السبت، 21 رجب 1447| 2026/01/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

لوگوں نے کشمیر سے دستبردار ہونے اور مشرک ریاست کو انعام میں دینے کے لیے نہیں بلکہ افواج کے ذریعے جہاد کرتے ہوئے اِسے آزاد کرانےکااختیار( مینڈیٹ) دیا ہے


ڈیلی ٹیلیگراف کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے 23 اگست 2013 کو پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی کی دعوت دی۔ یہ کمزور اور بزدلانہ ردعمل بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہونےوالے مسلمانوں، افسران اور سپاہیوں کے مقدس خون کی توہین ہے جبکہ بھارتی افواج مسلسل سرحدوں پرفائرنگ کررہی ہیں۔ جہاں تک جنرل کیانی کا تعلق ہے تو اس نے قبائلی علاقوں میں امریکی صلیبی جنگ پر مسلمانوں کی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جبکہ بھارتی جنرلز پاکستان کو دھمکیاں دیے چلے جارہےہیں۔
بزدل بھارت کی جارحیت کے جواب میں یہ کمزور اورغدارانہ ردعمل اس سرزمین کے قابل اور بہادر بیٹوں کی توہین ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔ بھارت ایک قابض طاقت ہے جو کشمیر کے مسلمانوں کا دشمن ہے اور بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے۔ لیکن یہ ایجنٹ حکمران ان باتوں کی بالکل پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے اس عمل کے نتیجے میں مسلمانوں کو کیا نقصان پہنچے گا کیونکہ وہ صرف واشنگٹن میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے مفادات کی پروا کرتے ہیں۔ امریکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال ہونے کی صورت میں کشمیر تحفے میں دینا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کی افواج کشمیر کو غاصب بھارت سے آزاد کروانے کے لیے نہیں بلکہ اُن عسکریت پسندوں سے لڑیں جو اُس سے افغانستان میں لڑ رہے ہیں۔
اے افواج پاکستان کے افسران! ان حکمرانوں کو اکھاڑنے کے لیے فوراً حرکت میں آؤں اور خلیفہ راشد کو بیعت دو جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تمھاری قیادت کرے گا۔ امریکی منصوبوں اوران ایجنٹ حکمرانوں کو تباہ کردو جو تم میں موجود ایمان اور طاقت کے باوجود تمھیں بھارت کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتے ہیں اور تمھاری تزلیل کرتے ہیں۔ اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کبھی تمھارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔

((فَلاَ تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنْتُمْ الأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ))
"پس تم بودے بن کر صلح کی درخواست پر نہ اُتر آؤ جبکہ تم ہی بلند و غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے"(محمد:35)

Read more...

امریکی سیکریٹری دفاع چَک ہیگل کا دورہ پاکستان کافر حربی (دشمن) ریاست سے دوستانہ تعلقات رکھنا ممنوع ہے

آج امریکی سیکریٹری دفاع چَک ہیگل پاکستان کے ایک روزہ دورے پر اسلام آباد آیا ہے۔ اس دورے میں اس کی پاکستان کے وزیر اعظم، آرمی چیف، جوائنٹ چیفس آف سٹاف، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ افواج پاکستان کی قیادت میں تبدیلی کے بعد کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے۔
حزب التحریر امریکی سیکریٹری دفاع کے دورہ پاکستان کی پرزور مذمت کرتی ہے اور انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کرتی ہے کہ دشمن کے سیکریٹری دفاع سے ملاقات کر کے سیاسی و فوجی قیادت اسلامی شریعت سے انحراف کی مرتکب ہو رہی ہے جس کے تحت ایک ایسی کافر ریاست سے کسی بھی قسم کے تعلقات نہیں رکھے جاسکتے جو مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے، ان کی پاک دامن ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں کی عفت و عصمت کو پامال کررہی ہے، قرآن کی بے حرمتی کرتی ہے اور ان کی زمینوں پر قابض ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں: فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُواْ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ "جو تمھارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرے تو تم بھی اس پر حملہ کرو جیسا کہ انھوں نے تم پر حملہ کیا " (البقرۃ:194)۔
امریکہ جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے تَر بتر ہیں، جس نے سلالہ حملے میں ہمارے فوجی جوانوں کو بے دردی سے قتل کیا، جس نے ایبٹ آباد پر حملہ کیا، جو ہمارے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے کر کے مسلمانوں کو قتل اور ہماری آزادی وخودمختاری کی دھجّیاں اُڑا رہا ہے، جو ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں فوجی و شہری مقامات کو نشانہ بنا کر فتنے کی جنگ کو جاری و ساری رکھنا چاہتا ہے، اس دشمن ملک کے سیکریٹری دفاع کے ساتھ ملاقاتیں کر کے سیاسی وفوجی قیادت اپنے اس عہد سے انحراف کی مرتکب ہو رہی ہے جس کے تحت اس سرزمین کے لوگوں کی جان و مال اور اس سرزمین کی حفاظت کرنا ان پر فرض ہے۔
حزب التحریر امت اور افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سیاسی و فوجی قیادت کے اس عمل کی پُر زور مذمت کریں اور اللہ کے دشمنوں اور ہمارے دشمنوں سے دوستی اور تعلقات رکھنے کے خلاف اللہ کے واضح حکم کی خلاف ورزی پر ان کا سخت محاسبہ بھی کریں۔
انشاء اللہ ، امت اور افواج پاکستان کے مخلص افسران اور جوانوں کی مدد سے خلافت کے قیام کے بعد، خلیفہ امریکہ اور اس جیسے دشمن کافر ممالک سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر دے گا۔ خلافت امریکی سفارت خانے، قونصل خانوں، اڈوں اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے دفاتر کو بند اور امریکی اہلکاروں کو ملک بدر کردے گی اور افواج اور مخلص مجاہدین کی مشترکہ قوت کو استعمال کر کے خطے کو امریکی نجاست سے پاک کردے گی جو اس خطے میں بدامنی، عدم استحکام، معاشی استحصال اور خون خرابے کی بنیادی وجہ ہے۔

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان
شہزاد شیخ

Read more...

امریکی راج کے خاتمے کے لیے حزب التحریر ولایہ پاکستان کے ملک بھر میں مظاہرے امریکی راج ختم کرو ، ایمبیسی اڈے بند کرو

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر میں خطے سے امریکی راج کے خاتمے کے مطالبے کے حق میں مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا: "دھماکے، بدامنی، عدم استحکام۔۔۔وجہ ہے امریکہ اور غدار حکمران۔۔۔۔واحد حل خلافت کا قیام"، "امریکی راج ختم کرو، ایمبیسی اڈے بند کرو"۔ مظاہرین نے ملک میں بڑھتے ہوئے امریکی اثرو نفوذ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کیا کہ ملک میں جاری فتنے کی اس جنگ سے نکلا جائے جسے امریکہ نے بھڑکایا ہے اور ایسا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب آپ امریکی سفارت خانہ، قونصل خانوں، اڈوں اور ان کے انٹیلی جنس دفاتر کو بند اور امریکی سفارتی و فوجی اہلکاروں کو ملک بدر کریں۔
مظاہرین نے افواج پاکستان کے افسران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے کیے گئے اپنے عہد کو پورا کریں کہ وہ اس سرزمین اور اس کے باشندوں کی حفاظت کریں گے ۔ انھوں نے مخلص افسران سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سرزمین پر امریکی راج کو مسلط کرنے والے سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو ہٹا کر پاکستان میں خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں کیونکہ خلافت کا قیام ایک انتہائی اہم اسلامی فریضہ ہے اور صرف خلافت کا قیام ہی ملک پر نافذ کفریہ سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی اثرو نفوذ کا خاتمہ کرے گا۔
مظاہرے میں شریک لوگوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ پاکستان سے امریکی راج کے خاتمے اور خلافت کے قیام تک اپنی پرامن سیاسی و فکری جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس راہ میں آنے والی تکالیف کا سامنا صبر و استقامت کے ساتھ کریں گے۔

Read more...

وضاحتی خط حزب التحریر اور رسول اللہﷺ کے طریقہ کار کو بدنام کرنے کی کوشش

جیو انتظامیہ کے نام،
اسلام علیکم،
18دسمبر 2013کو آپ کے چینل پر کامران خان کی جانب سے حزب التحریر پر ایک انتہائی خوفناک الزام لگایا گیا کہ حزب التحریر نے اپنے ترجمان کے ذریعے افواج پاکستان پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ برائے مہربانی اس بات کو جان لیں کہ اسی دن دوسرے تمام ٹی وی چینلز نے اس بات کو واضح طور پر بیان کیا کہ اس مجرمانہ حملے کی ذمہ داری ایک غیر معروف تنظیم نے قبول کی ہے اور دوسرے دن کے اخبارات نے بھی اسی غیر معروف تنظیم کی اس حملے کی ذمہ داری کو قبول کرنے کی خبر کو شائع کیا۔
یہ خوفناک الزام کئی حوالوں سے بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔
1۔ یہ الزام آپ کے چینل کی ساکھ کے لیے بدنامی کا باعث ہےجو مسلمانوں کے لیے حالت حاضرہ سے آگاہی کا ایک معتبر ذریعہ ہے۔ معاشرہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے جس کا مقصد خلافت کے قیام کے ذریعےاسلامی طرز زندگی کا احیاء ہے۔ بلکہ یہ بات اس قدر مشہور و معروف ہے کہ ایک دوسرے چینل نے بھی اسی قسم کا الزام نشر کیا تھا لیکن چند ہی منٹوں میں اس الزام کو واپس بھی لے لیا کیونکہ اس قسم کے جھوٹےالزام کو دہرانے سے اس کو نشر کرنے والے ہی کی بدنامی ہونی تھی۔ آپ کی جانب سے اس الزام کو نشر ہوئے پورے چار دن گزر چکے ہیں لیکن آپ کے ادارے نے اپنی ساکھ پر لگے اس کالے دھبے کو ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ یقین رکھیں اس قسم کے جھوٹے الزام حزب التحریر کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے ، الحمد اللہ ، لیکن آپ کی ساکھ اس سے ضرور خراب ہوئی ہے۔
2۔ یہ گھٹیا الزام آپ کی اس ذمہ داری پر بھی ایک حملہ ہے جس کے تحت آپ پر یہ لازم ہے کہ آپ عوام کو ملک کو درپیش حقیقی خطرے سے آگاہ کریں جو دراصل ملک میں امریکہ کی وسیع پیمانے پر موجودگی ہے۔ امریکہ نے ہمارے ملک کے خلاف صرف ایک حملہ ہی نہیں کیا بلکہ بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کی ایک پوری مہم شروع کررکھی ہے تا کہ فتنے کی آگ کو بھڑکایا جائے اور اس کو بنیاد بنا کر ہماری افواج کو کم شدت کی تنازعات میں ملوث رکھا جائے جس نے ہمارے ملک کو انسانی خون میں نہلا دیا ہے۔ پاکستان میں بھی امریکہ اپنی بالادستی کو قائم کرنے کے لیے ویسے ہی خونی اور شیطانی ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے جیسا کہ وہ دنیا کے دوسرے حصوں ، وسطی امریکہ سے لے کر جنوب مشرقی ایشیاء تک میں، کئی دہائیوں سےکررہا ہے ۔ کیا آپ کے لیے یہ مناسب نہیں کہ آپ اپنی نشریات میں لوگوں کو اس اصل اور انتہائی خوفناک خطرے سے آگاہ کریں بجائے اس کے کہ آپ کے چینل سے حزب التحریر کے خلاف اس قسم کے سفیدجھوٹ نشر کیے جائیں؟
3۔ یہ الزام رسول اللہﷺ کے طریقہ کار پر بھی ایک بہتان ہے جس کو حزب التحریر نے اپنے قیام کے سال 1953 سے ، چالیس سے زائد ممالک میں اختیار کررکھا ہے اور حزب اس طریقہ کار کا کُھل کر اور واضح اظہار کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کار میں جابر حکمرانوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کرنا، اس مقدس دین کے فہم سے آگاہی کے لیے عوام الناس کی تربیت کرنا اور طاقت کے حامل لوگوں (افواج)سے قوت (نصرۃ) طلب کرنا شامل ہے۔ حزب التحریر کا رسول اللہﷺ کے اس طریقہ کار پر چلنا اس قدر مشہور و معروف ہے کہ ماضی میں پاکستانی حکومت کے چمچوں نے ہمیشہ حزب التحریر کی جانب سے افواج پاکستان سے نصرۃ طلب کرنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ یہ انتباہ حکومتی چمچوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جب حزب التحریر ولایہ پاکستان نے جنرل راحیل شریف کے نام ایک کھلا خط جاری کیا جس میں انھیں ان کی اس شرعی ذمہ داری سے آگاہ کیا ہے۔ تو کیا لوگ اس بات کو تسلیم کریں گے اور کیا راحیل -نواز حکومت کا ایسا کوئی بھی ڈرامہ لوگوں کو اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور کردے گا کہ حزب التحریر اسی فوج کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے جس سے اسلام نے نصرۃ طلب کرنے کو لازمی قرار دیا ہے؟ اور قیامت کے دن رسول اللہﷺ کے اس طریقہ کار کو اس طرح بدنام کر کے ہم اللہ کے سامنے کس منہ سے کھڑے ہو سکیں گے؟
لہٰذا حزب التحریر آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس غلطی کا ازالہ کریں تا کہ جو ہمارا حق ہے وہ ہمیں اور آپ کو آپ کی ساکھ واپس مل جائے۔ ہم یہ چاہیں گے کہ آپ ہمارے بیان کو اپنے ٹی وی چینل پر نشر اور اخبارات میں شائع کریں اور اللہ سبحانہ و تعالٰی سے عظیم اجر حاصل کریں ۔ یقیناً آپ کا ایسا کرنا مستقبل قریب میں ہماری جانب سے اپنے حق کے دفاع کے لیے کسی بھی فوری قانونی چارہ جوئی کی ضرورت کو ہی ختم کردے گا۔
والسلام
شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان مںب حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

ولَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ "خوفزدہ اور غمگین مت ہو اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب آؤگے" (آل عمران:139)

اللہ بھائی عبد القار الصالح پر رحم فرمائے جو حلب میں التوحید بریگیڈ کے قائد تھےجن کو حلب کے ملٹری اسکول میں اپنے بریگیڈ کے دوعہدیداروں سے میٹنگ کے دوران شامی فضائیہ نے نشانہ بنایا۔ ان کو نشانہ اس وقت بنا یا گیا جب انہوں نے ایک جراتمندانہ قدم اٹھایا جو ان شاء اللہ رب کریم کے حضور ان کی عزت و تکریم کا باعث بنے گا ۔ انہوں نے اس نام نہاد اتحاد اور جنیوا سے اپنے لاتعلقی کا اظہار کیا اور مغرب اور اس کے کارندوں کو مسترد کردیا اورسعودیہ اور قطر وغیرہ کے حکمرانوں کی مداخلت کو بھی قبول نہیں کیا۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گوہیں کہ وہ اس جراتمندانہ اقدام پر ان کو اعلٰی مقام عطا فرمائے پیشک وہ دعائیں سننے والا ہے۔ ۔۔۔یہ حادثہ ان کے ساتھیوں کے لیے اپنی صفوں کو منظم کر نے کا محرک ہو نا چاہیے اور ان کو چاہیے کہ اپنے کام مکمل رازداری سے کریں کیونکہ امریکہ ،روس اور یورپ میں اس کے کارندوں کی نظریں تم پر جمی ہیں۔ وہ ہر اس شخص کا پیچھا کر رہے ہیں جو جنیوا کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتا۔۔۔ اللہ تعالی نے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے ((وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً)) "اور ان کو چاہیے احتیاط کریں اور اپنا اسلحہ ساتھ رکھیں کافر چاہتے ہیں کہ تم اپنے اسلحہ اور اپنے سامان سے غافل ہو جاؤ پھر یہ تم پر یکبار ٹوٹ پڑیں گے" (النساء:102)۔
یہ انقلاب اللہ کے فضل سےانتہائی مضبوط ہے کیونکہ یہ اپنے صبر اور ثابت قدمی اور اللہ تعالی پر اپنے ایمان اور صرف اللہ سبحانہ وتعالٰی سے مدد طلب کرنے پر اصرار کر رہا ہے اوراسی چیز نے بڑے ممالک کو خوفزدہ کر دیا ہے اور وہ بھر پور سازش پر اتر آئے ہیں۔۔۔یہ انقلاب بشار، اس کے درندوں اور کرائے کے قاتلوں اور دنیا کے تمام ممالک کی سازشوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔۔۔اس موقعے پر ہم دوسرے بریگیڈز اوریونٹوں کے قائدین کو بھی یہ مشورہ دیں گے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا اور آخرت کی عزتیں سمیٹ لیں، صرف اللہ سبحانہ وتعالی سے مدد طلب کریں ، اسلام پر احسن طریقے سے کار بند رہیں۔ حق کی جستجو کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے، یہی چیز تکلیف دہ سفر کو مختصر اور کامیابی کو قریب کردیتی ہے۔۔۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے: وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا * إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا "دشمن کا پیچھا کرنے میں سستی مت دکھاؤ اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تمہاری طرح ان کو بھی تکلیف پہنچتی ہے، تم اللہ سے جو امید رکھتے ہو ان کو وہ امید نہیں، اللہ علم اور حکمت والا ہے، بے شک ہم نے تم پر حق کے ساتھ کتاب کو نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللہ کے بتائے ہوئے کے مطابق فیصلے کرو، اور تم ان خائنوں کی طرفداری کی بات نہ کرو" (النساء:104-105)
اللہ بھائی عبد القادر الصالح پر رحم کرے اور ان کو فردوس اعلٰی میں انبیاء ،صدقین، شہداء اور صالحیں کا ہمرکاب بنادے۔ ہم وہی بات کریں گے جس پراللہ راضی ہو۔
إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ "ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے" (البقرۃ:156)۔
ہشام البابا
ولایہ شام میں حزب التحریرکے میڈیا آفس کے سربراہ

Read more...

قاتلوں کے ساتھ خائنوں کی بات چیت کی ابتدا منہ پر تھپڑ مارنے سے ہوئی! اتحاد کے خائن مکوں اور لاتوں سے ایک دوسرے کی تواضع کر رہے ہیں اور اپنے آقا امریکہ کو راضی کرنے کے لیے جنیوا2 کانفرنس میں شرکت کے لیےدوڑے چلے جا رہے ہیں

اتحادی ٹولے کے سرغنہ مجرم الجربا نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بے وقوفی اور دلالی میں سفاک بشار کی جگہ لینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے استنبول میں ہونے والےاہم اجلاس کے موقعے پر جس میں اتحاد کی جانب سے جنیوا 2 میں شرکت کا عندیہ ظاہر کیا گیا اس نے فری سیرین آرمی کے نمائندے لؤی المقداد کے منہ پر کچھ خیانت پر مبنی امور میں دونوں کے درمیان اختلاف ہونے پر طمانچہ مارا اور الجربا نے کُرد قومی کونسل کے ارکان کو اتحاد میں شامل کرنے پر اصرار کیا۔شامی قومی اتحاد کے رکن کمال اللبوانی نے اتحاد کے ارکان اور سرغنہ احمد الجربا پر الزام لگایا کہ وہ کُرد قومی کونسل کو شامی اپوزیشن اتحاد میں ضم کرنے کے حوالے سے امریکی اشاروں پر چل رہا ہے۔در حقیقت الجربا اور اس کا اتحاد اور ان کے ساتھ ادریس اور اس کی ملٹری کونسل سب نے شام کے مسلمانوں کے ساتھ بغیر کسی شرم و حیا کے بہت بڑی خیانت کی ہے اوران کے اس جرم پر کسی قیمت پر خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی۔
اے اسلام کے مسکن شام کے صابر اور ثابت قدم مسلمانو!کیا یہ بات عقل میں آنے والی ہے کہ تم اپنی قیادت اتحاد کے ان خائنوں کے سپرد کرو جنہوں نے مسلمانوں کے بد ترین دشمنوں روس اور امریکہ کی چھتری تلے ہونے والی جنیوا2 کانفرنس میں شرکت کی حامی بھر کر تمہارے خلاف بین الاقوامی سازش کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیاتاکہ ایک ایسے حکمران کے لیے راہ ہموار کی جائے جو امریکہ کا منظور نظر ہو اورہو سکتا ہے کہ یہ کوئی امریکی شہری ہی ہو کیونکہ اتحاد کے کئی ارکان دوہری شہریت کے حامل ہیں؟!۔۔۔اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ شام کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں کیونکہ اللہ کے دشمن اور ان کی تحریک کے دشمن آل اسد کی مجرم حکومت میں سے امریکی ایجنٹ، نئے اتحاد میں سے لادین عوامی جمہوری ریاست کے داعی امریکی ایجنٹ سب کے سب اکھٹے ہوکر اہل شام میں سے ان مخلص لوگوں کے خلاف گھات لگا کر بیٹھ گئے ہیں جو اسد حکومت کے خاتمے کے ذریعے شام سے امریکہ کے اثرو رسوخ کی بیخ کنی اور خلافت اسلامیہ کے قیام کے لیے جان کی بازی لگا رہے ہیں ۔
اے شام کے مؤمن مسلمانو! اللہ کے حکم پر ہی ثابت قدم رہو اوراس بات پر بھی ثابت قدم رہو کہ تمہارا معاملہ تمہارے اپنے ہاتھ میں ہو اورجنیوا چاہے کوئی بھی نمبر والا ہو انکارکردو اورطعمہ اور اسد حکومت کو مسترد کردو اورکسی خائن الجربا کو نہیں صرف باوقار مخلص لوگوں کو قبول کر لو اور بابنگ دہل اس کا اعلان کرو جس کو تمہارا رب اوراس کا رسول ﷺ پسند کرتے ہیں اور اللہ تمہاری حالت کو بدل دیں گے یعنی خلافت راشدہ کا اعلان کروجس سے اسلام اور اہل اسلام کی عزت بحال ہو گی اورامریکہ اور اس کے ہمنوا رسوا ہو جائیں گے اوریہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔اس لیے صرف اللہ کے ساتھ ہو جاؤ تاکہ وہ تمہاری مدد کرے۔ اور حزب التحریر اپنا ہاتھ تمہاری طرف بڑھارہی ہے تاکہ اللہ کے ساتھ عہدکرلیا جائے ۔ہمارے رب کا فرمان ہے: (( إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا )) "اے محمد جو لوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ یقینا اللہ سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔تو جو شخص عہد شکنی کرے وہ اپنے نفس پر ہی عہد شکنی کرتا ہے اور جو شخص اس اقرار کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو اسے عنقریب اللہ بہت بڑا اجر دے گا"۔(الفتح:10)

ہشام البابا
ولایہ شام میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے سربراہ

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک