الجمعة، 02 شوال 1447| 2026/03/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو بھارت سے بجلی کی خریداری کھلی غداری ہے


20جون2013کو وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے بھارت سے 2000میگاواٹ بجلی خریدنے کی بد ترین خبر قوم کو سنائی۔ حزب التحریرکیانی و شریف حکومت کی جانب سے قوم اور اس کی معیشت کو بھارت کے ہاتھوں گروی رکھنے کے اس غدارانہ عمل کو مسترد اور اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔


پاکستان میں بجلی کا بحران 90کی دہائی سے آنے والی حکومتوں کی مجرمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کو اللہ نے دریاوں کے پانی کی عظیم ترین دولت سے نوازا ہے جس سے پیدا ہونے والی بجلی آج بھی دنیا میں سستی ترین بجلی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن جمہوری اور آمر حکمرانوں نے جہاں ایک طرف جانتے بوجھتے ملک میں اس سستے ترین ذریعے سے بجلی پیدا کرنے سے اجتناب کیا وہیں ہمارے دریاوں کے پانی کو روکنے کی بھارتی غنڈہ گردی پر بھی مکمل خاموشی اختیار کی۔کیا کیانی و شریف حکومت قوم کو یہ بتا سکتی ہے کہ جو بھارت پاکستان کی معیشت کا گلا گھونٹنے کے لیے ہمارے دریاوں کے پانی کو ڈیم پر ڈیم بنا کر روکتا چلا جارہا ہے ،اس سے بجلی خریدنے سے کیا پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی؟یہ قدم میدان جنگ میں دشمن کے سامنے بغیر لڑے ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہے اور ایسا کرنے والا غداری کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے۔


دراصل غدارحکمران پاکستان کی معیشت کو بھارت سے جوڑدینا چاہتے ہیں تا کہ جس طرح پچھلے 12سالوں میں آمر اور جمہوری حکمران قوم کے سامنے پاکستان کے مفاد کے خلاف امریکہ کے مطالبات تسلیم کرنے کی یہ توجیع دیتے چلے آرہے ہیں کہ ہماری معیشت اور دفاع تو امریکہ کے مرہون منت ہے اور اس کی مدد کے بغیر تو ہم ایک دن بھی نہیں چل سکتے ،بالکل اسی طرح جب بھارت سے مستقل غذائی اجناس، صنعتی خام مال اور بجلی خریدی جائے گی اور بھارت کو ہمارے دریاوں کے پانیوں پر مکمل کنٹرول حاصل ہوچکا ہوگا اور ہماری معیشت بھارت سے جوڑ دی جائے گی تو حکمران بھارت کے سامنے جھکنے کی بھی یہی وجہ دہرا رہے ہوں گے۔


قوم کو یہ جان لینا چاہیے کہ آمریت اور جمہوریت دونوں ہی امریکی گھوڑے ہیں جو امریکی حکم کے مطابق بھارت کو لبھانے اور اس کو امریکی جھولی میں ڈالنے کے لیے پاکستان کو بھارت کے قدموں میں نچھاور کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس امریکی منصوبے پر قوم کو اختلاف سے روکنے کے لیے اسے مہنگی بجلی اور اس کی شدید قلت کے بحران میں مبتلا کردیا گیا ہے تا کہ جب یہ حکمران اس کھلی بے غیرتی اور غداری کا مظاہرہ کریں تو قوم اس قدر لاغر ہوچکی ہو کہ اس پر ان کا احتساب ہی نہ کرسکے۔


حزب التحریر پاکستان کے عوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کیانی و شریف حکومت کی اس کھلی غداری کو مسترد کردیں اور ان کا شدید احتساب کریں۔ حزب التحریرافواج میں موجود مخلص افسران سے پوچھتی ہے کیا اب امریکہ کے بعد بھارت کی بالادستی کو بھی قبول کرلیا جائے گا؟کیا ایٹمی پاکستان کے پاس اپنے دشمن بھارت سے بجلی خریدنے کے علاوہ کوئی دوسری صورت باقی نہیں بچی ؟کیا اب ایٹمی پاکستان بھارت کو امریکی کیمپ میں لانے کے لیے امریکی ٹاؤٹ کا کردار ادا کرے گا ؟ کیا آپ خاموشی سے اس بے غیرتی اور غداری کو بھی دیکھتے رہیں گے؟ اٹھیں اور اس کفریہ استعماری سرمایہ دارانہ نظام اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو اکھاڑ کر ،شیخ عطا بن خلیل ابو رشتہ ،امیر حزب التحریرکی قیادت میں حزب التحریرکو خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں۔ خلافت بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے استعماری پالیسیوں کا خاتمہ کردے گی،قوم کو خود انحصاری کی راہ پر ڈالے گی اور پاکستان اور اس کی افواج کی کھوئی ہوئی عزت اور وقار واپس لوٹائے گی۔

پاکستان میں حزب التحریرکے ڈپٹی ترجمان
شہزاد شیخ

Read more...

آئی.ایم.ایف کا پاکستان کے لیے بجٹ 14-2013 کیانی و شریف حکومت نے بجلی کی قیمت میں کمر توڑ اضافے کی بنیاد رکھ دی ہے

کیانی و شریف حکومت کی پالیسیاں بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کا باعث بنے گی جو پہلے ہی نا قابل برداشت حد تک مہنگی ہو چکی ہے اور یہ مہنگی بجلی بھی با مشکل آدھے دن کے لیے دستیاب ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ بجلی کے بلوں کو "دوہرا کرایہ" کہتے ہیں۔ کیانی و شریف حکومت کے وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ 12 اگست تک حکومت توانائی کے شعبے میں موجود گردشی قرضے کو مقامی بینکوں اور غیر ملکی اداروں سے سودی قرضہ حاصل کر کے ختم کر دے گی۔ یہ فیصلہ اس فیصلے کے علاوہ ہے جس کے تحت حکومت نے بجلی پر ٹیکسوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں بھی مزید نجکاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ تینوں اقدامات بجلی کی موجودہ قیمتوں میں کئی گنا اضافے کا باعث بنیں گے۔ یہ تین اقدامات آئی.ایم.ایف کی جانب سے لازمی قرار دیے گئے ہیں جبکہ اسلام ان کی اجازت نہیں دیتا:

اول: یہ کہ حکومت کی جانب سے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے مزید قرضوں کا حصول دیگر چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کے قیمت میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ پاکستان کے ذمہ قرضوں کی حجم تمام قابل عمل حدوں کو پار کرچکا ہے۔ حالیہ سالوں میں حکومت نے سٹیٹ بینک سے بھاری قرضے حاصل کیے ہیں جس کے ذریعے بجٹ خسارے کو پورا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس عمل کے نتیجے میں ہمیشہ کرنسی کی تعداد میں اور اس کے رسد (Supply) میں اضافہ ہوتا ہے اور پھر لازماً افراط زر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اس عمل کو اکثر "نوٹ چھاپنا" بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح روپیہ اپنی قدر اور زیادہ کھو دیتا ہے۔ کسی وقت ایک ڈالر 60 روپے کے برابر تھا اور پھر پچھلی بجٹ تقریر کے موقع پر ایک ڈالر 80روپے کا ہو گیا اور اس سال کی بجٹ تقریر کے موقع پر یہ 100 روپے کا ہے اور اگر یہی کفریہ نظام قائم رہا تو اگلے سال بجٹ تقریر کے موقع پر روپیہ مزید گر کر 120 تک پہنچ جائے گا۔ روپے کی مسلسل گرتی قدر بجلی سمیت ہر چیز کو مزید مہنگا کر دے گی جیسا کہ پچھلے کئی سالوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اسلام نہ صرف سود پر قرضے حاصل کرنے کی ممانعت کرتا ہے بلکہ وہ وہ سونے اور چاندی کو کرنسی کی بنیاد قرار دیتا ہے جس کی وجہ سے کرنسی لازمی اپنی قدر نہیں کھوتی اور اس طرح افراط زر کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

دوئم: بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کے بڑھانے سے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ایک بار پھر یہ عمل اسلام کے حکم کے خلاف ہے کیونکہ شریعت نے ریاستی اور عوامی ملکیت کی املاک سے محاصل حاصل کرنے کے طریقہ کار بتائے ہیں اور وہ ٹیکس کو حرام قرار دیتی ہے۔ اسلام کے احکامات کے مطابق لوگوں سے ٹیکس نہیں لیا جاتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کرتے تھے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں پر ٹیکس لگائے ہوں۔ اور جب رسول اللہ ﷺ کو یہ پتہ چلا کہ حکومتی اہلکار سرحدوں پر ریاست میں داخل ہونے والے مال پر ٹیکس لیتے ہیں تو انھوں نے اس کی ممانعت فرمادی تھی۔

تیسری بات یہ کہ بجلی کے پیداواری اور تقسیم کار اداروں کی نجکاری بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بنے گی کیونکہ اب مزید نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمپنیاں بجلی کی فروخت سے منافع کمانے کے لیے موجود ہوں گی۔ درحقیقت یہ اس شعبے میں نجکاری کا عمل ہی تھا جس کی بنا پر گردشی قرضے کی بنیاد پڑی۔ اسلام نے توانائی کے شعبے کو عوامی ملکیت قرار دیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس سے حاصل ہونے والے فوائد پوری امت کے لیے ہیں نہ کہ چند افراد کے۔

حزب التحریر پاکستان کے مسلمانوں کو خبردار کرتی ہے کہ اسلام اور خلافت کے بغیر مسلمانوں کی صورتحال ناقابل اصلاح حد تک بگڑ جائے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر شریعت کے احکامات کو ریاست کی جانب سے نافذ کرنا فرض ہے اور اللہ اس کے متعلق ہم سے سوال کریں گے۔ یہی وقت ہے کہ تمام مسلمان چاہے مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان اللہ سبحانہ و تعالی کے سامنے یہ عہد کرے کہ وہ اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے خلافت کو قائم کرنے کے لیے اپنے دنوں اور راتوں کو ایک کر دے گا۔

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...

شامی عوام کے خلاف حکومت ایران کی جنگ حزب التحریرکے وفد نے ایرانی قونصلیٹ کا دورہ کیا اور شام کے جابر کو مسترد کیا

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے اپنا ایک وفدکراچی میں واقع ایرانی قونصلیٹ بھیجا۔ وفد حزب التحریر کے اراکین،ڈاکٹر اسماعیل شیخ اور انجینئر طاہر پر مشتمل تھا ۔ وفد نے شام کے جابر کی حمائت کرنے پر ایرانی حکومت کی کردار کی پرزور مذمت کی۔ وفد نے حزب التحریرکی قیادت کی جانب سے ایک لیفلٹ قونصلیٹ کی نمائندے کے حوالے کیا جس میں شام میں خلافت کی واپسی کو روکنے کے لیے امریکی کوششوں میں ایران اور لبنان میں اس کی حزب کے تعاون کو بے نقاب کیا گیا ہے۔


اس لیفلٹ کا اختتام اس دعوت پر کیا گیا ہے کہ '' اس بات سے قطع نظر کہ کوئی شخص حنفی،مالکی،شافعی،حنبلی،زیدی،جعفری یا عیبادی ہے، جو کوئی بھی ظالم حکمران کی حمائت کرتا ہے اور اس کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے تو اس پررسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث لاگو ہوتی ہے:

(( منی ولست منھم ولایردون علی حوضنی فاوؤک لیسوا ))

''وہ مجھ سے نہیں ہے اور میں اس سے نہیں ہوں اور اس کو میرے حوض پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی‘‘۔

یہ وعید اس کے گناہ کی سنگینی کی وضاحت کرتی ہے۔ لہذا حزب التحریراللہ سبحانہ و تعالی کی اس آیت پر ایمان رکھتی ہے کہ

( ہُوَ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمیْن)''اسی اللہ نے تمھارا نام مسلمان رکھا ہے‘‘(الحج:78)،

اور اللہ کی مدد سے سچ بولتی ہے اور سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتی۔ حزب التحریر ان لوگوں کو جنھوں نے شام کے جابر کی مدد کی اور اب بھی اس کی مدد کررہے ہیں، یہ مشورہ دیتی ہے کہ وہ خیر کی جانب لوٹ جائیں اور جو گناہ کیا ہے اس پر توبا کریں۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس عمل پر افسوس کا اظہار کریں اس سے قبل کہ وہ وقت آجائے جب نہ تو ان کے افسوس کو قبول کیا جائے گا اور ان کی توبا بھی قبول نہیں کی جائے گی۔کیا وہ اب بھی باز آئیں گے؟

(إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَذِکْرَی لِمَن کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ )

''اس میں ہر صاحب دل کے لیے عبرت ہے اور اس کے لیے جو دل سے متوجہ ہو کر کان لگائے اور وہ حاضر ہو‘‘(ق:37)‘‘ ۔

 

پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

 

Read more...

شام کا سرکش، ایرانی حکومت اور لبنان میں اس کی حزب، القصیر شہر کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں ہلاکو خان کی یاد تازہ کر رہے ہیں

حزب التحریر نے القصیر، شام میں بشار، ایرانی حکومت اور لبنان میں اس کی حزب کی شام کے مسلمانوں اور ان کے بابرکت انقلاب کو ناکام بنانے کے خلاف گٹھ جوڑ کے پر زور مذمت کی ہے۔ اس عمل کی مذمت میں حزب التحریر نے ایک لیفلٹ جاری کیا ہے جس کا عنوان ہے "شام کا سرکش، ایرانی حکومت اور لبنان میں اس کے حزب، القصیر شہر کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں ہلاکو خان کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں"۔ اس لیفلٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ "اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنوں سے کوئی حیا کیے بغیر سرکش لوگ القصیر شہر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں، ایک طرف شام کا سرکش بشار الاسد اپنے جنگی جہازوں سے اس پر وحشیانہ بمباری کر رہا ہے، جلاکر راکھ کر دینے والے مواد کے ڈرم گرا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کی حزب اللہ اس کے شانہ بشانہ میزائلوں اور راکٹوں کی بارش کر رہی ہے۔ ایران انتہائی قریب سے اس کی نگرانی کر رہا ہے، ان کو کنٹینروں اور جہازوں کے ذریعے ہر قسم کی انسانی اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔ کئی ہفتوں سے ان سرکشوں نے القصیر شہر کے مضافات اور اس کے باغات کو تباہ کیا، اس کے بعد گھروں اور مساجد کو نشانہ بنایا، سرکشوں کی یلغار سے انسان شجر اور حجر میں سے کچھ بھی محفوظ نہیں رہا"۔

لیفلٹ میں اس حملے کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ "یہ شرمناک حملے امریکہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد تھے۔ کیونکہ امریکہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ شام کی سرزمین پر قتل وغارت کو جاری رکھ کر ہی شام کے لوگوں کو امریکی منصوبوں کو قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اور یوں امریکہ "پر امن حل" کے نام سے منعقد کیے جانے والی کانفرنسوں اور بات چیت کے ذریعے ایک ایجنٹ کی جگہ دوسرے ایجنٹ کو بیٹھا سکے۔ اور یوں چہروں کی تبدیلی کے باجود سیکولر نظام کی بنیادیں برقرار رہ سکیں، کیونکہ امریکہ کو اس بات کا ادراک ہے کہ اہلِ شام کا نعرہ اسلام ہے"۔

حزب التحریر نے ایرانی حکومت اور لبنان کی حزب کے شرمناک کردار کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی مسلمان اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ شام کے سرکش کے بغض و عناد کو سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی حکومت سیکولر ہے اور وہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کا کھلا دشمن ہے۔ لیکن ایران کی حکومت اور لبنان میں اس کی حزب اللہ تو بظاہر اسلام اسلام کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ پھر یہ کس طرح ایک سیکولر حکومت کے شریک کار ہیں، بلکہ مسلمانوں کو قتل کرنے، مساجد پر بمباری کرنے اور خواتین اور بچوں تک کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے؟ "حزب التحریر نے مزید کہا کہ "یقینا القصیر کی لعنت شام کے سرکش، ایرانی حکومت اور لبنان میں اس کی حزب کو لے ڈوبے گی۔ وہاں بہایا گیا پاکیزہ خون دن رات ان کی نیندیں حرام کرے گا، یہاں تک کہ اللہ کی مدد آئے گی۔ اللہ کی مدد تو آنی ہی ہے۔ اگر یہ القصیر کو صفحۂ ہستی سے مٹا بھی دیں تو دنیا میں ان کو رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا"۔

حزب التحریر نے ایرانی حکومت اور لبنان کی حزب کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ "جنہوں نے شام کے سرکش کی مدد کی یا کر رہے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور باز آئیں اور اپنے گناہوں کا کفارہ کریں اور ندامت کا اظہار کریں اس دن سے پہلے کہ جس دن ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی، نہ ہی توبہ قبول ہو گی"۔

نوٹ: لیفلٹ کے مکمل متن کے لیے اس ویب سائٹ لنک کو دیکھیں۔

http://htmediapak.page.tl/The-Tyrant-of-ash_Sham-and-the-Iranian-Regime.htm
پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو بلوچستان میں ہونے والی درندگی کا ذمہ دار کیانی ہے

حزب التحریر ولایہ پاکستان 15 جون 2013 کو کوئٹہ میں ہونے والے اندوہناک واقع کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ حزب التحریر بم دھماکوں اور فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کے لیے دعا گو ہے اور ان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔

کوئٹہ میں ہونے والی اس وحشیانہ درندگی کے ذمہ دار سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار ہیں جن کی قیادت پاکستان میں چیف امریکی ایجنٹ جنرل کیانی کر رہا ہے۔ حزب التحریر پچھلے کئی سالوں سے عوام اور افواج کو یہ باور کراتی آئی ہے کہ ملک بھر میں فوجی و شہری تنصیبات پر ہونے والے بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک ملوث ہے جسے اپنی کاروائیاں کرنے کے لیے مکمل آزادی اور تحفظ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار فراہم کر رہے ہیں۔ اس بات کا ایک اور ثبوت اس وقت سامنے آیا جب 17 جون 2013 کو کیانی و شریف حکومت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ "کوئٹہ میں اس سے زیادہ بھاری سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی جہاں ہر 100 گز پر چیک پوسٹیں ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دہشت گرد ان چیک پوسٹوں سے بھاری ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد لے کر گزر جاتے ہیں جن میں پولیس، ایف۔سی اور فوج کی چیک پوسٹیں بھی شامل ہیں"۔ حزب التحریر چوہدری نثار کی جھوٹی معصومیت کی مذمت کرتی ہے۔ حزب التحریر اور پاکستان کے عوام کو آپ کے انکشاف پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ جب سے سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے پہلے مشرف اور پھر کیانی کی سربراہی میں امریکی جنگ میں شمولیت اختیار کی ہے پورے ملک کو امریکی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دن کی روشنی میں بھرے بازار میں ایک امریکی دہشت گرد لاہور میں دو پاکستانیوں کو قتل کرتا ہے تو گرفتاری اور تمام تر ثبوتوں کے باوجود سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار اس امریکی دہشت گرد کو نہ صرف تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ اسے باعزت بری کروا کر باحفاظت ملک سے فرار بھی کرا دیتے ہیں۔ چوہدری نثار صاحب امت آپ کی سادگی اور لاعلمی پر حیران ہے کیونکہ امت یہ دیکھتی ہے کہ اس امریکی جنگ میں شمولیت کے پہلے دن سے لے کر آج تک اس جنگ کا ایندھن صرف اور صرف پاکستان کی افواج اور عام شہری ہی بن رہے ہیں چاہے ان کا تعلق ملک کے کسی بھی حصے سے ہو یا وہ کسی بھی مسلک یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ لیکن کبھی بھی ملک بھر میں دندناتے امریکی دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں پر حملہ نہیں ہوتا جبکہ ان کے ٹھکانوں کی تفصیلات کہ لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے کس کس گھر میں وہ مقیم ہیں کئی بار ملکی میڈیا میں سامنے بھی آچکی ہیں۔

سانحہ کوئٹہ اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر پارلیمنٹ اور میڈیا میں ہونے والی گفتگو میں ہر شخص ان واقعات کی ذمہ داری جنرل کیانی پر ہی ڈال رہا ہے لیکن براہ راست اس کا نام لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ حزب التحریر سیاست دانوں اور میڈیا میں موجود مخلص اصحاب سے اپیل کرتی ہے کہ وہ حکمرانوں کے احتساب کی اسلامی ذمہ داری کو بغیر کسی لگی لپٹی اور خوف کے ادا کریں۔ حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے بھی سوال کرتی ہے کہ کب تک وہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے وحشیانہ قتل عام پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہیں گے؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ آپ کی قیادت میں موجود غدار کس طرح آپ کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں لیکن اسلام اور اس کی امت کے دشمنوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کیا آپ کی بے عملی کے نتیجے میں ہر خاص و عام مسلمانوں کے اس عظیم ادارے سے بدظن نہیں ہوتا جا رہا۔ اے افواج پاکستان کے مخلص افسران! آگے بڑھو! ان غداروں کے ہاتھ پکڑ لو، اپنی قوم کو ان غداروں کے ظلم و ستم سے نجات دلاؤ، جمہوریت کے امریکی گھوڑے کا خاتمہ کرو اور خلافت کے قیام کے لیے امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو رشتہ کو نصرة فراہم کرو اور امت کو اس کی کھوئی ہوئی خوشحالی، امن و استحکام اورعظمت دوبارہ لوٹا دو۔

 

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

شہزاد شیخ

 

Read more...

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو کراچی سیمینار: "امت خلافت کے لیے تیار ہے اور نصرة وقت کی ضرورت ہے"

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے دنیا کے تیسرے بڑے شہر اور پاکستان کے مالیاتی اور صنعتی مرکز کراچی میں "جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو" مہم کے تحت ایک سیمینار منعقد کیا۔ اس سیمینار میں افواج سے خلافت کے قیام کے لیے نصرة کے قیام کا مطالبہ کیا گیا، پاکستان کے عوام سے امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو رشتہ کے خطاب کی ویڈیو دیکھائی گئی اور 11 مئی 2012 کو حکومتی غنڈوں کے ہاتھوں اغوا سے قبل تک پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کی پاکستان میں امریکی راج کے خاتمے کے خلاف جد و جہد پر مبنی کتاب "کلمہ حق" کی رونمائی بھی کی گئی۔

رکن حزب التحریر انجینئر ساہام نے اپنی زبردست تقریر میں کہا کہ گلی، محلوں، بازاروں، مساجد اور دفاتر میں ہونے والی عوامی گفتگو یہ ثابت کرتی ہے کہ امت اب خلافت کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے 30 اپریل 2013 کو پیو ریسرچ سینٹر کے فورم برائے مذہب اور عوامی زندگی کے تحت شائع ہونے والے سروے کا ذکر کیا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 29 فیصد افراد جمہوریت کو ملکی مسائل کے حل کے لیے مناسب طریقہ کار سمجھتے ہیں جبکہ 84 فیصد لوگ شریعت کو ملک کے قانون کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔

انجینئر ساہام نے وضاحت کی کہ امت میں موجود اسلام کے نفاذ کی شدید خواہش ہی کی وجہ سے پاکستان کی قیادت میں موجود غدار افواج پاکستان میں موجود بریگیڈئر علی خان جیسے افسران اور نوید بٹ جیسے مخلص سیاست دانوں پر ظلم و جبر کر رہی ہے اور یہ دونوں افراد آج بھی کیانی و شریف حکومت کے قید خانوں میں ان کے ظلم جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ انجینئر ساہام نے افواج پاکستان سے جمہوریت کے خاتمے اور خلافت کے فوری قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرة کی فراہمی کا پرزور مطالبہ بھی کیا۔

نوٹ:

1۔ امیر حزب التحریر شیخ عطا بن خلیل ابو رشتہ کے خطاب کا عربی، اردو اور انگریزی زبان میں متن اس ویب لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:

http://pk.tl/1byO

2۔ نوید بٹ کی جدوجہد پر مبنی کتاب "کلمہ حق" اردو اور انگریزی زبان میں ان ویب لنکز پر دیکھی جا سکتی ہے:

http://pk.tl/1c7l and http://pk.tl/1c7m

3۔ نوید بٹ کے اغوا کے خلاف "جنرل کیانی کے نام کھلا خط" کی وڈیو اس ویب لنک پر دیکھی جا سکتی ہے:

http://pk.tl/1bXY

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

تصویرکے لئے یہاں پر کلک کریں - Picture Slideshow: Click Here

Read more...

نوید بٹ کی رہائی کی مہم نوید بٹ کے اغوا کو ایک سال مکمل ہونے پر کیانی کے نام کھلا خط کی ویڈیو جاری کر دی گئی

24 مئی 2013 کو حزب التحریر ولایہ پاکستان نے نوید بٹ، پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان، کے اغوا کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کے ظالم و جابر جنرل کیانی کے نام ایک کھلاخط "ایک سال سے نوید بٹ کا اغوا، خلیفہ راشد کے ہاتھوں تمھارے انجام کو روک سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تاخیر ہوگی "جاری کیا تھا۔ آج پاکستان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کی جانب سے اس خط کی ویڈیو جاری کر دی گئی ہے۔ یہ ویڈیو اس ویب لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔

http://www.dailymotion.com/video/x10hiwe_the-year-long-abduction-of-naveed-butt-will-not-delay-or-prevent-your-end-at-the-hands-of-a-khaleefa_news

اور

http://pk.tl/1bXY

نوید بٹ کو 11 مئی 2012 کو اس وقت جنرل کیانی کے غنڈوں نے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول سے لے کر گھر پہنچے ہی تھے۔ ایک سال گزر جانے اور "آزاد عدلیہ" کے ہر دروازے کو کھٹکٹانے کے باوجود وہ اب تک لاپتہ ہیں۔ جنرل کیانی کے نام یہ کھلا خط دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز اور مقامی ذرائع کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے۔

اس کھلے خط کو پاکستان بھر میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ حزب التحریر صحافیوں، دانشوروں، وکلأ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر افراد میں موجود مخلص افراد سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس ظالم کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے اور نوید بٹ کی رہائی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔

نوٹ: اس خط کی تفصیلات اس ویب لنک پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

http://pk.tl/1bRh

پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو کیانی اور زرداری امریکی جنگ کے لیے اپنی قوم کوقربان کررہے ہیں

حزب التحریرولایہ پاکستان انتخابات کا دن ،11مئی ،کے قریب آنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں آنے والی تیزی میں پاکستان کے ایجنٹ حکمرانوں کے کردار کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ اگر ان حکمرانوں میں زرہ برابر بھی اخلاص ہوتا یا ان میںاپنے آقاوں کے احکامات کو بجا لانے سے انکار کرنے کی تھوڑی سی بھی ہمت ہوتی تو یہ اس قتل و غارت گری کو جڑ سے اکھاڑ کر اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیتے۔ ہماری افواج اس بات کی بھر پور صلاحیت رکھتیں ہیں کہ وہ تمام امریکی قونصلیٹس، سفارت خانوں اور اڈوں کو بند کردیں۔ ہمارے بہادر افسران اور جوان چند گھنٹوں میں امریکی انٹیلی جنس ،فوجی اور نجی سیکیورٹی کے افراد اور ان امریکی ماسٹر مائنڈز کو ملک بدر کرسکتے ہیں جو ملک بھر میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی اور انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے نگرانی کرتے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کو ان غیر ملکی استعماری حربی ممالک سے تمام تعلقات ختم کرکے اس راستے کو ہی بند کردینا چاہیے جس کو استعمال کر کے یہ سازشیں کرتے ہیں اور امت کو تقسیم کرتے ہیں۔ اور ایک مسلم فوج ہونے کے ناطے ہمارے بہادر بیٹے اپنی سرزمین پر فتنے کا خاتمہ کرنے کے لیے امریکہ کو ایک فیصلہ کن جواب دینے میں انتہائی خوشی محسوس کریں گے۔

لیکن نہیں!یہ غدار مسئلہ کو حل کرنے کی جگہ ہمارے اوپر مزید مسائل کا انبار ڈال دیتے ہیںاور اس قتل و غارت گری کو جواز بنا کر امریکی مطالبات کو تسلیم کرتے چلے جاتے ہیں ۔ امریکہ کا بہت عرصہ سے یہ مطالبہ چلا آرہا ہے کہ فتنے کی اس امریکی جنگ کو پاکستان کے اہم ترین شہروں تک پھیلادیا جائے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ مسلم دنیا کے سب سے بڑی فوج کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مصروف کرنے کے بعد اپنے ہی ملک میں مزید ایک اور محاذ کھولنے پر مجبور کر کے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو انتہائی محدود کردیا جائے۔اپنی ذمہ داری سے مخلص حکمرانوں نے سیکیورٹی کے نام پر ستر ہزار فوج کو شہروں میں بھیجنے کا اعلان کردیا ہے جس سے مزید خون خرابے اور دشمنوں کے سامنے ہماری تذلیل میں اضافہ ہوگا۔

اے افواج میں موجود مسلمانو! اس امریکی جنگ کے لیے مزید کتنے مسلمان قربان کیے جائیں گے۔ یہ جنگ حکمرانوں کے نزدیک اتنی مقدس ہے کہ وہ اس کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں کرتے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان حکمرانوں کو اکھاڑ پھینکیں اورحزب التحریرکی قیادت میں آپ چند گھنٹوں ایسا کرنے پر قادر ہیں۔ خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریرکا ساتھ دیں تا کہ معروف عالم،دانشور اور سیاست دان،شیخ عطا بن خلیل ابو الرشتہ،امیر حزب التحریرکو مسلمانوں کے خلیفہ کی حیثیت سے بیعت دی جائے اور پھر خلیفہ مسلمانوں کو ان کے دشمنوں سے تحفظ کرے گا اور ان پر مسلط تذلیل اور ناکامی کو عزت اور کامیابی سے بدل دے گا۔

ﺇنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوا فِیْ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الْأَشْہَادُ

'' یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے''(الغفار:51)

 

پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

 

Read more...

  حزب التحریر کے امیر کی طرف سے پاکستان عوام سے خطاب  

 

(عربی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں اور آڈیو کا اردو ترجمہ کے لئے یہاں کلک کریں)

(click here for arabic audio and click here for urdu translation of audio)

بسم الله الرحمن الرحيم

سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اوردرود و سلام ہو اللہ کے رسول پر ، آپ کی آل پر ، آپ کے صحابہ پر اور ہراس شخص پر جس نے آپ صلّى الله عليه وسلّم کی پیروی کی

 

اَما بعد!

 

اِس پاک اور بابرکت سرزمین ملکِ پاکستان کے باشندوں کے نام کہ جو اسلام اور مسلمانوں کی خاطر معرض وجود میں آیا

 

یہاںکے علمائ،مفکرین اور سیاست دانوںمیں سے اُن لوگوں کے نام جنہوں نے حق گوئی اور اپنے دین اور ایمان میں اخلاص کا ثبوت دیاہے

 

پاکستان کے حکمرانوں خاص طور پر زرداری،اس کے کارندوں اور گماشتوں کے نام جنہوں نے پاک سرزمین اور اس کے باسیوں کو امریکہ ،اس کے جاسوسوں اور ایجنسیوں کے لیے تر نوالہ بنادیا ہے

 

کیانی اور اس کے ٹولے کے نام جنہوںنے پاکستان کی بہادر فوج کو افغانستان میں جاری امریکی جنگ کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اور اسے ہندوستان کے بارڈر سے قبائلی علاقوںاور بلوچستان منتقل کررکھا ہے

 

الیکشن کمیشن کے نام جو گیارہ مئی کے انتخابات کی نگرانی کر رہا ہے

 

میں اس بیان کے ذریعے اِن سب سے مخاطب ہوں،اگرچہ مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ زرداری ،اس کے جاسوسوںاور کیانی اور اس کے ٹولے کے پاس دل ودماغ تو ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں،ان کے کان ہیں مگروہ سنتے نہیں اور ان کی آنکھیں بصیرت سے محروم ہیں۔  تاہم اس کے باوجود پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو حق بات سنتے ہیں تو ان کی آنکھیں تر ہوجاتی ہیں۔  یہ لوگ بات کو اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق پر عمل کرتے ہیں،میرا خطاب انہی لوگوں سے ہے۔  اورجہاں تک زرداری اور اس کے جاسوسوں،کیانی اور اس کے ٹولے کا تعلق ہے تو میں ان سے اس لیے مخاطب ہوں کہ ربِ ذو الجلال کے سامنے ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا شاید وہ ہدایت کی طرف لوٹ آئیں!

 

سب سے پہلے:اے ہماری پاک سرزمین کے لوگو،اے محمد بن قاسم کے بیٹو،آپ ان لوگوں کی اولادہیں جنہوں نے محمد بن قاسم کے ساتھ شامل ہو کر اس سرزمین کو فتح کرنے کے لیے جہاد کیاتھا۔  آپ ایک ایسی ظالم اور بدکردار حکومت پر کیسے راضی رہ سکتے ہیں جس نے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلّى الله عليه وسلّم کی سنت کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے،جس نے شریعت کو معطل کیا ہے، اور ملک کو امریکہ اور اس کے حلیفوں کے لیے ترنوالہ بنایا ہوا ہے جنہوں نے انسانوں کے ساتھ شجر و حجرکو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔  وہ حکومت جو ڈرون حملوں سے بمباری کر کے اپنے ہی لوگوں کو قتل کر رہی ہے،اوربم دھماکوں کے ذریعے فتنوں کو ہوا دے رہی ہے؟!  آپ ایسی حکومت پر کیسے راضی رہ سکتے ہیں جس نے فوج کو کشمیر اور دیگر مسلم علاقوں پر قبضہ کرنے والی ہندوریاست کے خلاف محاذسے منتقل کرکے قبائلی علاقوں ،بلوچستان اور افغانستان میں استعمار کے ساتھ برسرپیکار اپنے ہی مسلمان بھائیوں کوقتل کرنے پر لگا دیا ہے؟!  آپ کس طرح اس حکومت کے بارے میں خاموش رہ سکتے ہیں جو آپ کے مخلص اورصادق بیٹوں کودن دھاڑے سڑکوں،مدرسوں اور مساجد سے اغوا کرتی ہے اورپھر اللہ ،اس کے رسول صلّى الله عليه وسلّم اور مومنوں کے سامنے کسی حیا ء کے بغیر اس اغوا کاری کا انکار کرتی ہے؟!  حزب التحریر کے کتنے ہی شباب کو صرف اس لیے اغوا کیا گیا کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا رب صرف اللہ سبحانہ وتعالی ہے،اوران کو کئی کئی مہینے عقو بت خانوں میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا یاگیا۔  جو شباب ماضی میں اغوا کیے گئے تھے ان کے ساتھ بھی یہی کیا گیا اورآج حزب کے ترجمان اور ان کے بعد اغوا کیے گئے شباب کے ساتھ یہی سلوک ہورہا ہے؟!   شایدآپ یہ کہیں گے کہ آپ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے،لیکن ایسی بات نہیں ،آپ یقینا اس قابل ہیں کہ اپنی جدوجہد کو حزب کی جدوجہد کے ساتھ یکجا کردیں،انشاء اللہ آپ کا رب آپ پر اپنی رحمت نچھاور کرے گا۔  حزب ہر گز اپنے عظیم الشان کام سے، جو کہ احکامِ شرعیہ کے مطابق ہے، ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک اللہ کے اذن سے اس ظالمانہ حکمرانی کا خاتمہ نہ کر دے اور حقداروں کو ان کا حق لوٹا نہ دے ۔  پس آپ حزب کی سرگرمیوں میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ مت کریں۔  اورنیک انجام تو متقین کا ہی ہے۔

 

ہم یہاں اُن علماء سے بھی مخاطب ہیں کہ جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔  کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ اللہ کے احکامات معطل ہیں؟  کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ امریکہ اپنی ایجنسیوں ،اپنے جہازوں اور بم دھماکوں کے ذریعے ملک کے طول وعرض کو روند رہا ہے۔  اوریہ سب کچھ حکمران طبقے میں موجود اپنے کارندوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے نتیجے میں کر رہا ہے؟  کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ امت کی دولت کو لوٹاجا رہا ہے اور کرپشن ریاست اور اس کے اداروں کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے؟  کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کے لیے خلافت کے قیام کی دعوت دینے والوں کو دن دھاڑے اغوا کیا جاتا ہے اور طرح طرح سے عذاب دیا جاتا ہے۔  حزب التحریر کے ترجمان کی مثال تو آپ کے سامنے ہے،جنہیںراہ چلتے اغوا کیا گیا اورٹھیک 11مئی الیکشن کے دن اس اغوا کو ایک سال پورا ہو جائے گا؟  کیا یہ سب کچھ آپ کی نظروں کے سامنے نہیں؟  کیا یہ سب شرمناک منکر نہیں؟  کیا اس منکر کا انکار آپ پر فرض نہیں؟  اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ریاست ہمارے ہاتھ میں تو نہیں کہ ہم اس منکر کو ہاتھ سے روکیں، تو زبان سے اس منکر کا انکار نہ کرنے کا آپ کے پاس کیا جواز ہے؟  کیا کلمۂ حق کہنا افضل ترین جہاد نہیں ،جیسا کہ رسول اللہ صلّى الله عليه وسلّم نے اس وقت فرمایا،جب یہ سوال کیا گیا کہ ایُّ الجِھَادِ اَفْضَلُ؟ ''کونسا جہاد سب سے افضل ہے ؟  آپ صلّى الله عليه وسلّم نے فرمایا:((کَلِمَةُ حَقٍ عِنْدَ سُلطَانٍِ جَائِرِِ))''ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا''( النسائی )۔  توپھر آپ خاموش کیوں ہیں اورحق کو بیان کیوں نہیں کر رہے ؟

 

جہاں تک مفکرین اور سیاست دانوں میں سے ان لوگوں کا تعلق ہے کہ جن میں اخلاص اور استقامت موجود ہے،توان سے ہم کہتے ہیں کہ میدان تو آپ کے لیے ہے۔  آپ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی حکومت پر مکمل طور پر حاوی ہے،وہ جس طرف چاہتا ہے اسے موڑتا ہے۔  وہ پاکستان کی معیشت کوتباہی کی راستے پر ڈال چکا ہے۔ پاکستانی معیشت آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے پاس گروی ہے،جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا دشوار اور زندگی عذاب بن چکی ہے۔  وہ ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔  امن امان کی صورت حال بھی سنگین ہو چکی ہے۔  آپ دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے باشندوں کے درمیان فتنہ وفساد کا بیج بودیا گیاہے۔  وہ کراچی جو امن وآمان کا گہوارہ تھا،اورجس شہر کی طرف مسلمانوں نے ہندوؤں کے مظالم سے تنگ آکر ہجرت کی تھی ،جس سے قرون اولیٰ کے مہاجرین اور انصار کی یاد تازہ ہو گئی تھی، اس شہر ِکراچی میں مسلمانوں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکائی جارہی ہے۔  اس صورتِ حال کی وجہ کچھ تو وہ سازشیں ہیںکہ جن کا جال بچھایا گیاہے جبکہ باقی بندوبست منظم دھماکوں کے ذریعے کیا گیا ۔  علاوہ ازیںاس حکومت نے کشمیر کو بھی بیچ ڈالااور اسے ایک بھولا بسرا مسئلہ بنا دیا،اورمحاذِ جنگ کو مسلمانوں کی سرزمین پر قابض ہندو ریاست کی سر حد سے منتقل کر کے قبائلی علاقوںاوربلوچستان میں منتقل کر دیا اوران لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا جو استعمار سے برسرپیکار ہیں۔  امریکی جاسوس ،ملک کے طول وعرض میں دندناتے پھر رہے ہیں،اس کے ہوائی جہاز اور ڈرون فضائی حدود کو پامال کرتے ہیں،بمباری کرکے لوگوں کو قتل کرتے ہیں اورکوئی ان سے حساب لینے والا اور پوچھنے والا نہیں!  ان شرمناک منکر پر آپ کس طرح خاموش رہ سکتے ہیں؟  کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ مصیبت آئے گی تو صرف کرپٹ ،خائن اور ظالم حکمرانوں پر ہی آئے گی؟  نہیں،بلکہ جب مصیبت آتی ہے تو ظالم کے ساتھ ساتھ ظلم پر خاموشی اختیار کرنے والوںکو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے:

((وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ))

''اس مصیبت سے ڈرو جو تم میںسے صرف ظالموں کو ہی اپنے لپیٹ میں نہیں لے گی ،یاد رکھو اللہ سخت عذاب دیا کرتا ہے''(الانفال:25)۔

رسول اللہ صلّى الله عليه وسلّم نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ، حَتَّى يَرَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَذَّبَ اللَّهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ

''اللہ خواص کے کرتوتوں کی سزا عوام کو اس وقت تک نہیں دیتاجب تک وہ منکر کو اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے دیکھیں اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کا انکار نہ کریں ،جب وہ ایسا کرنے لگیں تو پھر اللہ عوام اور خواص سب کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے''(اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا )۔

 

دوم: حکمران ٹولے کے سرغنہ زرداری ،اوراس کے جاسوسوں اور غنڈوں سے ہم کہتے ہیں کہ عقلمند وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔  تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ تمام غدار جنہوں نے استعماری کفار کے ساتھ سازباز کر کے اپنے ہی ملکوں کے خلاف سازشیں کیں ،کرپشن اور فساد کا بازار گرم کیا،باطل طریقوں سے مال ہڑپ کیا،اللہ کو اپنا رب ماننے پر لوگوں کو اغوا کیا …جانتے ہوان کا انجام کس قدر عبرت ناک تھا، ان کے استعماری آقاؤں نے ان سے اپنا کام نکال کر ،ان کو بیکار سمجھ کر، بے یار ومددگارچھوڑ دیا!

 

تم نے کیا سمجھ کر اس سرزمین کو امریکہ اور اس کے جاسوسوں کی ریشہ دوانیوں کا مرکز بنادیا ہے کہ وہ جیسا چاہتے ہیںتباہی مچاتے ہیں۔  تم نے اس سرزمین کی فضاء کو ان کے جہازوں کے لیے کھول رکھا ہے کہ وہ جیسا چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں بمباری کرتے ہیں۔  ہم جانتے ہیں کہ امریکہ ہی تمہیں احکامات دیتا ہے اور تم اسے نہ کرنے کی جرأت بھی نہیں رکھتے،لیکن کبھی کبھی غدار بھی کہہ دیتے ہیں: بس! اب بہت ہو گیا۔  لیکن تم ہو کہ اس تباہ کن سیلاب میں بہتے ہی جارہے ہو اور کبھی بھی نہ نہیں کرتے !

 

امریکہ اور اس کے حلیفوں کے سامنے اس رسوائے زمانہ جھکاؤ کے ساتھ ساتھ تم حزب التحریر کے شباب پر اللہ کی زمین کو تنگ کر رہے ہو ۔  تم انہیں اغوا کرنے اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے اپنے ہرکاروں اور غنڈوں کو دوڑاتے پھرتے ہو!  کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ کوئی ان کا مولا نہیں؟  کیا تمہیں یقین ہے کہ تم عبرت کا نشان بننے سے بچ جاؤ گے؟  تم کیا سمجھتے ہو کہ وہ بے یار ومددگار ہیں؟  تمہاری خوش فہمی کے برعکس اللہ، اس کا رسول صلّى الله عليه وسلّم اور مومنین حزب کے شباب کے ساتھ ہیں،حزب التحریر اپنے شباب سے دستبردار نہیںہوتی۔  اگر حزب آج انتقامی طور پر مادی اعمال انجام نہیں دیتی، تو اس کی وجہ بزدلی یا خوف نہیں،بلکہ وہ سمجھتی ہے کہ دعوت کے مرحلے میں شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔  لیکن حزب اُس خلافت کے قیام کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے جس کااللہ نے وعدہ کیا ہے اور رسول اللہ صلّى الله عليه وسلّم نے اس کے دوبارہ قیام کی بشارت دی ہے۔  اوراُس وقت تمہیں،تمہارے کارندوں اور غنڈوں کو ایسی سزا دی جائے گی کہ جس کے تم مستحق ہو:

((وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ))

''اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ گرنے والے ہیں ''(الشعراء :227)۔

 

اگر تم دنیا وی سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو بھی گئے، تو تمہارے لیے ایک اور دن مقرر ہے ،اوروہ ایسا دن ہے کہ اس کے خوف سے بچے بوڑھے ہوجائیں گے۔   اس وقت تمہیںاللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد آئے گا:

((وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَل الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ
مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ))

''اور مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں اللہ ان سے بے خبر ہے ۔  وہ اِن کو اُس دن تک مہلت دے رہا ہے کہ جب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ،اور لوگ سر اوپراٹھائے دوڑ رہے ہوں گے ،  خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں لوٹ نہ سکیں گی اور اُن کے دل (خوف کے مارے) ہوا ہو رہے ہوں گے''(ابراہیم:  42-43)۔

 

تیسرے : جہاں تک کیانی اور اس کے ٹولے کی بات ہے تووہ زرداری سے بھی زیادہ شرانگیز ہے۔  وہ ظلم اور فجور میں حد سے آگے بڑھ چکا ہے۔  ملک کو امریکہ کی سازشوں کا اکھاڑا بنانے میں اس کا کردار سب سے بڑا ہے۔  امریکی ڈرون طیاروںکی مسلمانوں پر بمباری میں اس کا کرداربنیادی اورگھنائونا ہے۔  فوج کو بھی ہندو مشرک ریاست کے بارڈر سے ہٹا کر قبائلی علاقوں ،بلوچستان اور افغانستان میں استعمار کے خلاف کھڑے مسلمانوں کے قتل پر لگانے میں اس کاہی کردار ہے۔  اس کا یہ کردار انتہائی رسواکن اور شرمناک ہے۔  اسی طرح حزب التحریر کے شباب کو اغوا کرنے اورانہیں لاپتہ کرنے میں اس کا کردار اللہ ،اس کے رسول صلّى الله عليه وسلّم اور مومنوں کے نزدیک قبیح اورمجرمانہ ہے۔  افغانستا ن میں لڑنے والی امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کے لیے اسلحہ،خوراک اور ادویات کو سپلائی کر کے یہ خیانت اور غداری میں باقی تمام غداروں سے آگے نکل گیا ہے۔  اسی طرح امریکی جاسوسوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے کراچی میں دھماکے کر وانے اور یوں فتنے کی آگ کو بھڑکانے میں بھی خیانت کے اس پتلے کا کردار سب سے بڑھ کر ہے۔  یہ خائن اگر ان مظالم ، دھما کوں اور ڈرون حملوں کو روکنا چاہے تو اس کے پاس عسکری قوت کی کمی نہیں،لیکن یہ اپنے دین کوچھوڑ چکا ہے اوراُس قَسم کو بھلا چکا ہے جو اس نے فوج میں شمولیت کے وقت ہر دشمن کے خلاف اپنے ملک کی حفاظت کے لیے اٹھائی تھی۔  یہ قَسم اس نے اس ملک کو امریکی جاسوسوں کے حوالے کرنے کے لیے تونہیں اٹھائی تھی!

 

بے شک کیانی اور اس کا ٹولہ ہی ہر مخلص،بہادر اور اللہ اور اس کے رسول صلّى الله عليه وسلّم سے محبت کرنے والے فوجی افسرکی گرفتاری کے لیے امریکہ کا فرنٹ مین ہے، جیسا کہ اس نے بریگیڈئر علی خان ،ان کے رفقاء اور دیگر مخلص افسران کے ساتھ کیا۔  کیانی اور اس کے پشت پناہ یہ گمان کر تے ہیں کہ ایسا کر کے وہ فوج کی وفاداری کو اپنے حق میں برقرار رکھ سکتے ہیں ، تاکہ وہ اس فوج کے ذریعے مسلمانوں کو قتل کرنے اور استعماری کفار کو راضی رکھنے کے منصوبوں کو پورا کر سکیں۔  لیکن کیانی یہ بھول گیا یا بھولنے کی کوشش کر رہاہے کہ پاکستانی فوج اول سے آخر تک ایک مسلم فوج ہے،اس کا اسلحہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے ہے۔  یہ فوج اگر چہ کچھ عرصے کے لیے خاموش رہی لیکن ہمیشہ کے لیے خاموش تماشائی نہیں بنے گی،خاص کر جب کیانی کی ،اپنی یونیفارم اور اسلحے سے خیانت اس قدر بے نقاب ہو چکی ہے کہ اس کے لیے کسی مزید تشریح اور بیان کی ضرورت نہیں۔  فوج کی اس بیداری نے کیانی اور اس کے ٹولے کو حیران کردیا ہے اور اللہ کے اذن سے یہ بیداری اس کو ایسے دبوچ لے گی کہ اس کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوگا،تب جا کر یہ اپنی خیانتوں کا مزہ چکھ لے گا:

((وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ))

''اور اللہ ہی اپنی تدبیر میں غالب ہے ،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے''(یوسف:21)۔

 

چوتھا: الیکشن کمیشن سے ہم کہتے ہیں کہ تم مسلمان ہو اورتمہیں اس بات کا علم ہے کہ قانون سازی صرف اللہ سبحانہ وتعالی کا حق ہے۔  پھر تم کس طرح ایک ایسی پارلیمنٹ کووجود میں لانے کے لیے انتخابات کرواسکتے ہو جو اللہ کے قوانین کو پسِ پشت ڈال کر خودقانون سازی کرے؟  تم ایسے انتخابات کیسے کرا سکتے ہو کہ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پارلیمنٹ میں اللہ کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیا جائے گا؟  تم انتخابات کی نگرانی کیسے کر رہے ہو کہ جب تمہیں معلوم ہے زرداری وکیا نی کا ٹولہ اوراس کے کارندے ہی پسِ پردہ ان انتخابات کو کنٹرول کر رہے ہیں؟  تم کس طرح ایسے انتخابات کا انعقاد کر سکتے ہو کہ جس کے نتیجے میں ایک ایسی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی جو ان خود ساختہ قوانین کی توثیق کرے گی جن سے سیاسی اور عسکری قیات کے مفادات ہی پورے ہو ں گے یعنی دوسرے الفاظ میں صرف امریکہ ہی کے مفادات پورے ہوںگے؟  انتخابات نمائندہ چننے کا عمل ہے اور قانون سازی کے لیے نمائندے چننا جائز نہیں،توپھر تم کس طرح ایسے انتخابات کی تیاری کر رہے ہو جو غیر شرعی ہیں اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب بھی دے رہے ہو؟  کیا تم یہ نہیں جانتے کہ ایسی مجلسِ قانون ساز وجود میں لانا جو اللہ کی جگہ قانون سازی کرے،ایک عظیم گناہ ہے؟  طبرانی نے الکبیر میں عدی بن حاتم سے روایت کیا کہ جب میں رسول اللہ صلّى الله عليه وسلّم کے پاس پہنچا تو آپ صلّى الله عليه وسلّم سورہ براء ة کی تلاوت فرمارہے تھے ،یہاں تک کہ آپ صلّى الله عليه وسلّم اس آیت پر پہنچے:(اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ)''انہوں (یہود و نصاریٰ)نے اللہ کو چھوڑ کراپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا لیا ''۔  جب آپصلّى الله عليه وسلّم نے اپنی بات مکمل کر لی تو میں نے کہا:ہم (عیسائی)تو اپنے علماء و مشائخ کی عبادت نہیں کرتے تھے۔   آپصلّى الله عليه وسلّم فرمایا:((اَ لَیْسَ  یُحَرِّ مُونَ  مَا  اَحَلَّ اللّٰہُ فَتُحَرِّمُونَہُ  وَ یُحِلُّونَ  مَا  حَرَّمَ  اللّٰہُ  فَتَسْتَحِلُّونَہُ؟))''کیا ایسا نہ تھا کہ جب یہ (علماء اور مشائخ)اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے تھے تولوگ بھی اس کو حرام قراردے دیتے تھے اور جب یہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حلال کرتے تھے تو لوگ بھی اس کو حلال سمجھ لیتے تھے؟''۔  میں نے کہا: ہاں وہ ایسا تو کرتے تھے۔  آپ صلّى الله عليه وسلّم نے فرمایا:((فَتِلْکَ  عِبَا دَ تُھُمْ))''یہی تو ان علماء و مشائخ کی عبادت کرناہے''۔

 

اے الیکشن کمیشن : آج پاکستان کو ایسے انتخابات کی ضرورت نہیں کہ جن سے ایک ایسی پارلیمنٹ جنم لے جو اللہ کی جگہ خودقانون سازی کرے،اورایسے قوانین کی توثیق کرے کہ جن کے بارے اللہ کی طرف سے کوئی برھان نازل نہیں ہوئی۔  بلکہ آج اُس خلافتِ راشدہ کو قائم کرنے اور ایسے عادل خلیفۂ راشد کی بیعت کی ضرورت ہے جو کسی اور چیز کو نہیں بلکہ صرف اللہ کی شریعت کو نافذ کرے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ریاستِ خلافت کی داغ بیل ڈالی جائے اور پاکستان خلافت کا نقطہ آغاز بنے یا پھرریاستِ خلافت کا اہم حصہ بنے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے دین،اپنی فوج اور اپنی ایٹمی قوت کے زور پر ایسی قوت بن جائے جو حق کو قائم کرے اور عدل کو عام کرے،کشمیر اور اُن اسلامی زمینوں کو آزاد کرائے جن پر مشرکوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔  اورہمارے جسم سے کاٹے گئے پاکستان کے ٹکڑے ''بنگلہ دیش'' کو کسی سمندری یا فضائی راستے کے ذریعے نہیں بلکہ زمینی رستے سے دوبار اپنے جسم سے جوڑدے،یعنی ہند کے راستے جو صدیوں سے اسلامی سرزمین ہے اور جس دوباراحاصل کرنامسلمانوں پر فرض ہے۔  اورخلافت تلے ہماری فوج پاکستان اور افغانستان میں مسلمانوں کا سامنا کرنے کی بجائے دونوں ممالک کو یکجا کرکے صحیح سمت اختیار کرے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا پیچھا کرے۔  پھر یہ استعماری کافر ممالک ذلیل وخوار ہو کر اپنے بلوں میں گھس جائیں گے۔  یوںاللہ سبحانہ وتعالی کا وعدہ اور رسول اللہ صلّى الله عليه وسلّم کی بشارت پوری ہوگی اور پاکستا ن خلافت کا مرکز یا خلافت کا جزو بنے گااور نئی خلافت کے نور سے دنیا کو جگمگا دے گا،زمین اپنے خزانے اُگل دے گی،آسمان اپنی بر کات نازل کرے گا،اوراللہ مومنوں کے دِلوں کوٹھنڈا کرے گا۔

 

ممکن ہے کہ منافقین اور جن کے دلوںمیں مرض ہے یہ کہیں کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے غرور میں مبتلا کردیا ہے،کیونکہ ایسی باتیں لوگ پہلے بھی کرچکے ہیں،لیکن ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رب نے فرمایا ہے:

(( إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ))

''جب منافقوں اور ان لوگوں نے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے ،کہا کہ ان کوتو ان کے دین نے غرور(خوش فہمی)میں مبتلا کر رکھا ہے ،لیکن جواللہ پر توکل کرتا ہے تو اللہ تو زبردست حکمت والا ہے''(الانفال:49)۔

 

اورآخر ی بات کہ ، میں ایک دور جگہ سے آپ سے مخاطب ہوں جو اللہ کے اذن سے قریب ہونے والی ہے۔  میںاللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں اس موقع پر آپس میں ملا دے کہ جب خلافت کا اعلان کیا جائے،خلیفہ کی بیعت کی جائے گی،جب لوگ انتہائی مسرت اور شادمانی سے راستوں ،منبروں ، مسجدوں اوراپنے گھر کے چھتوں سے نعرۂ تکبیر بلند کریں۔

 

جب فوجی جوان خوشی اور سرور سے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگائیں اور اپنے اصلی کام کی طرف لوٹیں ،ایک مسلم فوج کی حیثیت سے اسلام کی شیرازہ بندی کرنے اور پوری دنیا میںفتوحات کا ڈنکا بجانے اور خیر کو پھیلانے کی طرف ...

 

((وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ))

 

''اس دن مومنین اللہ کی مدد سے بہت خوش ہوں گے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہی زبردست رحمت والا ہے''(الروم:4-5)

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

 

آپ کابھائی

 

عطاء بن خلیل ، ا بو رَشتہ

امیر حز ب التحریر


 

Read more...

وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کے خلاف حزب التحریر کے احتجاجی مظاہرے امریکی صلیبی جنگ کے لئے مزید ایندھن بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی


حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر میں وادی تیراہ میں فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سیکڑوں فوجیوں اور قبائلی مسلمانوں کی اموات کی خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں نے یہ فوجی آپریشن 5اپریل بروز جمعہ 2013کو بغیر کسی پیشگی اعلان کے شروع کیا ۔ان فوجی آپریشنز کا مقصدیہ ہے کہ افواج پاکستان کو استعمال کرکے اٖفغانستان پر قابض بزدل امریکی افواج کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود قبائلی مسلمانوں کی جانب سے مسلح مزاحمت سے بچایا جائے۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر''تیراہ میں آپریشن :پاک فوج کو امریکی صلیبی جنگ کا ایندھن نہ بناؤ ‘‘اور''تیراہ میں آپریشن،امریکہ سے وفاداری اور امت سے غداری‘‘تحریر تھا۔ مظاہرین قبائلی علاقوں میں امریکی صلیبی جنگ کے لیے پاکستان کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے۔


وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کے ذریعے جنرل کیانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہی پاکستان کا اصل حکمران ہے جبکہ نگران جمہوری حکومت اسلام آباد میں اس معاملے سے لاتعلق بیٹھی ہے۔ایک طرف جب پورا ملک بجلی کے بدترین بحران کا شکار ہے اور کڑوڑوں لوگ گرمی دور کرنے کے لیے پنکھا تک چلانے سے محروم ہیں جنرل کیانی اور پاکستان کی قیادت میں موجود چھوٹے سے غداروں کے ٹولے کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ کسی طرح امریکی مفادات کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ بجائے اس کے کہ ان غداروں کو اسلامی احکامات کے صریح خلاف ورزی اور امت کے مفادات سے چشم پوشی پر ان کا احتساب کیا جاتا ،جمہوریت اور آمریت ان کے غدارانہ اور حرام اعمال کو ''قانونی چھتری‘‘ فراہم کرتیں ہیں کیونکہ یہ دونوں انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہیں جواللہ سبحانہ وتعالی کے اوامر و نواہی کو معطل کردیتے ہیں۔

حزب التحریر افواج پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس سرزمین پر خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں۔ یقیناً حزب التحریر خلافت کے قیام میں ہماری قیادت کرنے اور امریکی قبضے کے بھیانک دنوں کے خاتمے کے لیے ہمارے درمیان میں موجود ہے۔ حزب التحریر نے 191دفعات پر مشتمل آئین تیار کیا ہے جس کی ہر دفعہ کے لیے حزب نے قرآن و سنت سے تفصیلی دلائل بھی بیان کیے ہیں۔ حزب نے ایسی کتابوں کا ایک پورا ذخیرہ ترتیب دیا ہے جو زندگی میں درپیش مختلف مشکلات اور معاملات کے اسلام سے حل ،اس کی تفصیلات اور اس کے نفاذکے تفصیلی طریقہ کار کو بیان کرتیں ہیں۔ اس کے علاوہ حزب التحریر نے کثیر تعداد میں ایسے قابل، باخبر،باشعور اور جاں نثارمرد اور خواتین تیار کیے ہیں جو خلافت کے قیام کے بعد خلیفہ کو اسلام کی بنیاد پر حکمرانی میں معاونت فراہم کریں گے اور اسلام کے مکمل اور بھرپورنفاذکے لیے خلیفہ کا سخت احتساب بھی کریں گے۔ حزب التحریر دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہے جو پوری مسلم دنیا میں تمام مسلم ریاستوں کو ایک ریاست خلافت کے تحت وحدت بخشنے کے لیے کام کررہی ہے۔اور حزب ایسے زبردست قابل سیاست دانوں اور فقہا سے بھری پڑی ہے جیسے اس کے امیر شیخ عطا ابو رشتہ ہیں جن میں یہ صلاحیت،ذہانت اور تجربہ ہے کہ وہ اس امت کی قیادت کرسکیں۔ آخر میں مظاہرین خلافت کے قیام کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔


پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

تصویر کے لیے: یہاں کلک کریں

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک