الأحد، 23 ذو القعدة 1447| 2026/05/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ایران کی مذاکراتی حکمتِ عملی: تبدیلیوں اور ثابت قدمی کے درمیان

 

 

تحریر: استاد اسعد منصور

(ترجمہ)

 

2 مئی 2026 کو، فارس نیوز ایجنسی نے اعلان کیا کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کی 9 نکاتی تجویز کے جواب میں ایک 14 نکاتی تجویز پیش کی ہے۔ ایرانی تجویز میں اس کی ریڈ لائنز (سرخ لکیریں) شامل تھیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مخصوص روڈ میپ (لائحہ عمل) ترتیب دیا گیا تھا۔ 3 مئی 2026 کو ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے خبر دی کہ امریکی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی شامل تھی، جبکہ ایرانی تجویز میں تمام تصفیہ طلب مسائل کو 30 دنوں کے اندر حل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس میں جنگ کے مکمل اور حتمی خاتمے، مستقبل کی فوجی جارحیت کے خلاف ضمانتوں، ایران کے گرد و نواح سے امریکی افواج کے انخلاء، بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری، ہرجانے کی ادائیگی، لبنان سمیت تمام محاذوں پر دشمنی کے خاتمے، اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے میکانزم کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

 

ایران نے اس سے قبل ایک 10 نکاتی تجویز پیش کی تھی، جس کی اطلاع تسنیم نیوز ایجنسی نے 8 اپریل 2026 کو دی تھی۔ اس تجویز میں  جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں فراہم کرنے کے حوالے سے امریکہ کا ایک ابتدائی عزم؛ آبنائے ہرمز پر ایران کا مسلسل کنٹرول؛ ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کی قبولیت؛ تمام بنیادی پابندیوں کا خاتمہ؛ تمام ثانوی پابندیوں کا خاتمہ؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا خاتمہ؛ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے جاری کردہ قراردادوں کا خاتمہ؛ جنگی نقصانات کے لیے ایران کو معاوضے کی ادائیگی؛ خطے سے امریکی جنگی افواج کا انخلاء؛ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل تھی۔ ایجنسی نے بیان کیا کہ "ٹرمپ نے ایرانی شرائط کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک بنیاد کے طور پر قبول کر لیا ہے"۔

 

دونوں تجاویز کی شقوں میں تبدیلیاں موجود ہیں: ایران کا مطالبہ شروع میں "آبنائے ہرمز پر مسلسل ایرانی کنٹرول" تھا، لیکن اب اسے تبدیل کر کے "آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا میکانزم قائم کرنے" میں بدل دیا گیا ہے۔ اسے ایک رعایت (پسپائی) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

پہلی تجویز میں "ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کی قبولیت" کی شرط رکھی گئی تھی، لیکن دوسری تجویز میں اس شق کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے، اور اسے حذف کرنا دانستہ ہے۔ یہ مذاکرات کا مرکزی مسئلہ ہے، اور اس میں شامل رعایتوں کی حد کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

 

پہلی تجویز میں "خطے سے امریکی جنگی افواج کا انخلاء" شامل تھا، جبکہ بعد والی تجویز میں صرف "ایران کے گرد و نواح سے امریکی افواج کے انخلاء" کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے امریکی افواج کا انخلاء صرف ایران کے قریبی علاقوں سے ہوگا، نہ کہ پورے خطے سے۔ یہاں بھی ایک رعایت (پسپائی) واضح ہے۔

 

ان دو نکات کا انجام بھی اب تک نامعلوم ہے: "اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا خاتمہ" اور "آئی اے ای اے (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں کا خاتمہ"۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ان دو نکات کا حصول آسان نہیں ہے، کیونکہ اس میں برطانیہ اور فرانس جیسے دیگر فریق بھی شامل ہیں، جن کا ایران اور امریکہ کے حوالے سے موقف مختلف ہے۔ امریکہ انہیں ایرانی معاملے میں شامل نہیں کرنا چاہتا اور ان سے، اور دیگر یورپی ممالک سے، یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کے تابع رہیں، جیسا کہ اس نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنے کے لیے ایران کے خلاف کارروائی کریں۔ امریکہ کا مقصد 2015 کے ایرانی ایٹمی معاہدے میں شامل دیگر فریقین کو الگ تھلگ کرنا اور ایران کے ساتھ تنہا معاملہ کرنا ہے تاکہ ایک دوطرفہ معاہدہ طے پا سکے۔ 2018 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے یہی امریکہ کا مقصد رہا ہے۔

 

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے ان دو مطالبات پر سمجھوتہ کر لیا ہے یا ان میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ امریکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو بطور آلہ استعمال کرنا جاری رکھے گا، کیونکہ ایران نے 2015 کے معاہدے میں آئی اے ای اے کے کردار کو قبول کیا تھا، جو ایران کے لیے توہین آمیز تھا اور اس نے اس کے ایٹمی پروگرام کو محدود کر دیا تھا، جس کے تحت افزودگی کی سطح تقریباً 3.67 فیصد تک محدود کر دی گئی تھی اور اسے بین الاقوامی نگرانی میں دے دیا گیا تھا۔ یہی وہ چیز تھی جو ان تمام مسائل کا باعث بنی، جس کے نتیجے میں معائنہ ٹیمیں اچانک ایٹمی ری ایکٹرز میں داخل ہو جاتی تھیں، وہاں ہونے والی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتی تھیں اور ایسی رپورٹیں بھیجتی تھیں جو بالواسطہ طور پر اس ایجنسی کے ذریعے امریکہ تک پہنچ جاتی تھیں، جس پر امریکہ کا اثر و رسوخ ہے۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ ایران سینٹری فیوجز کی تعداد بڑھا کر اور افزودگی کی سطح بلند کر کے اپنے ایٹمی پروگرام کو مزید ترقی دینے کے لیے کام کر رہا تھا۔

 

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 11 اپریل 2026 کو پاکستان میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات کے دوران، ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا گیا تھا، جس کی مدت تقریباً 45 دن تھی اور یہ چار سے چھ ماہ تک جاری رہنے والے جامع مذاکرات کا پیش خیمہ تھا۔ تاہم، ایران نے امریکہ پر ان مفاہمتوں سے منحرف ہونے اور ایسے مطالبات پیش کرنے کا الزام لگایا جنہیں اس نے ’حد سے زیادہ‘ قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں مذاکرات کا دوسرا دور منسوخ ہو گیا، جو 21 اپریل 2026 کو پاکستان میں منعقد ہونا تھا، اور ساتھ ہی 25 اپریل 2026 کو دونوں وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی۔

 

27 اپریل 2026 کو امریکی خبر رساں ویب سائٹ 'ایکسیوس' (Axios) نے ایک امریکی اہلکار اور باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ہے، جبکہ ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس تجویز پر وزیر خارجہ عراقچی کے دورہ پاکستان کے دوران تبادلہ خیال کیا گیا اور اس میں ترجیحی بنیادوں پر آبنائے ہرمز کے بحران اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی کے حل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے"۔ بعض لوگوں نے اسے ایران کی مذاکراتی حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا، جس کی قیادت اس کے اعلیٰ ترین حکام کر رہے ہیں، اور جس میں دیگر مسائل پر بات کرنے سے پہلے امریکہ کے ساتھ حالتِ جنگ کے خاتمے کو ترجیح دی گئی ہے۔ ایران کے کلیدی مطالبات میں دشمنی کا مکمل خاتمہ اور اس کے دوبارہ نہ ہونے کی ضمانتیں شامل ہیں۔ اسے نئے ایرانی نقطہ نظر میں ایک مرکزی نکتہ تصور کیا گیا۔

 

ایران مسائل کو الگ الگ کرنے اور آبنائے ہرمز کے بحران سے آغاز کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ تمام معاملات کو ایٹمی مسئلے سے جوڑنے پر اصرار کر رہا ہے اور یورینیم کی حوالگی کو کسی بھی معاہدے کے لیے لازمی شرط قرار دیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران، عظیم امریکی فوجی طاقت اور اس کے عالمی اقتصادی و سیاسی اثر و رسوخ کے مقابلے میں اپنی حیثیت، صلاحیتوں اور حقیقت کو سمجھتا ہے۔ اسی لیے وہ نہیں چاہتا کہ جنگ جاری رہے، بلکہ اس کے بجائے وہ اسے ختم کرنے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ وہ اپنی زمین اور عوام سے جڑی ایک قومی ریاست (nation-state) ہے۔

 

ایک قومی ریاست اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے عوام کی بقا کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر وہ بڑے عزائم رکھتی ہو، تو وہ ایک بااثر علاقائی طاقت بننے کی تگ و دو کرتی ہے۔ اگر اسے یقین ہو جائے کہ ان عزائم کے حصول کے لیے کسی بڑی طاقت کے ساتھ الحاق ضروری ہے، تو وہ ایسا کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی اور اس پرخطر راستے پر چل پڑے گی۔ بالکل اسی طرح جیسے ایران نے علاقائی اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے کئی دہائیوں تک امریکہ کے ساتھ الحاق کیے رکھا۔ جب ایران اپنی حد سے تجاوز کر گیا اور امریکہ نے اس کی طاقت کو لگام دینے اور اسے ایک تابع ریاست بنانے کی کوشش کی، تو اس نے یہ جارحیت شروع کر دی جس نے ایران کو رعایتیں دینے پر مجبور کر دیا۔

 

یہ صورتحال ایک نظریاتی ریاست کے بالکل برعکس ہے جو سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتی ہے اور ثابت قدمی سے کھڑی رہتی ہے۔ اسے سمجھوتہ کرنا ثابت قدمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا پڑے گا۔ اگرچہ ثابت قدمی میں نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے لیکن بالآخر یہ فتح پر منتج ہوتی ہے۔ سمجھوتہ کرنا ریاست کی تقدیر کے ساتھ جوا کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ یا تو اسے تباہ کر دے گا یا پھر اسے اتنا کمزور اور لاچار بنا دے گا کہ وہ کچھ بھی حاصل کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔

 

نظریاتی ریاست کسی بھی بڑی ریاست کی محکومی کو مسترد کرتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ کسی بڑی طاقت کے مدار میں گھومنے سے انکار کرتی ہے۔ اس کے بجائے، وہ پہاڑوں کو چیر کر اپنا راستہ خود بناتی ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام تک پہنچ جائے جو اس کے شایانِ شان ہو اور وہ اپنے نظریے کو پوری دنیا تک پہنچانے کے قابل ہو سکے۔ اس معاملے کا تصور نبوت کے طریقے پر قائم ہونے والی دوسری خلافتِ راشدہ کے علاوہ نہیں کیا جا سکتا جو انشاء اللہ جلد قائم ہو گی۔

Last modified onہفتہ, 09 مئی 2026 20:10

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک