ہے اور اس کے خلاف افغانستان میں جہاد کرنا چاہتا ہے، کا پیچھا کریں ، اسے خوفزدہ کریں، گرفتار کریں یہاں تک کہ اگر اسے قتل بھی کرنا پڑے تو کر گزریں ۔

حزب واضح کردینا چاہتی ہے کہ عدم استحکام، بم دھماکے اور قتل و غارت گری کی واحد وجہ پاکستان میں امریکہ کی موجودگی ہے  اور اس کے پاکستان کا دشمن ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ جب تک پاکستان سے امریکہ کی موجودگی کے نشانات یعنی سی۔آئی۔اے اور  ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کا خاتمہ نہیں کیا جاتا،عوام پر سکون زندگی گزار نہیں سکتے۔ بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کے واقعات کے ذریعے امریکہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کی اسلام کے خلاف جنگ دراصل ہماری اپنی جنگ ہے اور راحیل-نواز حکومت اُس کے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے پوری پوری حمایت اور معاونت فراہم کررہی ہے۔

مظاہرین  نے افواج پاکستان کے مخلص افسران سے  مطالبہ کیا کہ وہ  اللہ  سبحانہ و تعالٰی کے احکام کے مطابق نصرۃ فراہم کر کے خلافت کا قیام عمل میں لائیں تا کہ وہ ڈھال قائم ہوسکے جس کے ذریعے پاکستان و افغانستان میں موجود امریکہ کی ہر نشانی کا خاتمہ کردیا جائے گا  کیونکہ خلافت کے قیام کا منصوبہ ہی وہ واحد منصوبہ ہے جو اس خطے میں امن اور استحکام لائے گا۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

 

 

Read more...

‫‏جمہوریت‬ کا خاتمہ کرو، ‫‏خلافت‬ کو قائم کرو ‫امریکہ‬ یا ‫چین‬ نہیں بلکہ خلافت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے

راحیل-نواز حکومت نے چینی صدر کے حالیہ دورے اور اس کے دوران ہونے والے معاشی عہد ناموں کے حوالے سے بہت جشن منارہی ہے۔ یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب ملک میں امریکہ کے خلاف جذبات شدید تر ین ہیں اور اس موقع کو ایسے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے امریکہ کے اثرورسوخ سے نکلنے کی زبردست کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن کمزور ارادے کی مالک اور کسی دور رس بصیرت سے محروم راحیل-نواز حکومت لوگوں کے سامنے ایک دھوکے پر مبنی متبادل سامنے رکھ رہی ہے کہ پاکستان کو امریکہ یا چین میں سے کسی ایک پر تو لازمی انحصار کرنا ہی ہے۔ درحقیت یہ سرے سے کوئی متبادل ہی نہیں ہے کیونکہ دونوں صورتیں پاکستان کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ملک ہمیشہ ایک غیر ملکی طاقت پر انحصار کرتا رہے گا اور کبھی بھی خود ایک حقیقی طاقتور ریاست نہیں بن سکے گا۔


رسول اللہﷺ اور خلافت راشدہ کے دور میں امت نے کبھی بھی مغرب و مشرق کی طاقتوں روم اور فارس کی ریاست کی جانب نہیں دیکھا تھا کیونکہ اسلام ایک عظیم نقطہ نظر فراہم کرتا ہے جو کہ دوسروں کے کندھوں کو خود کو بلند کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتا کہ جب کبھی کندھا دینے والا پیچھے ہٹ جائے تو دھڑم سے پستی پر آجائیں۔ امت کے لئے اسلام کا نظریہ ہے کہ وہ پوری انسانیت تک اسلام کی دعوت پہنچائے جس کے لیے لازمی ہے کہ ریاست خلافت دنیا کی صفِ اول کی ریاست ہو ۔ لہٰذا مسلمانوں نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور ایک طاقتور ریاست کی تعمیر کی جس نے بلاآخر اس وقت کی دو طاقتور ترین ریاستوں کو روند ڈالا جو اس سے قبل دنیا کے امور پر غالب تھیں اور ریاست خلافت کو دنیا کے امور کو چلانے والی ریاست بنا دیا۔


صرف خلافت ہی اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک پہنچانے کی بہترین بصیرت کو واپس لائے گی اور اسلام کو دنیا پر غالب کردے گی۔ خلافت طاقت کے حصول کے لئے کبھی مشر ق تو کبھی مغرب کے پیچھے بھاگنے کی بجائے امت کے عظیم وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دوسری ریاستیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس سے گزارش کریں۔ توانائی کے قحط کا شکار چین بھی مشرقی ترکستان اور چین کے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ رویہ اختیار کرنے سے قبل سوچنے پر مجبور ہو جائے گا اور اس وقت کو یاد کرے گا جب وہ خلافت کی افواج کے آنے سے خوف کھاتا تھا اور مسلمانوں کو جذیہ دیا کرتا تھا۔


خلافت جس کا قیام اللہ کے حکم سے قریب ہے، غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیے بغیر مضبوط صنعتی شعبہ قائم کرے گی۔ وہ بڑے بڑے منصوبوں کے لیے درکار وسائل کے حصول کے لئے قدرتی وسائل جیسا کہ تیل، گیس اور معدنیات پر عوامی ملکیت کے اسلامی قوانین کو لاگو کرے گی جن کو اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت نجی ملکیت میں دے کر ریاست کو عظیم وسائل سے محروم کردیا جاتا ہے۔ عوامی ملکیت سے حاصل ہونے والی عظیم دولت کو تعمیراتی منصوبوں پر خرچ کیا جاے گا اور ریاست کے اہم ترین شعبوں میں غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کرنے کی پالیسی کی مکمل نفی کی جائے گی۔ صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے خلافت اس بات کو یقینی بنائے گی مسلمان ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں تا کہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست بن سکیں۔ اس طرح سے خلافت کے خاتمے کے بعد شروع کی جانے والی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے استعماری پالیسی کا خاتمہ کیا جائے گا جس کے تحت مسلم دنیا محض استعماری ممالک کو خام مال فراہم کرتے ہیں اور اس سے اشیا استعماری ممالک میں تیار ہوتی ہیں اور پھر مسلم دنیا ان اشیا کو مہنگے داموں درآمد کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔


إِنَّ اللَّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ
"اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں تبدیل کرتا جب تک کہ وہ خود اس چیز کو نہ تبدیل کریں جو کچھ اس کے اپنے نفوس میں ہے"(الرعد:11)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک