عاصم منیر کی سخت گیر پالیسی دوسرے ممالک کو عظمت کے حصول کے قابل بنانے کے لیے ہے
- Published in آرٹیکل
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- |
عالمی معیشت کا نامعلوم منزل کی جانب سفر
سیاسی اور تحقیقی حلقوں میں، حالیہ امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت (MoU) کو ایک ایسے واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ جس نے خطے میں موجود اہم مہروں کو نئے سرے سے ایک نئی ترتیب دے دی ہو
انسان جس قسم کی قوت کا حامل ہوتا ہے، اس کے اعمال بھی اسی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اس لئے ان قوتوں کی نوعیت کو جانچنا اور ان کے اثرات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
زمینی صورتحال میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر، ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی جانب سے العبید شہر پر مسلسل ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور شہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے
اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف چھیڑی گئی اپنی جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اور ایران پر جارحیت کے ذریعے جو کچھ وہ حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اس کے نقائص اور کمزوری بے نقاب ہو چکی ہے، مگر خطے میں اس کے گماشتوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔
ایک ایسے علاقائی منظرنامے میں جہاں ساحل کے بڑھتے ہوئے خطرات، نیٹو اتحاد میں پڑنے والی دراڑوں اور امریکی ترجیحات میں تبدیلی کا سنگم ہو رہا ہے، وہاں تیونس، لیبیا اور الجزائر کے درمیان سہ فریقی سیکورٹی تعاون ایک ایسے سٹریٹیجک خلا کو پر کرنے کی سعی کے طور پر ابھررہا ہے جس کے آثار روایتی سیکورٹی ڈھانچوں پر کم ہوتے بھروسے کے ساتھ ہی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔