الأحد، 23 ذو القعدة 1447| 2026/05/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

عراق کا سیاسی منظر نامہ: مسئلہ اور اس کا حل

 

 

تحریر: استاد احمد الطائی - ولایہ عراق

 

(ترجمہ )

 

پیر کی شام، 27 اپریل 2026 کو، کوآرڈینیشن فریم ورک نے علی فالح الزیدی کو عراق کا وزیراعظم منتخب کیا۔ یہ فیصلہ نوری المالکی کی نامزدگی کی واپسی، جسے امریکی ویٹو کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور سبکدوش ہونے والے وزیراعظم محمد السودانی کی دستبرداری کے بعد سامنے آیا۔ اس اقدام کا مقصد کوآرڈینیشن فریم ورک کے اندر پیدا ہونے والے سیاسی تعطل کے نتیجے میں ممکنہ آئینی خلا کو روکنا تھا۔

 

الزیدی ایک سمجھوتے کے امیدوار ہیں جن کا نام وزیراعظم کے لیے ابتدائی طور پر نامزد افراد میں شامل نہیں تھا۔ وہ ایک تاجر ہیں اور اس وقت نیشنل ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جو زراعت، لائیوسٹاک، رہائش، رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ، اور بینکنگ و مالیاتی خدمات کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔ انہوں نے ساؤتھ بینک کے بورڈ کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کیا ہے، جو کہ امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ انہوں نے اس سے قبل کبھی کوئی سرکاری یا سیاسی عہدہ نہیں سنبھالا۔

 

امریکی صدر ٹرمپ نے الزیدی کو نئی عراقی حکومت بنانے کے لیے ان کی باضابطہ تقرری پر مبارکباد دی اور حکومت کی تشکیل کے بعد انہیں واشنگٹن کے دورے کی باضابطہ دعوت دی۔ ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عراق اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات اور خطے میں تعاون اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایران نے بھی انہیں مبارکباد دی، اور عراق میں موجود یورپی یونین کے وفد اور سپین سمیت عراق کی اکثر سیاسی جماعتوں نے بھی ان کی تائید کی۔

 

یہاں ہمیں اس نامزدگی کے بعد عراق کے سیاسی منظر نامے پر روشنی ڈالنی چاہیے، کیونکہ چند اہم نکات کی وضاحت ضروری ہے:

 

اول یہ کہ، عراق کے مسائل وزیراعظم کے اعلان سے ختم نہیں ہوئے ہیں۔ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم اور ان عہدوں کے حصول کے لیے سیاسی بلاکس کے درمیان مقابلے کی وجہ سے یہ عمل زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ چیلنج مختلف گروہوں کے درمیان تنازعات اور طاقت کی کشمکش کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وزارتی عہدوں کی تقسیم عموماً ان جماعتوں کے درمیان نزاع کا نقطہ ہوتی ہے جو وہ مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں جنہیں عراقی سیاست دان "انتخابی استحقاق" قرار دیتے ہیں۔ یہ مرحلہ پچھلے مرحلے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوگا کیونکہ امریکہ نے ایران یا اس کے اتحادی مسلح دھڑوں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی امیدوار کی مخالفت کا اعلان کر رکھا ہے۔

 

شفق نیوز ایجنسی کو ایک ذریعے نے بتایا کہ "کوآرڈینیشن فریم ورک نے وزارتی قلمدانوں کی تقسیم اور ان کے امیدواروں کے ناموں کی نگرانی کے لیے، نامزد وزیراعظم کے ساتھ مل کر کام کرنے والی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، تاکہ وزارتوں پر ہونے والے اختلافات حکومت کی تشکیل میں تاخیر کی رکاوٹ نہ بنیں..."

 

یہ اقدامات سیاسی قوتوں کے مابین وزارتی قلمدانوں کی تقسیم کے ابتدائی نقشے سے متعلق ہونے والی بات چیت کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ مذاکرات کے پس پردہ گردش کرنے والی معلومات بتاتی ہیں کہ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم محمد شیاع السودانی کی قیادت میں 'اتحاد برائے تعمیر و ترقی' (ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کولیشن) ایک کلیدی وزارت سمیت پانچ وزارتیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ 'ائتلاف دولتِ قانون' (اسٹیٹ آف لاء کولیشن) کو وزارتِ پٹرولیم اور ایک اور خدماتی وزارت ملے گی۔ دریں اثنا، قیس الخزعلی کی قیادت میں 'صادقون تحریک' سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنا حصہ بڑھا کر دو وزارتیں اور نائب وزیراعظم کا عہدہ حاصل کر لے گی۔

 

سنی کوٹے کے اندر، مذاکرات کا مرکز حلبوسی کی قیادت میں 'حزبِ تقدم' (پروگریس پارٹی) کو وزارتِ اعلیٰ تعلیم کی پیشکش ہے، جبکہ مثنیٰ السامرانی کی قیادت میں 'اتحادِ عزم' (عزم الائنس) کے لیے وزارتِ دفاع پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ اور وزارتِ انصاف کے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس جانے کا امکان ہے، جبکہ وزارتِ ماحولیات اور وزارتِ ثقافت پر 'پیٹریاٹک یونین آف کردستان' کے کوٹے کے طور پر بحث کی جا رہی ہے۔ یہ سب ایک وسیع تر مفاہمت کے فریم ورک کے تحت ہو رہا ہے جو نئی حکومت میں کردوں کی شرکت کو بغداد کے ساتھ حل طلب مسائل کے بارے میں واضح وعدوں سے جوڑتا ہے۔

 

یہ معاملہ اختلافات اور عہدوں کی خرید و فروخت سے اٹا پڑا ہے، جو بدعنوانی اور چوری چکاری کے لیے ایک زرخیز بنیاد فراہم کرتا ہے۔

 

دوسرا: دوسرا اہم مسئلہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ازسرِ نو تعریف ہے، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان 'ہنی مون' کا دور ختم ہونے کے بعد 'کوآرڈینیشن فریم ورک الائنس' کے تئیں اس کے حالیہ معاندانہ رویے کے پیشِ نظر۔ علاقائی چیلنجز، ایران کے ساتھ جنگ، اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، جو عراق پر جارحیت کا الزام لگاتی ہیں اور عراقی حکومت کی مسلح دھڑوں کو لگام دینے میں ناکامی کا شکوہ کرتی ہیں۔ یہ مسئلہ موجودہ علاقائی حالات اور جاری جنگ کے انجام سے مشروط ہے۔

 

تیسرا: عراق کے مسائل محض ایک وزیراعظم کی نامزدگی سے حل نہیں ہو سکتے۔ 2003 کے حملے کے بعد سے ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ وہی پرانے مسائل ہر انتخابی چکر میں دوبارہ دہرائے جاتے ہیں، جو امریکی قابضین کے کھینچے ہوئے فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر مبنی سیاسی نقشے کے مرہونِ منت ہیں۔ ملک نے لاکھوں متاثرین، ہمہ گیر کرپشن اور اپنے وسائل کی لوٹ مار کی صورت میں اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان قربت ختم ہونے کے بعد اب صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہے، جس نے عراق کو امریکہ کے ہتھوڑے اور ایران کے سندان کے درمیان لا کھڑا کیا ہے۔ یہ اس ملک کے لیے قطعی اچھا شگون نہیں ہے جو اندرونی اور بیرونی دونوں لحاظ سے اپنی خودمختاری کھو چکا ہے۔

 

چوتھا: عراق کے مستقبل کے لیے کسی واضح سیاسی وژن کی تشکیل اس کے بیرونی ماحول سے قطع تعلق ہو کر ممکن نہیں ہے۔ عراق میں سیاسی عمل کا مستقبل امریکہ اور ایران کے تصادم کے نتیجے پر منحصر ہے۔ عراق، خطے کے باقی حصوں کی طرح اس صورتحال کا حصہ ہے، اور اس کی داخلی سکیورٹی کی ابتر صورتحال اور عراقی حکومت اور ریاست کے قابو سے باہر کام کرنے والے مسلح گروہوں کے درمیان آزادانہ فیصلہ سازی کے فقدان نے اسے مزید الجھا دیا ہے۔

 

پنجم: جب تک ہم اس صورتحال کا حل خود اس مسئلے کے اندر تلاش کرتے رہیں گے، اس وقت تک کوئی حل نہیں ملے گا۔ حل لازمی طور پر باہر سے آنا چاہیے۔ قابض کے مسلط کردہ سیاسی نظام نے یہ تمام مسائل پیدا کیے ہیں، اور ان کو اندر سے حل کرنے کی کوئی بھی کوشش لاحاصل ہے اور یہ صرف مسئلے کو مزید بگاڑے گی۔ لہٰذا، عراق اور باقی مسلم دنیا کی سیاسی صورتحال کا حل ان مسلط کردہ سیاسی نظاموں سے باہر ہونا چاہیے۔ یہ بیرونی حل امتِ مسلمہ کے عقیدہ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فرض کردہ سیاسی، معاشی اور سماجی نظاموں سے ماخوذ ہے۔

 

چنانچہ، اگر امتِ مسلمہ ایک مستحکم، باوقار اور منصفانہ سیاسی ریاست میں رہنے کی خواہش مند ہے، تو اسے اپنے دین اور اس کے خالص سرچشمے کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اسے ایک ایسی ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کرنی ہوگی جہاں حاکمیت (Sovereignty) کا حق صرف اسلامی قانون کو حاصل ہو، اور جہاں اقتدار ان لوگوں کے پاس ہو جن کے تقویٰ، عدل اور صلاحیت پر اسے بھروسہ ہو، اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کے لیے ان کی بیعت کرے۔ اس امت کے لیے یہ قطعی زیب نہیں دیتا، جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی اور ایمان کے ذریعے مضبوط کیا، کہ وہ ذلت کی زندگی گزارے، ظالموں کے سامنے سر جھکائے اور مجرموں کا ہاتھ روکنے میں ناکام رہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس سے دو بھلائیوں میں سے ایک کا وعدہ کیا ہے: فتح یا شہادت۔ اس امت کے لیے یہ موزوں نہیں ہے جو کبھی انسانیت کے لیے روشنی کا مینار تھی اور عدل و احسان کے ذریعے نوعِ انسانی کی قیادت کرتی تھی، کہ وہ قوموں کی صف میں سب سے نیچے ہو، اور قتل و غارت، دربدری، اپنے وسائل کی لوٹ مار اور اپنے مستقبل کے فیصلے غیروں کے ہاتھوں کروا کر دشمنوں کا شکار بنی رہے۔

 

اے مسلمانو! یقین کے ساتھ جان لو کہ تمہیں کوئی عزت، کوئی وقار اور کوئی پرسکون زندگی نصیب نہیں ہوگی سوائے اپنے دین کی طرف واپسی کے، کیونکہ یہی تمہاری اصل قوت کا سرچشمہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُون

 

"بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارے لیے ذکر (عزت و بلندی) ہے۔ کیا پھر تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" (سورۃ الانبیاء:آیت 10

 

اے خیر اور ہدایت والی امت! ہم تمہیں اسی عظیم بھلائی کی طرف پکارتے ہیں کہ تم اپنے خالص سرچشمے کی طرف لوٹ آؤ اور اسی سے رہنمائی حاصل کرو، اور اپنی زندگی کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قانون کے مطابق ڈھال لو۔ تاکہ تم دنیا اور آخرت میں حقیقی خوشحالی پا سکو اور وہ بہترین امت بن سکو جیسا اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمہیں دیکھنا چاہتا ہے۔

Last modified onہفتہ, 09 مئی 2026 20:19

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک